تجزیےلکھارینصرت جاوید

سید مجاہد علی کا تجزیہ:اقتدار بھیک مانگنے سے نہیں ملتا، اس کے لئے جمہور سے دوستی نبھانا ہوگی

گزشتہ روز پاکستان جمہوری تحریک کے جلسہ میں ’عوام کا سیلاب‘ اسلام آباد لے جاکر حکومت کا تختہ الٹنے کا دعویٰ کرنے والے شہباز شریف نے اب ’قومی حکومت‘ کے ذریعے اقتدار تک رسائی کی بھیک مانگی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے سربراہ کو جس روز یہ بات سمجھ آجائے گی کہ اقتدار منت سماجت سے نہیں ملتا بلکہ ایسا اقتدار محتاجی کی بدترین مثال ہوتا ہے، تو شاید وہ عوامی تائداور ان کے حق انتخاب کے لئے پوری طاقت سے کھڑا ہونے کی ضرورت محسوس کریں۔
فی الوقت تو شہباز شریف نے ایک بار پھر اپنے بڑے بھائی نواز شریف اور بھتیجی مریم نواز کو کسی بھی طرح خاموش رہنے پر آمادہ کیا ہے اور اب کراچی میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے قومی حکومت کا ’شوشہ‘ چھوڑا ہے تاکہ قومی سیاست میں اپنا اعتبار بحال کرواسکیں۔ انہیں بخوبی احساس ہے کہ وہ جس قومی مصالحت کی بات کرتے ہیں، اسے بالکل انہی معنوں میں سمجھا جاتا ہے۔ عوام بہت اچھی طرح جانتے ہیں کی سیاست میں مصالحت کی بات کرتے ہوئے شہباز شریف کون سے سیاسی راستہ کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ اگر اسی راستے پر چلتے ہوئے عمران خان نے کامیابی حاصل کی ہے اور اب پوری ’تندہی ‘ سے عوام کی خدمت کرنے کا قصد کئے ہوئے ہیں تو شہباز شریف باقی سب اپوزیشن لیڈروں کو آخر کیا تکلیف ہے؟ وہ نہ تو آئیندہ انتخاب تک انتظار کرنے کا حوصلہ کرتے ہیں اور نہ ہی ان میں موجودہ حکومت کو گرانے کی طاقت و صلاحیت ہے۔ لے دے کے مصالحت اور سودے بازی کے نئے کرتب دکھانے کا موقع باقی بچا ہے۔ شہباز شریف اب اپنی ساری صلاحیتیں یہی کرتب دکھانے میں صرف کررہے ہیں۔
قومی حکومت عام طور سے کسی انتہائی بحران میں قائم ہوتی ہے لیکن اگر ملک میں جمہوری نظام کام کررہا ہو تو یہ مقصد صرف اسی صورت میں ہی حاصل کیا جاسکتا ہے اگر پارلیمنٹ کی سب جماعتیں اس نکتہ پر اتفاق کرلیں کہ سرکاری بنچز اور اپوزیشن کی روائیتی تقسیم ملک کو درپیش مسائل کو حل کرنے کے لئے مناسب نہیں ۔ اس لئے ایک خاص مدت کے لئے ایک ایسی حکومت قائم کی جائے جس میں پارلیمنٹ کی سب جماعتوں کو ان کی نمائیندگی کے حساب سے حصہ دیا جائے تاکہ ملک و قوم کو درپیش مسائل حل کرلئے جائیں۔ اس مدت کے بعد تمام جماعتیں معمول کے سیاسی جمہوری طریقہ کے مطابق اگلے انتخاب میں اپنے اپنے منشور کی بنیاد پر عوام کی تائد حاصل کرنے کی کوشش کریں۔
شہباز شریف بخوبی اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ موجودہ پارلیمنٹ میں سیاسی پارٹیوں کے درمیان اتفاق رائے اور احترام و قبولیت کی صورت حال کیا ہے۔ قائد ایوان جو ملک کے وزیر اعظم ہیں، اپوزیشن لیڈر سے بات تک کرنا گورا نہیں کرتے اور پوری سرکار اپوزیشن لیڈروں کو بدعنوان اور قومی خزانہ لوٹنے والے ڈاکو قرار دینے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی۔ گزشتہ روز پی ڈی ایم کے جلسہ میں کی جانے والی تقریروں کو ہی بنیاد بنا لیا جائے تو سمجھا جاسکتا ہے کہ شہباز شریف اور دیگر اپوزیشن لیڈر بھی عمران خان اور حکمران جماعت کے بارے میں ایسے ہی خیالات رکھتے ہیں۔ ایسے میں ’قومی حکومت ‘ بنانے کے لئے شہباز شریف کس کی طرف دیکھ رہے ہیں؟ یوں بھی ایک طرف وہ اسلام آباد پر دھاوا بول کر تحریک انصاف کی حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا چاہتے ہیں تو دوسری طرف میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے قومی حکومت قائم کرنے کی بات کررہے ہیں۔
موجودہ سیٹ اپ میں اگر ملک میں کسی بھی قسم کی قومی حکومت قائم ہوسکتی ہے تو اس میں تحریک انصاف کو کس اصول کے تحت باہر رکھا جاسکے گا؟ اور اگر اپوزیشن میں شامل سب پارٹیاں مل کر کسی طرح موجودہ حکومت کو گرانے میں کامیاب ہوجاتی ہیں اور کوئی متبادل حکومت پارلیمنٹ میں اعتماد کا ووٹ بھی حاصل کرلیتی ہے تو وہ کس لحاظ سے ’قومی حکومت ‘ کہلائے گی؟ شہباز شریف اگر یہ واضح کردیتے کہ وہ چاہتے ہیں کہ عمران خان پارلیمنٹ میں ان کے ساتھ مشاورت سے کوئی ایسی حکومت قائم کرلیں جس میں سب سیاسی پارٹیاں شامل ہوں تو پھر بھی اسے ان کا ’درد دل ‘قرار دیا جاسکتا تھا تاکہ سب سیاسی لیڈر اپنی صلاحیتیں ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کی بجائے، ملک و قوم کو درپیش مسائل حل کرنے پر صرف کرسکیں۔ لیکن شہباز شریف تو عمران خان کو و کان سے پکڑ کر وزیر اعظم ہاؤس سے نکالنے کی بات کرتے ہیں۔
موجودہ حالات میں پھر قومی حکومت کیوں کر قائم ہوسکتی ہے؟ پہلا سوال تو یہی ہے کہ کیا ملک کی سب سے بڑی پارلیمانی پارٹی یعنی تحریک انصاف کے بغیر کوئی قومی حکومت تشکیل پاسکتی ہے۔ دوسرا سوال یہ ہے کیا کوئی ایسی پارٹی جو کسی بڑے چیلنج کے بغیر اس وقت مرکز کے علاوہ تین صوبوں میں حکومت کررہی ہے اور اگلے انتخابات میں پنجاب میں مسلم لیگ (ن) اور سندھ میں پیپلز پارٹی کا زور توڑنے کی شدید خواہش رکھتی ہے، وہ کیوں کر قومی حکومت کے جھانسے میں آکر اپوزیشن کو اپنے اختیار میں حصہ دار بنائے گی؟ تیسرا اہم ترین سوال یہ ہے کہ اگر یہ فرض کرلیاجائے کہ پارلیمنٹ کی سب پارٹیاں قومی حکومت بنانے پر راضی ہوگئیں اور اب معاملہ صرف وزیر اعظم چننے پر آکر رک گیا ہے تو شہباز شریف اپنے علاوہ کسے اس عہدہ جلیلہ کا سب سے زیادہ مستحق سمجھیں گے؟ کچھ ایسی ہی صورت حال عمران خان کی بھی ہوگی۔ اور پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے علاوہ کسی بھی دوسرے کو ملک کا وزیر اعظم بننے کا اہل نہیں مانے گی۔ ایسے میں قومی حکومت کا خواب تو دیکھنے سے پہلے ہی تتر بتر ہوجائے گا۔
یہ تو سب خیالی باتیں ہیں۔ شہباز شریف کو بھی اس بات کا احساس ہے کہ جس پارلیمنٹ میں نفرت وعناد کی بنیاد پر ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھالنے کی روایت عام کرنے میں سرکاری اور اپوزیشن ارکان ایک دوسرے سے بڑھ کر حصہ ڈالنے کی کوشش کرتے رہے ہوں، وہاں کسی بھی قومی مقصد کے لئے کسی بھی قسم کا کوئی کام کرنا ممکن نہیں ہوسکتا۔ قومی حکومت کی بات کرتے ہوئے اگر ملک کی سیاسی قوتیں شہباز شریف کا مخاطب نہیں ہیں تو وہ کن عناصر سے ’قومی حکومت ‘ قائم کروانے میں کردار ادا کرنے کی بات کررہے ہیں؟ وہ قومی سیاست میں جن اسٹیک ہولڈرز سے تعاون و دست گیری کی امید کبھی نہیں چھوڑتے ، اگر وہ بھی واقعی کسی قومی حکومت کے قیام کی کوشش کریں تو انہیں بھی منہ کی کھانا پڑے گی۔ ایک کمرے میں بیٹھ کر سیاسی لیڈر ایک دوسرے کے ایسے ایسے عیب سامنے لائیں گے کہ قومی حکومت کا قیام تو درکنار، ان لیڈروں کو خیریت سے گھروں کو بھیجنا محال ہوجائے گا۔
یہ بات قابل فہم ہے کہ شہباز شریف کسی بھی طرح موجودہ سیٹ اپ سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ اگر فوری طور سے براہ راست انہیں اقتدار نہیں بھی ملتا تو کسی نئے سیٹ اپ کا بہانہ بنا کر موجودہ حکومت کو کسی بھی طرح گھر بھیجا جائے۔ شہباز شریف بھی اس معاملے میں عمران خان کے خلاف اسی امپائر کی انگلی کے اٹھنے کا انتظار کررہے ہیں، جس کے انتظار میں عمران خان نے 2014 میں ملکی تاریخ کا طویل ترین دھرنا دیا تھا۔ امپائر کی انگلی نواز شریف کو گھر تو نہیں بھجوا سکی کیوں کہ پارلیمنٹ کی سب پارٹیاں ان کے پیچھے دیوار بن گئی تھیں لیکن اس انگلی کے اشارے پر ’تادم مرگ‘ دھرنے کا دعویٰ کرنے والے عمران خان ضرور بوریا بستر لپیٹنے پر آمادہ ہوگئے تھے۔ اب شہباز شریف اسی امپائر کو قومی حکومت کے نام سے ایک نئی اصطلاح یا بہانہ فراہم کرنے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ کسی طرح عمران خان اور اپنے خاندان کے خلاف ان کے انتقامی ہتھکنڈوں سے نجات مل سکے۔ ایسی حکومت کو کسی زمانے میں ماہرین کی حکومت یا ٹیکنوکریٹ حکومت کا نام بھی دیا جاتا تھا تاکہ سیاسی عناصر کو ایک طرف کرکے قومی معاملات طے کرنے کے لئے ’موقع‘ حاصل کیاجائے۔ ایسی حکومت کو اب قومی حکومت کہنے سے نہ صورت حال تبدیل ہوگی اور نہ ہی مسائل حل ہوں گے۔
شہباز شریف نے 2023 میں شفاف انتخابات کا مطالبہ کرتے ہوئے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اگر مسلم لیگ (ن) کو موقع ملا تو وہ انتخاب جیت کر ’قومی حکومت‘ قائم کرنے کا اقدام کرے گی۔ یہ ایک مستحسن اقدام ہوسکتا ہے لیکن اس حوالے سے یہ وضاحت ضروری ہے کہ کیا اس میں ماضی کے ’لٹیرے‘ یعنی زرداری خاندان اور ’ملکی تاریخ کی سب سے نااہل حکومت‘ یعنی تحریک انصاف کو بھی شریک اقتدار ہونے کی دعوت دی جائے گی؟ پیپلز پارٹی کے ساتھ مسلم لیگ (ن) کے معاملات کی صورت حال یہ ہے کہ یہ دونوں پارٹیاں نام نہار اپوزیشن اتحاد میں مل کر ساتھ نہیں چل سکیں اور اب شہباز شریف قومی مفاہمت کے پرانے نسخے کو نئے لیبل کے ساتھ بیچتے ہوئے ایک بار پھر خود کو قوم کا سب سے زیرک اور ہمدرد لیڈر ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
شہباز شریف مفاہمت کے فارمولے چاہے کسی بھی نام سے سامنے لائیں، انہیں کوئی قبول کرنے پر تیار نہیں ہوگا کیوں کہ ان کے درپردہ اقتدار کی خواہش کو بخوبی محسوس کیا جاسکتا ہے۔ شہباز شریف کو جان لینا چاہئے کہ قومی حکومت یا مفاہمت و مصالحت سے اب اقتدار نہیں ملے گا ۔ اس کے لئے انہیں عوام کے حق حکمرانی کو حتمی تسلیم کرنا ہوگا۔ کراچی میں پی ڈی ایم کے جلسہ کے حوالے سے جمیعت علمائے اسلام (ف) کی قیادت نے پہلے خواتین کو جلسہ گاہ میں آنے سے منع کیا ، پھر سوشل میڈیا پر لعن طعن کے بعد یہ فیصلہ تبدیل کرلیا گیا۔ لیکن اتحاد کی سب سے بڑی جماعت کے لیڈر کے طور پر جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے اس فیصلہ کے خلاف ایک لفظ بولنا ضروری نہیں سمجھا۔ جو سیاسی لیڈر ملک کی نصف آبادی کے جمہوری حق کے کو مسدود کرنے کی ایک مذموم کوشش پر خاموش رہ سکتا ہے ، اس سے یہ قوم کسی جمہوری روایت پر قائم رہنے کی توقع کیسے کرسکتی ہے؟
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker