تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کاتجزیہ۔۔ملک کا سیاسی مولا جٹ اور سچائی کا گنڈاسا

براڈ شیٹ کی تحقیقات کے لئے پانچ رکنی کمیٹی قائم کرنےکا اعلان بالآخر یک رکنی کمیشن میں تبدیل ہوگیا اور کابینہ کے فیصلہ کے مطابق جسٹس (ر) عظمت سعید پر مشتمل اس ایک رکنی کمیشن کو وسیع اختیارات اور ہائی کورٹ کا پروٹوکول حاصل ہوگا۔ یعنی کمیشن کے طریقہ کار اور اس کے سربراہ کی شان میں گستاخی کرنے والے کو ’توہین عدالت‘ کے الزام میں سزا دی جاسکے گی۔
آج ہی مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے عظمت سعید سے اس کمیشن کی سربراہی قبول نہ کرنے کامطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے سابق جج از خود اس نئے عہدے سے دست بردار نہ ہوئے تو ان کی پارٹی نیب پراسیکیوٹر کے طور پر اس اسکینڈل میں ان کا کچا چٹھا عوام کےسامنے لے آئے گی۔ مسلم لیگ (ن) نے جسٹس (ر) عظمت سعید کا نام سامنے آتے ہی اس کی مخالفت کی تھی اور اس کا دعویٰ ہے کہ سابق جج نیب کے علاوہ شوکت خانم ہسپتال کے بور ڈ آف ڈائیریکٹرز میں بھی شامل رہے ہیں۔ ا س کے علاوہ وہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف مقدمات قائم کرنے میں بھی ملوث تھے ۔ اس طرح ان سے کسی غیرجانبداری کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ عظمت سعید سپریم کورٹ کے اس پاناما بنچ کا بھی حصہ تھے جس نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو نااہل قرار دیا تھا۔ اس لئے مسلم لیگ (ن) اور مریم نواز کا واویلا اور وفاقی وزرا کی خوشی قابل فہم ہے۔ مریم نواز کو سمجھنا ہوگا کہ معاملہ سچائی کا نہیں قومی مفاد کا ہے۔
یہ کہنا تو قبل از وقت ہے کہ جسٹس (ر) عظمت سعید جب براڈ شیٹ اسکینڈل کی تحقیقات کا آغاز کریں گے تو بطور انکوائری کمیشن وچئیر مین، وہ مریم نواز اور دیگر لوگوں کے تند و تیز بیانات کا نوٹس پہلے لیں گے یا ان ساٹھ پینسٹھ ملین ڈالرز کے ناجائز مصرف کے بارے میں قوم کو آگاہ کریں گے جو براڈ شیٹ کے ذریعے ملکی دولت چوری کرنے والوں کا سراغ لگانے کی خواہش اور پھر یہ خواب ٹوٹنے کے طویل عمل میں ضائع کئے جاچکے ہیں۔ تاہم اگر براڈ شیٹ کیس اور اس کے موجودہ یا حقیقی مالکان کو خطیر رقم کی ادائیگی اور اس کے بعد شروع کی گئی پر تاثیر بحث پر غور کیا جائے تو عظمت سعید کا اصل کام درحقیقت ان ’چوروں‘ کو پکڑنا ہوگا جن کا سراغ لگانے کے لئے پرویز مشرف کے دور میں براڈ شیٹ سے معاہدہ کیا گیا تھا لیکن باہمی تنازعہ میں یہ کام بیچ میں ہی رہ گیا۔ اسی لئے وزیر داخلہ شیخ رشید نے عظمت سعید کی نامزدگی پر اپوزیشن کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ مریم نواز کی ا صل پریشانی یہ ہے کہ جسٹس عظمت سعید نے پانامہ جے آئی ٹی رپورٹ کی جلد۔10 کا مطالعہ کیا ہؤا ہے۔
اس ملک میں اصل حقائق کو ہمیشہ عام آدمی کی نگاہوں سے اوجھل رکھا جاتا ہے کیوں کہ یہ یقین کرلیا گیا ہے کہ سچائی سامنے آنے پر یا تو عوام اس صدمہ کو برداشت نہیں کرسکیں گے اور نڈھال ہوجائیں گے یا یہ کہ ان کا غصہ حکمرانوں پر بھاری پڑے گا۔ وجہ کچھ بھی ہو پاکستان میں نظام حکمرانی کا بنیادی اصول اخفائے راز ہے۔ اسی اصول کی وجہ سے پاناما کیس یا اس میں قائم کی گئی جے آئی ٹی رپورٹ کی تکہ بوٹی مباحث، سیاسی بیان بازی اور ٹاک شوز کے ذریعے کی جاتی رہی ہے لیکن جلد۔10 کی مقدس پراسرایت کا پردہ بہر حال قائم ہے تاکہ بوقت ضرورت شیخ رشید جیسے کہنہ مشق سیاست دانوں اور حکومتی نمائیندوں کے بیانات کو قابل بھروسہ بنا سکے۔ حالانکہ عمران خان نے وزیر اعظم بننے سے پہلے اور اڑھائی سالہ دور حکومت میں اپنے سیاسی مخالفین اور خاص طور سے نواز شریف کی کردار کشی کے لئے کون سی حد عبور نہیں کی۔ ان کے طاقت ور رابطوں کا سلسلہ اس وقت بھی دراز تھا جب میمو گیٹ اسکینڈل کیس کے آغاز میں ہی انہوں نے حسین حقانی کو اصل قصور وار ٹھہرادیا تھا، عدالتیں تو بہت بعد اس نتیجے تک پہنچنے کے قابل ہوئی تھیں۔ حیرت ہے کہ پانامہ کی جلد۔10 میں ایسی کون سی معلومات ہیں جنہیں الزامات کی صورت میں پہلے ہی عام نہیں کیا جاچکا۔
براڈ شیٹ کیس کی تحقیقات اور اس پر مریم نواز کے اعتراضات کو جانچنے کے لئے یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ جسٹس عظمت سعید کی قیادت میں بننے والا کمیشن اس بات کا سراغ لگائے گا کہ گزشتہ ماہ اچانک کیسے پاکستانی ہائی کمیشن کے اکاؤنٹ سے 29 ملین ڈالر براڈ شیٹ کو ادا ہو گئے یا یہ جاننے کی کوشش کرے گا کہ رقم برطانیہ منتقل کیوں کی گئی تھی۔ یا اس کے مینڈیٹ میں یہ بات شامل کی جائے گی کہ نیب نے یہ ادائیگی تاخیر سے کیوں کی؟ یا اس کا کام یہ پتہ لگانا ہوگا کہ پرویز مشرف کے دور میں نیب نے کس بنیاد یا میرٹ پر براڈ شیٹ کے ساتھ ایک ایسا معاہدہ کیا تھا جس سے نکلنے کے لئے اسے ہرجانہ اور وکیلوں کی فیس کے طور پر اربوں روپے صرف کرنا پڑے۔ اس کے باوجود اب تک کوئی یہ یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ نیب اور پاکستان کی جان اس ’کمبل‘ سے چھوٹ گئی ہے۔ اس کمپنی کی صلاحیت اور اثاثے تلاش کرنے کے تجربہ کے بارے میں اس سے زیادہ ثبوت ابھی پاکستانی عوام کے سامنے نہیں آسکا کہ اس نے برطانوی نظام عدل کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے احتساب بیورو سے ساڑھے چار ارب روپے وصول کرلئے اور ابھی مزید کا مطالبہ جاری ہے۔
جسٹس عظمت سعید کے تجربہ اور بصیرت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دراصل نواز شریف کی لوٹ مار کا سراغ لگانے کی ایک نئی کوشش کا آغاز کیا جائے گا۔ براڈ شیٹ کا نام تومحض اصل مقصد کا پردہ رکھنے کے لئے، استعمال کرنا مقصود ہے۔ یعنی پاکستانی عوام اس زر کثیر کو بھول جائیں جو حکومتوں کے تعصب ا ور اہلکاروں کی نا اہلی یا لالچ کی وجہ سے اب تک اس مد میں صرف کیا جاچکا ہے۔ حکومت کی گرمجوشی اور مسلم لیگ (ن) کی پریشانی کے تناظر میں دیکھا جائے تو سمجھا جاسکتا ہے کہ حکومت کے نزدیک براڈ شیٹ سے معاہدہ اور اس سلسلہ میں ہونے والی غلطیاں سامنے لانا ’وقت کا ضیاع‘ ہوگا۔ البتہ اگر اس بہانے سے نواز شریف کے گرد گھیرا تنگ کیا جاسکے تو عمران خان کا ایک نکاتی سیاسی ایجنڈا بھی پورا ہوسکتا ہے، فوجی قیادت پر برسر عام نام لے کر الزام تراشی کا جواب بھی دیا جاسکتا ہے اور ملک میں ایک محبوب شفاف حکومت کی کارکردگی کے حوالے سے اٹھنے والے نت نئے سوالات کو جواب دیے بغیر خاموش کروایا جاسکتا ہے۔ گویا ایک پنتھ کئی کاج والا معاملہ ہوسکتا ہے۔ ان مقاصد کی تکمیل کے لئے جسٹس (ر) عظمت سعید سے زیادہ مؤثر اور قابل بھروسہ بھلا اور کون ہوگا۔
یہ انکوائری جوں جوں آگے بڑھے گی اور سرکاری ترجمان اور ’سچی و اصلی‘ خبروں کا متلاشی قومی مفاد کا خیر خواہ میڈیا، ان معلومات کو عام کرکے عوام کے ان زخموں پر مرہم رکھ سکے گا جو براڈ شیٹ اسکینڈل کی وجہ سے ان کے دلوں پر لگے ہیں۔ یہ امید بھی کی جاسکتی ہے کہ اس ہنگامے میں ایک طرف عوام مہنگائی اور بیروزگاری کی پریشانیاں بھول کر حکومت اور فوج کے خلوص پر پھر سے ایمان لے آئیں اور پاکستان جمہوری تحریک کے نام سے شروع ہونے والے احتجاج کا تمت بالخیر ہوجائے۔ تب ہی عوام کو یقین دلایا جاسکے گا کہ ’ووٹ کی عزت‘ کوئی چیز نہیں ، اصل شے خلوص نیت ہے۔ یہ خلوص ملک کے صرف ایک ہی ادارے میں پایا جاتا ہے یا پھر اس مقدس ادارے کے نامزدگان میں اس کی رمق محسوس کی جاسکتی ہے۔ باقی سب تو پنجاب کے مولاجٹ کے مقابلے میں چھان بورا ہی ہوتا ہے۔
’مولا جٹ ‘ کی دہشت اور راست گوئی کی کئی نسلیں گواہ ہیں۔ اب پاکستان میں ایک سیاسی مولا جٹ کا کامیاب تجربہ کیا جارہا ہے۔ اسی لئے ملک بھر کے ’نوری نت‘ پی ڈی ایم کے نام سے قائم کئے گئے اتحاد کے ذریعے سچائی کی اس قوت کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔ شبلی فراز کی قیادت میں حکومت کے سارے ترجمانوں نے کئی ماہ سے اس ’جعلی اتحاد‘ کے غبارے سے ہوا نکالنے کے لئے دن رات ایک کئے ہیں۔ تب جاکر ملک کے صحافیوں اور مبصرین کو یہ سمجھایا جاسکا ہے کہ اس اتحاد کے تو اندر ہی انتشار ہے، یہ کیسے حکومت کو گرا سکتا ہے۔ قطار اندر قطار قوم پرست مبصر عوام کو یہ سمجھانے کی کوشش کررہے ہیں کہ کوئی جمہوریت جی ایچ کیو کی براہ راست یا بالواسطہ سرپرستی کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی۔ جس قوم کو بھارت جیسے دشمن کا سامنا ہو اور جہاں نریندر مودی جیسا فاشسٹ حکمران ہو، اس کے لوگوں کو ووٹ کی عزت اور انسانی حقوق جیسے نعروں پر کان دھرنے کی بجائے یہ جاننا چاہئے کہ عوام کے مفاد پر ڈاکہ ڈالنے والے کون ہیں اور ان کی حفاظت کون کررہا ہے۔ پرچہ ترکیب استعمال کے مطابق اس کا جواب آسان ہے: پی ڈی ایم میں شامل سارے لیڈر عوام دشمن ہیں اور عمران خان کی قیادت پر ایمان لانے والے سارے محب وطن ہیں۔
خیر اور شر کی یہ لڑائی ایک نئے دور میں داخل ہوچکی ہے۔ براڈ شیٹ کمیشن اس لڑائی کا محض ایک محاذ ہے۔ طے کیا جاچکا ہے کہ اس جنگ میں ’آخری سپاہی اور آخری گولی‘ تک لڑا جائے گا۔ چالیس سال تک فوجی وردی پہن کر قوم کی خدمت کرنے والے ریٹائرڈ میجر جنرل کا بیٹا بھی اگر اس جنگ کی صداقت پر سوال اٹھائے گا تو اسے بھی جوابدہ ہونا پڑے گا۔ آئی ایس آئی کا سابق سربراہ بھی اگر اس بازی میں مہروں کی چالوں کا راز افشا کرے گا تو وہ بھی دشمن کا ایجنٹ ہی کہلائے گا۔ سچائی کا گنڈاسا بدستور مولا جٹ کے ہاتھ میں ہے۔ ابھی اسے دفن کرنے کا وقت نہیں آیا۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker