تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ : سیاسی دنگل، دو چھوٹی خبریں اور بڑی مفاہمت کی نوید ؟

کراچی پولیس نے عدالت کو آگاہ کیا ہے کہ گزشتہ ماہ مسلم لیگ (ن) کے لیٖڈر کیپٹن (ر)صفدر کے خلاف مزار قائد کی توہین پر قائم کیا گیا مقدمہ جھوٹا تھا۔ کیپٹن (ر) صفدر اپنی اہلیہ مریم نواز کے ہمراہ جب مقبرے پر پہنچے تھے تو اس وقت شکایت کنندہ وہاں موجود ہی نہیں تھا۔ ملک کے دوسرے سرے پر پشاور میں اے این پی کی قیادت نے وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ کو گزشتہ دنوں ننکانہ میں دیے گئے ایک بیان پر معاف کردیا ہے۔
اعجاز شاہ وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں جرگہ لے کر اے این پی ہیڈ کوارٹر گئے تھے تاکہ اپنے بیان کی وضاحت کرکے معافی مانگ سکیں۔ اس بیان میں اے این پی لیڈروں اور کارکنوں کی دہشت گرد حملوں میں شہادت کا حوالہ دیا گیا تھا جس پر ملک بھر میں لے دے ہوئی تھی اور عوامی نیشنل پارٹی کے لیڈروں نے کہا تھا کہ انہیں اس بیان سے بہت تکلیف پہنچی ہے۔ البتہ اب اے این پی کے لیڈروں نے اعجاز شاہ کو معاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جرگہ لے کر آئے تھے، اس لئے پشتون روایات کے مطابق پارٹی لیڈروں نے ان کی وضاحت اور معافی قبول کرلی ہے۔
یہ دونوں خبریں گزشتہ دنوں پاکستانی سیاست پر چھائی رہی ہیں۔ اب ان دونوں میں مفاہمت کی صورت پیدا ہونے سے بظاہر ملک کے سیاسی ماحول میں سختی ختم ہونی چاہئے لیکن فی الوقت اس کا امکان نہیں ہے۔ پرویز خٹک نے پشاور میں اے این پی کی قیادت کے ساتھ ملاقات کے بعد بتایا کہ اس دورہ کا تعلق پی ڈی ایم کے احتجاج یا اپوزیشن کے جلسوں سے نہیں ہے بلکہ ایک بیان پر پیدا ہونے والی غلط فہمی پر افسوس کا اظہار مطلوب تھا کیوں کہ اس سے اے این پی کے لیڈروں اور کارکنوں کو رنج پہنچا تھا۔
حکومت کی طرف سے ملک میں جاری سیاسی محاذ آرائی کم کرنے کا کوئی دوسرا اشارہ بھی سامنے نہیں آیا ۔ وفاقی وزیروں کے علاوہ اے این پی کی قیادت نے بھی آج ہونے والی ملاقات کو پشتون روایات کا حصہ قرار دیا ہے۔ انہی روایات کے مطابق اعجاز شاہ کی معافی بھی قبول کی گئی ہے۔ حالانکہ اس بیان میں اعجاز شاہ نے طالبان کی دہشت گردی کا ذکر کرتے ہوئے مستقبل میں نشانے پر آنے والے لوگوں کا حوالہ دیا تھا اور کہا تھا کہ جو لوگ فوج پر تنقید کرتے ہیں انہیں سرحد پار امرتسر چھوڑ آنا چاہئے۔ اس کے باوجود حکومت کے دو ذمہ دار اور طاقت ور وزیروں نے ایک چھوٹی پارٹی کی قیادت سے جس طرح معذرت کی ہے، اس سے یہ امید تو کی جاسکتی ہے کہ کسی سطح پر ہی سہی حکومت میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو نعرے بازی اور الزام تراشی سے بلند ہو کر ٹھنڈے دل و دماغ سے انسانی سطح پر مواصلت پر یقین رکھتے ہیں۔ موجودہ سیاسی تصادم کی کیفیت میں ایسے مزاج کی موجودگی خوش آئیند ہے۔
کراچی میں پولیس نے کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف قائم مقدمہ کو جھوٹا قرار دینے کی جو رپورٹ عدالت میں پیش کی ہے ، اس سے مریم نواز، بلاول بھٹو زرداری اور دیگر اپوزیشن لیڈروں کے اس مؤقف کی تائد ہوئی ہے کہ 19 اکتوبر کو پاکستان جمہوری تحریک کی کراچی میں ہونے والی ریلی کے بعد ایک ہوٹل کے کمرے سے کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری کا ’ڈرامہ‘ ایک سیاسی ایجنڈے کے تحت رچایا گیا تھا۔ اس کا بنیادی عنصر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے اتحاد میں رخنہ ڈالنا تھا۔ البتہ بلاول بھٹو زرداری اور سندھ حکومت کی فوری وضاحت اور اس اقدام کی مذمت کے بعد یہ معاملہ ٹھنڈا پڑ گیا تھا۔ مریم نواز نے کراچی میں ہی کہہ دیا تھا کہ انہیں پیپلز پارٹی کی نیت پر شبہ نہیں ہے۔ کراچی پولیس کی طرف سے نئے شواہد کی روشنی میں یہ بھی واضح ہؤا ہے کہ اس گرفتاری کے حوالے سے وزیر اعظم عمران خان کا یہ مؤقف مبنی بر حقائق نہیں تھا کہ اپوزیشن نے توجہ حاصل کرنے کے لئے یہ ڈرامہ رچایا تھا۔ پولیس رپورٹ کے بعد کم از کم عدالتی دستاویزات کی حد تک یہ واضح ہوگیا ہے کہ ایک تو شکایت کنندہ اس وقت مزار قائد پر موجود ہی نہیں تھا جس وقت اس کے بقول مسلم لیگی لیڈر مزار قائد کے تقدس کو پامال کرنے کا موجب بنے تھے۔ اس کے علاوہ متعلقہ شخص نے ا س معاملہ میں بیان ریکارڈ کروانے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی۔
کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف مقدمہ کو جعلی یا جھوٹا قرار دیے جانے کے بعد اس کی قانونی حیثیت تو ختم ہوجائے گی لیکن اس سانحہ کی وجہ سے اٹھنے والے متعدد سیاسی سوالات بدستور جواب طلب رہیں گے۔ یہ سوالات گزشتہ روز پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بھی اٹھائے ہیں اور بلاول بھٹو زرداری نے بھی بی بی سی اردو کو دیے گئے انٹرویو میں ان کا ذکر کیا ہے۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اگر ایک شکایت پر پولیس کو متحرک کرنے میں سندھ حکومت ملوث نہیں تھی تو سندھ کے انسپکٹر جنرل پولیس نے کس کے دباؤ پر کیپٹن (ر) کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کئے تھے۔ مسلم لیگی لیڈر کی گرفتاری کی خبر اور اس پر احتجاج سامنے آنے کے بعد آئی جی سمیت سندھ پولیس کے متعدد اعلیٰ افسروں نے طویل رخصت پر جانے کا اعلان کیا تھا۔ پولیس افسروں کے اس احتجاج کے علاوہ بلاول بھٹو زرداری نے بھی براہ راست پاک فوج اور آئی ایس آئی کے سربراہان سے کہا تھا کہ انہیں اس معاملہ کی جانچ کرنی چاہئے۔
بلاول کی پریس کانفرنس کے فوری بعد جنرل قمر جاوید باجوہ نے فون کرکے اس واقعہ کی تحقیقات کروانے کا وعدہ کیا تھا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے کراچی کے کور کمانڈر کو حکم دیا تھا کہ وہ اس بارے میں تحقیقات کرکے فوری طور سے رپورٹ پیش کریں۔ اب بلاول بھٹو زرداری اور مولانا فضل الرحمان دراصل اسی رپورٹ کو سامنے لانے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں گوجرانوالہ جلسہ میں نواز شریف کی تقریر کو غیر متوقع قرار دیتے ہوئے پیپلز پارٹی کی یہ پوزیشن واضح کی تھی کہ سیاسی مہم جوئی میں اداروں یا ان کے سربراہوں کا نام نہیں لیا جائے گا۔ بلکہ اس کے لئے ’اسٹبلشمنٹ‘ کی اصطلاح استعمال کی جائے گی۔ مولانا فضل الرحمان نے کل وضاحت کی ہے کہ سب جانتے ہیں کہ جب اسٹبلشمنٹ پر سیاسی انجیئنرنگ کا الزام لگایا جاتا ہے تو اس سے کیا مراد ہوتی ہے۔ اس کے باوجود اس معاملہ پر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی میں اختلاف سامنے آیا ہے ۔ گو کہ دونوں طرف کے لیڈر اس اختلاف پر پبلک پلیٹ فارم پر بات کرنے سے گریز کررہے ہیں۔
اس پس منظر میں اگر پاک فوج کی طرف سے کراچی میں کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری کے حوالےسے ہونے والی بے قاعدگی پر کوئی ٹھوس وضاحت سامنے آجائے اور اس معاملہ میں ملوث عناصر کے خلاف کسی قسم کی کارروائی کا عندیہ دیا جائے تو اس سے بلاشبہ سیاسی حلقوں کے علاوہ عوام میں فوج اور اس کے سربراہ کی نیک نیتی کا تاثر گہرا ہوگا۔ اس اقدام سے فوج یہ بھی واضح کرسکتی ہے کہ اس وقت ملک میں سیاسی تصادم کی جو صورت موجود ہے، وہ بطور ادارہ اس میں فریق نہیں ہے۔ اس اشارے سے ملک میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری سیاسی مناقشہ کی شدت میں کمی ہوسکتی ہے اور اپوزیشن لیڈر بھی نواز شریف کو انتہائی مؤقف کی بجائے ایسا لب و لہجہ اختیار کرنے پر آمادہ کرسکتے ہیں جو بند گلی کے سفر کی بجائے کشادگی اور افہام و تفہیم کی راہ کھول سکے۔ وزیر اعظم کو بھی اس بدلتی ہوئی صورت حال میں اپنے آہنگ میں نرمی پیدا کرنا ہوگی۔ محاذ آرائی کی صورت حال میں سب ہی عناصر براہ راست تصادم سے گریز چاہتے ہیں لیکن پسپائی کے الزام سے بچنے کے لئے پہلا قدم اٹھانے سے ہچکچاتے ہیں۔
پرویز خٹک کی سربراہی میں جرگے کی اے این پی قیادت کے ساتھ ملاقات اگرچہ ایک چھوٹا قدم ہے لیکن سیاسی لحن جس طرح ذاتی حملوں میں تبدیل ہوچکا ہے، اس میں یہ چھوٹا قدم بھی کسی بڑے فیصلہ کی بنیاد بن سکتا ہے۔ ایسے میں فوج کی طرف سے ایک چھوٹی غلطی کے اعتراف سے غلط فہمیوں کی برف پگھلنے میں مدد مل سکتی ہے۔ ایسے ماحول میں ہی جہاں دیدہ نواز شریف بھی یہ اندازہ کرسکیں گے کہ سیاسی لڑائی کو افراد کے خلاف جنگ بنا کر وہ کوئی بڑا مقصد حاصل نہیں کرسکتے۔
اس دوران قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی طرف سے جاری ایک اعلان کے مطابق دو روز بعد فوجی افسران سینیٹ اور قومی اسمبلی کے پارلیمانی لیڈروں کو قومی سلامتی کی تازہ ترین صورت حال پر بریفنگ دیں گے۔ جب فریقین سینگ پھنسائے ہوئے ہوں تو ایسے چھوٹے اعلانات فیصلہ کن موڑ ثابت ہوسکتے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان اس بریفنگ میں بنفس نفیس شامل ہوکر ملک کی سیاسی حدت میں کمی کرنے کا اشارہ دے سکتے ہیں۔
اس اصول پر نہ دوسری رائے ہوسکتی ہے اور نہ ہی کوئی سودے بازی ہونی چاہئے کہ ملکی سیاسی معاملات آئین کے مطابق عوام کے ووٹوں سے طے ہونے چاہئیں۔ اس عمل میں نام نہاد مقتدرہ، اسٹبلشمنٹ یا اداروں کی مداخلت کا سلسلہ ہمیشہ کے لئے بند ہونا چاہئے۔ البتہ اس اعلیٰ مقصد کے حصول کا راستہ فریقین کے درمیان مواصلت کے ذریعے ہی ہموار ہوسکتا ہے۔ اسی طرح کسی مفاہمت تک پہنچا جاسکتا ہے۔ اور کوئی ایسا اصول وضع کیا جاسکتا ہے جس کے تحت پاکستان کا مستقبل ان الجھنوں سے محفوظ ہوسکے جن سے اس کا ماضی داغدار ہے۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker