تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ : اسرائیل کو فوری طور پر تسلیم کیا جائے

اہم خلیجی ریاست یو اے ای کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنے اور سفارتی تعلقات بحال کرنے کے اقدام پر خلیجی و عرب ممالک میں تو کوئی خاص رد عمل نہیں آیا لیکن ترکی نے اسے منافقت اور ایران نے مسلمانوں سے غداری قرار دیا ہے۔ البتہ یہ بیانات اسلام یا مسلمان دوستی اور فلسطینیوں کی محبت سے زیادہ علاقائی سیاست میں بڑھتی ہوئی تقسیم کی علامت ہیں۔ بعینہ جیسے متحدہ عرب امارات کا فیصلہ عرب ممالک کی طرف سے فلسطین اور اسرائیل کے حوالے سے بڑی تبدیلی کا اہم اشارہ ہے۔
پاکستان نے عرب ملکوں سے دوستی اور وابستہ مفادات کی وجہ سے اسرائیل سے تعلقات استوار نہیں کئے حالانکہ پاکستان کا نہ اسرائیل کے ساتھ کو ئی براہ راست تنازعہ ہے اور نہ ہی پاکستان کے اس فیصلہ سے فلسطین آزاد کروانے کی مہم کو کوئی قابل ذکر فائدہ ہوسکا ہے۔ اس معاملہ کو اس تناظر میں بھی دیکھنا چاہئے کہ پاکستان کے لئے سب سے اہم معاملہ کشمیر کی آزادی ہے۔ کشمیریوں سے کی گئی کمٹ منٹ کے علاوہ جغرافیائی ضرورت اور وہاں سے آنے والے دریاؤں کی اہمیت کے پیش نظر بھی کشمیر پاکستان کے لئے نہایت ضروری ہے۔ اسی لئے اسے پاکستان کی ’شہ رگ‘ بھی کہا جاتاہے۔ اس کے باوجود پاکستان نے بھارت سے نہ صرف تعلقات قائم کئے ہوئے ہیں بلکہ اس کے ساتھ تجارتی تعلقات بھی استوار ہیں۔
پاکستان گزشتہ اگست میں مقبوضہ کشمیر میں شروع کئے گئے استبداد کے تازہ دور سے قبل مسلسل بھارت کے ساتھ مذاکرات کرنے کی بات کرتا رہا ہے۔ اسلام آباد نے ہمیشہ یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ کشمیر کا تنازعہ بات چیت سے ہی حل ہوسکتا ہے۔ بھارت اس راہ میں روڑے اٹکاتا رہا ہے۔ لیکن پاکستان نے اس کے ساتھ کبھی سفارتی تعلقات نہیں توڑے۔ اس کے برعکس عربوں نے فلسطینیوں کا حق حاصل کرنے کے لئے اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کی پالیسی اختیار کی تھی۔ وقت نے ثابت کیا کہ یہ حکمت عملی درست نہیں تھی۔ 1967 کی عرب اسرائیل جنگ سے قبل عرب ممالک اس غلط فہمی کا شکار بھی رہے تھے کہ وہ اسرائیل کو فوجی لحاظ سے شکست دے کر نیست و نابود کردیں گے۔
تاہم اس جنگ میں عبرت ناک شکست کے بعد بات چیت کی ضرورت اور معاملہ کو مفاہمت سے حل کرنے کی ضرورت کو تسلیم کیا گیا۔ اب عرب ممالک دو ریاستی حل کی بات کرتے ہیں یعنی اسرائیل کو قبول کرلیا جائے لیکن اس کے ساتھ ہی مقبوضہ علاقوں میں ایک آزاد فلسطینی ریاست بھی قائم کی جائے۔ پاکستان کی سرکاری پوزیشن بھی یہی ہے۔ 67 کی جنگ میں مصر اور اردن نے اسرائیل کے ہاتھوں اپنے کھوئے ہوئے علاقے وا گزار کروانے کے لئے بالترتیب 1979 اور 1994 میں اسرائیل کو تسلیم کرلیا تھا۔ 1993 اور 1995 میں ہونے والے اوسلو معاہدے سے یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ اسرائیل فلسطینی ریاست کے قیام میں سہولت فراہم کرے گا ۔ اس طرح یہ دیرینہ تنازعہ حل ہوجائے گا۔ البتہ اسرائیل میں نیتن یاہو جیسے انتہا پسند لیڈر کی وجہ سے اوسلو معاہدہ پر عمل درآمد ممکن نہیں ہوسکا بلکہ اسرائیل نے مقبوضہ علاقوں میں یہودی بستیاں بنانے کا سلسلہ جاری رکھا۔ اب اسرائیلی حکومت دریائے اردن کے مغربی کنارے پر ان علاقوں کو باقاعدہ اسرائیل کا حصہ بنانے کا ارادہ رکھتی ہے جہاں غیر قانونی طور سے یہودی بستیاں آباد کی گئی ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے معاہدہ میں انہی علاقوں کو اسرائیل میں شامل کرنے کا فیصلہ معطل رکھنے کی بات کی گئی ہے۔
عرب ممالک اور اسرائیل میں کئی سال سے سلسلہ جنبانی شروع ہوچکا تھا۔ متعدد عرب ممالک در پردہ اسرائیل کو حقیقت کے طور پر تسلیم کرنے کے اشارے دیتے رہے ہیں۔ محمد بن سلمان کے ولی عہد بننے کے بعد سے سعودی عرب بھی اسرائیل کے بارے میں نرم گوشہ پیدا کرچکا ہے۔ گزشتہ برس جب سعودی ولی عہد نے 500 ارب ڈالر کی لاگت سے ایک نیا شہر آباد کرنے کا منصوبہ پیش کیا تھا تو اس وقت بھی اسرائیلی سرمایہ کاری اور تکنیکی تعاون کا آپشن کھلا رکھا گیا تھا۔ اس دوران اگر اسرائیل کی ہٹ دھرمی اور لیت و لعل کی وجہ سے خود مختار فلسطینی ریاست کا وہ منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا جس کی امید اوسلو معاہدہ کے تحت قائم ہوئی تھی۔ تو دوسری طرف غزہ میں حماس کے اقتدار اور دنیا میں عمومی طور سے اسلامی انتہا پسند گروہوں کی دہشت گردی نے بھی اس منصوبہ کے لئے مشکلات پیدا کیں۔ البتہ یہ بات طے ہے کہ پورے مشرق وسطیٰ میں ایران کے سوا کوئی بھی ملک اسرائیل کو نیست و نابود کرنے اور فلسطینیوں کو ان کا وطن واپس دلانے کی بات نہیں کرتا۔
اس دوران پاکستان کے وزیر خارجہ نے کشمیر کے مسئلہ پر اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کا اجلاس نہ بلانے اور کشمیر پر پاکستانی مؤقف کی تائد کے لئے سرگرم رویہ اختیار نہ کرنے پر سعودی حکومت پر نکتہ چینی کی تھی۔ اس تناظر میں یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ سعودی عرب نے پاکستانی اسٹیٹ بنک میں رکھے گئے 3 ارب ڈالر میں سے ایک ارب ڈالر فوری طور سے واپس لے لئے ہیں جبکہ مزید ایک ارب ڈالر کا تقاضہ کیا جارہا ہے۔ مؤخر ادائیگی پر تیل فراہم کرنے کا معاہدہ بھی شبہات کا شکار ہے۔ پاکستان کو سعودی مطالبہ پورا کرنے کے لئے چین سے مزید قرضہ لینا پڑا ہے۔ ایک ٹی ٹاک شو میں سعودی عرب کے بارے میں غیر سفارتی لب و لہجہ اختیار کرنے کے بعد سے شاہ محمود قریشی تو خاموش ہیں لیکن پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید سعودی عرب جارہے ہیں تاکہ دوست ملک کے ساتھ پیدا ہونے والی دوری کو ختم کیا جاسکے۔ اس میں شبہ نہیں ہونا چاہئے کہ اس دورہ کے دوران اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان ہونے والے تازہ ترین معاہدہ پر بھی بات ہوگی۔
پاکستان میں سوشل اور سرکار پرست الیکٹرانک میڈیا پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے معاملہ پر ضرور جذباتی اور انتہا پسندانہ جذبات کا اظہار سامنے آیا ہے لیکن اس دوران اس امکان پر بھی خیالات سامنے آئے ہیں کہ پاکستان کیوں اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال نہیں کرتا۔ اسرائیل کے بارے میں پاکستان میں جو جذباتی کیفیت پیدا کی گئی ہے، اس میں اس قسم کا فیصلہ سیاسی طور سے مہلک بھی ہوسکتا ہے لیکن اگر ملک و قوم کے وسیع تر مفادات اور دنیا میں پاکستان کی سیاسی پوزیشن کے حوالے سے جائزہ لیا جائے تو پاکستان کے لئے اپنے کارڈز کو سرعت اور عقلمندی سے کھیلنے کا یہی موقع ہے۔ کچھ مدت میں جب متعدد دیگر عرب ممالک یکے بعد دیگرے یو اے ای کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اسرائیل کو تسلیم کرلیں گے تو پاکستان کی طرف سے ایسا ہی فیصلہ محض رسمی کارروائی سمجھا جائے گا۔ البتہ اگر دیگر اہم عرب ممالک اور سعودی عرب سے پہلے جوہری صلاحیت کا حامل پاکستان اسرائیل کے بارے میں اپنی پالیسی تبدیل کرتا ہے تو اس سے سیاسی و سفارتی فائدہ حاصل کیا جاسکے گا۔
بھارت نے عرب ملکوں کے علاوہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو فروغ دے کر ایک طرف معاشی فائدے حاصل کئے ہیں تو دوسری طرف اسرائیلی ٹیکنالوجی سے اپنی عسکری صلاحیتوں کو بہتر بنایا ہے۔ پاکستان میں اسرائیل بھارت گٹھ جوڑ کو ملکی سلامتی کے لئے اہم اندیشوں میں شامل کیاجاتا ہے۔ اس کے علاوہ اسرائیل کو ہمیشہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا دشمن بھی سمجھا جاتا رہا ہے۔ تاہم پاکستان کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا اقدام ان اندیشوں کا خاتمہ کر سکتا ہے۔ اسرائیل ، بھارت کی وجہ سے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا مخالف نہیں ہے بلکہ اسے اندیشہ ہے کہ اسے اسلامی بم قرار دینے والے عناصر کہیں کسی بحران میں پاکستانی جوہری صلاحیت کو اسرائیل کے خلاف استعمال کرنے میں کامیاب نہ ہوجائیں۔ پاکستان اگر اسرائیل کا دوست ملک ہو گا تو ایسے اندیشوں کو آسانی سے ختم کیا جاسکتا ہے ۔ اسی طرح بھارت کے معاملہ میں اسرائیل کو متوازن رویہ اختیار کرنے پر آمادہ بھی کیا جاسکتا ہے۔
پاکستانی قیادت اور عوام کو یہ سچائی تسلیم کرنا ہوگی کہ اسرائیل ایک حقیقت ہے ۔ اسے ختم کرنے کا کوئی منصوبہ کامیاب نہیں ہوسکتا۔ اسرائیل مخالف ملکوں میں نہ تو اتنی سفارتی صلاحیت ہے اور نہ ہی وہ ایسی عسکری قوت رکھتے ہیں کہ یہودیوں کے لئے قائم کی گئی اس ریاست کو ختم کرکے یہ سارا علاقہ فلسطینیوں کو واپس کروادیں۔ اس کے برعکس اگر اسرائیل کو یہ یقین دہانی کروا دی جائے کہ اس کی سلامتی کو کوئی خطرہ نہیں ہے اور کوئی ملک اس کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں رکھتا تو دو ریاستی فارمولے پر عمل درآمد آسان ہوگا اور فلسطینیوں کو علیحدہ وطن کے حصول میں سہولت ہوگی۔ پاکستان کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنا ایسی یقین دہانی میں اہم کردار ادا کرے گا۔ پاکستان اسرائیل کے ساتھ اجنبیت برتنے کی بجائے اس کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرکے فلسطینی عوام کی زیادہ خدمت کرسکتا ہے۔
پاکستان کے لئے یہ ایک اہم موقع ہے۔ ایسا ہی ایک موقع 1993 میں اوسلو معاہدہ کے بعد پیدا ہؤا تھا۔ اردن نے اس سے استفادہ کیا تھا لیکن پاکستانی حکومت اس وقت اسرائیل کے بارے میں اپنی بے مقصد سفارتی پوزیشن تبدیل نہ کرسکی۔ یو اے ای کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بعد پیدا ہونے والے حالات میں یہی دکھائی دیتا ہے کہ بالآخر پاکستان کو بھی اسرائیل کو تسلیم کرنا پڑے گا لیکن اگر یہ فیصلہ آج سے بیس، تیس یا پچاس برس بعد کیا گیا تو نہ اس کی کوئی اہمیت ہوگی اور نہ ہی اس فیصلہ کا کوئی سفارتی اثر ہوگا۔ پاکستان کو وسیع تر قومی مفاد کی بنیاد پر فوری طور سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کرنا چاہئے۔ اور اس مقصد کے لئے دلائل کی بنیاد پر عوام کو تیار کیا جائے۔
اسرائیل کے مخالفین کو یہ بھی دیکھ لینا چاہئے کہ کیا پاکستان کے پاس دوسرا آپشن کیا ہے؟ کیا پاکستان ، ترکی اور ایران کے ساتھ مل کر مسلم امہ کے اس تصور کو زندہ کرنا چاہتا ہے جسے عربوں کے علاوہ دنیا کے بیشتر مسلمان ممالک مسترد کرتے ہیں۔ یا بدستور تذبذب او ر بے یقینی سے کسی قومی مفاد کی حفاظت ممکن ہے؟

( بشکریہ :کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker