تجزیےعلی نقویلکھاری

حسن نثار کا ارشاد، بھٹی میں ڈال دو ۔۔ علی نقوی

حسن نثاریت اُ س وبا کا نام ہے جو اس ملک میں کرونا سے بھی زیادہ مہلک اور تیزی سے پھیلی اور پھیلتی جا رہی ہے اور سندھ میں نایاب(کاٹے کی ) ویکسین سمیت کوئی بھی ویکسین اس پر کام نہیں کرتی…
اگر خدانخواستہ آپ جیو ٹی وی کا پروگرام رپورٹ کارڈ دیکھتے ہیں تو پہلے تو مجھے آپ سے ہمدردی ہے، کیونکہ اس پروگرام میں جہاں مظہر عباس، محمل سرفراز، بابر ستار، ریما عمر اور بینظیر شاہ جیسے مناسب لوگوں کا تجزیہ سننے کو ملتا ہے وہیں دوسری طرف جو اذیت سہنا پڑتی ہے اُس کا نام حسن نثار اور ارشاد بھٹی ہے، کچھ عرصہ قبل “حسن نثاریت اور عمران خان” کے عنوان سے ایک مضمون لکھا تھا جس میں یہ کہا تھا کہ حسن نثاریت حقیقتاً ایک بیماری ہے کہ جس کو علاج کے طور پر پیش کیا گیا ہے، ایک ایسا گھٹیا ماڈل ہے کہ جس کو استعمال کرتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ کی لیبارٹری میں بیٹھ کر پی ٹی آئی جیسی فاشسٹ، بدتمیز اور جاہل جماعت پیدا کی گئی ہے… میں نے عرصہ پانچ سال سے ٹی وی ٹاک شوز سننا کم یہ سوچ کر کردیئے ہیں کہ کیوں میں ہتھیار برداروں کا سکرپٹ سن سن کر اپنا بلڈ پریشر بڑھاتا رہوں؟؟ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ شام سے پہلے کس طرح سکرپٹ ٹی وی چینلز کو موصول ہونا شروع ہو جاتے ہیں، شرکا کی لسٹ بھی ساتھ بھیجی جاتی ہے، سوالوں کی ترتیب تک لگ کر آتی ہے کہ کس ایشو پر کس سے بات کی جائے گی کس کو کتنا ائیر ٹائم ملے گا، کس کے موقف کی تائید اینکر کرے گا اور کس کو مار جنالائیز کیا جائے گا، جب یہ بات واضح ہوئی تو ٹی وی ٹاک شوز اور ان میں جوق در جوق آنے والے “حسن نثاریوں” سے بیزاری اختیار کرلی، لیکن جب بھی کبھی ٹی وی دیکھنا پڑ جائے تو غصے کا وہ عالم ہوجاتا ہے جو بیان سے باہر ہے اور یہ غصہ صرف ٹی وی تک محدود نہیں ہے بلکہ آپ جب تجزیے پڑھنے بیھٹیں تب بھی آپ اسی قسم کی صورتحال کا شکار ہوتے ہیں، لیکن اس میں چونکہ ایک بڑی تعداد میرے جیسے نووارد کالم نگاروں کی ہوتی ہے اس لیے مارجن دیا جا سکتا، لیکن جب آپ یہ دیکھیں کہ ساٹھ ساٹھ سال کے نابالغ حسن نثار اور ہارون رشید جیسے بدفطرت اور منافق بڈھے اور ان کے پیچھے چلتے ارشاد بھٹی جیسے دیہاڑی باز کہ جن کو عوام پر بلکل اس طرز پر مسلط کیا گیا جیسے عمران خان کو کیا گیا، ہر روز ٹی وی پر بیٹھ کر اس ملک میں موجود تقسیم اور افراتفری کو مزید بڑھا رہے ہیں تو غصہ فطری بات ہے ۔۔
