گزشتہ دنوں سما ٹیلی وژن پر حسن نثار نے پاکستان میں آبادی سے نجات کے لیے آدھی آبادی کو نازیوں کی طرز پر گیس چیمبرز میں ڈال کر مار دینے کی تجویز دی ہے۔ اس سے پہلے وہ سیاستدانوں کو تیزاب کے ڈرموں میں ڈالنے کی تجاویز بھی دیتے رہے ہیں۔
میرے خیال میں تجربے کے طور پر سب سے پہلے حسن نثار کو گیس چیمبر میں ڈالنا چاہیے تاکہ تصدیق ہو سکے کہ مشین ٹھیک کام کر رہی ہے۔ زمین پر سے حسن نثار کا بوجھ کم ہونے سے یہ بھی معلوم ہو سکے گا کہ اس سے ملک میں فکر و شعور کی آلودگی میں کچھ کمی واقع ہوتی ہے یا نہیں؟
یہ شخص ایک ذہنی مریض ہے۔ ہماری صحافت کے لیے ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ ایسا نیم پاگل، غیر متوازن شخص برسوں سے قوم کو گمراہ کر رہا ہے۔ ہمیشہ طاقت کا ساتھ دیتا ہے۔ عوام کے نام پر پاپولسٹ لغویات بکتا ہے۔ ذاتی کردار نہایت بھونڈا ہے۔ پیشہ ورانہ اخلاقیات اسے چھو کر نہیں گزری۔ اہل صحافت کو باقاعدہ ایک قرارداد کے ذریعے اس کی دریدہ دہنی سے لاتعلقی کا اعلان کرنا چاہیے۔
فیس بک کمینٹ

