اختصارئےتہمینہ بشیرلکھاری

دیگ والی کلاس کی یادیں ۔۔تہمینہ بشیر

بی ایس اردو کی ڈگری کا اختتام ہونے کو ہے صرف ایک پرچہ ہونا باقی ہے آنکھیں آنسوؤں سے تر ہیں اور ذہن میں بس یہی سوچ ہے کہ یہ چار سال پتا بھی نہیں چلا گزر گئے اور آخری سمسٹر کے آخر کے چند ماہ گھروں میں گزرے نہ کسی ہم جماعت سے ملاقات ہوئی اور نہ ہم نے شعبہ اردو کے درودیوار کو اپنے شور اور قہقہوں سے سر پر اٹھایا….. کسی استاد سے ڈانٹ کھائی نہ ہی ایک دوسرے پر رنگ برنگے پانی کی بوتلیں انڈیلیں نہ کہیں مل بیٹھ کر لڑائیاں کیں جو اکثر جب بھی سارے ہم جماعت مل کر بیٹھتے تھے تو ہو جاتی تھیں ۔
بہت سے منصوبے ،اساتذہ کے ساتھ مل بیٹھ کر محفل جمانا ، ان خوبصورت پلوں کو کیمرے کی آنکھ میں قید کرنا ، ڈائری پر اساتذہ، ہم جماعت اور دوستوں سے مختلف پیار بھرے جملے لکھوانا ، اور سب کی آنکھوں میں بچھڑنے کے لمحات کا سوچ کر آنسو آنا ، ہنسنا ، کھیلنا سب دھرے کے دھرے رہ گئے اور یہ ڈگری یوں ہی دوبارہ ملنے کی آس لیے اختتام پذیر ہو رہی ہے۔
میرے تمام ہم جماعت میری لیے بہت خاص ہیں لڑائی جھگڑے ، ہنسی مذاق شرارتیں چٹکلے اور ایک دوسرے کے ساتھ مل بیٹھ کر بریانی اور سموسے کھانا بہت یاد آئے گا….ثناء شہزادی کا شٹل کے لیے جلدی بھاگ جانا اور کسی بات سے تنگ آجانا ( بات راز ہے ثناء خود سمجھ جائے گی ) حنا ، ماریہ ، مدیحہ نواز اور ثناء زہرہ کا میٹھے انداز میں سرائیکی بولنا ، رابعہ کی باتیں اچھی نصیحتیں اور تیکھا مگر مخلص لہجا ، سمعیہ ، آصفہ اور کائنات کے قہقہے ، طیبہ کا پنجابی بولنا اور لباس ، نجمہ کا ہر وقت پرچے کی تیاری کے لیے جدوجہد اور مواد ڈھونڈنا ، آماریہ رضا کے رنگ برنگے دوپٹے ، مدیحہ خلیل کا ہر وقت خاموش رہنا ، سکینہ کا مسکراتے رہنا اور جلدی جلدی ہاسٹل بھاگ جانا ، مشعل کا اونچا اونچا اور تیز بولنا ، فابیہا کا اکثر کہنا میرے پاس 30 روپے ہیں چل مشعل باقی پیسے ملا کر پراٹھا رول کھلا دے اور شہربانو کا ہر وقت مسکراتے رہنا ، مجھے مخلصانہ مشورے دینا ، کبھی کسی سے لڑائی نہ کرنا۔۔
ہم جماعت لڑکوں میں حسن کا شاعروں اور ادیبوں کی طرح شروع ہوجانا ، محمد طفیل ( رول نمبر 2 ) کا زیادہ تر چپ رہنا اور فضول گوئی سے ہٹ کر صرف اپنے کام سے کام رکھنا، محمد عرفان ( رول نمبر 3 ) کا پرچے کے وقت مسلسل لکھتے رہنا ، جہانگیر کی اچھی صحت اور سب کا اسے صحت کے حوالے سے چھیڑنا ، تنویر کا کسی وقت میں گایا جانے والا نغمہ ، یاسر کی خوبصورت آواز میں تلاوت قرآن پاک اور اس کی ٹوٹی پھوٹی انگریزی، شہباز کی تصویر سازی ، طفیل ( رول نمبر 18) کا شاذ و نادر ہی کلاس میں آنا اور کان میں پہنی ہوئی بالی ، اللہ رکھا کی سالگرہ اور اس پر دیگ بنوانا اور پھر شعبہ میں دیگ والی کلاس کے نام سے مشہور ہوجانا ، محمد نسیم کو سب کا لڑکی سمجھ لینا ( کیونکہ جب کوئی استاد آنٹی نسیم کو بلاتا تو محمد نسیم اٹھ کر پانی لے آتا کہ شاید مجھے کہا ہے ) ، زبیر حسن کی ٹوٹی پھوٹی اردو ، احمد رضا عارف کے ٹرپ میں لگائے جانے والے ٹھمکے اور سب ہم جماعت لڑ کیوں کو آپی آپی کہہ کر مخاطب کرنا ( معذرت ماسوائے ایک کے) ، شہزاد اکبر شاہ کا کرسیاں پھلانگنا ( جب اکثر قاضی صاحب آ جاتے تھے اور وہ ڈر کے مارے بھاگا کرتا تھا ) ، محبوب احمد کا سب سے پہلے اور باقاعدگی سے کلاس میں آنا ، عرفان بشیر کا کم گو ہونا ، اسد اللہ کی شاہ مزاجی ( کلاس میں آئے آئے نہ آئے کوئی فکر نہیں )۔۔
سب بہت یاد آئے گا جب جب تم لوگوں کی شرارتیں یاد آئیں گی دل درد سے اور آنکھیں آنسوؤں سے بھر آئیں گی یقین مانو تم سب لوگ اچھے ہو یہ چار سال ہم نے ہنستے کھیلتے ، لڑتے جھگڑتے کیسے گزارے پتہ ہی نہیں چلا اور آج وقت ہے کہ ہم تمام گلے شکوے بھلا کر نم آنکھوں مگر مسکراتے لبوں سے ایک دوسرے کو ڈھیروں دعاؤں کے ساتھ رخصت کریں ساری نفرتیں اور غصے کو اپنے اندر دفن کر دیں اور خوشی خوشی نئے سفر کی جانب بڑھ جائیں اور عہد کریں کہ ہم جب بھی ایک دوسرے کو یاد کریں گے تو ہمارے لبوں کو ایک آسودہ مسکراہٹ چھو لے گی اور ہمارے ہاتھ خود بخود ہی دعا کے لیے بلند ہو جائیں گی

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker