تاریخ کے موجودہ عہد ظلمات کو آئندہ مورخ مقبولیت پسندی سے منسوب کرے گا۔ مقبولیت پسندی صرف سیاسی ہتھیار ہی نہیں، صحافت میں بھی رائے عامہ گمراہ کرنے میں کام آتی ہے۔ اس کا پہلا اصول پارسائی کی ڈھال اٹھا کر دوسروں پر تیر اندازی کرنا ہے۔ مقبولیت پسندی کو دلیل یا توازن سے نہیں، اندھے جذبات کے بیوپار سے غرض ہوتی ہے۔ مقبولیت پسندی رائے عامہ میں موجود مخالف یا ناپسندیدہ دھاروں کی نفی کرتے ہوئے خود کو ملک و ملت کا واحد نمائندہ اور خیر خواہ ثابت کرتی ہے۔ مقبولیت پسند رہنما یا صحافی غلطی سے مبرا ہوتا ہے۔ وہ کچھ آزمودہ تعصبات کو ہوا دے کر یا مسلمات کے کندھے پر سوار ہو کر اپنی سرو قامتی کا پھریرا لہراتا ہے۔ اسے سیاسی عمل کی حرکیات سے غرض نہیں ہوتی البتہ گاہے گاہے ہوا کا رخ دیکھ کر ایسا موقف ضرور اپناتا ہے جس سے اس کی ہوا بندھی رہے۔ مقبولیت پسندی کو ایک دشمن کی ضرورت ہوتی ہے جس پر تبریٰ کر کے وہ اپنی ہی خوش بیانی پر پھدکتا رہے۔ بظاہر اقتدار اور اختیار کو للکارتے ہوئے درون خانہ رہ و رسم آشنائی قائم رکھے۔ یہ آج کے عہد کی حقیقی عیاری ہے۔
ہماری صحافت میں اس عیاری کی روایت قدیم ہے۔ علامہ اقبال کے ایک عہد ساز شاعر اور عمیق مفکر ہونے میں دو رائے نہیں لیکن ان کی سیاست تاریخ کا حصہ ہے۔ وہ قائداعظم کے مقابل بننے والی شفیع لیگ کے جنرل سیکرٹری رہے۔ سائمن کمیشن کی لاہور آمد پر استقبالیہ وفد کا حصہ تھے۔ پنجاب لیجسلیٹو اسمبلی میں چار سالہ رکنیت کے دوران ان کی کسی پالیسی تقریر یا قانون سازی میں سرگرم حصے کا تذکرہ نہیں ملتا۔ وہ اول و آخر ایک شاعر اور مفکر تھے۔ سیاسی چک پھیریوں سے انہیں کم ہی تعلق تھا۔ قائداعظم کے ساتھ ان کی خط و کتابت مئی 1936ء سے نومبر 1937ء تک کل تیرہ خطوط پر محیط ہے۔ قائداعظم نے 27 مارچ 1943ء کو ان خطوط کے مجموعے پر پیش لفظ میں افسوس ظاہر کیا ہے کہ ان کے پاس اقبال کے نام لکھے خطوط کی نقول موجود نہیں۔ جناح صاحب نے لاہور میں اقبال کے قریبی حلقوں سے بھی دریافت کیا لیکن انہیں اپنا کوئی خط دستیاب نہیں ہو سکا۔ دونوں رہنماؤں کے سیاسی مکالمے کا اہم ترین حصہ قائداعظم کے نام اقبال کا آخری دستیاب خط ہے جو 10 نومبر 1937ء کو تحریر کیا گیا۔ اس خط میں اقبال نے سکندر جناح پیکٹ کی مخالفت کرتے ہوئے قائداعظم کو خبردار کیا کہ یونینسٹ پارٹی سے اتحاد پنجاب میں مسلم لیگ کو شدید نقصان پہنچائے گا۔ اقبال کے اس موقف کی تائید عاشق حسین بٹالوی کی کتاب ’اقبال کے آخری دو برس‘ کے آخری باب سے ہوتی ہے۔ یہ راز صوفی تبسم اپنے ساتھ قبر میں لے گئے کہ اقبال کے کاغذات میں سے قائداعظم کے خطوط جیسی قیمتی دستاویزات کیسے گم ہوئیں۔ اس میں اس زمانے کے ایک ’جذباتی‘ صحافی کا نام آتا ہے۔
قیام پاکستان سے جہاں لاکھوں مسلمانوں کو جانی اور مالی اتلاف کا سامنا ہوا وہاں کچھ گروہوں کی بن آئی۔ مسلمان سرکاری افسروں نے تو 7 اگست 1947ء کو دہلی میں قائداعظم سے ملاقات ہی میں اپنی ممکنہ ترقیوں کا تذکرہ چھیڑ دیا تھا۔ جون 1948ء میں سٹاف کالج کوئٹہ میں بھی یہ تذکرہ چلا۔ ایک دوسرا گروہ ان مقامی جاگیرداروں کا تھا جنہیں بیٹھے بٹھائے آزاد پاکستان میں سیاسی قیادت مل گئی تھی۔ ہم تو آج تک یہ معلوم نہیں کر پائے کہ 16 اگست 1946ء کو کلکتہ کے فسادات اور 4 مارچ 1947ء کو شمالی پنجاب کے فسادات کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔ کچھ ’جذباتی صحافی‘ اپنے ہم عصر ’نام نہاد درویش‘ صحافیوں کو مسئلہ کشمیر پر اختلاف رائے کا طعنہ دیتے ہیں لیکن یہ بتانا پسند نہیں کرتے کہ فروری 1989ء سے جنوری 2004ء تک کشمیر میں بدامنی پر ان کا نقطہ نظر کیا تھا۔ 5 اگست 2019ء کو بھارت نے یک طرفہ طور پر کشمیر کا آئینی درجہ ہی بدل ڈالا۔ اس پر اس وقت کے وزیراعظم عمران خان کا ردعمل کیا تھا؟ یہ وہی عمران خان ہیں جن کے بارے میں ’نام نہاد درویش صحافی‘ نے 20 جنوری 2018ء کو اسی اخبار میں لکھا تھا ’عمران خان ابھی میرے وزیراعظم نہیں بن سکتے‘۔ اس موضوع پر ’جذباتی صحافی‘ کی 6 اگست 2018ء کی تحریر بھی ریکارڈ کا حصہ ہے۔ ’عمران خان یس مین نہیں‘۔ درویشی اور عیاری میں امتیاز کا ایک ہی پیمانہ ہے کہ کون سی بات کب اور کہاں کہی جاتی ہے۔
رواں برس میں عرب دنیا کا نقشہ بدل چکا لیکن ہمارے جذباتی صحافی حماس کا قضیہ اٹھا کر ’نام نہاد‘ درویشوں کے خلاف اشتعال انگیزی کرنا چاہتے ہیں۔ شاید انہیں خبر نہیں کہ یہودیت ایک مذہب ہے جبکہ صیہونیت نامی سیاسی تحریک 1897ء میں قائم ہوئی۔ عرب اسرائیلی تنازع 1881ء تک جاتا ہے۔ لیگ آف نیشن نے سلطنت عثمانیہ کے بکھرنے کے بعد فلسطین کو برطانیہ کی تولیت میں دے دیا تھا۔ روس اور پولینڈ سمیت یورپ سے برطانیہ کے زیر انتظام فلسطین میں یہودیوں کی آمد بیسویں صدی کے آغاز سے شروع ہو گئی تھی۔ اس میں جہاں بالفور اعلامیہ آتا ہے وہاں جون 1922ء میں چرچل کا وائٹ پیپر بھی ملتا ہے۔ اکتوبر 1930ء میں Passfield White Paper کا مرحلہ بھی پیش آیا۔ اس دستاویز میں یہودیوں کی آبادکاری پر پابندیاں لگائی گئی تھیں۔ جون 1941ء میں عراق حکومت کے ساتھ مل کے ’الفرہود‘ قتل عام میں ہزاروں یہودی قتل کیے گئے تھے۔ اردن میں ستمبر 1970 کے فلسطینی قتل عام میں ایک پاکستانی ’اسلام پسند بریگیڈیئر‘ کا نام بھی آتا ہے۔ 1948 سے آج تک اس تنازع کے فریقین سے ان گنت غلطیاں ہوئی ہیں۔ اسرائیلی مظالم کی مذمت اور مزاحمت بنیادی انسانی فریضہ ہے لیکن ’نام نہاد درویشوں‘ کے نزدیک یہ مذہبی مسئلہ نہیں، ایک سیاسی اور زمینی سوال ہے۔ اہل فلسطین کے جلتے گھروندوں سے ہاتھ تاپنے والے اگر اس انسانی المیے کی آڑ میں اپنے مخالف ہم وطنوں پر چاند ماری کرنا چاہتے ہیں تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ ’جس نے تاریخ فرشتہ لکھی / وہی دربار عزازیل کا قصہ لکھے / خط عارض میں لکھے حلقہ گردن کی گرفت / اسی گردن کی جو عیار کی زنبیل میں ہے‘۔
( بشکریہ : ہم سب )
فیس بک کمینٹ

