1985ءکے زمانے میں سبطین رضا لودھی کو معلوم نہیں کس نے کہا کہ انجمن ثقافتِ پاکستان کے زیرِ اہتمام بشریٰ رحمن کے ساتھ شام منانی چاہیے۔ ہم تین چار دوستوں نے اپنے اپنے کالجوں سے ٹرین کے لیے کنسیشن فارم لاہور کے لیے بنوائے اور محترمہ بشریٰ رحمن کو دعوت دینے کے لیے لاہور میں اُن کے گھر گارڈن ٹا ؤن پہنچ گئے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ہم نے ابھی ادب میں نیا نیا قدم رکھا تھا اور پہلی ہی ملاقات میں بشریٰ رحمن نے ہمیں اپنی تمام کتابوں سے نواز دیا۔ اور یہ بھی عندیہ دیا کہ وہ آنے والے دنوں میں اپنے ساتھ ہونے والی شام میں بھی شرکت کریں گی۔ ہم تمام دوست جس میں اعجاز احمد، فیض الرحمن ملک، سبطین رضا لودھی اور راقم خوشی خوشی واپس ملتان آئے۔ شیرشاہ روڈ پر ملتان آرٹس کونسل کے دفتر میں آ کے ہم نے ایک درخواست دی کہ انجمن ثقافت پاکستان بشریٰ رحمن کے ساتھ ایک شام کرنا چاہتی ہے، ہمیں مفت میں ہال درکار ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب محترمہ بشریٰ رحمن کا طوطی سر چڑھ کے بول رہا تھا۔ ہر ڈائجسٹ میں اُن کا کوئی نہ کوئی ناول یا افسانہ شائع ہوتا تھا اور وہ شہرت کی بلندیوں پر تھیں۔
طے شدہ تاریخ پر محترم بشریٰ رحمن ملتان آئیں تو اس دن ملتان آرٹس کونسل میں اُن کے چاہنے والوں کا اتنا رش ہوا کہ تل دھرنے کی جگہ نہ رہی۔ سٹیج پر جاوید احمد میاں اور اس وقت کے خانہ فرہنگ ایران ملتان کے ڈائریکٹر عباس فرجی موجود تھے۔ رضی الدین رضی نے تقریب میں ایک سخت مضمون پڑھ دیا۔ جس کا انہوں نے تقریر میں بھی ذکر کیا۔ اب ہم منتظمین تقریب کے آخر میں ان کا سامنا کرنے سے گریز کرنے لگے کہ رضی نے تو سارا معاملہ ہی خراب کر دیا ہے۔ اگلے دن حسین سحر اور اقبال ارشد نے چناب ادبی ایوارڈ کی تقریب رکھی ہوئی تھی، اس میں بھی بشریٰ رحمن بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوئیں۔ ملتان کے اُس دورے کے دوران اُن کی پذیرائی شاندار تھی لیکن وہ بار بار رضی کے مضمون کا ذکر کرتی رہیں۔
1986ءمیں رضی روزگار کے سلسلے میں جب لاہور گیا تو تب بشریٰ رحمن نے اُن کو اپنے اشاعتی ادارے ’وطن دوست‘ میں کام کرنے پر آمادہ کیا۔ یوں محترمہ بشریٰ رحمن ہمارے لیے باجی بشریٰ رحمن ہو گئیں۔ ان سے بہن بھائیوں والا تعلق اُن کے انتقال تک رہا۔ اس کے بعد 1985ءسے لے کر 2022ءتک باجی بشریٰ رحمن جب بھی ملتان آئیں تو ان کے میزبان مَیں اور رضی ہوتے۔ اور ملتان کے ساتھ ان کی محبت دیدنی رہی۔ اُن کا اگرچہ تعلق بہاولپور سے تھا لیکن انہوں نے ملتان کے گرلز کالج میں تھرڈ ایئر میں داخلہ لیا، یوں وہ ہمیشہ کہتی رہیں کہ میری زندگی کا خوبصورت ترین زمانہ وہ تھا جب مَیں پڑھنے کے سلسلے میں ملتان میں رہی، تب ملتان کا کلچر بہت خوبصورت تھا، ملتان کے دور دراز علاقوں کی بیٹیاں ہوسٹل میں آ کر رہتی تھی اور وفا کا کاجل آنکھوں میں لگاتی تھیں۔ کالج کا ماحول بہت جاندار تھا، مَیں نے وہاں سے ہر سال بہترین مقررہ اور بہترین اہلِ قلم کا ایوارڈ لیا اور گرلز کالج ملتان کے رسالے ”لالہ ¿ صحرائی“ کی ایڈیٹر بھی بنی۔ یہی وہ زمانہ تھا جب بشریٰ رحمن کے قلم کو جاگ لگ گئی۔
کی ہویا جے راتیں جاگیوں جے مرشد جاگ نہ لائی
”جاگ“ لگے تو دودھ جمے تے تو دیکھیں شانِ الٰہی
ملتان کے زمانہ طالب علمی کے دوران باجی بشریٰ رحمن کی شہرت کو پَر لگ گئے۔ گرمی کی چھٹیوں میں گھر گئی تو ماں نے کہا یہ تم نے کیا غل مچا رکھا ہے؟
کیسا غل ماں؟
ملتان سے یکایک تیرے رشتے آنے شروع ہو گئے ہیں۔
بشریٰ رحمن نے قہقہہ لگا کے اس کی بات کو ہوا میں اڑا دیا کہ معاملہ کچھ یوں تھا کہ اس زمانے میں گرلز کالج ملتان میں ایک سالانہ ڈرامہ ہوتا تھا اور اس ڈرامے میں بشریٰ رحمن نے انارکلی کا کردار ادا کیا۔ تین دن ڈرامہ چلتا رہا، خوب رش رہا تو لوگوں نے بشریٰ رحمن کے رشتے کے لیے بہاولپور جانا شروع کر دیا لیکن قرعہ فال لاہور کے میاں عبدالرحمن کے نام نکلا جو بشریٰ رحمن سے بہت زیادہ محبت کرتے تھے۔
چند سال پہلے جب میاں عبدالرحمن کا انتقال ہوا تو مَیں نے تعزیت کے لیے اُنہیں فون کیا تو وہ میری آواز سنتے ہی بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں اور بار بار ایک ہی بات کہتی رہیں کہ میاں صاحب نے جانے میں جلدی کی۔ مَیں اُنہیں جتنا چپ کراتا وہ اتنی ہی شدت سے رونے لگتیں۔ اور اس فون کے دوران کئی مرتبہ ان کی ہچکی بھی بندھی۔ مجھے ایسے لگا جیسے اُن کی روح بھی میاں عبدالرحمن کے ساتھ چلی گئی ہے بس ایک بے جان سا وجود تھا جس میں سانس کا سلسلہ جاری تھا اور وہ ایک نئی بشریٰ رحمن کا روپ تھا۔ ڈیڑھ سال پہلے خالد مسعود خان، برادرم عامر خٹک، چوہدری ذوالفقار علی انجم اور خواجہ جلال الدین رومی کے ساتھ مل کے چوتھی ریشم دلانِ ملتان کانفرنس کا انعقاد کیا تو خالد بھائی اور مَیں نے باجی بشریٰ رحمن سے رابطہ کیا اور ان سے کہا کہ ملتان کی یادوں کے حوالے سے اپنا مضمون لکھ کر بھجوائیں۔ انہوں نے میری گزارش کو پذیرائی بخشی اور ایک خوبصورت مضمون لکھ کر بھجوا دیا جس کا اختتام انہوں نے کچھ یوں کیا۔
”مگر جب کبھی براستہ سڑک بہاول پور جانا ہوتا، مَیں ہمیشہ ملتان سے ہو کر جاتی۔ ملتان میرا راستہ روک لیتا تھا۔
میری کتاب کی پہلی پذیرائی کی رسم بھی ملتان میں ہوئی تھی …….. اور ملتان کی تنظیم ’سخنور فورم‘ نے مجھے ’عندلیبِ پاکستان‘ کا خطاب دیا۔ پھر حسنِ اتفاق سے ملتان میں مجھے دو بھائی مل گئے۔ شاکر حسین شاکر اور رضی الدین رضی۔
ملتان پھر سے میرا میکہ بن گیا۔
بہاول پور کی زمین میرے لیے قبلہ و کعبہ ہے کہ میرے والدین مدفون ہیں۔ مگر ملتان کی زمین میرا ’میکہ‘ ہے …. یہاں میرے دو بھائی رہتے ہیں۔ بھائیوں کی محبت کی وجہ سے ہمیشہ میکہ سلامت رہتا ہے۔
خواجہ غلام فرید نے فرمایا:
دل نال سجن دے لائی رہساں
مَیں تاں پریت دی پت نبھائی رہساں
ہم نے کرونا کی وجہ سے ریشم دلانِ ملتان کانفرنس میں اُن کو آنے کی دعوت نہ دی لیکن اُن کی یادگاری شیلڈ اس موقع پر شائع کردہ کتابوں کا سیٹ اُنہیں بھجوا دیا۔ مَیں نے رسید لینے کے لیے فون کیا، کہنے لگیں اس مرتبہ مجھے ملتان نہ آنے کا بڑا افسوس ہے، چلو کوئی بات نہیں زندگی ہو گی تو جلد ملاقات ہو گی۔ باجی بشریٰ رحمن نے گھر میں رہ کر اپنی مصروفیت یوں کر لی تھی کہ انہوں نے فیس بک کے لیے اپنے افسانے ریکارڈ کروا کر پوسٹ کرنے شروع کر دیئے اور پھر ایک دن اُن کے فیس بک پر پوسٹ لگی کہ آپ کی ہردلعزیز بشریٰ رحمن کرونا کی وجہ سے علیل ہیں اور پھر 7 فروری 2022ءکو اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئیں۔ ملتان جس کو وہ اپنا میکہ کہا کرتی تھیں اس میکے سے بھی اُن کے سفرِ آخر میں بھائی اس لیے شریک نہ ہوئے کہ کرونا نے ایک دوسرے کو بہت سے پیاروں سے دور کر رکھا ہے۔
فیس بک کمینٹ

