اسلام آباد : کالعدم تحریک لبیک پاکستان اور وفاقی حکومت کے مابین تحریکِ لبیک کی لانگ مارچ کے حوالے سے بنائی گئی کمیٹی کا کہنا ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان معاہدہ طے پا چکا ہے تاہم معاہدے کی تفصیلات ابھی ظاہر نہیں کی گئیں۔
اتوار کی دوپہر مفتی منیب نے ایک پریس کانفرنس میں معاہدے کا اعلان کیا تاہم اس معاہدے کی تفصیلات و شرائط کے بارے میں آگاہ نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کی شرائط ’مناسب وقت پر سامنے آ جائیں گی۔‘دھرنے کے ختم ہونے کے حوالے سے مفتی منیب کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کے اثرات جلد سب کے سامنے آجائیں گے۔
مذاکرات ختم ہونے کے بعد فلاحی تنظیم سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ کے سربراہ مولانا بشیر احمد کو ایک سیل بند لفافے میں مبینہ طور پر معاہدے کی کاپی لے جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا۔اطلاعات ہیں کہ مذاکراتی ٹیم معاہدے کی یہ کاپی لے کر وزیر آباد جا رہی ہے۔
دوسری طرف وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے بین المذاہب ہم آہنگی علامہ طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ تصادم ملک اور اس کے عوام کے مفاد میں نہیں تھا، اور یہ کہ تمام اختلافات کو پُرامن طریقے سے حل ہونا چاہیے۔
وزیر آباد میں ٹی ایل پی کے دھرنے میں موجود صحافی آصف بٹ کے مطابق دھرنے میں سپیکر پر اعلانات ہوئے ہیں کہ جب تک مرکزی قیادت کی طرف سے حکومت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کی تفصیلات نہیں بتائی جاتیں اور دھرنا ختم کرنے کا حکم جاری نہیں کیا جاتا، اس وقت تک لانگ مارچ ختم نہیں ہو گا۔
یاد رہے کہ کالعدم تحریکِ لبیک پاکستان لاہور سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی جانب ایک لانگ مارچ کر رہی تھی، اور ان کے اہم مطالبات میں ملک سے فرانسیسی صدر کی ملک بدری اور تنظیم کے سربراہ سعد رضوی کی رہائی تھے۔ اتوار کی صبح تک کالعدم تحریک لبیک پاکستان کا قافلہ وزیر آباد میں موجود تھا۔ نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق وزیرآباد میں موجود تحریک لبیک کے کارکنان کی تعداد کئی ہزار ہے۔
مفتی منیب نے بتایا کہ جو معاہدہ قرار پایا اس میں جماعت کے امیر حافظ سعد رضوی کی بھی تائید و حمایت حاصل ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ یہ کسی کی فتح یا شکست نہیں ہے یہ انسانی جان کی حرمت کی فتح ہے۔
اس سے قبل تحریک لبیک کے ایک ترجمان امجد رضوی نے بتایا تھا کہ حکومت اور ان کی جماعت کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں حکومت نے ان کے مطالبات پر لچک دکھائی ہے جس میں فرانسیسی سفیر کا معاملہ بھی شامل ہے۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو )

