عقیل عباس جعفریکالملکھاری

بیگم وقار النسا: ’مادرِ مہربان‘ جنھوں نے ایک پاکستانی سے ناتا جوڑ کر اپنا جینا مرنا اس کے وطن سے وابستہ کر دیا۔۔عقیل عباس جعفری

یہ نو ستمبر 1958 کا واقعہ ہے۔ پاکستان کے ایک وزیراعظم انڈیا کے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو کی دعوت پر انڈیا پہنچے۔
ابھی وہ جہاز سے اتر ہی رہے تھے کہ ان کے پیچھے پیچھے آنے والی ان کی اہلیہ کی سلیپر کی وضع کی ایک جوتی پاؤں سے پھسل کر سیڑھی سے نیچے جا گری۔ اس سے پہلے کہ وہ سیڑھی طے کر کے نیچے پہنچتیں، پنڈت نہرو نے سلیپر اٹھا لی اور جب وہ نیچے اتریں تو ان کے سامنے اس طرح رکھ دی کہ پہننے میں دشواری نہ ہو۔
خوش اخلاقی کے اس سلوک سے نہرو کی وجاہت میں کوئی فرق نہیں آیا بلکہ اس میں کسی قدر اضافہ ہی ہو گیا۔ پاکستان کے یہ وزیراعظم فیروز خان نون تھے اور ان کی اہلیہ بیگم وقار النسا نون۔
وقار النسا نون کا اصل نام وکٹوریہ ریکھی تھا اور وہ 23 جولائی 1920 کو آسٹریا کے ایک یہودی خاندان میں پیدا ہوئی تھیں جو نازیوں کے ظلم و ستم سے تنگ آ کر انگلینڈ میں آباد ہو گیا۔
فیروز خان سے ان کی پہلی ملاقات اس وقت ہوئی جب وہ لندن میں انڈیا کے ہائی کمشنر کے منصب پر تعینات تھے۔ یہ ملاقات سنہ 1942 میں اس وقت شادی پر منتج ہوئی جب فیروز خان نون دہلی میں وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل کے ممبر تھے۔ اس وقت فیروز خان نون کی عمر 49 سال اور وکٹوریہ کی عمر 22 سال تھی، یہ شادی بمبئی میں ہوئی۔
اس شادی کے لیے وکٹوریہ نے نہ صرف اسلام قبول کیا بلکہ خود کو مکمل مشرقی اندازِ زندگی میں ڈھال لیا۔ ان کا اسلامی نام وقار النسا رکھا گیا یوں ان کی عرفیت وکی برقرار رہی۔
فیروز خان نون نے ان کی ملاقات قائداعظم سے کروائی جس کے بعد وقار النسا نون نے خود کو مسلمانوں کے الگ وطن کے مطالبے اور نظریہ پاکستان کو سمجھانے کے لیے خود کو اس عظیم جدوجہد کا حصہ بنا لیا۔ فیروز خان نون بعد ازاں ہندوستان کے وزیر دفاع کے منصب پر فائز ہوئے مگر 1945 میں وہ مسلم لیگ کے لیے کام کرنے کی غرض سے اس عہدے سے استعفیٰ دے کر لاہور آ گئے جہاں بیگم وقار النسا نون نے حصول پاکستان کی جدوجہد میں حصہ لیا۔
انھوں نے خواتین کے سیاسی شعور کو بیدار کرنے اور ان میں جوش و ولولہ پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انھوں نے پنجاب میں مسلم لیگ کی ہائی کمان کے حکم پر خواتین کے جلسے اور جلوسوں میں شرکت کرنا شروع کر دی اور اس دوران آنسو گیس، لاٹھی چارج اور پولیس کے جبر و تشدد کا مقابلہ کیا۔
فیروز خان نون نے اپنی خود نوشت ‘چشم دید’ میں لکھا ہے کہ ‘ان ایام کی کوئی بھی یادداشت اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک میں اپنی بیوی وقار النسا نون کا تذکرہ شامل نہ کروں۔ انھوں نے ہماری گرفتاریوں کے خلاف دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے عورتوں کے احتجاجی مظاہروں کی قیادت کی تھی۔ اس دفعہ کے تحت پانچ سے زائد افراد کا اجتماع ممنوع تھا۔
‘قانون کی خلاف ورزی کی بنا پر انھیں کئی بار جیل جانا پڑا۔ ہر جلوس کے بعد انھیں چند دوسری خواتین کے ساتھ جیل پہنچا دیا جاتا اور پھر چھوڑ دیا جاتا تھا۔ ایک دن پولیس انھیں چند دوسری عورتوں کے ساتھ ایک بس میں بٹھا کر شہر سے سات آٹھ میل دور لے گئی وہاں سے کہا گیا کہ گاڑی سے نیچے اتریں، جب انھوں نے اترنے سے انکار کر دیا تو بس کے اندر گیس کے بم پھینک کر دروازے بند کر دیے گئے۔ وہ اور کچھ دوسری عورتیں بے ہوش ہو گئیں۔’
وہ لکھتے ہیں کہ ‘لاہور کی چند خواتین ان دنوں جیل کے صدر دروازے پر رات دن پہرا دیتی تھیں اور کچھ خواتین مظاہرین کے ساتھ ساتھ چلتی تھیں۔ ان کے پاس کاریں ہوا کرتی تھی، چنانچہ جب پولیس کی گاڑی مظاہرین کو بھر کر کسی طرف کو روانہ ہوتی تو یہ کارکن خواتین فوراً ان کا پیچھا کرتیں اور جب پولیس انھیں شہر سے دور لے جا کر چھوڑتی تو وہ انھیں کاروں میں بٹھا کر لے آتی تھیں۔ وقار النسا اور ان کے ساتھیوں کو میرا بڑا بیٹا نور حیات کار میں واپس لایا تھا۔’
نورالصباح بیگم نے اپنی کتاب ‘تحریک پاکستان اور خواتین’ میں لکھا ہے کہ ‘سنہ 1947 میں فیروز خان نون نے ضلع کانگڑا میں اپنی اہلیہ کے قیام کے لیے ایک خوب صورت بنگلہ خریدا۔ ان دنوں کسی کو بھی یہ اندازہ نہیں تھا کہ لوگوں کو اپنی آبائی جائیدادوں کو چھوڑ کر جانا پڑے گا اور یہ جائیدادیں یا تو تباہ کر دی جائیں گی یا وہاں کی حکومت ان پر قبضہ کر لے گی۔
اس لیے یہ مکان جو بیگم نون کے لیے خریدا گیا تھا اسے نذر آتش کر دیا گیا اور وہ سکھوں کی ننگی کرپانوں سے گزرتی ہوئی چند نوکروں کے ہمراہ جان بچا کر بمشکل اس جگہ سے نکلیں۔ ان کے شوہر کے دوست راجہ صاحب آف منڈی نے، جو قریب ہی ایک چھوٹی سی ریاست کے راجہ تھے، انھیں تین ہفتے اپنے گھر میں پناہ دی اور سنہ 1947 میں ستمبر کے وسط میں میں انھیں سیالکوٹ پہنچا دیا۔’
قیام پاکستان کے بعد فیروز خان نون مشرقی پاکستان میں گورنر اور پنجاب میں وزیراعلیٰ کے عہدوں پر فائز ہوئے۔ اس دوران بیگم وقار النسا نون نہایت مستعدی اور خلوص کے ساتھ ان کا ہاتھ بٹاتی رہیں۔ 1947 میں پاکستان کا قیام عمل میں آیا تو سب سے بڑا مسئلہ بے سرو سامان مہاجروں کی آبادکاری کا تھا۔
بیگم نون خود ان مصائب کا سامنا کر چکی تھیں چنانچہ انھوں نے اپنا وہی ریڈ کراس کا کام پاکستان میں شروع کیا جو کہ دوسری جنگ عظیم کے دوران وہ دہلی میں انجام دے رہی تھیں۔ 1948 میں جب رعنا لیاقت علی خان نے اپوا قائم کی تو وہ اس کی بانی رکن بن گئیں۔
جب فیروز خان نون مشرقی پاکستان کے گورنر بنے تو بیگم وقار النسا نون نے اپوا کو مشرقی پاکستان میں بھی منظم کیا۔ انھوں نے ڈھاکا اور راولپنڈی میں دو سکول بھی قائم کیے۔ راولپنڈی والا سکول 1966 میں کالج میں تبدیل ہو گیا۔
سنہ 1953 میں جب فیروز خان نون وزیراعلیٰ پنجاب کے منصب پر فائز ہوکر لاہور تشریف لائے تو لاہور بیگم وقار النسا نون کی ان تھک اور پرخلوص سرگرمیوں کا مرکز بن گیا۔ اسی برس وہ ریڈ کراس سوسائٹی اور سینٹ جان ایمبولینس ایسوسی ایشن کی صدر منتخب ہوئیں۔
