کالملکھاریوجاہت مسعود

وجاہت مسعود کا کالم:باور آیا ہمیں خاکی کا ہوا ہو جانا

جی ہاں، آپ کی سخن فہمی میں کیا کلام ہو سکتا ہے۔ مجھے بھی غالب کے مصرعے میں تصرف کا احساس ہے۔ یہ کچھ ایسا معنی خیز اشارہ بھی نہیں۔ معنی خیز سے خیال آیا کہ آپ نے مختلف ریاستی حلقوں کی طرف سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے لئے عام معافی کے عندیے پر تنظیم مذکورہ کا تحریری ردعمل تو دیکھا ہو گا۔ ایک جملے نے بہت لطف دیا۔ لکھا تھا، ’ہم ذومعنی گفتگو میں یقین رکھتے ہیں….‘ ذرا سا غور کرنے پر معلوم ہو گیا کہ علم، پارسائی اور جہاں بانی کے گھنے جنگلوں کا پتہ پتہ جاننے کا دعویٰ کرنے والے دراصل ’بامعنی گفتگو‘ کہنا چاہ رہے تھے۔ فطری میلان اور ناقابل اصلاح کم سوادی کے زیر اثر ذومعنویت کی وادی میں اتر گئے۔ کچھ برس قبل جب پاکستان میں ان عناصر کی کمان چڑھی ہوئی تھی، ایسے ہی ایک بیان میں ’علم‘ کو ’الم‘ بھی لکھا تھا جس میں کہیں زیادہ ذومعنویت پائی جاتی تھی۔
سلیماں سر بزانو اور سبا ویراں
سبا ویراں، سبا آسیب کا مسکن
سبا آلام کا انبار بے پایاں!
آلام کے اس انبار کی بانگی ملاحظہ ہو۔ لال مسجد کے خطیب مولوی عبدالعزیز نے مدرسے کی چھت پر لہراتا طالبان کا جھنڈا اتارنے کے لئے بھیجے گئے پولیس اہلکاروں کو کھلے عام تشدد اور دہشت گردی کی دھمکیاں دیں۔ اس موقع پر مولانا موصوف نے بغیر لائسنس کے ہتھیار تھام کر رونمائی بھی دی۔ تازہ اطلاعات کے مطابق مولوی صاحب کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے تاہم سابقہ تجربات کی روشنی میں مولانا کے مداحوں کو مضطرب ہونے کی ضرورت نہیں۔ اندراج مقدمہ قانونی کارروائی ہے اور قانون کا اطلاق چشم ساقی کے تابع ہے۔ ساقی کا معاملہ یہ ہے کہ ان دنوں حسن بے پروا کے غمزہ و عشوہ کا مدوجزر پڑھ رہا ہے۔ ستمبر کی 21 تاریخ آن لگی۔ یہ دن اور رات برابر ہونے کا ہنگام ہے۔ موسموں کے محرم اسے پت جھڑ کا آغاز سمجھتے ہیں، لیکن کچھ خوش خیال غبار کی اس مہین چادر کے پار ناقہ لیلیٰ کے گلے میں بندھی مدھ ماتی گھنٹیاں سن رہے ہیں۔ ان کے حسن سماعت کا اندازہ ان کے زبان و بیان کی فرخندہ پائی سے ہو رہا ہے۔ جشن کی اس گھڑی میں فیض صاحب کے انتباہ پر کان دھرنے کا کسے یارا ہے، ’جس بار خزاں آئی، سمجھے کہ بہار آئی‘۔ وارفتگی کا ایسا وفور ہے کہ ایک سے بڑھ کر ایک سخن آرائی ہو رہی ہے۔ محترم وزیر اعظم نے سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے افغانستان میں حقانی قبیلہ دریافت کر کے اپنی تاریخ دانی نیز زمینی حقائق پر دسترس ثابت کر دی۔ دنیا کہ حاسد بالشتیوں کی کچھار ہے، ڈھونڈ ڈھونڈ کر تردید میں تحقیق کے جوہر دکھا رہی ہے۔
ابھی انٹونی بلنکن کے باہمی تعلقات پر نظر ثانی کے اعلان اور عمراں خان کے انٹرویو کی قیامت نے دم نہیں لیا تھا کہ نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم نے اچانک اپنا دورہ ختم کر کے واپسی کا اعلان کر دیا۔ وزیر اعظم کا کیوی ہم منصب کو فون بھی کام نہ آیا۔ شاید آپ کو اس صورت حال میں 3 مارچ 2009ء کو لاہور میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملہ یاد آیا ہو۔ مجھے اس سے کچھ برس پہلے 8 مئی 2002 کو شیراٹن ہوٹل کراچی کے باہر فرانسیسی انجنیئروں پر خوفناک خود کش حملے کا خیال بھی آیا۔ جب یہ دھماکہ ہوا تو ہوٹل کی لابی میں نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم ٹیسٹ میچ کے لئے روانہ ہونے والی تھی۔ میچ منسوخ ہوا اور ٹیم اپنے ملک واپس چلی گئی۔ اس تناظر میں نیوزی لینڈ حکام کا اضطراب قابل فہم تھا۔ تب کراچی حملے کے ڈانڈے مذہبی دہشت گردی سے ملائے گئے تھے۔ بعد میں اس واقعے کی جو تفصیلی تصویر سامنے آئی، وسیع تر قومی مفاد میں اس کے بیان سے گریز ہی بہتر ہے۔ ہم ایک غیر شفاف دنیا میں رہتے ہیں جہاں جنگ، جمہوریت، جہاد اور جدوجہد کی لکیریں ایک دوسرے کو کاٹتے ہوئے گزرتی ہیں۔
ایک سادہ سا اصول مجھے بیان کرنے کی اجازت دیجئے۔ جب ہم تاریخ سے انکار کرتے ہیں یا تاریخ کو مسخ کرتے ہیں، تو دراصل ہم اپنی گزشتہ غلطیوں، ثابت شدہ غلط ترجیحات اور از کار رفتہ اقدار پر اصرار کر رہے ہوتے ہیں۔ تاریخ سے انکار ارتقا سے انکار ہے۔ سوئٹزر لینڈ میں جان فاسٹر ڈلس کے چاؤ این لائی سے مصافحہ کرنے سے انکار کے بعد دنیا کو چین۔امریکا تعلقات کی برف پگھلنے کے لئے فروری 1972 تک انتظار کرنا پڑا تھا۔ آج نصف صدی کے بعد چین اور امریکا ایک نئی سرد جنگ کے دہانے پر ہیں۔ اس دوران کچھ بنیادی حقائق بدل گئے ہیں۔ یہ 1972 کا مفلوک الحال چین نہیں، دنیا کی دوسری بڑی معاشی قوت ہے۔ ہمیں بھی سوچنا چاہیے کہ کسی پرانے حریف سے اگلی ملاقات پر ہماری جیب میں معاشی وسائل اور انسانی سرمائے کے سکوں کی کھنکھناہٹ ہو۔ اس میں امریکا جا کر اور امریکی لباس پہن کر میں ہٹن کی سڑکوں پر ٹارزن کے لب و لہجے میں اخلاق کا بھاشن دینا کام نہیں آتا۔ اور جب ایسی وڈیو اردو میں بنائی جائے تو اس کا مطلب دنیا کو نہیں، اپنے ہی ہم وطنوں کو مرعوب کرنا ہوتا ہے۔ بھٹو صاحب کے کچھ وزرا کو بے مہار بیان بازی کا شوق تھا۔ ایسی ہر خبر ملنے پر بھٹو صاحب اپنے تیکھے لہجے میں کہتے تھے، کیا اب میں انہیں بات کرنا اور سفارتی آداب بھی سکھاؤں؟ یہاں تو اب کوئی سکھانے والا بھی نہیں رہا۔ ابھی ہمارے صاحب بصیرت وزیر اعظم جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے بذریعہ وڈیو خطاب فرمائیں گے۔ اس موقع پر ٹیلی ویژن اسکرینوں پر نظر رکھیے گا۔ عین ممکن ہے آپ کو غالب کے مصرع اولیٰ میں تحریف کی ضرورت پیش نہ آئے۔ ضعف سے گریہ مبدل بدم سرد ہوا….
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker