آمنہ مفتیکالملکھاری

آمنہ مفتی کا کالم: جانے نہ دوں گی!

اب تک سیاست میں جو دیکھا سمجھا تھا اس میں ایک اہم نکتہ یہ تھا کہ کسی بھی سیاستدان یا سیاسی کارکن کے لیے سب سے بڑی سزا جلا وطن کیا جانا ہوتی ہے۔
ہمارا بچپن تھا اور ضیا دور کے جلاوطن لوگ جوق در جوق واپس آتے تھے۔ ان ہی لوگوں میں میرے استاد اور عزیز شہرت بخاری مرحوم بھی تھے۔ جلاوطنی کے دنوں کا ذکر کرتے ہوئے آبدیدہ ہو جاتے تھے۔
گو اب ان کا لاہور وہ لاہور نہیں رہا تھا جو وہ کبھی تھا لیکن آخری سانسوں تک وہ اس شہر کی گلیوں میں ایسے گھومتے رہے جیسے جدائی کے برسوں کی تلافی کر رہے ہوں۔
اسی دور میں جگجیت سنگھ کا گایا ہوا، ’ہم تو ہیں پردیس میں دیس میں نکلا ہو گا چاند‘ ، رزق کی خاطر پردیس جانے والوں کا ترانہ بنا۔ وطن سے باہر رہنے والوں کی ملک کے لیے تڑپ دیدنی ہوتی تھی اور خودساختہ اور جبری جلاوطنوں کا تو پوچھیے ہی مت۔
امریکہ میں جلاوطن ایک عزیزہ، چار جولائی کو کچھ پھلجھڑیاں چھپا لیا کرتی تھیں اور چودہ اگست کو چپکے سے گھر کے پچھلے صحن میں جا کے جشن آزادی مناتی تھیں۔
پھر ہم نے وہ دور بھی دیکھا کہ نواز شریف صاحب جلاوطنی سے نکل کے پاکستان آئے اور انہیں ائر پورٹ ہی سے واپس بھیج دیا گیا اور پھر وہ دن بھی آیا کہ بے نظیر بھٹو صاحبہ، ہر دھمکی اور اندیشے کو برطرف رکھتے ہوئے وطن آئیں اور اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔
سیاستدان کے لیے اس کا ملک ہی اس کی پہچان ہے۔ عوام سے رابطے کے بغیر وہ ایسے ہی ہے جیسے بے سلطنت کے بادشاہ۔ سیاستدانوں اور سیاسی کارکنوں کو جلاوطن ہی اس لیے کیا جاتا ہے کہ وہ عوام سے رابطہ نہ کر سکیں۔
یہ آج کی نہیں صدیوں پرانی ترکیب ہے۔ ٹیپو سلطان کے ساتھیوں کی گمنام قبریں جزائر غرب الہند اور جانے کن کن دیسوں میں پھیلی ہوئی ہیں۔ ان کے بعد بھی آزادی کے متوالوں کو تڑی پار کر کے ان سے جان چھڑائی جاتی رہی لیکن وطن کی محبت میں سرشار یہ لوگ کسی نہ کسی طرح لوٹ کے آتے رہے۔
لیکن صاحبو! جانے کس نے یہ اور کب یہ بس گھولا کہ جلاوطنی، دکھ نہیں عین راحت بن گئی۔ ملک کیکڑوں کی وہ ٹوکری بن گیا جس پہ ڈھکن اس لیے نہیں رکھا گیا کہ ہر ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچ رہا ہے۔
عوام ہوں، صحافی ہوں، کاروباری حضرات و خواتین ہوں یا سیاستدان، ملک سے بھاگنے کو ایسے تیار ہیں جیسے یہاں رہنا کوئی سزا ہو۔ ایک صاحب نے تو فخریہ یہ راز بھی فاش کیا تھا کہ خواتین ریپ کی جھوٹی کہانیاں اس لیے سناتی ہیں کہ مغرب میں پناہ لے سکیں (جی وہی مغرب جسے ’کوئی‘ خوب جانتا ہے )۔ یہ ’پناہ‘ کس سے لی جاتی ہے، اس پہ بات کرتے ہوئے زبانیں گنگ ہو جاتی ہیں۔ بہت سے لوگوں کی تو زندگی کا ماٹو ہی ’پاکستان سے زندہ بھاگ‘ بن گیا ہے۔
آئے دن سنتے ہیں کہ فلاں صحافی یا فلاں ایکٹوسٹ ملک سے نکل بھاگا۔ یہاں تک تو بات سمجھ آتی رہی لیکن پچھلے ایک دو سال سے عقل بالکل ماؤف ہے۔ مسلم لیگ ن کی اعلی قیادت پاکستان سے نکل بھاگنے کو تیار ہے اور حکومت ان کی ٹانگ پکڑ پکڑ کے انہیں روک رہی ہے۔ سیاستدان سوائے جان کے خطرے کے اور کبھی کبھار اس خطرے کو بھی پس پشت ڈال کے عوام کے درمیان ہی رہنا چاہتے ہیں۔
ظاہر ہے بھاگنے والے یوں بھاگ رہے ہیں کہ ملک میں سرکاری مشینری ان کا جائز ناجائز احتساب کرنے کو تیار کھڑی ہے اور پکڑنے والے اس لیے پکڑ رہے ہیں کہ ان سے سیاسی انتقام لیا جائے۔
اس ساری صورتحال میں ایک بات کہیں فراموش ہو جاتی ہے کہ عوامی نمائندوں اور سیاستدانوں کا احتساب یہ ہی ہوتا ہے کہ ان کی کارکردگی دیکھتے ہوئے عوام انہیں رد کر دیں۔ اگر عوام ان ہی کو بار بار منتخب کرنا چاہتے ہیں تو کیا ضروری ہے کہ ان کو کسی آہنی ہاتھ سے منظر سے ہٹا دیا جائے؟
نواز شریف صاحب باہر گئے اور حکومت نے برضا و رغبت بھیجا۔ شہباز شریف صاحب کی ضمانت ہوئی، کورٹ نے آرڈرز دیے کہ وہ بیرون ملک سفر کر سکتے ہیں مگر پھر ایک پراسرار لسٹ کے ذریعے ان کو روک لیا گیا۔
جتنا اس دور کی پاکستانی سیاست کو ہم سمجھے ہیں، اور آپ سب بھی جانتے ہی ہیں کہ اس بحثا بحثی کا انجام کیا ہو گا۔ شہباز شریف صاحب کو ملک سے باہر جانے کی اجازت مل جائے گی۔ عین اسی طرح جیسے میاں نواز شریف کو ملی تھی۔
اس کھیل میں نہ آپ شریک ہیں، نہ میں، نہ ہی ووٹ دینے والے اور نہ ہی شہباز شریف کا نام پی این آئی ایل میں ڈالنے والے۔ یہ کھیل کہیں اور کھیلا جاتا ہے۔ عقل مندی یہ ہی ہوتی کہ یا تو اس کھیل میں حصہ ہی نہ لیتے اور اگر لے لیا تھا تو کھیل کے اس حصے کو بھی وقار سے برداشت کرتے۔
اس صورتحال پہ مجھے نواز الدین صدیقی کی ایک فلم کا سین یاد آگیا۔ جس میں ان کی بیگم روٹھ کر میکے جا رہی ہیں۔ نواز الدین پہلے ڈراتے دھمکاتے ہیں، پھر کچھ سمجھ نہیں آتا تو فرش پہ لیٹ جاتے ہیں اور کہتے ہیں، ’جارہی ہو، جاؤ، ہماری لاش پہ سے گزر کے جانا پڑے گا۔‘ بیوی ایک طنزیہ نظر ان پہ ڈالتی ہے اور انہیں پھلانگتی ہوئی میکے چلی جاتی ہے۔ نواز الدین فرش پہ پڑے بے بسی سے اسے جاتا دیکھتے رہتے ہیں۔
یہ حالات دیکھ کر ہنسی بھی آتی ہے اور رونا بھی۔ ہنسنے سے کوئی فرق پڑتا تو ہنستے رہتے اور رونے سے حالات بدلتے تو کب کے بدل چکے ہوتے۔ عوام اور سیاستدان کے درمیان کا سچا رشتہ جب تک بحال نہیں ہو گا، دلچسپ مناظر سے سجی یہ فلم جاری رہے گی۔
(بشکریہ:بی بی سی اردو)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker