تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کاتجزیہ۔۔وبا کے موسم میں سیاسی تصادم اور اصلاح کا پہلو

ملک میں کورونا کی شدت میں شدید اضافہ ہورہاہے اور دنیا بھر سے حاصل تجربوں کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ یہ وبا پاکستان میں بھی مزید پھیلے گی۔ اس کی ایک وجہ گزشتہ روز وزیر اعظم نے ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب کرتے ہوئے بیان کی ہے کہ لوگ اس وبا کو سنجیدگی سے لینے پر آمادہ نہیں ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ملک میں سیاسی تصادم کا موسم بھی شدید ہے۔ اپوزیشن30 نومبر کو ملتان میں جلسہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ پنجاب موجودہ سیاسی جنگ کا ’بیٹل گراؤنڈ‘ سمجھا جارہا ہے۔ اس لئے یہ جلسہ اہم ہوگا۔
اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک مووومنٹ نے پابندی اور انتباہ کے باوجود پشاور میں جلسہ منعقد کیا تھا اور حکومت و اسٹبلشمنٹ کے خلاف تنقید میں شدت بھی محسوس کی گئی تھی۔ اس شدت کو دو حوالوں سے سمجھنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ ایک یہ کہ اپوزیشن اپنے احتجاج پر سامنے آنے والے بظاہر اور درپردہ رد عمل سے مطمئن نہیں ہے اور وہ دباؤ میں اضافہ کرنا چاہتی ہے۔ دوسرے حکومت نے اس دوران الزامات اور دھمکیوں کا استعمال تو جی بھر کے کیا ہے لیکن اعتماد سازی کے لئے کوئی اقدام دیکھنے میں نہیں آیا۔ نہ تو اپوزیشن لیڈروں کے خلاف نیب یا براہ راست حکومت کے زیر انتظام اداروں کی کارروائیوں میں کوئی نرمی پیدا ہوئی ہے اور نہ ہی پارلیمانی سطح پر مفاہمت کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔ گو کہ اپوزیشن لیڈر کہتے ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف یا حکومت سے بات چیت نہیں ہوسکتی بلکہ مریم نواز نے تو بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں یہ شرط بھی رکھی تھی کہ پہلے عمران حکومت کو فارغ کیا جائے پھر بات چیت ہوگی۔ ایسے میں جائز طور سے یہ سوال سامنے آیا تھا کہ آئین کی بالا دستی کے لئے جد و جہد کرنے والی اپوزیشن اگر سیاسی حکومت سے بات نہیں کرے گی تو اس عمل میں وہ کسے اپنا مد مقابل سمجھتی ہے۔
یہ ایک پیچیدہ اور مشکل صورت حال ہے جس کا سامنا سب سیاسی و غیر سیاسی فریقین کو یکساں طور سے ہے۔ ملک میں سیاسی امور پر غیر جانبداری سے سنجیدہ گفتگو کرنے والے سب حلقے قومی مکالمہ کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں لیکن کسی کے پاس اس بات کا جواب نہیں ہے کہ اس مکالمہ کا آغاز کیسے ہو۔ اپوزیشن مکالمہ کی بات کرتی ہے لیکن وہ اہم ترین سیاسی فریق تحریک انصاف اور اس کی حکومت کو مد مقابل سمجھنے سے انکار کرتی ہے۔ دوسری طرف وزیر اعظم عمران خان اپوزیشن کو مفاد پرستوں اور بدعنوان سیاست دانوں کا ٹولہ قرار دے کر یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ اپوزیشن کی تحریک کا واحد مقصد حکومت کو دباؤ میں لاکر کرپشن میں ملوث لیڈروں کے لئے ریلیف حاصل کرناہے۔ وہ اسے اپوزیشن کی طرف سے ’این آر او‘ لینے کی کوشش قرار دیتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کرتے رہے ہیں کہ وہ کسی قیمت پر قومی دولت لوٹنے والوں کو نہیں چھوڑیں گے اور بدعنوان سیاسی لیڈروں کو این آر او نہیں دیں گے۔
اپوزیشن لیڈروں نے عمران خان کے اس دعوے کو ہمیشہ مسترد کیا ہے کہ وہ حکومت سے کسی قسم کی رعایت لینا چاہتے ہیں۔ بلکہ ان کا یہ مؤقف رہا ہے کہ حکومت تو خود بے اختیار ہے ، وہ کسی کو کیا این آر او دے گی۔ ان دو متضاد آرا کے بیچ البتہ عمران خان انتخابی مہم سے شروع کی جانے والی بدعنوانی کی بحث کو حکمرانی کے دو سال کے دوران مستحکم کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ گو کہ کسی اہم سیاسی لیڈر کو کرپشن کے کسی مقدمہ میں سزا نہیں دی جاسکی اس کے باوجود ملک میں یہ تاثر مضبوط ہؤا ہے کہ سیاسی لیڈر مالی کرپشن میں ملوث رہے ہیں۔ تاہم شوگر اسکینڈل اور ملک میں گندم کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی صورت حال میں یہ سوال بھی سامنے آیا ہے کہ سیاسی پوزیشن کو مالی منفعت کے لئے استعمال کرنے والے عناصر تو عمران خان کے ارد گرد بھی جمع ہیں۔
کرپشن کے حوالے سے مقدمہ مضبوط کرنے کے باوجود عمران حکومت خود ہی اس بیانیہ کو کمزور کرنے اور نقصان پہنچانے کا سبب بھی بنی ہے۔ اس کا طرز عمل مسلسل یہ واضح کررہا ہے کہ کرپشن کے خلاف بیان بازی کسی علت کو ختم کرنے اور ملک کو مالی مشکلات سے نجات دلانے کی کوشش نہیں ہے بلکہ اسے عام طور سے سیاسی نعرے کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔ اس طرح کرپشن کو سیاسی نعرہ بنا کر اس کی شدت اور اہمیت کو کم کیا گیا ہے۔ کسی بھی حکومت کے سلوگن اور دعوؤں کو عوام اسی وقت قبول کرتے ہیں جب وہ حکومت ان کی بہبود کے لئے بہتر کارکردگی دکھانے میں بھی کامیاب ہورہی ہو۔ تحریک انصاف کی حکومت معاشی اصلاح کا کوئی منصوبہ سامنے نہیں لاسکی۔ ملک میں افراط زر میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور اشیائے ضروریہ کی شدت سے کمی محسوس کی جارہی ہے جس کی وجہ سے عوامی پریشانی میں اضافہ یقینی ہے۔ خاص طور سے گیس کی کمی اور یہ اشارے کہ حکومت بجلی اور پیٹرول کی قیمتوں میں پھر سے اضافہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، عمران خان کی مقبولیت اور حکومت کے اعتبار میں کمی کرے گی۔
عمران خان اور ان کے ساتھیوں نے اپوزیشن لیڈروں خاص طور سے شریف خاندان اور آصف زرداری کو ’لٹیرے اور چور‘ ثابت کرنے کا سیاسی مقدمہ استوار کیا ۔ لیکن گوجرانوالہ میں نواز شریف کی فوجی قیادت کے نام لے کر سیاسی انجینئرنگ کے الزامات والی تقریر کے بعد حکومت کے سارے نمائیندے نواز شریف اور دیگر اپوزیشن لیڈروں کو ملک دشمن، غدار اور بھارتی ایجنٹ قرار دینے کے لئے میدان میں اتر آئے۔ ایسے میں ملک کا عام شہری ضرور یہ سوچنے پر مجبور ہؤا ہے کہ یہ لیڈر ملک کو لوٹنے کے لئے اقتدار حاصل کرتے رہے ہیں یا وہ پاکستان کو بھارت کے سامنے زیر نگیں کرنے کے لئے سیاست کرتے ہیں۔ اپوزیشن ملک میں آئینی بالادستی کی تحریک چلا رہی ہے اور حکومت انہیں غدار قرار دے کر اس مطالبے کو بے مقصد قرار دینے کی کوشش کررہی ہے۔
حکومت یہ سمجھنے میں ناکام رہی ہے کہ جن اپوزیشن لیڈروں کو کل تک چور کہا جاتا تھا ، اب انہیں غدار قرار دینے سے پہلا مقدمہ کمزور ہوجائے گا۔ اس حکمت عملی سے یہ تاثر مضبوط ہورہا ہے کہ عمران خان کوئی مصلح یا قوم کے غم میں مبتلا ایسے بے لوث لیڈر نہیں ہیں جو نفع نقصان سے لاپرواہ ہوکر میدان سیاست میں اترے ہیں۔ وہ بھی باقی سب لیڈروں کی طرح اقتدار حاصل کرنے اور اس پر دسترس قائم رکھنے کے لئے کسی بھی حد تک جانے اور کوئی بھی انتہائی اقدام کرنے پر تیار ہیں۔ حکومت سازی کے لئے مسلمہ زمانہ ساز سیاسی عناصر سے اتحاد، آئین شکنی کے الزام میں سابق آمر پرویز مشرف کے خلاف خصوصی عدالت کے فیصلے کو مسترد کرنے، سندھ حکومت کے خلاف کسی حد تک غیر آئینی دباؤ میں اضافہ ، ملک کے متفقہ آئینی انتظام کے بارے میں بیان بازی اور اب گلگت بلتستان میں انتخاب جیتنے کے لئے ہر طرح کے ہتھکنڈے اختیار کرنے کے طریقہ سے تحریک انصاف کی جو تصویر سامنے آئی ہے وہ کسی بھی دوسری پارٹی کے کردار سے مختلف نہیں ہے۔
مسلم لیگ ہو یا پیپلز پارٹی اگر ان کے پاس ماضی کی کامیابیوں کی صورت میں کوئی قابل ذکر اثاثہ موجود نہیں ہے تو تحریک انصاف کی بدتر ناکامیوں اور ناقص کارکردگی کی وجہ سے وہ بہر حال یہ دعویٰ کرسکتی ہیں کہ ماضی کا کوئی دور بھی سیاسی خود مختاری، انتظامی رکھ رکھاؤ اور عوامی بہبود کے منصوبوں کے حوالے سے اتنا برا نہیں تھا جیسا تحریک انصاف کے دو سال کے دوران دیکھنے میں آیا ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ عمران خان اور ان کے ساتھی اپنی کسی غلطی کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے بلکہ ملک کو معاشی ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے دعوے کئے جاتے ہیں۔ عمران خان نے کل ہی دعویٰ کیا کہ فیصل آباد میں صنعتی ترقی کا یہ عالم ہے کہ کام کرنے والے لوگ نہیں ملتے اور ملک میں دولت پیدا کرنے کا ماحول پیدا کردیا گیا ہے۔ کورونا، بیروزگاری اور مہنگائی سے تنگ آئے ہوئے لوگ یہ باتیں سن کر حکومت سے مزید مایوس ہوتے ہیں۔ جو حکومت کسی غلطی کا ادراک نہ کررہی ہو وہ اس کی اصلاح کے قابل بھی نہیں ہوتی۔ یہی شاید تحریک انصاف کی سب سے بڑی مشکل بھی ہے۔
ان حالات میں اپوزیشن ملتان میں جلسہ کرنے کی تیاری کررہی ہے اور حکومت سے مذاکرات کے سارے راستے مسدود ہیں۔ یہ سوال تو کیا جاتا ہے کہ کہ اپوزیشن اگر سیاسی حکومت سے بات چیت نہیں کرے گی تو وہ کس سے ’آئینی بالادستی‘ کی بات کرے گی۔ کیا اپوزیشن فوج کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے جمہوریت بحال کرے گی۔ بظاہر یہ سوالات اپوزیشن کی جمہوریت پسندی پر سوالیہ نشان ہیں لیکن اگر زمینی حقائق کی روشنی میں دیکھا جائے تو درحقیقت ملکی اسٹبلشمنٹ کو ہی اس گتھی کو سلجھانا ہے۔ غیر منتخب اداروں کو یہ نوشتہ دیوار پڑھنا ہے کہ تحریک انصاف کو اقتدار میں لاتے ہوئے جو سیاسی انتظام مسلط کیا گیا تھا ، اس میں نہ تو اختلاف کی گنجائش رکھی گئی اور نہ ہی کسی پوزیشن یا ادارے کو خود مختار رہنے دیا گیا کہ وہ کسی مشکل اور بحران میں کردار ادا کرسکے۔ ملک کے صدر پارٹی کارکن سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے، قومی اسمبلی کے اسپیکر اپنے عمل سے جانبداری ظاہر کرچکے اور سینیٹ کے چیئرمین کو جس طرح لایا گیا اورپھر عدم اعتماد سے جیسے بچایا گیا، اس کے بعد ان سے قومی مصالحت کے لئے کسی کردار کی توقع کرنا ممکن نہیں ہے۔
یہ جاننا اہم ہے کہ ملک میں بظاہر ایک منتخب سیاسی نظام کام کررہاہے۔ یہ کوئی آمریت نہیں ہے جس میں تمام معاملات فرد واحد کے ہاتھ میں ہوتے ہیں اور اسی سے لین دین کرنا پڑتا ہے۔ جمہوری انتظام کبھی ایسا غیر لچکدار نہیں ہوسکتا جس کی شکل اس وقت پاکستان میں دیکھنے میں آرہی ہے۔ اگلے سال کے شروع میں سینیٹ انتخاب میں اسے مزید سخت گیر بنانے کا اندیشہ موجود ہے۔ ایسے میں اپوزیشن پر تنقید سے پہلے اس نظام میں کچھ نرمی پیدا کرنے کی ضرورت ہوگی۔ فوجی قیادت پر براہ راست تنقید نے اگر اسٹبلشمنٹ کے مفاہمتی کردار کا امکان محدود کیا ہے تو یہ موقع بھی فراہم کیا ہے کہ اس نظام کی غلطیوں کو سمجھ کر اسٹبلشمنٹ مزید غلطیوں سے گریز کرے۔
جس نظام کو چلایا نہیں جاسکتا، اس کی سرپرستی سے دست کش ہو کر ہی اسٹبلشمنٹ اپنا دامن بھی بچا پائے گی اور موجودہ نظام میں جمہوری و آئینی اصلاح کی گنجائش بھی پیدا ہوگی۔ یہی اس بحران اور تصادم سے نکلنے کا واحد باعزت راستہ ہے۔
(بشکریہ:کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker