طاہر سرور میرکالملکھاری

طاہر سرور میرکا کالم:عیدالفطر: پاکستان، انڈیا میں عید اور سنیما کا تعلق کتنا پرانا؟

برصغیر میں تہواروں پر فلموں کی نمائش کا خاص اہتمام ایک روایت ہے اور پاکستان میں عیدالفطر ہو یا عیدالاضحی اور سرحد پار انڈیا میں عید کے علاوہ دیوالی، گنپتی، ہولی، مہاشیوراتری اور کرسمس ایسے تہوار ہیں جن پر نئی فلموں کی نمائش کے لیے خصوصی طور پر فلمساز تیاریاں کرتے آئے ہیں۔
لیکن 2021 وہ دوسرا برس ہے جب عید کے موقع پر جہاں انڈیا کے دس ہزار سنیما خالی اور شائقین کسی نئی فلم کی نمائش کی راہ ہی تکتے رہ جائیں گے وہیں پاکستان میں بھی کوئی نئی فلم ریلیز نہیں کی جا رہی۔
انڈیا کے برعکس پاکستان کی فلمی صنعت بہت چھوٹی ہے اور یہاں عید جیسے تہوار ہی فلمسازوں کے لیے وہ موقع ہوتے ہیں جب انھیں اپنی فلم کی کامیابی کے امکانات سال کے باقی دنوں کے مقابلے میں روشن دکھائی دیتے ہیں۔
پاکستان میں گذشتہ ڈیڑھ سال کے عرصہ میں صرف 24 فلمیں پروڈیوس کی گئیں جن میں بعض کے پروڈیوسرز اس عیدالفطر پر امید لگائے بیٹھے تھے لیکن کورونا کی تیسری لہر نے انھیں شدید مایوس کیا۔
عیدین کے حوالے سے یہ عیدالفطر تیسرا تہوار ہے جب پاکستان میں سنیما بند رہیں گے۔
کورونا کے باعث تاخیر کا شکار ہونے والی پاکستانی فلموں میں نوجوان ہدایتکار بلال لاشاری کی ’دی لیجنڈ آف مولا جٹ‘، سرمد سلطان کھوسٹ کی فلم ’زندگی تماشا‘، نبیل قریشی کی فلم ’قائداعظم زندہ باد‘، سید نور کی فلم ’تیرے باجرے دی راکھی‘ اور محمد پرویز کلیم کی فلم’رنگ عشقے دا‘ سمیت دیگر 19 فلمیں شامل ہیں۔
پاکستان فلم پروڈیوسرز ایسویسی ایشن کے چیئرمین میاں امجد فرزند نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ گذشتہ ڈیڑھ سال سے سنیما انڈسٹری تشویشناک حالت میں ہے۔
وہ کہتے ہیں ’24 فلموں کی شکل میں 200 کروڑ روپے سے زائد کا سرمایہ منجمد ہے۔‘
میاں امجد فرزند نے کہا کہ کبھی پاکستان میں 1585 سنیما ہوا کرتے تھے لیکن افتادہ زمانہ ہے کہ اب جو ہمارے یہاں 161 سنیما رہ بھی گئے ہیں وہ ایک طویل عرصے سے بند پڑے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہم فلم ٹریڈ سے وابستہ لوگ سمجھتے ہیں کہ دنیا کو ایک خوفناک وبا اور معاشی سونامی کا سامنا ہے لیکن اس کے باوجود حکومت اور ذمہ دار اداروں کو فلم انڈسٹری کو ترجیحی بنیادوں پر بچانے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔‘
انڈیا وہ ملک ہے جہاں ایک برس میں مختلف زبانوں میں 1800 کے قریب فلمیں بنائی جاتی ہیں لیکن وہاں کورونا کی وبا کی وجہ سے جہاں دیگر شعبہ ہائے زندگی بری طرح متاثر ہوئے ہیں وہیں سنیما میں فلموں کی نمائش کا سلسلہ بھی تعطل کا شکار ہے۔
بالی وڈ کے معاملات پر نظر رکھنے والے سینیئر صحافی آرون استھانا کا کہنا ہے کہ ’کورونا کے باعث انڈین فلمسازوں کو 5000 کروڑ روپے کا نقصان ہو چکا اور اس خسارے میں نمائش کاروں کے حصے 1500 کروڑ کا گھاٹا آیا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ سلمان خان کی فلم ’رادھے‘ سنیما اور او ٹی ٹی پر بیک وقت نمائش کی منصوبہ بندی کے تحت بنائی گئی لیکن اب فلم بین اسے عیدالفطر کے دن سے صرف او ٹی ٹی پر ہی دیکھ سکیں گے۔
فلم والے وزیراعظم کی ’فلم پالیسی‘ کے منتظر
سینیئر اداکار ندیم بیگ نے بتایا کہ یہ عید تیسرا موقعہ ہے کہ ہماری فلمیں ڈبوں میں پڑی نمائش کی منتظر ہیں۔
انھوں نے انڈیا اور پاکستان میں فلم کے کاروبار کا موازانہ کرتے ہوئے کہا کہ انڈین معاشرے میں فلم کو تفریح کے ساتھ ساتھ ایک مقدس اور معتبر عمل بھی سمجھا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس دیس میں بعض مشہور فلم سٹارز کے نام کے مندر تک تعمیر ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ممبئی کے مضافات میں امیتابھ بچن مندر واقع ہے۔ ’یاد کیجیے فلم لاوراث کا وہ بچہ جو اپنے والدین کے ہاں بغیر شادی کے پیدا ہوتا ہے اور یہی نہیں ’شرابی‘ کے وکی بابو کو بھگوان کا درجہ دے دینا سنیما لورز سوسائٹی کا بہت بڑا ثبوت ہے۔‘
اداکار ندیم بیگ نے کہا کہ فلم والے عید الفطر کے بعد وزیراعظم پاکستان کی فلم پالیسی کے منتظر ہیں جس کی امید سینیٹر فیصل جاوید خان نے دلائی ہے جس کے تحت فلم کے شعبے کی ریاستی نگہبانی کرنے کا وعدہ کیا جا رہا ہے۔
عید پر فلموں کی ریلیز کی روایت
تقسیم ہند کے بعد آزاد پاکستان کی پہلی تیار کردہ فلم ’تیری یاد‘ سات اگست 1948 کو عیدالفطر کے موقع پر ہی نمائش کے لیے پیش ہوئی تھی۔ مذکورہ فلم کے مرکزی کرداروں میں اداکار ناصر خان اور آشا بھوسلے شامل تھے۔ ناصر خان دلیپ کمار کے چھوٹے بھائی اور اس وقت کے کامیاب سٹار تھے۔
ناصر خان کے کرئیر کی اہم فلم 15 اگست 1947 یعنی انڈیا کی آزادی کے دن ’شہنائی‘ کے نام سے ریلیز ہوئی تھی۔ اس فلم میں ناصر خان کے ساتھ کشور کمار،ریحانہ اور اندومتی شامل تھیں۔
’شہنائی‘ بھی ایک لحاظ سے عید الفطر کے موقع پر ریلیز ہوئی تھی اور وہ یوں کہ 14 اگست 1947 کو 27 رمضان المبارک تھی اور اس کے بعد 15 اگست انڈیا کی آزادی کا دن عید کے ساتھ جڑ گیا تھا۔ یوں فلم ’شہنائی‘ کی تشہیر اس طرح سے کی گئی کہ ’آزادی اور عید کا تحفہ‘ ساتھ ہو۔
برصغیر جب تقسیم ہو رہا تھا اور وہ تاریخ کے نئے دوراہے پر تھا تو اس وقت ناصر خان کی فلمیں اس خطے کے سنیماوں کی زینت بن رہی تھیں۔ اس سے قبل 24 اکتوبر 1947 عیدالاضحی کے موقع پر انڈیا بمبئی میں تیار کردہ فلم ’بندیا‘ کی پاکستان میں نمائش ہوئی تھی جس میں راگنی، امر، شاکر اور ای بلوریا اہم کرداروں میں تھیں۔
’عید کا دن ہے گلے ہم کو لگا کر ملیے‘
فلم والوں نے تہواروں کو کہانی اور گیتوں کا موضوع بھی بنایا۔ جنرل پرویز مشرف کے دور تک چونکہ بسنت کا تہوار بھی روایتی انداز میں منایا جارہا تھا تو مقامی پروڈیوسر بسنت جسے موسمی تہوار پر بھی فلمیں نمائش کیا کرتے تھے۔
اس موسمی رجحان پر معروف فلمی شاعر خواجہ پرویز نے بھٹو دور میں گیت لکھا تھا جس کی استھائی تھی: ’گڈی وانگوں اج مینوں سجناں اڈائی جا، اڈائی جا۔‘
