کالملکھاریوجاہت مسعود

کرشنا کوہلی اور فرحت اللہ بابر کے درمیان معلق پیپلز پارٹی / وجا ہت مسعود

سینیٹ میں چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب آن پہنچا۔ سیاسی صف بندیاں واضح ہو رہی ہیں۔ آج کچھ بات پاکستان پیپلز پارٹی کی ہو جائے۔ کھوج لگائی جائے کہ پیا رنگ میلا کیوں ہوا؟ وہ چولا جو شہیدوں کی نسبت سے بسنتی کہلاتا تھا، وہ جھنڈا جسے لشکر کا علم سمجھا جاتا تھا، کوچہ و بازار میں دھجی دھجی کیوں ہو رہا ہے؟ یہ ایک گمبھیر سوال ہے لیکن آپ کی اجازت سے آج اپنی پہلی محبت کا بھی کچھ ذکر کروں گا۔ ہمارے ملک میں صحافیوں پر مہریں لگانے کا رواج ہے۔ جیسے اچھے وقتوں میں محکمہ صحت کے اہلکار قصاب خانے میں لٹکتی راسوں پہ نیلی مہر لگایا کرتے تھے۔ صحافت کے بازار میں اب کسی صحافی پر لفافہ خور کی مہر لگائی جاتی ہے تو کسی کو حوالدار کا خطاب دیا جاتا ہے۔ الحمدللہ! درویش خط تنصیف کے دونوں طرف یکساں طور پر نیک نام ہے۔ ترقی پسند سرمایہ داروں کا ایجنٹ قرار دیتے ہیں، اسلام پسندوں کی اپنی شکایات ہیں۔ ہمیں حسن سے بھی لگاؤ تھا، ہمیں زندگی بھی عزیز تھی۔ مئی 2000ء میں ڈاکٹر اقبال احمد کا انتقال ہوا تو ایڈورڈ سعید کے تعزیتی مضمون میں کلیدی جملہ تھا، ‘‘اقبال احمد کی ساری زندگی آزادی اور انصاف میں توازن کی جستجو میں گزر گئی۔’’ سوجھوان لوگ کیسے چند لفظوں میں انسانی تاریخ کا نچوڑ سمیٹ لیتے ہیں۔ آزادی انتخاب کا منطقہ ہے اور انصاف اس منطقے میں مداخلت روکنے کا بندوبست ہے۔ اقبال احمد اس ملک کا نابغہ روزگار ذہن تھا۔ لیکن آزادی اور انصاف کی جدلیات نے اقبال احمد ہی کو امتحان میں نہیں رکھا۔ یہ سوال تو وہ بھاری پتھر ہے جسے ہر صاحب ضمیر کو اٹھانا پڑتا ہے۔ اس مشق میں دیوتا سسی فس کامیاب نہیں ہو سکا لیکن فانی انسان اسی امتحان سے گزرتے ہیں تو امر ہو جاتے ہیں۔ جیسے ابھی ہمارے بیچ سے عاصمہ جہانگیر اٹھ گئیں، ہراول کا مورچہ مسمار ہو گیا۔ عاصمہ جہانگیر کے جانے کے بعد گویا محاذ جنگ پر خاموشی طاری ہے لیکن یہ خاموشی امن کا سندیسہ نہیں۔ اس میں یہ جانکاہ احساس پایا جاتا ہے کہ اگلے مورچوں پر لڑنے والی ہمیشہ کے لئے خاموش ہو چکی ہے۔ وہی جو ناصر کاظمی نے کہا تھا، ترا دیا جلائے کون؟ ایسے میں جام ساقی بھی چلے گئے۔ جام ساقی کا شمار دھرتی کے ان بیٹوں میں ہوتا ہے جنہیں بائبل مقدس میں زمین کا نمک کہا گیا ہے۔ 1981ء کی وہ تصویر میری نسل کے ذہنوں پر ہمیشہ کے لئے مرتسم ہو چکی جس میں بے نظیر بھٹو فوجی عدالت میں جام ساقی کی حب الوطنی کی گواہی دینے پیش ہوئی تھیں۔ سفید شلوار قمیص میں ملبوس جام ساقی کی ہتھکڑی کھول کر گلے میں آویزاں کر دی گئی تھی۔ پاکستان کی تاریخ یہی ہے۔ بندوق عدالت لگاتی ہے۔ بے نظیر بھٹو سچ کی گواہی دیتی ہے، جام ساقی اپنے لہو سے اس گواہی کا اثبات کرتا ہے اور عدالت کا فیصلہ قانون کے لفظ کی بجائے اقتدار کی خواہش سے برآمد ہوتا ہے۔
وعدہ تو یہ تھا کہ آج پہلی محبت کو یاد کیا جائے لیکن آنکھ کے اس تالاب کو کیسے پار کیا جائے جس کی ایک ایک لہر میں ہمارے کچے گھڑے غرق ہوئے ہیں۔ جب لکھنے والے پر مسلم لیگ یا پیپلز پارٹی کی حمایت کا الزام رکھا جاتا ہے تو وہ اس دکھیاری طوائف کی طرح پھیکی ہنسی ہنستا ہے جسے پہلی محبت کی کج ادائی باغ سے بازار تک لے آئی ہے۔ پاکستان کے جمہور پسندوں کی پہلی محبت وہ سیاسی جماعت تھی جسے دو دسمبر 1956 کو خان عبدالغفار خان، غوث بخش بزنجو، عبدالصمد اچکزئی، جی ایم سیّد اور میاں افتخار الدین نے قائم کیا تھا۔ اسے نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) کہتے تھے۔ اس پارٹی نے پاکستان میں مقتدر قوتوں کے خلاف حزب اختلاف کی سیاسی روایت قائم کی۔ یہ جماعت جمہوریت ، مظلوم طبقات اور وفاق کی محکوم اکائیوں کے حقوق کا پرچم لے کر اٹھی تھی۔ نیپ کو جنرل یحییٰ خان نے 26 نومبر 1971 کو خلاف قانون قرار دیا۔ پھر 10 فروری 1975 کو بھٹو نے غداری کا الزام لگا کر نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی لگا دی۔ اس ملک کی تاریخ میں شاید ہی کوئی جمہوری کارکن ایسا ہو جس نے نیپ کی درسگاہ سے فیض نہ اٹھایا ہو۔ کہتے ہیں کہ اے این پی نام کی ایک جماعت نیپ ہی کا تسلسل ہے۔ اے این پی کے خرابے میں اب بھی میاں افتخار حسین، افراسیاب خٹک، بشیر احمد بلور اور لالہ افضل خان جیسے موتی مل جاتے ہیں لیکن نیپ اور اے این پی میں وہی فرق ہے جو ظفر علی خان اور ان کے صاحب زادے اختر علی خان میں تھا۔ صاحبو، یہ درویش تو قافلوں سے بچھڑی وہ ابابیل ہے جو اپنے شہزادے کے برباد مجسمے کے قدموں میں مردہ پائی گئی۔
جمہوری ذہن سیاسی راہنماؤں کو یزداں اور شیطان کے خانوں میں بانٹ کے نہیں دیکھتا۔ وہ تاریخ کے دھاروں کو پڑھتے ہوئے یہ سمجھنے کی کوشش کرتا ہے کہ کب کسی سیاسی رہنما نے سرگم سے ہٹ کر تان پلٹا لیا اور کیوں؟ پیپلز پارٹی جمہوری پاکستان کا اجتماعی اثاثہ ہے۔ اس جماعت نے گڑھی خدا بخش بھٹو کا قبرستان ہی آباد نہیں کیا کم از کم دو نسلوں کے جمہوری خوابوں کی آبیاری بھی کی ہے۔ پاکستان کا دستور پیپلز پارٹی نے دیا۔ میثاق جمہوریت پر محترمہ بے نظیر بھٹو نے دستخط کیے۔ آصف علی زرداری نے صرف پاکستان کھپے کا نعرہ ہی نہیں لگایا، اٹھارہویں آئینی ترمیم کے ذریعے دستور کا پارلیمانی تشخص بھی بحال کیا۔ پیپلز پارٹی میں اب بھی جمہوریت کی وہ بوند موجود ہے جو کرشنا کوہلی کو اقلیتوں یا عورتوں کی نشست پر نہیں بلکہ جنرل سیٹ پر سینیٹر بناتی ہے۔ آصف علی زرداری ستمبر 2013 کو صدر مملکت کے منصب سے رخصت ہوئے تو ایک مدبر کا مقام رکھتے تھے۔ افسوس کا مقام ہے کہ وہ اس بلندی سے نیچے اتر کر چوٹی زیریں کی سیاست کر رہے ہیں۔ انہیں رضا ربانی سے شکوے ہیں۔ انہیں یہ قبول نہیں رہا کہ فرحت اللہ بابر ان کی ترجمانی کریں۔ مگر یہ حرف شیریں ترجمان تیرا ہے یا میرا؟ آصف علی زرداری اس کھیل سے شاید کوئی ہنگامی مہم سر کر لیں لیکن وہ لڑائی ہار رہے ہیں۔ پاکستان میں جمہوری لڑائی کا حقیقی نقشہ وہی ہے جس میں بے نظیر بھٹو اور جام ساقی وردی والے کے سامنے سینہ سپر ہوئے تھے۔ آصف علی زرداری کی مشکلات قابل فہم ہیں۔ آصف علی زرداری قومی سیاست میں پیپلز پارٹی کا مقام بحال کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ اس کوشش میں پیپلز پارٹی کا سب سے بڑا اثاثہ داؤ پر لگا رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی میراث جمہور دوستی اور اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت ہے۔ اب پرچہ لگا ہے کہ پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کو ادارے کہا جائے گا۔ لغت ہائے حجازی کے قارون مقننہ اور انتظامیہ کو اداروں میں شمار نہیں کرتے۔ اللہ کی قدرت ہے کہ عائشہ گلالئی نامی ایک خاتون آصف علی زرداری کی تعریف کرتی ہیں کہ زرداری صاحب اداروں کی تضحیک نہیں کرتے۔ محترمہ عائشہ گلالئی تو تازہ واردان بساط دل ہیں۔ انہیں کیا یاد ہو گا کہ 15 جون 2015 کو آصف علی زرداری نے کیا تقریر کی تھی جس کے بعد انہیں دسمبر 2016 تک ملک سے باہر رہنا پڑا۔
رضا ربانی نے ایوان بالا کی سربراہی ایسے نبھائی ہے کہ محمد علی جناح اور عطا ربانی کی لاج رکھ لی۔ اگر کسی وجہ سے رضا ربانی قابل قبول نہیں رہے تو حاصل بزنجو، پرویز رشید اور شیری رحمان موجود ہیں۔ اگر پیپلز پارٹی کرشنا کوہلی کی علامت کو معنی بخشنا چاہتی ہے تو اسے واضح کرنا چاہئے کہ فرحت اللہ بابر کے سینیٹ میں الوداعی خطاب میں کون سے نکات پیپلز پارٹی کی پالیسی اور روایت سے انحراف تھے۔
فرحت اللہ بابر نے میثاق جمہوریت کی ترجمانی کی ہے، آصف علی زرداری ان دنوں میثاق جمہوریت کا ذکر نہیں کر رہے۔ اس سے پیپلز پارٹی کے شہیدوں کا بے داغ کفن میلا ہو رہا ہے۔ سیاست میں داؤ پیچ کھیل کا حصہ ہیں لیکن اگر حتمی نصب العین کو نظر انداز کیا جائے تو پینتالیس برس پہلے خلاف قانون قرار پانے والی نیپ کی محبت جوش مارتی ہے، جام ساقی کی گواہی دینے والی بے نظیر احترام پاتی ہے لیکن… نواز شریف کے احتسابی ساتھی سیف الرحمان اور آصف علی زرداری کے وزیر قانون بابر اعوان کا کہیں نشان نہیں ملتا۔
(بشکریہ : روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker