قیصر عباس صابرکالملکھاری

مولانا !میرے رول ماڈل :صدائے عدل/قیصرعباس صابر

میں کیوں مولانا کے موقع شناس اعمال فطرت پر تبصرہ کروں کہ وہ صاحب مسند و دستار ٹھہرے۔مجھے ان کے ضلع کی فضائی حدود پر چھائے بادلوں کا سایہ میسر آتا ہے،مجھے جو ہوائیں گدگداتی ہیں وہ آڑی والا کے لمس سے آشنا ہوتی ہیں۔مجھے ان کے جانثاروں سے دوستی کا اعزاز بھی حاصل ہے۔میں ان کے مرتبے کا بھی قائل ہوں کہ آل رسول پر بات کرنے والے مولانا کی ذات پر تو دھبہ بھی برداشت نہیں کرسکتے، جان دینے اور جان لینے پر تل جاتے ہیں۔
میرے لئے اتنے بڑے مولانا کی ذات پر بات کرنا چاند پر تھوکنے کے مترادف ہے کیونکہ میری اور ان کی خواہشوں میں مماثلت ہے یہ اور بات کہ ان کو منزل مل چکی اور میں بدنصیب راہوں میں بھٹکتا ہوا ایک قلم کار بن سکا جسے شاہوں کے قصیدے لکھنا نہ آئے،دعائیں فروخت کرنا نہ آئیں اور میں رائیگاں بہتے آنسوؤ ں کی قیمت وصول نہ کرسکا۔میں فاقوں مرتا رہا مگر درباری لکھاری بننے سے گریز کرتا رہا۔
میں ہمیشہ مولانا کا احترام کرتا رہوں گا کہ میں ناکام سہی مگر میری خواہشیں انہی جیسی ہیں۔
میں بھی چاہتا ہوں کہ فلم انڈسٹری کی ہر کامیاب اور نسوانی حسن سے بھرپور اداکارہ میرے سامنے اپنے بوجھل دل کے سارے غم ہلکے کرے اور میں اسے دلاسے دوں،اس کے آنسو رخساروں پر بکھرتے ہوئے دیکھوں۔اسے جنت کی نوید سنا کر اپنا پکا مرید کرلوں۔ میں بھی چاہتا ہوں کہ مجھے صرف امیر لوگوں کی رفاقت نصیب ہو،مجھے ملنے والے جراثیم سے بھرے ہاتھ میری طرف نہ بڑھائیں،مجھے صاف ستھرے لوگوں کی شاندار باتوں کی طلب ہے میں غربت کے نوحے سن سن اکتا چکا ہوں مگر میری خواہش ناکام حسرت میں ڈھل چکی ہے۔
میں حکمرانوں کی قربت چاہتا ہوں کہ کسی روز میں دعوت تبلیغ کےلئے جاؤں اور اندر سے کھوکھلے اور ڈرے ہوۓ اہل اقتدار کو اپنے چہرہ شناسی کے ہنر سے جیت لوں پھر وہ اپنی گھریلو ناچا کیوں سے لے کر سیاسی دلالی تک کا کام مجھ سے لیں۔میں سیاسی دھڑوں کا مک مکا کرواؤں اور طاقت کے کلب کی لائف ٹائم ممبر شب کا حقدار ٹھہروں۔
میں چاہتا ہوں کہ جب اہل حکومت مجھے اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو بچانے کےلئے قوم کو قائل کرنے کا موقع دیں تو میں حکمرانوں کی نااہلی کا سارا ملبہ عوام پر ڈال دوں اور وہی عوام جو مجھے عزت دیتے نہیں تھکتے انہیں جھوٹا قرار دے دوں کہ نظریہ ضرورت اسی طوطا چشمی کا نام ہے۔
میں خواب دیکھتا ہوں کہ مجھے میڈیا نے اسلامی سکالر بنا کر دنیا بھر میں متعارف کروایا اور میرے براہ راست پروگرام نشر کئے حالانکہ میں تو صرف ایک مبلغ ہوں،تحقیق پر میرا کوئی تھیسس ہے نہ میں نے تفسیر لکھی ہے،میں کوئی ایسا کام بھی تو نہیں کرسکا جسے اسلامی دنیا میں مثال کے طور پر پیش کیا جا سکے، پھر میں صرف ایجنسیوں کی طرف سے ملنے والی ہدایات پر عمل پیرا ہو کر اپنے محسنوں کو جھوٹا کہہ بیٹھا۔اور پھر کہا کہ صحافی بھائی مجھے معاف کردیں،عوام تو ہیں ہی جھوٹے اور فحاشی پھیلانے والے ،ان کی ناراضی کی کوئی پرواہ نہیں۔لیکن پھر میری آنکھ کھل گئی ۔دل کی خواہشیں دل ہی میں رہ گئیں ۔
میں چاہتا ہوں میرے پاس مال و دولت ہو اور میرے آبائی علاقے کی ساری زمین میری ملکیت ہو اس خواہش کی تکمیل کے لئے میں بہت ہاتھ پاؤں مارتا ہوں مگر کوئی امید بر نہیں آتی تو میں اسے قسمت کے کھاتے میں ڈال کر بری آل ذمہ ہو جاتا ہوں۔میں بھی خوبرو لڑکیوں کو بذریعہ وٹس آپ ویڈیو کال کر کے راہ راست پر لانے کی کوشش کرتا ہوں مگر ناکام رہتا ہوں۔
اپنے آپ کو متحرک رکھنے کےلئے میں سعودی عرب اور مغربی ممالک کے دورے بھی کرنا چاہتا ہوں۔ حج کے موقع پر سپیشل پیکج لینے کی بھی طلب ہے کہ کروڑوں آتے کسے اچھے نہیں لگتے۔میں ہر حکومت کے ساتھ اپنے تعلقات آخری حد تک چاہتا ہوں مگر میری نااہلی مجھے پیچھے دھکیل دیتی ہے کہ میں شائد میٹھی زبان اور چہرہ شناسی نہیں جانتا اس لئے ناکام ٹھہرتا ہوں۔
میں بھی بڑے بڑے بیوروکریٹس اور سیاستدانوں کے آباو اجداد کے جنازے پڑھانے کی خواہش رکھتا ہوں مگر مجھے بلایا ہی نہیں جاتا۔ میں بھی چاہتا ہوں کہ ملک کے ہر شاہی جوڑے کے نکاح ناموں پر بطور نکاح خواں میرے دستخط ہوں مگر یہ صرف میری خواہش ہی رہ جاتی ہے۔ یہ سب خواہشیں صرف میری ہی نہیں ہم سبھی کی ہیں مگر ہم اپنی ناکامی کو تسلیم کرتے ہوئے چھوٹے موٹے کاموں سے رزق کشید کرتے ہیں اور مولانا کو منزل مل چکی ہے۔
اب اپنے احساس کمتری و محرومی کو ہم مولانا سے نفرت کے اظہار میں دفن کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں اور بھول جاتے ہیں کہ وہ بھی ایک انسان ہی ہیں۔میں ان کو کیوں تنقید کا نشانہ بناؤں کہ وہ ہر چیز حاصل کر چکے ہیں جن کی میں صرف خواہش کر سکتا ہوں اگر میں کرسکتا تو ان سے بہت آگے نکل چکا ہوتا۔مولانا میرے رول ماڈل ہیں ان کا احترام مجھ پر لازم ہے۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker