ایم ایم ادیبکالملکھاری

قیوم خان خوگانی کی یادیں ۔۔ ایم ایم ادیب

میری اس کی آخری ملاقات پاکستان قونصلیٹ آفس دبئی میں ہوئی تھی جہاں وہ پاسپورٹ قونصلر تھا۔منیرخان ترین میرے ساتھ تھے انہوں نے ہی برسوں بعد اس کا ذکر چھیڑا۔ایک کٹر جیالا جس نے جوانی ہی نہیں لڑکپن بھی سیاست کی بساط پر کھیلتے گزارا۔جو ضیاء آمریت کے دنوں میں ضمانت پر رہا ہوکر آتا تو امجد خان،جمیل خان،احمد خلیل قاسمی اور دوسرے کئی دوستوں کے ہمراہ بیٹھ کر اپنی اذیتوں کے قصے یوں جھوم جھوم کر سناتا جیسے بہار رُت میں پھولوں سے لدے کسی باغ میں جھولے لیکر آیا ہو۔اس کے دراز قد اور ورزشی جسم پر تشدد کے کئی کئی نشان ہوتے مگر اسے کبھی ان زخموں پر
ملال کرتے نہیں دیکھا۔ان دنوں اس کی مسیں ابھی بھیگ ہی رہی تھیں،وہ تھا تو ایک نظریاتی جماعت کا جیالا کارکن،بے باک اور نڈر مگر نظریئے کے حرف ابجد سے بھی آگاہ نہیں تھا،وہ سمجھتا تھا بھٹو ایک نظریئے کا نام ہے اور اس کے سِوا کچھ
نہیں۔اس کا خاندانی پس منظر جمیعت علمائے اسلام سے جڑا ہوا تھا۔وہ مولانا مفتی محمودؒ کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کرتا تھا،شاید اسی لئے وہ بیشتر جیالوں کی طرح مذہب بیزار نہیں تھا۔
وہ Book lover نہیں تھا،سیاسی موضوعات کی کتب تو کجا اس نے پی پی پی کے منشور کا بھی شاید ہی مطالعہ کیا ہو،مگر بھٹو کی محبت میں وہ اتنا گھائل تھا کہ خواب دیکھنے کی عمر بھی اسی محبت کی نذر کر دی۔وہ پی پی کے ٹھیک نا ٹھیک سب پر جان نچھاور کرتا تھا اسی وصف کی بنیاد پر اسے بینظیر بھٹو شہید کے پہلے ہی دور حکومت میں انٹیلی جینس جیسے ادارے میں تعینات کر دیا گیا کہ گھر کی باتیں باہر نہ نکلیں۔
قیوم خوگانی اور افضل شیخ نے اپنے ادارے کی شان بڑھانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔قیوم خان خوگانی معصوم عادات کا حامل تھا۔کسی کو ایک لمحے میں دوست بنالینے کاوصف قدرت نے اسے بے پناہ ودیعت کیا تھا،اس کے اندر اتنا
مٹھاس تھا کہ ملتان کے چونسے آم میں بھی اتنا مٹھاس نہیں ہوتا۔ اچھا خاندانی پس منظر رکھتا تھا اس لئے اچھائیاں اس میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھیں،کسی اپنے تو کیا پرائے کو بھی دکھ میں نہیں دیکھ سکتا تھا،ہر ایک کو گلے لگا کر ملنا اس کی عادت تھی سرائیکی مندے (Adjectives ) کا استعمال اس کا مرغوب مشغلہ تھا۔منیر خان ترین کے ساتھ اس کی میری آخری ملاقات ہوئی تو اس نے دلگرفتگی کے ساتھ کہا ”یہاں تو ایسے بول بولنے والا نہیں ملتا“ پھر دونوں نے سرائیکی کی مٹھڑی محبت میں گندھے کوسنوں سے خوب ایک دوسرے کا سواگت کیا،میں بھی ان کی اس محبت میں اتنا بھیگا کہ سرتاپا لت پت ہوگیا۔
وہ ہماری آخری ملاقات تھی،وہ کب پاکستان آیا،کب دوبارہ محکمہ انٹیلی جینس جائن کیا،اس کی اس سروس کے دوران میں نے کبھی راہ و رسم کی کوشش نہیں کی کہ ایک صحافی کا اس طرح کے محکموں سے تعلق میری ذاتی رائے میں اچھا نہیں ہوتا،تاہم اس کی کارکردگی کی خبریں مجھ تک کسی نہ کسی دوست کے ذریعے خیر خیریت سمیت پہنچتی رہیں۔ اِن دنوں وہ ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل انٹیلی جینس بیورو لاہور تھا،ملتان آنا جانا رہتا ہوگا کہ یہی اس کی جنم بھومی تھی،یوں بھی مدینہ الاولیاء کی مٹی کی کشش اپنے باسیوں کو پر لحظہ جکڑے رکھتی ہے،یہ اپنے سے دور رہنے والوں اپنی یاد سے غافل نہیں
ہونے دیتی۔ مجھے قیوم خان خوگانی کے بارے جو آخری خبر ملی وہ یہ تھی کہ کرونا نے اس پیکر محبت کو بھی نگل لیا ہے۔
میں تو ابھی پیارے
دوست ڈاکٹر انور زاہدی کی بہن اور خوبصورت نظموں کی خالق ماہ طلعت زاہدی کی موت کے غم ہی سے نہیں نکلا تھا،ابھی نشتر میڈیکل یونیوورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر مصطفی کمال پاشا کی موت کے آزار سے سے نہیں نکل پایا تھا کہ قیوم خان
خوگانی محبت میں ڈالی گئی کرونا کی ایک جپھی کی نذر ہوا۔مگر اس پر لکھنا ایک قرض تھا جو بڑی مشکل سے اتار پایا ہوں۔ابھی ماہ طلعت زاہدی کا قرض مجھ پر باقی ہے،مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ اس کی شاعری پر کچھ لکھوں کہ اپنے بزرگ دوست ڈاکٹر مقصود زاہدی کی بیٹی کے حوالے سے جو خود بھی محبت کا بہتا دریا تھے انور زاہدی اور ماہ طلعت اسی سے نکلی دو ندیاں ہیں جو اردو شاعری کا قیمتی سرمایہ ہیں۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker