پاکستان اور افغانستان کے تعلقات تہ دار اور پیچیدہ ہیں۔ انہیں حل کرنے اور ہمسایہ ملک کے ساتھ معاملات خوش اسلوبی سے طے کرنے کے لئے محتاط سفارت کاری اور ہوشمندی سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ غیر ضروری بیان بازی سے تعلقات میں مزید بگاڑ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ دریں حالات پاکستان اس صورت حال کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ افغانستان کے بارے میں وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کا بیان غیر ذمہ دارانہ سیاست کا نمونہ ہے۔ ملکی حکمرانوں کو ایسے ہتھکنڈوں سے گریز کرنے کی ضرورت ہے۔
خواجہ آصف نے ایک ٹویٹ میں افغانستان کی طالبان حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ’ہمسایہ اور برادر ملک ہونے کا کردار ادا نہیں کر رہا اور نہ ہی دوحہ معاہدہ کی پاسداری کر رہا ہے‘ ۔ انہوں نے پاکستان میں مقیم افغان پناہ گزینوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پچاس ساٹھ لاکھ افغان شہریوں کو چالیس پچاس سال سے پاکستان میں پناہ میسر ہے۔ اس کے برعکس افغانستان پاکستانیوں کا خون بہانے والے دہشت گردوں کو افغان سرزمین پر پناہ گاہیں فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’پاکستان اپنی سرزمین اور شہریوں کے تحفظ کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے گا‘ ۔
پہلے تو یہ نوٹ کرنے کی ضرورت ہے کہ وزیر دفاع کا بیان گزشتہ روز پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا تھا جس میں پاک فوج نے تحریک طالبان پاکستان کے لوگوں کو افغان سرزمین پر نقل و حمل کی آزادی اور تحفظ فراہم ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کیا تھا۔ آئی ایس پی آر کا بیان آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے دورہ کوئٹہ کے بعد سامنے آیا تھا۔ اس دورہ کے دوران انہیں ژوب میں فوجی تنصیبات پر دہشت گرد حملہ کی تفصیلات کے بارے میں بریفنگ دی گئی تھی۔ اس حملہ میں 9 فوجیوں نے جام شہادت نوش کیا تھا۔ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے افغانستان میں ٹی ٹی پی کی موجودگی پر تشویش ظاہر کرنے کے باوجود وزیر دفاع کی طرح افغانستان کے بارے میں کسی قسم کا دھمکی آمیز رویہ اختیار نہیں کیا۔ خواجہ آصف نے اس کے برعکس پاکستانی شہریوں کی حفاظت کے لئے تمام وسائل بروئے کار لانے کی بات کی ہے۔
وزیر دفاع ملک کی منتخب سیاسی حکومت کے ترجمان ہیں اور اپنے عہدے کی حیثیت میں مسلح افواج کے ’لیڈر‘ ہیں۔ لیکن زیر نظر بیان میں وہ پاک فوج کے ثانوی درجے کے ترجمان کا کردار ادا کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ افغانستان کے بارے میں پالیسی بناتے ہوئے ملکی پارلیمنٹ ہی با اختیار فورم ہے اور حکومت اسی فورم کی مدد سے کوئی حکمت عملی اختیار کر سکتی ہے۔ تاہم خواجہ آصف کا بیان محض پارٹی سیاست چمکانے کا گھٹیا ہتھکنڈا دکھائی دیتا ہے۔ وہ ایک طرف پاک فوج کی تشویش کو زیادہ شدت سے بیان کر کے فوجی قیادت کو اپنی پارٹی کی طرف سے خیر سگالی کا پیغام دے رہے ہیں تو دوسری طرف ایک دوسری ٹویٹ میں سابقہ فوجی قیادت کو موجودہ صورت حال کا ذمہ دار قرار دے کر پاکستانی عوام کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) ہمیشہ درست سیاسی فیصلہ کرتی ہے۔ یہ تاثر عام کرنے کے لئے ملکی سلامتی سے متعلق ایک اہم ترین معاملہ کو استعمال کرنا جائز رویہ نہیں ہے۔
گزشتہ چالیس برس کے دوران پاکستانی حکومتوں نے یکے بعد دیگرے تمام ہمسایہ ملکوں سے تعلقات کا معاملہ پاک فوج کے حوالے کیا ہوا ہے۔ یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ ملک کی سول حکومتوں کو افغانستان، بھارت اور دیگر ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات میں ’ربر اسٹیمپ‘ سے زیادہ حیثیت حاصل نہیں رہی۔ فوجی قیادت تمام حکمت عملی تیار کرتی ہے اور جس حد تک مناسب سمجھتی ہے، قومی اسمبلی یا حکومت کو معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔ نہ کسی حکومت نے اس سے زیادہ کی توقع کی اور نہ ہی پاک فوج نے کبھی خارجہ پالیسی کے حوالے سے اپنے اختیار پر کوئی سمجھوتہ کرنے کا اشارہ دیا ہے۔ ایسے حالات میں جب تک کوئی حکومت اس بنیادی طریقے کو ختم کرنے کے لئے دائرہ کار کی نئی حدود متعین کرنے کی کوشش نہیں کرے گی، کسی وزیر دفاع کا پالیسی معاملہ پر بیان ڈھکوسلے بازی سے زیادہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ سرحد پار دہشت گرد گروہ کے ساتھ کیسے نمٹنا ہے یا اس ملک کی حکومت کو کس حد تک اس معاملہ میں ’چھوٹ‘ دینی ہے، اس کا فیصلہ کابینہ یا اسمبلی میں نہیں ہوتا بلکہ یہ معاملات جی ایچ کیو میں طے کیے جاتے ہیں۔
پاکستان تحریک طالبان کی افغانستان میں میزبانی پر پاک فوج کی تشویش قابل فہم ہے۔ صرف اس سال کی پہلی ششماہی کے دوران دہشت گرد حملوں میں 400 سے زائد افراد جاں بحق ہوچکے ہیں جن میں مسلح اداروں سے وابستہ اہلکاروں کی بڑی تعداد بھی شامل ہے۔ تاہم کابل کے موجودہ حکمرانوں کے ساتھ ہماری فوجی قیادت کے تعلقات کی تاریخ دہائیوں پر محیط ہے۔ طالبان جس وقت امریکہ اور اتحادی فوجوں کے خلاف جد و جہد کر رہے تھے، انہیں محض پاکستانی فوج ہی کی امداد اور تعاون کا آسرا تھا۔ البتہ تعاون اور باہمی احترام کا یہ رشتہ کیسے ضد اور دشمنی میں تبدیل ہونے لگا، اس کی پوری تفصیلات سے کبھی عوام یا ان کے نمائندوں کو اعتماد میں لینے کی کوشش نہیں کی گئی۔ تاہم یہ طے ہے کہ حکومت سنبھالنے کے بعد طالبان کی پاکستانی فوج اور پاک فوج کی کابل حکومت سے توقعات پوری نہیں ہوئیں۔ اس صورت حال میں فریقین کے لئے بہتر تو یہی ہو گا کہ وہ ایک دوسرے کو عسکری میدان میں آزمانے کا ارادہ باندھنے کی بجائے تعاون کا کوئی راستہ اختیار کریں اور جنگ و جدل کو اس علاقے سے ختم کرنے کا کوئی منصوبہ بنایا جائے۔ عسکری گروہوں کو طاقت کی بنیاد پر ختم کیا جاسکتا تو امریکہ افغانستان میں بیس سالہ جنگ جوئی کے بعد اہداف پورے کیے بغیر فوجیں واپس نہ بلاتا۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے افغانستان میں آباد سرکش گروہوں کے خلاف عسکری کارروائی کا اشارہ دیتے ہوئے یہ دعویٰ کرنا بھی ضروری سمجھا ہے کہ سابقہ فوجی قیادت قومی اسمبلی میں آ کر ٹی ٹی پی سے امن معاہدہ کرنے اور انہیں واپس لانے کے لئے دلائل دیتی رہی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہی فوجی لیڈر درحقیقت عمران خان کو ملک پر مسلط کرنے میں ملوث تھے۔ اب انہیں اپنے اعمال کا جواب دینا چاہیے۔ خواجہ آصف کے اس بیان کو جلد شروع ہونے والی انتخابی مہم کا سرنامہ سمجھنا چاہیے۔ بہتر ہوتا کہ وزیر دفاع کے طور پر خواجہ آصف اس بحث کا آغاز نہ کرتے۔ ٹی ٹی پی کے ساتھ امن قائم کرنے کی کوشش صرف تحریک انصاف کی حکومت یا جنرل باجوہ نے نہیں کی تھی بلکہ نواز شریف کے دور حکومت میں بھی ایسے امن مذاکرات کی کوشش کی جا چکی تھی۔ خواجہ آصف کو جاننا چاہیے کہ اس حمام میں سب برہنہ ہیں۔
جہاں تک فوج کی سابقہ اور موجودہ قیادت کی پالیسیوں میں تفاوت کا تعلق ہے تو خواجہ صاحب سے زیادہ کسی کو اس بات کا علم نہیں ہو سکتا کہ اس کی کوئی عملی حیثیت نہیں ہے۔ فوج ایک ادارے کے طور پر کام کرتی ہے اور اپنے سابقہ لیڈروں کی حفاظت پر کمر بستہ رہتی ہے۔ سابق فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف کے معاملہ میں فوج کا رویہ ایک مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس مثال کے ہوتے ہوئے خواجہ آصف نہ جانے کس منہ سے یہ راگ الاپ رہے ہیں کہ موجودہ مسائل کی بنیاد سابقہ فوجی لیڈروں نے رکھی تھی۔ اگر خواجہ آصف میں دم ہے اور وہ اپنی بات کو حجت سمجھتے ہیں تو وزیر دفاع کے طور پر فوج ان کا ماتحت ادارہ ہے۔ وہ اس کے موجودہ اور سابقہ لیڈروں کی غلطیوں کا احتساب کرنے کا حق اور ’اختیار‘ رکھتے ہیں۔ لیکن اگر اس حوالے سے وزیر دفاع اپنی ’اوقات‘ جانتے ہیں تو انہیں سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لئے سابقہ فوجی لیڈروں کو مسائل کی جڑ قرار دے کر عوام کے سامنے خود کو اور اپنی پارٹی کو ’اینٹی اسٹبلشمنٹ‘ کے طور پر پیش کرنے کی بچگانہ کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ اب یہ کوئی راز نہیں ہے کہ اس ملک میں اصل ’پارٹی‘ صرف ایک ہی ہے۔ باقی سب اس کی ’ٹہنیاں اور شاخیں‘ ہیں۔
ٹی ٹی پی کے سوال پر کابل حکومت کے ساتھ گلے شکوے کرتے ہوئے افغان پناہ گزینوں کا حوالہ دینا بھی غیر ضروری کاوش ہے۔ جیسا کہ وزیر دفاع خود اعتراف کرچکے ہیں کہ یہ لوگ چالیس پچاس سال سے پاکستان میں مقیم ہیں۔ ان لوگوں کی تیسری نسل پاکستان ہی میں جوان ہو رہی ہے۔ اب انہیں پناہ گزین قرار دینا کسی مہذب حکومت کو زیب نہیں دیتا۔ بہتر ہو گا کہ حکومت، پاکستان میں مقیم افغان شہریوں کی شناخت کا معاملہ ان کے نمائندوں کے ساتھ مل کر ہمیشہ کے لئے طے کرے۔ جو لوگ پاکستان میں رہنا چاہتے ہیں، انہیں اس ملک کا شہری تسلیم کیا جائے تاکہ ان سے پاک سرزمین کے ساتھ وفاداری کا تقاضا کیا جا سکے۔ جو لوگ پاکستان کو اپنا وطن نہیں مانتے، انہیں افغانستان واپس بھیجنے کا اہتمام کیا جائے۔ تاہم انسانوں کو بین الملکی سیاست میں مہرے کے طور پر استعمال کرنا وقار انسانیت سے کم تر حرکت ہے۔
افغانستان میں طالبان حکومت کو دنیا کے کسی ملک کے قبول نہیں کیا ہے۔ اس کے سفارتی و تجارتی امکانات محدود ہیں۔ افغان تجارت پاکستانی حکومت کی خیر سگالی سے ہی ممکن ہے۔ اس شعبہ میں اسمگلنگ اور اس کی سرپرستی کرنے والے مافیاز پر قابو پاکر ہی اسلام آباد، کابل کے ساتھ باہمی تعلقات کے حوالے سے بامقصد مراعات حاصل کر سکتا ہے۔ پاکستان کو دہشت گردی کی روک تھام کے لئے افغانستان میں ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ اپنے علاقے سے افغانستان کے ساتھ غیرقانونی تجارت کا قلع قمع کر کے بھی یہ مقصد حاصل کر سکتا ہے۔ لیکن اس کے لئے متعدد با اثر اداروں اور شخصیات کے مفادات کی بجائے ملکی مفادات کو ترجیح دینا ہوگی۔
بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )
فیس بک کمینٹ