موسیقار طافو نے قصور سے تعلق رکھنے والی معروف گلوکارہ افشاں کی آواز میں یہ بسنتی گیت ریکارڈ کیا تھا جو اپنے زمانے کی معروف آیٹم سونگ سپیشلسٹ امروزیہ پر فلمبند ہوا تھا۔
بعض فلم بنانے والوں نے عید جیسے تہوار کو براہ راست فلم کا موضوع بنایا ہے۔ شاعر تسلیم فاضلی کا لکھا، گلوکار احمد رشدی اور مالا بیگم کی آوازوں میں یہ گیت ’عید کا دن ہے‘ فلم بینوں میں معروف ہے۔
اسی طرح مسرور انور کا لکھا اور موسیقار نثار بزمی کا موزوں کیا گیت ’عید کا دن ہے گلے ہم کو لگا کر ملیے‘ جو مہدی حسن کی آواز میں ریکارڈ کیا گیا تھا فلم بینوں میں کئی دہائیوں سے مقبول ہے۔ یہ گیت اداکار ندیم اور شبنم پر فلمبند ہوا تھا،دونوں کردار عید کے روایتی پہناوے شیروانی اور غرارہ پہنے ہوئے عید کا اشتہار دکھائی دے رہے ہیں۔
پنجابی فلم ’پگڑی سنبھال جٹا‘ کے لیے فردوس اور عالیہ پر فلمبند کیا گیا گیت آدھی صدی کے زائد وقت سے عید کی خوشیوں کو دوبالا کررہاہے۔ اس گیت کا مکھڑا ہے
چن، چن دے سامنے آگیا (چاند، چاند کے سامنے آگیا)
میں دونواں تو ں صدقے جانواں (میں دونوں سے صدقے جاوں)
سوھنیو! عید مبارک (میرے پیارے عید مبارک)
ہیرئیو! خیر مبارک(میرے عزیز خیر مبارک)
ہدایتکار ایس اے بخاری، شاعر حزیں قادری، موسیقار طفیل فاروقی جبکہ گلوکاراوں میں نذیر بیگم اور مالا کے ساتھ نے درج بالا عید گیت تخلیق کیا جسے اب ایک عرصہ سے پنجابی لوک گیت کی حیثیت حاصل ہے۔
انڈیا کے عید کنگ
اگر انڈیا کی بات کی جائے تو ’بولی وڈ کے کماو پوت‘ سلمان خان کی زیادہ تر فلمیں عید پر نمائش کے لیے پیش کی گئیں اور باکس آفس کھڑکی ٹوٹتی رہی۔
سلمان خان کو عید پر متعدد کامیابیاں حاصل کرنے پر ’عید کنگ‘ بھی کہا جاتا ہے۔
آرون استھانہ نے ممبئی سے بتایا کہ سلمان خان سے پہلے انڈیا میں عید یا دیوالی پر فلموں کی نمائش کرنے کی کوئی روایت موجود نہیں تھی۔
’سلمان خان کی فلمیں عید پر ریلیز ہوئیں انھوں نے کامیابیاں سمٹیں تو اکشے کمار اور اجے دیوگن نے اپنی فلمیں دیوالی پر نمائش کرنا شروع کیں۔اس طرح عید اور دیوالی فلمیں نمائش کرنے کے دن قرار پائے۔ان سے قبل کبھی بھی دلیپ کمار، امیتابھ بچن اور راجیش کھنہ سمیت کسی بھی سٹار نے کسی خاص دن فلمیں ریلیز نہیں کروائیں۔‘
سلمان خان کے علاوہ شاہ رخ خان کی فلمیں بھی عید پر نمائش کے لیے پیش کی جاتی رہی ہیں لیکن بعد ازاں عید کا دن بھائی نے اپنے نام کر لیا۔ سلمان خان ایسے انڈین سٹار ہیں جن پر عید کے سب سے زیادہ گیت فلمبند کیے گئے ہیں۔
سروے کے مطابق سلمان خان کے سٹارڈم نے بولی وڈ کو سب سے زیادہ سرمایہ کما کر دیا ہے۔
انجمن،سلطان راہی کی جوڑی نے ریکارڈ قائم کیے
پاکستان میں عید پر فلمیں نمائش کرنے کے حوالے سے جو ہدایتکار فرنٹ لائن پر رہے ان میں ایم جے رانا، حسن طارق، رضا میر، شمیم آرا، رنگیلا، جان محمد جمن، ایس سلیمان، حیدر چوہدری، ایس اے بخاری، خلیل قیصر، الطاف حسین، اقبال کشمیری، حسنین، یونس ملک، سیدنور، سنگیتا، پرویز رانا اور سودی بٹ سمیت دیگر بھی شامل رہے۔
پاکستان فلم انڈسٹری میں ہدایتکار اسلم ڈار واحد تھے جو فلم کو کسی خاص تہوار پر نمائش کرنے کی مخالفت کیا کرتے تھے۔ انھوں نے اپنے کیریئر میں دارا، آخری چٹان، مجرم کون، بشیرا، دل لگی، عشق نچاوے گلی گلی اور بابل صدقے تیرے جیسی منفرد فلمیں بنائیں۔
عیدین کے حوالے سے جن فنکاروں کو خاص طور پر کاسٹ کیا جاتا رہا ان میں سنتوش کمار، اکمل خان، سدھیر، یوسف خان، محمد علی، ظریف، وحید مراد، ندیم، اعجاز درانی، شاہد، رنگیلا، منور ظریف، ساون، مظہر شاہ، اسلم پرویز، علاوالدین، آغا طالش، نعیم ہاشمی، بدرمنیر سمیت دیگر اداکار شامل رہے۔
لالہ سدھیر، سلطان راہی، رنگیلا اور وحیدمراد ایسے اداکار رہے جن کی فلموں کو عیدین پر سب سے زیادہ پذیرائی ملتی رہی۔
اداکاراؤں میں نورجہاں، راگنی، آشا پوسلے، صبیحہ خانم، مسرت نذیر، فردوس، شمیم آرا، شبنم، زیبا، روزینہ، آسیہ، نشو،عالیہ، نغمہ، نجمہ، بابرہ شریف، انجمن، صائمہ، ریما، میرا، ریشم، نرگس اوربعض دوسری اداکارائیں عید ین کے لئے پردہ سیمیں کو سجاتی رہیں۔
سنہ 1981 کا عید میلہ پاکستان میں فلمی دنگل کے حوالے سے بڑا دلچسپ رہا تھا۔ اس عید پر سات معروف ہدایتکاروں کی فلمیں نمائش ہوئیں جن میں ہدایتکار نذر الاسلام کی اردو فلم ’پلکوں کی چھاوں میں‘ ہدایتکار کیفی کی ’ملے گا ظلم دا بدلہ‘ ہدایتکار حیدر چوہدری کی ’چاچا بھتیجا‘ اقبال کشمیری کی ’جن چاچا‘ یونس ملک کی ’شیر خان‘ جہانگیر خان کی ’چن وریام‘ اور الطاف حسین کی فلم ’سالا صاحب‘ شامل تھیں۔
سنہ 1981 کے عید میلے میں الطاف حسین کی سالا صاحب، جہانگیر قیصر کی چن وریام اور یونس ملک کی شیر خان نے کامیابیوں کے نئے ریکارڈ قائم کیے تھے۔
تینوں فلموں کی کاسٹ میں اداکارہ انجمن اور سلطان راہی شامل تھے جبکہ تینوں سپر ہٹ فلموں کے میوزک ڈائریکٹر وجاہت عطرے تھے۔ وجاہت عطرے کو ان کا یہ اعزاز منفرد بنائے ہوئے ہے کہ انھوں نے ایک عید میلہ پر تین فلموں کے لیے 21 گیت کمپوز کیے جو تمام سپرہٹ ثابت ہوئے۔ یہ بھی ایک نہ بھولنے والی بات ہے کہ تمام فی میل پلے بیک ملکہ ترنم نور جہاں کی آواز میں ریکارڈ کیے گئے تھے۔
ریکارڈ ٹائم میں فلم کیسے بنتی تھی؟
ہدایتکار ایس ایم یوسف نے ساٹھ کی دہائی میں ’عید مبارک‘ کے نام سے سٹارز کاسٹ فلم بنائی جس میں زیبا، وحید مراد، حبیب اور رخسانہ نمایاں کرداروں میں شامل تھے۔ فیاض ہاشمی کی لکھی اس کہانی کا موضوع عید کا تہوار اور ایک خاندان کے کرداروں کے مابین باہمی محبت، بھائی چارہ اور شکوک شہبات کے بعد دوبارہ ایک دوسرے کا احترام کرنا ہے۔
فلم کی موسیقی اے حمید نے ترتیب دی تھی اور اسے خاص طور پر عید کے دن نمائش کیا گیا۔ فلم کی کہانی اور سکرین پلے میں عید کے تہوار کو کہانی کا موضوع بنایا گیا۔
