تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ:پاک سعودی تعلقات: ابھی مشکل مراحل باقی ہیں

وزیر اعظم عمران خان ، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ مذاکرات کے بعد اب مدینہ منورہ پہنچ چکے ہیں۔ اپنے دورے کے تیسرے اور آخری دن وہ مکہ معظمہ میں عمرہ اداکریں گے۔ وزیر اعظم گزشتہ رات جب سعودی عرب پہنچے تو ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے خود ان کا استقبال کیا۔ یہی اس دورہ کا سب سے کامیاب لمحہ اور روشن پہلوقرار دیا جاسکتا ہے۔
دونوں ملکوں نے مختلف شعبوں میں تعاون کے کئی معاہدوں پر دستخط کئے ہیں ۔ ان میں اہم ترین معاہدہ سعودی پاکستان سپریم رابطہ کونسل کا قیام ہے۔ پاکستانی وزیر اعظم اور سعودی ولی عہد مشترکہ طور سے اس کونسل کی سربراہی کریں گے۔ اس کونسل کے طریقہ کار اور مینڈیٹ کے بارے میں زیادہ تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ تاہم یہ قیاس کیا جا رہا ہے کہ اس کونسل کے پلیٹ فارم سے پاکستان میں سعودی سرمایہ کاری کے لئے کام کیا جائے گا۔ شہزادہ محمد دو برس قبل جب اسلام آباد آئے تھے ، انہوں نے اس وقت بھی سی پیک منصوبوں میں سرمایہ کاری کا وعدہ کیا تھا ۔ اس لئے اب سپریم رابطہ کونسل کے قیام کو اس سلسلہ میں پیش رفت سمجھا جاسکتا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی قابل غور نکتہ ہے کہ دو سال گزرنے کے باوجود سعودی سرمایہ کاری کی تفصیلات اور خد و خال سامنے نہیں آسکے۔ اور نہ ہی ان سیاسی و ااسٹریٹیجک پہلوؤں پر کوئی وضاحت سامنے آئی ہے جو پاک چین راہداری منصوبوں میں سعودی سرمایہ کاری کی صورت میں پیدا ہوسکتے ہیں۔
اس پس منظر میں دونوں ملکوں کے درمیان سپریم رابطہ کونسل کا قیام ان معنوں میں تو امید افزا ہے کہ ابھی تک دونوں ممالک اقتصادی تعاون پر راضی ہیں اور سعودی عرب نے پاکستان میں سرمایہ کاری سے دست کش ہونے کا فیصلہ نہیں کیا لیکن ان وعدوں پر عمل درآمد کا کوئی ٹائم فریم اور لائحہ عمل سامنے نہ ہونے کی وجہ سے ابھی تک یہ غیر واضح ہے کہ محض رابطہ کونسل کا قیام کس حد تک مالی مشکلات میں گھرے پاکستان کی مدد کرسکے گا۔ یہ ممکن ہے کہ اس سلسلہ میں بین السطور کچھ افہام و تفہیم ہوئی ہو اور آنے والے دنوں میں سعودیہ سے کچھ مالی امداد فراہم ہونے کی خبریں بھی موصول ہوں۔ عمران خان اور شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان ملاقات اور اعلیٰ سطحی رابطہ کے بعد یہ امید ضرور پیدا ہوئی ہے کہ پاک سعودی تعلقات میں پڑنے والی دراڑ کو کسی حد تک پاٹنے کی کوشش کی گئی ہے۔ مبصرین اسے یوں بیان کرتے ہیں کہ دونوں ملک نئے حالات میں اپنی پوزیشن پر قائم رہتے ہوئے ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات کو نئی شکل دینے کی کوشش کررہے ہیں۔
یہ کوششیں کس حد تک بارآور ہوتی ہیں اس کا انحصار بڑی حد اس بات پر ہوگا کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کے اہداف کے حوالے سے کس قدر پرجوش ہے اور کس حد تک تحمل کا مظاہرہ کرتا ہے۔ یہ واضح ہوچکا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں پاکستان تقاضے کرنے اور دباؤ ڈالنے کے ہتھکنڈے استعمال نہیں کرسکتا۔ شاہ محمود قریشی نے گزشتہ برس ایک ٹی وی انٹرویو میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی ) سے کشمیر کے معاملہ پر پاکستان کا ساتھ نہ دینے پر برہمی کا اظہار کیا تھا اور متنبہ کیا تھا کہ اگر اسلامی تعاون تنظیم وزرائے خارجہ کا اجلاس بلا کر مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرنے کے بارے میں مودی کے اقدامات کی مذمت نہیں کرتی تو پاکستان اپنے طور پر ’ہم خیال‘ دوست ممالک کا اجلاس بلا کر یہ مقصد حاصل کرلے گا۔ سعودی عرب کو براہ راست ایک پبلک انٹرویو میں چیلنج کرنے کے بعد ریاض کی جانب سے واضح کردیا گیا تھا کہ وہ اپنی پالیسی کے بارے میں اس قسم کی نکتہ چینی برداشت نہیں کرے گا۔ اس کا مظاہرہ صرف پاکستان کو عبوری قرض کے دو ارب ڈالر کی واپسی کے مطالبے کے ذریعے ہی نہیں کیا گیا بلکہ گزشتہ سال اگست میں جنرل قمر جاوید باجوہ جب دونوں ملکوں میں پیدا ہونے والی ’غط فہمی‘ دور کرنے کے لئے ریاض گئے تو ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ان سے ملنے سے انکار کردیا تھا۔
جنرل باجوہ اور عمران خان کے موجودہ دورہ سے اب سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو اس پستی سے نکالنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ظاہری طور سے سعودی عرب بھی پاکستان کے ساتھ معاملات درست کرنا چاہتا ہے کیوں کہ اسے بھی خطے اور عالمی سطح پر نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔ خاص طور سے امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی شکست اور جو بائیڈن کی فتح کے بعد سعودی عرب کو امریکہ کی ویسی غیر مشروط حمایت حاصل نہیں ہوگی جو اس سے پہلے میسر تھی۔ صدر بائیڈن کی انتظامیہ نے مارچ کے دوران صحافی جمال خشوگی کے قتل کے بارے میں خفیہ امریکی انٹیلی جنس رپورٹ جاری کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ سابق صدر ٹرمپ نے یہ رپورٹ جاری کرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ اس میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو استنبول کے سعودی قونصل خانے میں جمال خشوگی کے قتل کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس قتل کا حکم شہزادہ محمد نے ہی دیا تھا۔ رپورٹ شائع ہونے کے بعد امریکہ نے متعدد سعودی اعلیٰ حکام پر پابندیاں عائد کی تھیں تاہم دونوں ملکوں کے حساس تعلقات کی وجہ سے شہزادہ محمد بن سلمان پر پابندیاں عائد نہیں کی گئی تھیں۔ البتہ امریکی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ حکومت مخالف اور بنیادی حقوق کے لئے سرگرم عناصر کے خلاف سعودی حکومت کا طرز عمل دونوں ملکوں کے تعلقات پر اثر انداز ہوگا۔
سعودی عرب نے جمال خشوگی قتل کیس میں امریکی انٹیلی جنس رپورٹ کو مسترد کیا ہے لیکن واشنگٹن کی طرف سے اپنے دیرینہ اور قابل اعتماد حلیف کے خلاف اس رپورٹ کو شائع کرنے سے سعودی عرب اور امریکہ کے تعلقات میں دوری محسوس کی جاسکتی ہے۔ اسی طرح بائیڈن حکومت نے یمن جنگ میں سعودی عرب کا ساتھ دینے سے انکار کردیا ہے اور ایران کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی کم کرنے کی کوششیں شروع کی گئی ہیں۔ نئی امریکی حکومت ایران کے ساتھ بڑی طاقتوں کے ایٹمی معاہدے میں دوبارہ شامل ہونا چاہتی ہے۔ سعودی عرب اور اسرائیل نے ہمیشہ سے اس معاہدے کی مخالفت کی ہے۔ ریاض اور سعودی شاہی خاندان کے لئے یہ ایک بدلا ہؤا سفارتی منظر نامہ ہے جسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں ہے۔ اسی لئے سعودی لب و لہجہ اور طرز عمل میں نمایاں تبدیلی دیکھی جارہی ہے۔
پاکستان کو پرے دھکیلنے کے بعد ایک بار پھر ’قبول‘ کرنے کی حکمت عملی بھی انہی تبدیل شدہ حالات کا پیش خیمہ ہے جن میں شہزادہ محمد بن سلمان ایران کے ساتھ بھی تعلقات بحال کرنے کے لئے مذاکرات پر آمادہ ہوچکے ہیں۔ اس لئے صرف ایک دورہ سے دونوں ملکوں کے تعلقات میں پرانی گرم جوشی اور گہرائی واپس آنے کا امکان نہیں ہے۔ اس کے لئے برسوں محنت کرنے اور سعودی لیڈروں کا اعتماد جیتنے کی ضرورت ہوگی۔ پاکستان میں کمزور سیاسی حکومت اور سیاسی و سفارتی معاملات پر فوج کی گرفت کی وجہ سے یہ سفر سہل نہیں ہوگا لیکن اس کا آغاز بہر حال کیا گیا ہے۔ یوں کہا جاسکتا ہے کہ دونوں ملک بات کرنے اور تعلقات کو نیا موڑ دینے پر راضی ہوگئے ہیں۔ پاکستان کے آپشنز بہت واضح ہیں۔ وہ کسی بھی صورت میں سعودی مالی امداد اور سرمایہ کاری کا خواہشمند ہے اور سعودی منڈی میں مزید پاکستانی کارکنوں کو کام کے لئے بھیجنا چاہتا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستانی حکومت سعودی عرب میں کا م کرنے والے پاکستانیوں کے مستقبل کی ضمانت بھی چاہتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ جواب میں پاکستان سعودی عرب کو کیا دے سکتا ہے؟ اسلام آباد کو اس سلسلہ میں سعودی سالمیت کی حمایت اور شاہی خاندان کی عظمت کو سلام کے علاوہ بھی کچھ کرکے دکھانا ہوگا۔ سعودی خواہشات کی فہرست بھی واضح ہے۔ وہ افغانستان میں امریکی منصوبے کی حمایت کرتا ہے جس میں ایران کا راستہ روکنا اور بھارت کو مزید رسائی دینا شامل ہے۔ پاکستان کو ایران کے ساتھ تعلقات میں ایک حد سے بڑھنے کی اجازت بھی نہیں ہوگی۔ اسی طرح پاکستان کو سعودی عرب کی قیادت میں کام کرنے والی اسلامی تعاون تنظیم سے کشمیر کے سوال پر بھارت مخالف محاذ آرائی کا مطالبہ ترک کرنا پڑے گا اور متبادل اسلامی بلاک بنانے کے خواب سے دست بردار ہونا ہوگا ۔ پاکستان سی پیک منصوبہ میں سعودی سرمایہ کاری کی امید کرتا ہے اور اسے ایک مثبت اور خوش آئیند پیش رفت کہا جائے گا لیکن چین کی سرپرستی میں تکمیل پانے والے اس منصوبہ میں سعودی سرمایہ آنے سے چین کے ساتھ دو طرفہ تعلقات بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔ پاکستان جب تک حال اور مستقبل کا پورا نقشہ سامنے رکھ کرکوئی قابل عمل حکمت عملی نہیں بنائے گا ، اس کے لئے سفارتی معاملات دلدل کی صورت اختیار کرتے چلے جائیں گے۔ خوش آئیند بیانات اور اعلامیوں سے ان مشکلات کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔
وزیر اعظم کاموجودہ دورہ سعودی عرب اس لحاظ سے تو اہم ہے کہ اس سے کشیدگی کی بجائے مفاہمت کا احساس غالب آئے گا لیکن یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ سب کچھ پہلے کی طرح نارمل ہوگیا ہے۔ وزیر اعظم اور ولی عہد کی ملاقات کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری نہیں ہؤا بلکہ پاکستان اور سعودی وزارت خارجہ نے علیحدہ علیحدہ اعلامیے جاری کئے ہیں۔ پاکستانی اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ وزیر اعظم نے بات چیت میں مقبوضہ کشمیر کی صورت حال کا حوالہ دیتے ہوئے اس تنازعہ کے پر امن حل پر زوردیا۔ سعودی اعلامیے میں یمن کے تنازع پر بھی تفصیلات شامل ہیں اور بتایا گیا ہے سعودی عرب پر حوثی ملیشیا کے میزائل اور ڈرون حملوں کی مذمت کی گئی ۔ یہ دونوں ملکوں کی سیاست ، سوچ اور ضرورت کا محض ایک پہلو ہے۔
عمران خان کے نقطہ نظر اور داخلی سیاسی بیانات کے حوالے سے دیکھا جائے تو وہ اس دورے میں اپنے ایجنڈے کے اہم نکات کشمیر اور اسلامو فوبیا پر سعودی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ بلکہ پاکستان نے ہی اسلامی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم سے بھارت کو عالمی طور سے تنہا کرنے کا ’مطالبہ‘ واپس لے لیا ہے۔ اسی طرح وزیر اعظم اسلاموفوبیا اور حرمت رسولﷺ پر عالم اسلام کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کا عہد کرتے رہے ہیں۔ سعودی حکام سے بات چیت میں وہ اس معاملہ پر بھی تائد و حمایت حاصل نہیں کرسکے۔ دورے کے دوران عمران خان اپنا انفرادی سیاسی ایجنڈا فوکس کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے لیڈروں کا مل بیٹھنا اور مسائل پر بات چیت کرنا ضرور خوش آئیند ہے لیکن ابھی یہ دیکھنا ہو گا کہ عالمی سفارت کاری میں دونوں ممالک کے مشترکہ اہداف کیا ہیں اور انہیں حاصل کرنے کے لئے کس حد تک گرمجوشی دیکھنے میں آتی ہے۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker