شاکر بھائی
کل ہی ملتان سے آیا ہوں،یوم مئی وہیں منایا اور رات لاہور پہنچا۔اس مرتبہ تم نے دانستہ خط کا جواب دیر سے دیااورخط بھی مختصر تھا، میں نے خط اس لیے نہ لکھا کہ میرا امتحان تھا ،پرسوں امتحان ختم ہوا ہے۔ بھائی ہم نے جو کرنا تھا کرلیا باقی تمہارا کام ہے دعائیں کرو۔ نکل گئے تو کیا ہی بات ہے۔ورنہ کوئی بات نہیں ۔۔
تمہیں سعودیہ میں بے نظیر کے مخالفوں کا سامنا ہے۔ ادھر میری بھی یہی کیفیت ہے۔ کئی لوگ ضیاءکے مخالف توہیں لیکن بے نظیر کے بھی مخالف ہیں۔ ان کاکہنا ہے کہ بی بی کے پاس پروگرام نہیں۔ میں کہتا ہوں کہ قائداعظم نے بھی پاکستان کسی پروگرام کے بغیر ہی بنایاتھا۔اس وقت تو سب نے ساتھ دیا ۔مجھے تو صدیق سالک کے ناول ”ایمرجنسی“ کا ایک جملہ باربار یادآتا ہے
”اگر قیام پاکستان کے وقت کل رقبے کو کل آبادی میں تقسیم کردیا جاتا تو جاگیر داری جنم لیتی اور نہ ہی غربت پیدا ہوتی۔“
تمہیں نعرے پسند آئے اچھی بات ہے۔ایک اورسن لو یہ میں ملتان سے لایاہوں
اللہ میاں مینہ وسا
جنرل ضیاءنوں مغروں لا
اورسنو
کانے کو بھگائیں گے ، پاکستان بچائیں گے
تم نے امروز میں انٹرویوز کاسلسلہ شروع کرنے کو کہا،سحر صاحب کا انٹرویو کرلایاہوں، پون گھنٹے کاانٹرویو ہے ،ابھی کیسٹ سے نقل نہیں کیا۔اس خط کے بعد وہی کام کرنا ہے۔ سحر صاحب نے بڑے مزے کی باتیں کیں ،میں نے بہت گھیرا کہ وہ کوئی بات کریں مگر وہ صاف بچ نکلتے تھے۔
سعودی عرب کے حالات سن کر پریشانی ہوئی۔ بڑی عجیب صورتحال ہے۔ یہاں بھی رمضان آرہاہے۔ وہی پابندیاں ہوں گی۔ سو بھائی دن بھربھوکامروں گا اور میں نے کیا کرنا ہے۔ ملتان میں تو دوڑ کر اسٹیشن سے کھاپی آتا تھا۔ یہاں اسٹیشن جانے کے لیے بھی دوگھنٹے چاہیئں ۔ آج کل بشری رحمان کی نئی کتاب ”ایک آوارہ کی خاطر “چھپ رہی ہے اسی ماہ آجائے گی۔اس مرتبہ ہم نے فلیپ پر وحید قریشی ،شفیق الرحمن، ضمیر جعفری اور ممتاز مفتی کی آراءبھی دی ہیں۔ اس سے پہلے ان کی کسی کتاب پر آراءموجودنہیں۔ اس کے لیے بھی انہیں مشکل سے قائل کیا۔ سب کے مضامین میں سے جملے نکالے اور فلیپ بنائے ۔ استاد جی کی گرفتاری کاسن کر افسوس ہوا۔اگر وہ باہر آگئے ہیں تو سلام کہنا۔میری ہمدردیاں ان کے ساتھ ہیں کہ وہ روزہ خوری میں گرفتارہوئے۔ امروز میں تمہارا جو مضمون شائع ہوا اس میں بہت اچھے جملے تھے۔مثلاً بے کاروں اورکاروں والے جملے، اذان والے جملے، لیکن یہ سب سعید بدر نے کاٹ دیا۔ ہمارے ہاں ایک منٹ میں مذہب کو خطرہ لاحق ہوجاتا ہے۔ اوکے خداحافظ، ہوتل بابا کاکالم چھپ گیا۔ابھی پرچہ نہیں ملا۔ فوٹو کاپی اگلی دفعہ بھیجوں گا۔
والسلام
3مئی 1986
کل ہی ملتان سے آیا ہوں،یوم مئی وہیں منایا اور رات لاہور پہنچا۔اس مرتبہ تم نے دانستہ خط کا جواب دیر سے دیااورخط بھی مختصر تھا، میں نے خط اس لیے نہ لکھا کہ میرا امتحان تھا ،پرسوں امتحان ختم ہوا ہے۔ بھائی ہم نے جو کرنا تھا کرلیا باقی تمہارا کام ہے دعائیں کرو۔ نکل گئے تو کیا ہی بات ہے۔ورنہ کوئی بات نہیں ۔۔
تمہیں سعودیہ میں بے نظیر کے مخالفوں کا سامنا ہے۔ ادھر میری بھی یہی کیفیت ہے۔ کئی لوگ ضیاءکے مخالف توہیں لیکن بے نظیر کے بھی مخالف ہیں۔ ان کاکہنا ہے کہ بی بی کے پاس پروگرام نہیں۔ میں کہتا ہوں کہ قائداعظم نے بھی پاکستان کسی پروگرام کے بغیر ہی بنایاتھا۔اس وقت تو سب نے ساتھ دیا ۔مجھے تو صدیق سالک کے ناول ”ایمرجنسی“ کا ایک جملہ باربار یادآتا ہے
”اگر قیام پاکستان کے وقت کل رقبے کو کل آبادی میں تقسیم کردیا جاتا تو جاگیر داری جنم لیتی اور نہ ہی غربت پیدا ہوتی۔“
تمہیں نعرے پسند آئے اچھی بات ہے۔ایک اورسن لو یہ میں ملتان سے لایاہوں
اللہ میاں مینہ وسا
جنرل ضیاءنوں مغروں لا
اورسنو
کانے کو بھگائیں گے ، پاکستان بچائیں گے
تم نے امروز میں انٹرویوز کاسلسلہ شروع کرنے کو کہا،سحر صاحب کا انٹرویو کرلایاہوں، پون گھنٹے کاانٹرویو ہے ،ابھی کیسٹ سے نقل نہیں کیا۔اس خط کے بعد وہی کام کرنا ہے۔ سحر صاحب نے بڑے مزے کی باتیں کیں ،میں نے بہت گھیرا کہ وہ کوئی بات کریں مگر وہ صاف بچ نکلتے تھے۔
سعودی عرب کے حالات سن کر پریشانی ہوئی۔ بڑی عجیب صورتحال ہے۔ یہاں بھی رمضان آرہاہے۔ وہی پابندیاں ہوں گی۔ سو بھائی دن بھربھوکامروں گا اور میں نے کیا کرنا ہے۔ ملتان میں تو دوڑ کر اسٹیشن سے کھاپی آتا تھا۔ یہاں اسٹیشن جانے کے لیے بھی دوگھنٹے چاہیئں ۔ آج کل بشری رحمان کی نئی کتاب ”ایک آوارہ کی خاطر “چھپ رہی ہے اسی ماہ آجائے گی۔اس مرتبہ ہم نے فلیپ پر وحید قریشی ،شفیق الرحمن، ضمیر جعفری اور ممتاز مفتی کی آراءبھی دی ہیں۔ اس سے پہلے ان کی کسی کتاب پر آراءموجودنہیں۔ اس کے لیے بھی انہیں مشکل سے قائل کیا۔ سب کے مضامین میں سے جملے نکالے اور فلیپ بنائے ۔ استاد جی کی گرفتاری کاسن کر افسوس ہوا۔اگر وہ باہر آگئے ہیں تو سلام کہنا۔میری ہمدردیاں ان کے ساتھ ہیں کہ وہ روزہ خوری میں گرفتارہوئے۔ امروز میں تمہارا جو مضمون شائع ہوا اس میں بہت اچھے جملے تھے۔مثلاً بے کاروں اورکاروں والے جملے، اذان والے جملے، لیکن یہ سب سعید بدر نے کاٹ دیا۔ ہمارے ہاں ایک منٹ میں مذہب کو خطرہ لاحق ہوجاتا ہے۔ اوکے خداحافظ، ہوتل بابا کاکالم چھپ گیا۔ابھی پرچہ نہیں ملا۔ فوٹو کاپی اگلی دفعہ بھیجوں گا۔
والسلام
3مئی 1986
فیس بک کمینٹ