میں اس بات پر پورا یقین رکھتا ہوں کہ پاکستانی سیاست میں گالم گلوچ کی روایت بہت پرانی ہے بھٹو صاحب کے بھی لینگویج ایشوز تھے نواز شریف نے بھی اپنے سیاسی مخالفین کے لیے بہت بُری زبان استعمال کی ہے، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ پاکستانی سیاست اس سب سے آہستہ آہستہ باہر آ رہی تھی لیکن طاقتوروں کو یہ راس نہیں آیا اور انہوں نے ایک نئی اور مز ید بدتر گالم گلوچ برگیڈ تیار کی اور اس کا سربراہ عمران خان کو بنایا گیا اور اس کے سکرپٹ لکھنے کی ذمہ داری دی گئی ہارون رشید اور حسن نثار جیسے بد زبانوں کو اور اس ایجنڈے کی توثیق کرنے کے لیے ہر چینل پر حسن نثاریے چھوڑ دئیے گئے ان میں سے کسی کا نام مبشر لقمان تھا تو کسی کا اوریا مقبول جان، کوئی کاشف عباسی کے نام سے کار روائی ڈال رہا تو کوئی ارشد، شریف بنا ہوا تھا، کوئی صابر شاکر تھا تو کوئی شاہد مسعود تو کوئی عارف حمید بھٹی لیکن تھے سب کے سب حسن نثاریے، یہ وہ لوگ تھے کہ جن کو سکرپٹ راولپنڈی سے ملتا تھا اور بریف کیس لودھراں سے اور ایجنڈا صرف دو لائن کا تھا ایک کہ عمران خان کو روحانی ثابت کرو اور باقی سب کو چور، یہ لوگ پھیل کر چینلز پر بیٹھ گئے اور یہ ایجندا زور و شور سے پھیلاتے رہے اور عوام انکی باتیں سنتے رہے ، مجھے یاد ہیں کہ حسن نثار کہتا تھا کہ میں اپنی گارنٹی تو نہیں دے سکتا لیکن عمران خان کی دے سکتا ہوں کہ وہ ایک ایماندار آدمی ہے، کبھی فرمایا کہ وہ ایک روحانی آدمی ہے، اس سب کے ساتھ جو پراپگنڈہ جوڑ کر چلایا گیا وہ تھا ن لیگ اور پیپلزپارٹی کی جھوٹ پر مبنی مسلسل کردار کُشی، کیا کیا باتیں ہیں جو ان حسن نثاریوں نے نہیں پھیلائی، کبھی کہا کہ نواز شریف کے تین سو ارب ڈالر ملک سے باہر پڑے ہیں، کبھی کہا کہ زرداری کے ساٹھ ارب ڈالر صرف سوئس بینکوں میں پڑا ہے، کبھی فرمایا کہ اس ملک کی ہر برائی اور ہر مسئلے کی جڑ یہ دونوں پارٹیاں ہیں حسن نثار کے فرمودات کالے قول کے نام سے فیس بک پر مل جائیں گے جو بلکل اس آدمی کی باتوں اور کرتوتوں کے حساب سے صحیح ٹائٹل ہے ان میں ایسی ایسی غلیظ بات آپ کو ملے گی کہ جو ایک شریف انسان پڑھ بھی نہیں سکتا مثلا بینظیر بھٹو اور نواز شریف کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ایک چھری ہے تو دوسرا چھُرا ہے، ایک کھائی ہے تو دوسرا کھڈا ہے، اور دوسری طرف حضرت کا آئیڈیل کون ہے مولوی خادم رضوی کہ جب مولوی صاحب دھرنا لے کر نکلے تو اپنے ٹی وی شو میں حسن نثار کہہ رہا تھا کہ میرا دل کرتا ہے کہ میں مولانا کے قدم چوم کر انکی بیعت کرلوں، اور اسی حسن نثار کا ایک چمپو چماٹ اوریا مقبول مولوی کی قدم بوسی کو پہنچ بھی گیا۔
ابھی پانچ جولائی کے اپنے ٹی وی شو میں ہارون رشید کہہ رہا تھا کہ ضیا الحق میں برائیاں بھی ہونگی لیکن حقیقت میں وہ ایک نیک آدمی تھا اور اگر اللہ قیامت کے دن مجھ سے پوچھے تو میں ضیا الحق کے ساتھ محشور ہونا پسند کروں گا (ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہارون رشید المعروف چاچا کپی کی یہ دعا ضرور قبول کرے) یہی ہارون رشید تھا کہ جس نے عمران خان کو ہیرو بنا پاکستان کے مسائل کے واحد حل کے طور پر پیش کیا تھا، یہی حسن نثار تھا جو تیسری قوت کے کو لانے کے مشورے دے کر دانشور کہلایا اور اب اپنے منہ پر لعنت بھیجتا ہے، یہی بریف کیس