19جنوری 1985ءمیرے لیے اس حوالے سے ایک اہم دن تھا کہ اس روز میری محترمہ بشریٰ رحمان کے ساتھ پہلی ملاقات ہوئی اور یہ ملاقات ان کے ساتھ منائی جانے والی شام میں ہوئی ِ یہ اسی تقریب کا دعوت نامہ ہے ۔اس سے اگلے روز 20 جنوری 1985 کو ہم نے ملتان میں شاہین ادبی ایوارڈز کی تقسیم کا اعلان کیا تھا جس کی تفصیل تصویر کہانی نمبر (1) میں موجود ہے ۔ واپس دعوت نامے کی جانب آتے ہیں جس پر شام ساڑھے تین بجے کا وقت درج تھا اور میزبانوں میں سبطین رضا لودھی، شاکر حسین شاکر، جاوید احمد میاں اور اعجاز احمد شامل تھے۔اظہارخیال کرنے والوں کی فہرست میں عاصی کرنالی، اقبال ساغر صدیقی، شیخ ریاض پرویز، محمد افسر ساجد، ثمر بانوہاشمی، پروفیسر محمد امین، رخشندہ حبیب اور رضی الدین رضی کے نام تھے۔ سٹیج پر بشری رحمان کے ساتھ مہمان خصوصی کے طورپر خانہ فرہنگ ایران کے ڈائریکٹر جنرل آقائی عباس فرجی مخلص آبادی موجودتھے۔ مجھے ان دنوں ہرتقریب میں اوپننگ بیٹسمین کہہ کر بلایا جاتاتھا۔ سو اس تقریب میں بھی شاکر نے میرے لیے یہی جملہ استعمال کیا۔ اس تقریب سے ٹھیک ایک ماہ پہلے 19دسمبر1984ءکو ضیاءالحق نے وہ ریفرنڈم کرایا تھا جس کے بارے میں حبیب جالب نے کہا تھا
سڑکوں پر ہُو کاعالم ہے
یہ جن ہے یا ریفرنڈم ہے۔ اس سناٹے کے باوجود اس ریفرنڈم کے نتائج یہ بتائے گئے تھے کہ 98.53فیصد لوگوں کی طرف سے اسلام کے نفاذ کی حمایت کی گئی ہے جو در حقیقت جنرل ضیاء الحق کی حمایت ہے اور یہ حمایت حاصل ہونے کے بعد وہ اگلے پانچ سال بھی صدر کے منصب پر فائز رہیں گے ۔
شاکر کی دعوت پر میں سٹیج پرآیا اور اپنا مضمون پڑھ ڈالا۔ اس مضمون میں بشری رحمن کے مختلف ڈائجسٹوں میں شائع ہونے والے افسانوں اورناولوں کی ادبی حیثیت پر سوال اٹھائے گئے تھے اور جیساکہ اب بھی ڈائجسٹوں میں شائع ہونے والی تحریروں کو ہم ادب میں شمار نہیں کرتے میں نے بھی کم وبیش یہی موقف اختیار کیا تھا، لیکن مضمون میں حسب روایت سیاسی تڑکا یہ لگایا کہ بشری رحمن کے رومانوی کرداروں کو جنرل ضیاء کی اسلامائزیشن کے تناظر میں مذہبی روپ دے دیا ۔مضمون کا صرف ایک اقتباس آپ کی نذر کرتا ہوں۔
”صوفی عبدالقدوس نے زبیدہ سے کہا اب مجھے اجازت دیجیے میں نے عصر کی نماز بھی پڑھانی ہے۔ لیکن یہ بتائیں کہ اگر میں آپ سے عقدمسنونہ کے لیے اپنے والدین کو آپ کے گھر بھیجوں تو کیا آپ کے قبلہ والدِبزرگوار ہمارے درخواست قبول فرما لیں گے۔ زبیدہ نے شرماتے ہوئے کہا ،آپ والدین کو ضرور بھیجیں ہمارے گھر میں آپ کو 98.53فیصد حمایت حاصل ہے۔“
میری تقریر کے بعد بشری رحمن اظہارخیال کے لیے آئیں ۔انہوں نے میرے بہت سے جملوں پر شدید ناراضی کااظہارکیا لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اس نوجوان کے قلم میں کنہیا لال کپور والی کاٹ موجودہے لیکن افسوس کہ یہ ملتان میں رہتا ہے۔اسے اپنی مزاح نگاری پر بھرپورتوجہ دینی چاہیے۔اوراسی دوران انہوں نے مجھے پیشکش کی کہ میں لاہور میں ان کے ادارے ” وطن دوست “ سے منسلک ہوجاﺅں ۔جون1985ءمیں میں اس ادارے کے ساتھ منسلک ہوگیا اور پھر اگلے تین سال مجھے محترمہ بشری رحمن کے ساتھ کام کرنے کا اعزاز حاصل ہوا۔بعد کے دنوں میں ان کے ساتھ ایسا مضبوط تعلق قائم ہوا کہ پھر وہ جب بھی ملتان آتیں میں اور شاکر ان کے میزبان ہوتے تھے ۔ اس تحریر کے ساتھ میں ان کی 23 جنوری 2007کی تصویر لگا رہا ہوں جب وہ میری کتاب ” رفتگانِ ملتان “ کی تعارفی تقریب میں شرکت کے لیے ملتان آئیں اور مجھےمیرے والد مرحوم کی نسبت سے”رضی ۔۔رفوگر“ کا نام دے گئیں ۔
رضی الدین رضی
چھبیس اپریل دو ہزار چوبیس
فیس بک کمینٹ

