پنجاب کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ یہاں دو صحرا(اگرچہ یہ صحرا سرائیکی وسیب کے رنگ ہیں) موجود ہیں۔تھل کے فطری حسن کو تخت لاہورکی توسیع پسندانہ پالیسوں نے آ بادی کاری سے آ لودہ کر رکھا ہے ۔تھل کی بڑی منفرد تہذیب اور بڑا توانا کلچر ہے ۔یہ سات اضلاع(خوشاب،میانوالی،بھکر،جھنگ کا مغربی کنارا،لیہ،کوٹ ادو اورمظفر گڑھ)پر محیط ہے ۔بظاہرتو یہ ایک ریت کی وادی ہے پریہ ریت برائے ریت نہیں یہ بڑی زرخیر اور فطرتی حسن کو جنم دینے والی دھرتی ہے ۔اس کا ہر پہلو نویکلا اور منفردہے ۔اس کی جنگلی حیات ہو،لائیوسٹاک ہو،فصلیں ہوں یا اس کا فلورا اورفانا ہو؛ سب تھلوچڑ دلفریب رنگ ہیں۔یہ ایک محبتیوں اور امن سے مملو ایسی دھرتی ہے جہاں نہر سے قبل قتل و غارت،چوری چکاری اور انتہا پسندی جیسے جان لیوا جرائم نہ تھے۔
ایک تحقیق کے مطابق تھانہ چوبارہ(لیہ)میں گذشتہ ایک سو برس تک قتل کا ایک بھی مقدمہ درج نہیں ہوا تھا۔یہاں گھروں کے گرد پردے بنانے کا کوئی رواج نہیں تھا۔مائیں،بہنیں اوربیٹیاں سب کی سانجھیاں تھیں۔مذہبی تہوار اور میلے ٹھیلے بھی سب کے سانجھے تھے۔دین دھرم انسانی اور سماجی روابط کی راہ میں رکاوٹ نہ تھے۔محدود وسائل میں خوش وخرم رہنے والے تھلوچھڑوں نے ہمیشہ باہر سے آنے والے لوگوں کی میزبانی کی، خود بے زمین بھی ہوئے ہیں مگرآ ج بھی صابر شاکرہو کررہتےہیں۔ ایسے رویے تھل کی وسعتوں کی بدولت یہاں کے باسیوں کے مزاجوں کا حصہ ہیں۔ تھل آج بھی اہل ذوق کا رومانس ہے ۔ اگر باقی ماندہ تھل کو آ باد کاری کی یلغار سے بچا لیا جائے اور یہاں پر "سیاحت” کو اس طرح فروغ دیا جائے کہ تھلوچی حسن بھی محفوظ ہو جائے اور ریاست کے پاس زرمبادلہ حاصل کرنے کے مواقع بھی پیدا ہو جائیں۔ اس کے لیے فوری طورپر یہ اقدامات کیے جائیں:
مزید آ بادکاری روکی جائے، یہاں انڈسٹری اور دیکر اداروں کے قیام کی حوصلہ شکنی کی جائے، نام نہاد کارپوریٹ فارمنگ ہر گز نہ کی جائے، یہاں نیشنل پارک بنائے جائیں، ایسے اداروں کی حوصلہ افزائی کی جائے اور انھیں ریاستی سطح پر ایسی سہولتیں فراہم کی جائیں کہ وہ ہوٹلنگ کی صنعت کو فروغ دیں۔ وسیبی دستکاریوں اور فنون لطیفہ کی حوصلہ افزائی کرنے کے لیے نمائشیں منعقد کی جائیں۔ایسے میلے ٹھیلوں کا احیا بھی بہت ضروری ہے ۔
ان اقدامات سے روز گار کے ذرائع بھی پیدا ہوں گے،مقامیت کا تعارف بھی بڑھے گا اور لوگوں اپنی تہذیب،ثقافت اور تاریخ سے بھی متعارف ہوں گے۔یہ سب معاصر نفسیاتی الجھنوں کے تدارک،معاشی سرگرمیوں کے فروغ اور ہماری یوتھ کی صحت مندانہ مصروفیت کے لیے بھی ضروری ہے ۔ اس کی مثال ابوظہبی اور دبئی کی ریاستوں کی بھی دی جا سکتی ہے جنہوں نے اپنے صحراؤ ں سے دنیا کے سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کیاہے مگر تھل میں سیاحت کا فروغ سرائیکی مقامیت کا اعتراف بھی ہے ،کیا ہماری ویژن لیس اشرافیہ اس پہلو پرتوجہ دے سکتی ہے ؟