خور تھے کہ جو آج تک پرویز مشرف کے گُن گاتے ہیں اور اسکی واپسی کے منتظر ہیں، ایک دن رپورٹ کارڈ میں جب ارشاد بھٹی سندھ میں نایاب ویکسین لگوائے بغیر شو میں آگئے تو قابو سے باہر ہوتے ہوئے جمہوریت کو گالیاں اور آمریت کے گُن گاتے گاتے اتنا آگے بڑھے کہ کہا کہ اب چونکہ عمران خان بھی فیل ہو گیا ہے لہٰذا نظام ہی لپیٹ دینا چاہیے، جس پر مظہر عباس نے احتجاج کیا اس پر حسن نثار نے اسکو اپنا ٹائم دیتے ہوئے کہا کہ یہ جمہوریت کے منہ پر تھپڑ ہیں جو بھٹی مار رہا ہے میرا ٹائم بھی اسی کو دے دیں، کوئی جا کر حسن نثار کو بتائے کہ جمہوریت کے منہ پر تھپڑ مارنا تمہیں انہی کی فہرست میں لاکھڑا کرتا ہے کہ جنہوں نے سقراط کو زہر کا پیالہ پینے پر مجبور کیا تھا، تم اور تمھارے جیسے زنگ آلود دانشوروں نے ہمیشہ ظلم اور جبر کو ہی پروموٹ کیا ظالم کا ساتھ دیا اور انہی کو طاقت بخشی، لشکر جو بھی ہو ہوتا یزیدی ہی ہے لشکر میں دل اور دماغ نہیں ہوتا، لشکر سوچتا بارود سے اور فیصلہ بندوق سے کرتا ہے، اور اگر اس میں دانش ہو بھی تو وہ حسن نثار اور ارشاد بھٹی جتنی ہی ہو سکتی ہے، کل تک جن لوگوں نے عمران خان اور اسکے کارٹونز کو اس ملک کے ہر مسئلے کا حل بتایا تھا آج اسکو اور اپنے آپ دبی دبی گالیاں اس لیے دیتے ہیں کہ انکو واضح نظر آ رہا ہے کہ یہ تو ایک قدم بھی چلنے کے قابل نہیں ہے کہ جس کو ہم نے نجانے کیا بنا دیا ہے، اب کبھی حسن نثار اسد عمر پر پھٹ پڑتا ہے تو کبھی فواد چوہدری پر، کبھی ہارون رشید عمران خان کے فلاپ ہونے کی ذمہ داری کابینہ پر ڈالتا ہے تو کبھی ریحام خان پر، اور کبھی کبھی تو مزہ ہی دوبالا ہو جاتا ہے کہ جب یاسمین راشد عوام اور خصوصاً لاہوریوں کو جاہل قرار دے دیتی ہیں۔جس دن حسن نثار اسد عمر پر پھٹا تھا اس دن مجھے چڑیا نے بتایا کہ حسن نثار کو بریف کیس جہانگیر ترین دیتے ہیں اور اسد عمر کی برطرفی جہانگیر ترین نے کرائی ہے یہیا وجہ ہے کہ حسن نثار اسد عمر پر چڑھ دوڑا ہے، میں نے اس وقت تو خاص دھیان نہ دیا، اب جب فواد چوہدری نے بھانڈا پھوڑا تو معلوم ہوا کہ چڑیا تو ٹھیک کہہ رہی تھی…
کل بلاول اور مراد سعید کے حوالے سے حسن نثار کہہ رہا تھا کہ چھاج تو بولے چھلنی بھی بولتی ہے تو عرض یہ ہے کہ بلاول تو پارٹی چیئرمین ہے وہ تو ہوا چھاج جبکہ مراد سعید کی وجہ شہرت تو یہاں لکھی بھی نہیں جا سکتی تو چھلنی کون ہوا ؟؟ آگے فرماتے ہیں کہ مجھے نہیں معلوم کہ یہ ملک ان حالات کو کیسے پہنچا ہے؟؟ اس سے بڑی منافقت اور نہیں ہو سکتی کہ حسن نثار کو یہ نہیں معلوم کہ یہ ملک ان حالات کو کیسے پہنچا؟؟ اگر تمہیں یہ نہیں معلوم تو پہلی فرصت میں یہ دانشوری چھوڑو قوم سے انکو گمراہ کرنے پر معافی مانگو اور گھر جاؤ، لیکن سنتے جاؤ ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ یہ ملک ان حالات کو کیسے پہنچا، یہ ملک اس پر بار بار ہونے والے ناجائز قبضے کے نتیجے میں ان حالات کو پہنچا ہے، اس پر دس سال تمہارے فیورٹ ایوب خان نے نا جائز قبضہ کیے رکھا اور پھر اس نے وہ قبضہ تمہارے قبیل کے جنرل یحییٰ المعروف آغا مدہوش کو منتقل کیا جس نے ملک کے دو ٹکرے کیے، یہ ملک برباد کیا اس ادارے نے کہ جس کا سربراہ عمران خان کا روحانی باپ جنرل ضیا الحق تھا جو گیارہ سال اس ملک کی گردن پر پشت سے سوار رہا، جس نے بھٹو کو مارا، جس نے اس ملک کو افغان جہاد میں جھونکا، جس نے لوگوں کو شاہی قلعے میں کرنٹ لگوائے، جس نے ترقی پسندوں کو کوڑے مارے، جس نے امریکہ کی جنگ لڑی، جس نے اس ملک کے نوجوانوں کو ہیروئین پر لگایا، جس نے اس ملک کے آئین کو توڑا، جس نے اسلام کو بدنام کیا، یہ ملک ان حالات کو پہنچایا تو پرویز مشرف نے کہ جو وردی کو کھال کہتا تھا، جو بینظیر بھٹو اور اکبر بگٹی کا قاتل ہے، جو اس ملک سے اور اسکی عدالتوں سے فرار ہے، جو اس ملک میں اشتہاری ہے، اور اگر تمہاری بدبودار اور بوگس بکواس کو مان بھی لیا جائے کہ جب تم کہتے ہو کہ سیاست دان اس ملک کو کھا گئے تو اس ملک کو اگر بدحال بھٹو نے کیا تو تمہارے ہی بقول بھٹو ایوب خان کی پیداوار تھا، اگر اس ملک کو نواز شریف نے نقصان پہنچایا تھا تو تمہارے ہی بقول وہ ضیا الحق کا مسلط کردہ تھا، اور اگر آج تمہارے ہی بقول عمران خان ڈلیور نہیں کر پا رہا تو وہ بھی جنرل ضیا، جنرل حمید گل اور جنرل پاشا کی پیداوار ہے، تم اور تمہارے جیسے جب سیاست دان کو گالیاں دیتے ہو تو یہ کیوں نہیں سوچتے کہ جس فیکٹری سے یہ پیدا ہوتے ہیں وہ فیکٹری فالٹی ہے، اس فیکٹری کے مالکان نے یہاں عوامی نمائندہ آنے ہی کب دیا، کون ہے کہ جس کو عوام لائی جو بھی تھا تمہارے مالکوں کی ہی پراڈکٹ تھی اور اگر ان پٹھوؤں میں سے کوئی بھی عوامی لیڈر بننے لگا اگر کسی کی مقبولیت عوام میں بڑھی تو یا تو تم نے اسکو مار دیا یا غدار قرار دے کر نشانِ عبرت بنا دیا، آج میں ایک عام شہری ہونے کے ناطے ان سب دانشوروں سوال پوچھتا ہوں کہ کہاں ہے نواز شریف جو کل تک تم لوگوں کے بقول اس ملک کے ہر مسئلے کی جڑ تھا؟؟ وہ نواز شریف کہ جس نے اس ملک کا تین سو ارب ڈالر باہر منتقل کیا تھا اسکو عمران خان نے پچاس روپے کے سٹامپ پر ملک سے کیوں اور کیسے جانے دیا؟؟ کہاں ہے زرداری اور کہاں ہیں وہ تمام لوگ جو اس ملک کو تم لوگوں کے بقول لوٹ کر کھا گئے تھے؟؟ کہاں ہے سانحہ ماڈل ٹاؤن اور وہ قائد انقلاب علامہ طاہر القادری کیوں اب وہ ان مقتولین کا حساب لینے ملک میں نہیں آتے؟؟ ماڈل ٹاؤن کے شہدا کا ماتم کرنے والوں کو کیا سانحہ ساہیوال بھی یاد ہے؟؟
ہر بار سیاسی لوگوں کو گالیاں دے کر یہ لوگ کنویں سے چالیس ڈول نکالتے ہیں کوئی حسن نثار کو بتائے کہ کتا نکالو کتا، لیکن یہ جانتے ہیں کہ اگر کتا باہر نکل آیا تو شاید یہ بھی اس کے کاٹے سے نہیں بچ سکیں گے اور حسن نثاریے جانتے ہیں کہ ملک میں کتا ویکسین نہیں ہے۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker