پیارے شاکر حسین شاکر
ایک ہفتہ اوربیت گیا تمہاراخط نہیں آیا۔ یار میں دوروز سے تمہیں خط لکھنے کی سرتوڑ کوشش کررہا ہوں (یہ الگ بات کہ اب تک کسی کا سر نہیں توڑ سکا)مگر مت پوچھو میرا کیاحال ہے؟ غزلوں میں تو روشنی روشنی کاشورکیے رکھتاہوں لیکن گھر میں آج کل تاریکی کاڈیرہ ہے۔ تمہیں بتایا تھا ناں کہ ہمارے خریدے ہوئے ہیٹر نے سارے کمرے کی وائرنگ جلادی ہے تو اسی کانتیجہ بھگت رہے ہیں۔ اندھیرے میں رہتے ہیں ،مالکوں کوکہتے ہیں کہ وائرنگ ٹھیک کروا دو ۔وہاں سے ٹال مٹول ہورہی ہے۔خود اتنی دیر سے کمرے میں آ تے ہیں کہ اس وقت تک وائرنگ وغیرہ کے لیے کوئی الیکٹریشن ہی نہیں ملتا۔یعنی ہم لکھنے پڑھنے سے بھی گئے۔ یہ خط میں پنجاب پبلک لائبریری کے ریڈنگ روم سے لکھ رہاہوں کہ یہی جگہ سکون اورعافیت کی ہے ورنہ گھر میں تو اندھیرا ہے۔
ہوتل بابا والا کالم بھیج رہاہوں ،مزا آئے گا کہ ایک دفعہ تو لوگوں کی جل گئی ہوں گی اور مرچیں بھی لگ گئی ہوں گی۔ دید شنید والے رفیق ڈوگر اچھے آٰدمی ہیں ۔انہوں نے تو مجھے پرچے میں کام کرنے کی بھی پیشکش کی اورکہا بشری رحمان کوچھوڑ کر ان کے ساتھ کام کروں لیکن میں نے صرف کالم کی حامی بھری ۔ہوتل باباکے علاوہ ہرماہ ایک کالم ”ڈرتے ڈرتے “ بھی لکھاکروں گا جس کا الگ سو روپے معاوضہ ملےگا۔فی الحال دید شنید ماہنامہ کے طورپر شائع ہوگا۔آہستہ آہستہ پندرہ روزہ ہوجائے گا۔ کالم بھی میں نے آج لکھ ڈالا ہے ۔ڈرتے ڈرتے کے نام سے ہی ، مگر عجیب حالات میں کالم لکھا ۔اٹھتے بیٹھتے بھاگتے دوڑتے ،دفتر میں دفتر سے باہر ۔۔۔گھر میں تو لکھ ہی نہیں سکتاتھا۔ ڈوگر صاحب کہنے لگے نام تو کالم کا ڈرتے ڈرتے ہے مگر ڈرنا نہیں۔ میں نے کہامیں پہلے کب ڈرا ہوں جو اب ڈرجاﺅں گا۔ہاں البتہ آپ ڈر جائیں گے۔ (میرا کالم پڑھ کر اور شائع کرتے ہوئے بھی ۔۔)۔تمہیں خط لکھ کر اب وہیں جانا ہے ۔ امروز میں عزیز اثری صاحب سے تعلقات اتنے نہیں بنے جتنے سعید بدر سے بن گئے ہیں۔ جمعرات کو میں نے ان کے لیے ڈھیر ساری کتابوں کے تبصرے کردیئے وہیں ان کے دفتر میں بیٹھ کر اورحیرت ہوگی تمہیں کہ سب کتابیں عبدالعزیز خالد کی تھیں۔ سب نعتوں اور منقبتوں کے مجموعے انہیں پڑھ کر اپنی جہالت کااندازہ ہوتاہے۔ کیا زبان ہے اورکیا بیان ہے۔کسی نے یونہی تو نہیں کہا
اردو ادب کے والد ۔۔عبدالعزیز خالد
اوران کے بارے میں ابن انشاءکاجملہ بھی پڑھ لو
” الازہر یونیورسٹی قاہرہ والوں نے ایک زمانے میں خالد صاحب کی کتابیں نصاب میں شامل کرنے کافیصلہ کیا۔پھر انہوں نے فیصلہ تبدیل کردیا کیونکہ ان کی شاعری میں کہیں کہیں اردو آجاتی تھی جسے سمجھنے کے لیے ڈکشنری دیکھناپڑتی تھی۔“
کیول دھیر صاحب واپس چلے گئے۔ لاہور میں ان کے ساتھ خوب کمپنی رہی۔ جنگ فورم میں بھی انہیں لے کر گیا ۔ڈاکٹر انور سدید، سلیم اختر، آغاسہیل، طارق عزیز شاعر،حمید اختر بھی موجودتھے۔دفتر میں بھی ان کے ساتھ تصویریں بنوائیں۔
اورہاں میں جوتمہیں بتانا بھول گیا وہ ایم آرڈی کاجلسہ تھا۔ شاکر یارمزا آگیا۔ بے پناہ ہجوم تھا۔ بس یوں سمجھ لو کہ اگر چوک نواں شہر میں سٹیج تھا تو ڈیرہ اڈا تک لوگ بیٹھے تھے۔ پورے شہر میں جشن کا سماں تھا۔ جلوسوں پر پھول پھینکے جارہے تھے۔ سب سے زیادہ پیپلزپارٹی کی رونق تھی۔اگر ایم آرڈی میں یہ پارٹی نہ ہوتی تو جلسے میں کچھ نہیں تھا۔ سب سے زیادہ استقبال جتوئی کاہوا ۔اصغر خان کے ساتھ جوہوا تم نے اخبارات میں پڑھ لیا ہوگا۔ آج کل بازاروں میں بھٹو کی تصویریں اورکتابیں فروخت ہورہی ہیں۔ہرطرف تین رنگ کے جھنڈے ہیں۔ گویا ”لاہور جاگ رہا ہے“۔ آٹھ فروری کو مسلم لیگ بھی جلسے کااہتمام کررہی ہے۔ جلسے میں ولی خان اور نوابزادہ نصراللہ کی تقریریں سب سے اچھی تھیں۔
جمعے کو پاکستان ٹائمز میں ڈاکٹر انور سدید کا جو جائزہ شائع ہوا اس میں میرا دوجگہ ذکر ہے۔ ہائیکو اور انشائیے میں۔ میرے تذکرے پر لوگوں کو تکلیف ہوئی لیکن میں تو خود کواب بھی وہی سنگ میل ،نوائے ملتان حتی کہ بچوں کے آفتاب والا رضی سمجھتا ہوں۔ لیکن ان رویوں پر افسوس ہوتا ہے۔لو بھائی لائبریری میں لوڈشیڈنگ کا وقت قریب آرہاہے ۔خط سمیٹتا ہوں ۔باقی باتیں پھرسہی۔اب تو خط بھڑاس نکالنے کے لیے بھی لکھنے ہوتے ہیں۔
والسلام
تمہارا رضی
2فروری1986
ایک ہفتہ اوربیت گیا تمہاراخط نہیں آیا۔ یار میں دوروز سے تمہیں خط لکھنے کی سرتوڑ کوشش کررہا ہوں (یہ الگ بات کہ اب تک کسی کا سر نہیں توڑ سکا)مگر مت پوچھو میرا کیاحال ہے؟ غزلوں میں تو روشنی روشنی کاشورکیے رکھتاہوں لیکن گھر میں آج کل تاریکی کاڈیرہ ہے۔ تمہیں بتایا تھا ناں کہ ہمارے خریدے ہوئے ہیٹر نے سارے کمرے کی وائرنگ جلادی ہے تو اسی کانتیجہ بھگت رہے ہیں۔ اندھیرے میں رہتے ہیں ،مالکوں کوکہتے ہیں کہ وائرنگ ٹھیک کروا دو ۔وہاں سے ٹال مٹول ہورہی ہے۔خود اتنی دیر سے کمرے میں آ تے ہیں کہ اس وقت تک وائرنگ وغیرہ کے لیے کوئی الیکٹریشن ہی نہیں ملتا۔یعنی ہم لکھنے پڑھنے سے بھی گئے۔ یہ خط میں پنجاب پبلک لائبریری کے ریڈنگ روم سے لکھ رہاہوں کہ یہی جگہ سکون اورعافیت کی ہے ورنہ گھر میں تو اندھیرا ہے۔
ہوتل بابا والا کالم بھیج رہاہوں ،مزا آئے گا کہ ایک دفعہ تو لوگوں کی جل گئی ہوں گی اور مرچیں بھی لگ گئی ہوں گی۔ دید شنید والے رفیق ڈوگر اچھے آٰدمی ہیں ۔انہوں نے تو مجھے پرچے میں کام کرنے کی بھی پیشکش کی اورکہا بشری رحمان کوچھوڑ کر ان کے ساتھ کام کروں لیکن میں نے صرف کالم کی حامی بھری ۔ہوتل باباکے علاوہ ہرماہ ایک کالم ”ڈرتے ڈرتے “ بھی لکھاکروں گا جس کا الگ سو روپے معاوضہ ملےگا۔فی الحال دید شنید ماہنامہ کے طورپر شائع ہوگا۔آہستہ آہستہ پندرہ روزہ ہوجائے گا۔ کالم بھی میں نے آج لکھ ڈالا ہے ۔ڈرتے ڈرتے کے نام سے ہی ، مگر عجیب حالات میں کالم لکھا ۔اٹھتے بیٹھتے بھاگتے دوڑتے ،دفتر میں دفتر سے باہر ۔۔۔گھر میں تو لکھ ہی نہیں سکتاتھا۔ ڈوگر صاحب کہنے لگے نام تو کالم کا ڈرتے ڈرتے ہے مگر ڈرنا نہیں۔ میں نے کہامیں پہلے کب ڈرا ہوں جو اب ڈرجاﺅں گا۔ہاں البتہ آپ ڈر جائیں گے۔ (میرا کالم پڑھ کر اور شائع کرتے ہوئے بھی ۔۔)۔تمہیں خط لکھ کر اب وہیں جانا ہے ۔ امروز میں عزیز اثری صاحب سے تعلقات اتنے نہیں بنے جتنے سعید بدر سے بن گئے ہیں۔ جمعرات کو میں نے ان کے لیے ڈھیر ساری کتابوں کے تبصرے کردیئے وہیں ان کے دفتر میں بیٹھ کر اورحیرت ہوگی تمہیں کہ سب کتابیں عبدالعزیز خالد کی تھیں۔ سب نعتوں اور منقبتوں کے مجموعے انہیں پڑھ کر اپنی جہالت کااندازہ ہوتاہے۔ کیا زبان ہے اورکیا بیان ہے۔کسی نے یونہی تو نہیں کہا
اردو ادب کے والد ۔۔عبدالعزیز خالد
اوران کے بارے میں ابن انشاءکاجملہ بھی پڑھ لو
” الازہر یونیورسٹی قاہرہ والوں نے ایک زمانے میں خالد صاحب کی کتابیں نصاب میں شامل کرنے کافیصلہ کیا۔پھر انہوں نے فیصلہ تبدیل کردیا کیونکہ ان کی شاعری میں کہیں کہیں اردو آجاتی تھی جسے سمجھنے کے لیے ڈکشنری دیکھناپڑتی تھی۔“
کیول دھیر صاحب واپس چلے گئے۔ لاہور میں ان کے ساتھ خوب کمپنی رہی۔ جنگ فورم میں بھی انہیں لے کر گیا ۔ڈاکٹر انور سدید، سلیم اختر، آغاسہیل، طارق عزیز شاعر،حمید اختر بھی موجودتھے۔دفتر میں بھی ان کے ساتھ تصویریں بنوائیں۔
اورہاں میں جوتمہیں بتانا بھول گیا وہ ایم آرڈی کاجلسہ تھا۔ شاکر یارمزا آگیا۔ بے پناہ ہجوم تھا۔ بس یوں سمجھ لو کہ اگر چوک نواں شہر میں سٹیج تھا تو ڈیرہ اڈا تک لوگ بیٹھے تھے۔ پورے شہر میں جشن کا سماں تھا۔ جلوسوں پر پھول پھینکے جارہے تھے۔ سب سے زیادہ پیپلزپارٹی کی رونق تھی۔اگر ایم آرڈی میں یہ پارٹی نہ ہوتی تو جلسے میں کچھ نہیں تھا۔ سب سے زیادہ استقبال جتوئی کاہوا ۔اصغر خان کے ساتھ جوہوا تم نے اخبارات میں پڑھ لیا ہوگا۔ آج کل بازاروں میں بھٹو کی تصویریں اورکتابیں فروخت ہورہی ہیں۔ہرطرف تین رنگ کے جھنڈے ہیں۔ گویا ”لاہور جاگ رہا ہے“۔ آٹھ فروری کو مسلم لیگ بھی جلسے کااہتمام کررہی ہے۔ جلسے میں ولی خان اور نوابزادہ نصراللہ کی تقریریں سب سے اچھی تھیں۔
جمعے کو پاکستان ٹائمز میں ڈاکٹر انور سدید کا جو جائزہ شائع ہوا اس میں میرا دوجگہ ذکر ہے۔ ہائیکو اور انشائیے میں۔ میرے تذکرے پر لوگوں کو تکلیف ہوئی لیکن میں تو خود کواب بھی وہی سنگ میل ،نوائے ملتان حتی کہ بچوں کے آفتاب والا رضی سمجھتا ہوں۔ لیکن ان رویوں پر افسوس ہوتا ہے۔لو بھائی لائبریری میں لوڈشیڈنگ کا وقت قریب آرہاہے ۔خط سمیٹتا ہوں ۔باقی باتیں پھرسہی۔اب تو خط بھڑاس نکالنے کے لیے بھی لکھنے ہوتے ہیں۔
والسلام
تمہارا رضی
2فروری1986
فیس بک کمینٹ