فلم انڈسٹری میں ’ریکارڈ وقت میں تیار کیے جانے والے شاہکار‘ کا رجحان بھی رہا ہے۔ اس فلمی نعرے کے تحت فلم کے مہورت پر اعلان کیا جاتا کہ اس پراجیکٹ کو عید کے دن نمائش کے لیے پیش کیا جائے گا اور پھر ڈے اینڈ نائٹ عکسبندی شروع کر دی جاتی۔ اس طرح عموماً رمضان کے مہینے میں اخبارات میں شائع ہونے فلمی اشتہارات پر درج کیا جاتا کہ ’ریکارڈ ٹائم میں تیار ہونے والا نغماتی شاہکار‘ اور ’ریکارڈ ٹائم میں مکمل ہونے والا گھریلو شاہکار۔‘
ریکارڈ ٹائم میں فلم تیار کرنے والے ہدایتکاروں میں شباب کیرانوی، جان محمد جمن، شمیم آرا، حیدر چوہدری، حسنین، الطاف حسین اور ظہور گیلانی شامل رہے۔ ہدایتکار حیدر چوہدری کی فلم ‘چور سپاہی’جبکہ ظہور گیلانی کی فلم زندگی، کرفیو آڈر، اور پیدا گیر سمیت دیگر فلمیں شامل رہیں۔
ضیا الحق نے انڈسٹری کو تالے لگا دیے
میاں امجد علی فرزند فلم انڈسٹری کی زوال کی کہانی کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ سنہ 2000 کے بعد فلم بین پاکستانی سینماؤں میں کم ہی دکھائی دیے ہیں۔
’اس کی اہم وجوہات میں وی سی آر پر دیکھے جانے والانشریاتی مواد، کیبل پر غیر قانونی انڈین فلموں کی نمائش، دنیا بھر کے غیر سنسر شدہ ٹی وی پروگرامز اور سب سے بڑھ کر پاکستانی فلموں کا گرتا ہوا میعار اور سیاسی معاشرتی ابتری، دہشت گردی، لوگوں کی گرتی ہوئی معاشی حالت وہ عوامل ہیں جس نے مقامی سنیما انڈسٹری کو برباد کیا۔‘
مصنف محمد پرویز کلیم نے کہا کہ جنرل محمد ضیا الحق کا زمانہ فن اور فنکار کے لیے عذاب رہا۔
’ضیا دور میں فلم سنسر بورڈ کے دفاتر کو منافقت کا ہیڈ کوارٹر بنا دیا گیا۔ ایسی سنسر پالیسیاں متعارف کرائی گئیں جو معاشرتی سچائیوں کا منہ چڑھاتی تھیں۔ فلم سے ڈانس اور شراب کے مناظر غائب کر دیے گئے جبکہ ضیا دور میں ہیروئن سمیت دنیا کا ہر نشہ سستا دسیتاب ہوتا رہا۔‘
’فلم کے پردے پر تشدد بند کر دیا گیا اور معاشرے میں ہتھوڑا گروپ غریب عوام کے سروں کو کچلتا رہا۔ فلم کی کہانی میں ریپ جیسے واقعات کو حذف کردیا گیا اور حقیقت میں ننھے اور معصوم بچوں سے زیادتیاں ہوتی رہیں۔ پپو کے قاتلوں کو لاہور میں سر عام پھانسیاں دی گئیں لیکن اس سچائی کو فلم کے پردے پر دکھانے سے منع کردیا گیا۔ ‘
پرویز کلیم بتاتے ہیں کہ اس مشکل دور میں بھی ہم نے ’نکاح‘ جیسی فلم بنائی جو 1998 میں نمائش کے لیے پیش کی گئی اور اس کو دیکھنے لوگ سنیما گھروں میں آئے۔
سینئیر صحافی حفیظ ظفر نے کہا کہ جب بنگلہ دیش پاکستان ہوا کرتا تھا تو ہم نے اکھٹے مل کر 121 تک فلمیں بنائیں لیکن الگ ہونے کے بعد نگارخانے بند اور سنیما گھروں پر تالے پڑ گئے۔
انھوں نے کہا یہ ایک دلخراش حقیقت ہے کہ جنرل ضیا الحق کے دور سنہ 1979 سے شروع ہونے والا بحران 2000 تک ثقافتی سرطان بن گیا۔
حفیظ ظفر نے کہا کہ گھٹن اور جبر کے دور میں بھی ہدایتکار حسن عسکری نے 1984 میں ’دوریاں‘ اور 1998 میں سید نور نے ’چوڑیاں‘ بنائیں لیکن یہ کوشش کسی ملک کی فلم انڈسٹری کو زندہ رکھنے کیلیے ناکافی رہی۔
(بشکریہ: بی بی سی اردو)

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker