ہم ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہے ہیں جہاں ڈگریاں تو کثرت سے ملتی ہیں، مگر نوکریاں آنکھ مچولی کھیلتی ہیں۔ لگتا ہے تعلیم حاصل کرنا صرف اس لیے ضروری ہے کہ انسان بےروزگار ہو سکے ۔۔ ۔کیونکہ جس کو نوکری مل جائے، وہ تو خود ہی "غیر تعلیمی” قرار دے دیا جاتا ہے۔
اب جب انجینئر چائے بیچ رہے ہیں اور ایم فل سکالر "ریڑھی” لگا رہے ہیں، تو سوال یہ ہے کہ آخر کب ہمیں "بیروزگاری” کو بھی باقاعدہ تعلیم کا حصہ بنانا پڑے گا؟ جی ہاں! وقت آ گیا ہے کہ بیروزگاری کی بھی ڈگری ہونی چاہیے۔ کیونکہ نوکری تلاش کرنا خود ایک ایسا مشکل فن ہے، جسے سمجھنا ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں۔
بیروزگاری یونیورسٹی کا تعارف
خیالی نہیں، بالکل اصلی جیسا!
یونیورسٹی آف بیکارستان (UOB – University of Bekaristan)
نعرہ:
"تلاش روزگار سے زیادہ ضروری ہے، تلاش خودی!”
نصابِ بیروزگاری
ذیل میں بیروزگاری کی چار سالہ ڈگری (Bachelor of Unemployment Studies – BUS) کا خاکہ پیش خدمت ہے:
پہلا سال: بنیادیاتِ بیروزگاری
طعنوں سے خودی کیسے بچائی جائے؟
"تم ابھی تک گھر پر ہی ہو؟” جیسے سوالات پر مصنوعی مسکراہٹ کی مشق
موبائل فون کو مسلسل مصروف دکھانا، تاکہ لوگ سمجھیں آپ کچھ کر رہے ہیں
روزمرہ گفتگو میں "فری لانسنگ” اور "ڈیجیٹل مارکیٹنگ” کا غیرضروری استعمال
دوسرا سال:روزگار کی تلاشِ
CV بنانا — ایسی جسے پڑھ کر HR بھی پریشان ہو جائے
"Experience” نہ ہونے کے باوجود تجربہ کار نظر آنے کے گر
انٹرویو میں "I am passionate about this field” جیسے جھوٹ کو اعتماد سے بولنا
انٹرویوز کے بعد "ہم آپ کو کال کریں گے” سن کر خوش رہنے کا ہنر
تیسرا سال: نفسیاتی برداشت
روزمرہ کے طعنوں سے خود کو ذہنی طور پر محفوظ رکھنے کی مشق
"بیٹا عمر گزر رہی ہے، کچھ کرو” جیسے جملوں پر دماغی سکون حاصل کرنا
سوشل میڈیا پر کامیاب دوستوں کی تصویریں دیکھ کر دل کو تسلی دینا:
"اس کی قسمت اچھی ہے”
"میری باری بھی آئے گی”
WhatsApp اسٹیٹس میں "Work in Progress” لگانا، چاہے کچھ بھی نہ ہو
چوتھا سال: ڈیجیٹل دور کی بیروزگاری
یوٹیوب چینل بنانا، سبسکرائبرز نہ آنے پر افسوس کرنا
Fiverr پر 5 ڈالر کا گیگ لگا کر مہینوں انتظار کرنا
Facebook پر motivational quotes پوسٹ کرنا
TikTok پر career tips دینا (خود بیروزگار ہو کر بھی)
فائنل پروجیکٹ:
"نوکری کے بغیر جینا سیکھیں” — ایک تھسیسس جو مکمل ہونے سے پہلے ہی مسترد ہو جاتا ہے کیونکہ سپروائزر خود بھی بےروزگار ہوتا ہے۔
اعزازی سرٹیفیکیٹ:
"اعزازی بیکاری برائے استقامت”
ایسے طالبعلم کو دیا جائے گا جس نے چار سال تک کسی نوکری کا خط بھی نہ دیکھا ہو۔
کورس میں سکھائے جانے والے جملے:
"نوکری قسمت کی بات ہے”
"پاکستان میں تو یہی ہوتا ہے”
"پیسہ سب کچھ نہیں ہوتا، سکون چاہیے”
"ابھی خود کو تلاش کر رہا ہوں”
والدین کا ردِ عمل
ہر روز
"بیٹا تمہیں یہ ڈگری کس نے دلوائی تھی؟”
"ہم نے اس لیے پڑھایا تھا کہ تم گھر بیٹھو؟”
"خالہ کے بیٹے کو دیکھو، وہ باہر چلا گیا ہے!”
کیریئر آپشنز (اگر کچھ نہ ہو تو):
یوٹیوبر (موضوع: "بیروزگاروں کے مسائل”)
موٹیویشنل اسپیکر (خود کبھی کامیاب نہ ہو کر بھی)
سوشل میڈیا ایکسپرٹ (صرف میمز شئیر کرنا)
پوڈکاسٹر: "زندگی بےروزگار کے بعد”
نتیجہ:
بیروزگاری کوئی شرمندگی کی بات نہیں، جب تک اس میں ہنر اور فن شامل ہو!
یاد رکھیں:
"اگر آپ کو کوئی کام نہیں آتا، تو کم از کم بیروزگاری خوبصورتی سے جینا سیکھ لیں۔”
آخری اعلان:
"یونیورسٹی آف بیکارستان” میں نئے سیشن کے داخلے جاری ہیں۔
صرف شرط یہ ہے کہ
آپ کے پاس وقت ہو، کام نہ ہو، اور خواب بہت ہوں!
اگر یہ مضمون پسند آیا تو "شیئر کریں”
اور اگر آپ بھی بیروزگار ہیں تو "لائک کریں” کیونکہ کام نہ سہی، پوسٹ وائرل ہونی چاہیے!
فیس بک کمینٹ