بیگم وقار النسا نون نے 1954 میں ٹورنٹو میں انٹرنیشنل کانفرنس آف سوشل ورک اور کیوٹو میں پیسیفک ریلیشنز کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کی۔
سنہ 1956 سے 1958 کے دوران جب فیروز خان نون وزارت خارجہ اور وزارت عظمیٰ کے عہدوں پر فائز تھے تو انھوں نے چین، ایران، ترکی اور روس کے سرکاری دورے کیے۔ اسی دوران ان کی کوششوں کے نتیجے میں پاکستان فیملی پلاننگ ایسوسی ایشن کا قیام عمل میں آیا۔ بیگم وقار النسا نون کی یہ تمام سماجی اور فلاحی خدمات ایک طرف لیکن ان کا اصل کارنامہ کچھ اور ہے جس کی وجہ سے وہ پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ ایک اہم مقام پر فائز رہیں گی۔
یہ 1581 کی بات ہے جب بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر پر پرتگالیوں نے قبضہ کیا تھا۔ سترہویں صدی کے اوائل میں اس شہر پر گچکی بلوچوں کی حکومت قائم ہوئی۔ 1736 میں انھوں نے گوادر کو ایران کے نادر شاہ کے حوالے کر دیا۔ تین سال بعد پھر گچکی قبیلہ برسرِ اقتدار آ گیا مگر 1778 میں خان آف قلات نے گوادر پر قبضہ کر لیا۔
سنہ 1784 میں مسقط کے شہزادے سعد سلطان نے اپنے باپ سے بغاوت کر کے جب مکران میں پناہ حاصل کی تو خان آف قلات ناصر خان اول نے ان کی بڑی خاطر مدارات کی اور ان کی مہمانی کے طور پر گوادر کا علاقہ ان کے حوالے کر دیا۔
ایک روایت یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ ناصر خان اول نے سعد سلطان سے اپنی بیٹی کی شادی کر دی تھی اور گوادر کا علاقہ انھیں اپنی بیٹی کے جہیز میں عطا کیا تھا تاکہ اس علاقے سے ہونے والی آمدنی سے سعد سلطان اور ان کے اہل خانہ کا گزارا ہو سکے۔ 1792 میں سعد سلطان خان آف قلات کی مدد سے مسقط اور عمان کے سلطان بن گئے لیکن انھوں نے گوادر کو اپنی عملداری میں شامل رکھا حالانکہ اب وہ گوادر کی آمدنی کے محتاج نہ تھے۔
انگریزوں نے جب قلات پر قبضہ کیا تو یہ صورتحال بدستور قائم رہی۔ 1947 میں قیام پاکستان کے وقت بھی گوادر سلطنت عمان کا حصہ تھا۔
پاکستان نے اپنے قیام کے فوراً بعد گوادر کی بازیابی کے لیے آواز اٹھائی۔ 1949 میں اس مسئلے کے حل کے لیے مذاکرات بھی ہوئے جو کسی فیصلے کے بغیر ختم ہوئے، ادھر شہنشاہ ایران گوادر کو ایران میں شامل کرنے اور اسے چاہ بہار کی بندرگاہ کے ساتھ ملا کر توسیع دینے کے خواہش مند تھے۔ ان کی اس خواہش کی پشت پناہی امریکی سی آئی اے کر رہی تھی۔
سنہ 1956 میں جب فیروز خان نون پاکستان کے وزیر خارجہ بنے تو انھوں نے یہ مسئلہ دوبارہ زندہ کیا اور اسے ہر صورت میں حل کرنے کا فیصلہ کیا۔
انھوں نے یہ مشن وقار النسا نون کو سونپ دیا، جنھوں نے انتہائی محنت کے ساتھ یہ مسئلہ حکومت برطانیہ کے سامنے پیش کیا۔ انھوں نے گوادر پر پاکستانی استحقاق کے حوالے سے برطانوی حکومت اور پارلیمانی حلقوں میں زبردست مہم چلائی۔
اس سلسلے میں انھوں نے چرچل سے بھی ملاقات کی اور برطانیہ کے ہاؤس آف لارڈز یعنی ایوانِ بالا میں بھی پاکستان کی بھرپور لابیئنگ کی اور یہ مؤقف پیش کیا کہ گوادر قلات خاندان کی جاگیر تھا جو اب پاکستان میں شامل ہے لہٰذا قلات کی اس جاگیر کی وراثت پر بھی اب پاکستان کا حق تسلیم ہونا چاہیے۔
وقار النسا نون نے یہ جنگ تلوار کی بجائے محض قلم، دلائل اور گفت و شنید کی مدد سے جیتی جس میں برطانیہ کے وزیراعظم ہیرالڈ میکملن نے کلیدی کردار ادا کیا۔ آٹھ ستمبر 1958 کو گوادر کا علاقہ پاکستان کا حصہ بن گیا۔ اسی روز آغا عبدالحمید نے صدر پاکستان کے نمائندہ کی حیثیت سے گوادر اور اس کے نواحی علاقوں کا نظم و نسق سنبھال لیا۔
ایک ماہ بعد اکتوبر 1958 میں ملک میں مارشل لا کے نفاذ کے ساتھ ہی فیروز خان نون کی وزارت عظمیٰ کا خاتمہ ہو گیا تاہم بیگم وقار النسا نون کی سماجی اور فلاحی خدمات کا سلسلہ جاری رہا۔
وہ ایک طویل عرصے تک پاکستان ریڈکراس سوسائٹی اور سینٹ جان ایمبولینس کی چیئرپرسن رہیں۔ وہ قائداعظم یونیورسٹی کی سنڈیکیٹ اور پاکستان ٹورزم ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی رکن رہیں۔ 1978 میں جنرل ضیا الحق نے انھیں مشیر کے عہدے پر فائز کیا اور وزیر مملکت برائے سیاحت مقرر کیا۔
1979 میں انھوں نے پاکستان ٹورزم ڈیولپمنٹ کارپوریشن کی چیئرپرسن کا عہدہ سنبھالا۔ انھوں نے پاکستان میں یوتھ ہاسٹلز کے قیام اور ترقی میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ 1987 میں انھیں پرتگال میں پاکستان کا سفیر مقرر کیا گیا، اس منصب پر وہ دو سال فائز رہیں۔ بیگم وقار النسا نون کئی غیر سرکاری تنظیموں کی بھی روح و رواں رہیں جن میں سینیئر سٹیزن فاؤنڈیشن، وائلڈ لائف فنڈ اور انگلش سپیکنگ یونین کے نام سرفہرست ہیں۔
بیگم وقار النسا نون نے اپنے دورۂ روس کی یادداشتوں کو سفرنامے کی شکل بھی دی۔ انھیں متعدد ملکی اور بین الاقوامی اعزازات بھی ملے۔ 23 مارچ 1958 کو گوادر کو پاکستان میں شامل کروانے کی جدوجہد میں نمایاں کردار ادا کرنے پر حکومت پاکستان نے انھیں نشان امتیاز کے اعزاز سے سرفراز کیا۔ مگر ان کا سب سے بڑا اعزاز ‘مادر مہربان’ کا خطاب تھا جو انھیں پاکستانی عوام نے عطا کیا تھا۔
ڈاکٹر منیر احمد سلیچ نے اپنی کتاب ‘تنہائیاں بولتی ہیں’ میں لکھا ہے کہ ‘یورپ میں پیدا ہونے والی اس عظیم خاتون نے جب ایک پاکستانی سے ناتا جوڑا تو اپنا تن من دھن سب اس پر اور اس کی قوم پر قربان کر دیا۔ انھوں نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور سر نون کی وفات کے بعد بھی اپنا جینا مرنا اپنے شوہر کے وطن کے ساتھ وابستہ رکھا۔
بیگم وقار النسا نون کی اپنی اولاد نہیں تھی لیکن وہ فیروز خان نون کی پہلی اہلیہ کے بیٹوں کو سگی اولاد کی طرح چاہتی تھیں اور وہ بھی ان کا احترام سگی ماں کی طرح کرتے تھے۔ سر نون بھی ان سے بے کراں محبت کرتے تھے اور لاہور مسلم ٹائون میں انھوں نے اپنی وسیع و عریض کوٹھی کا نام الوقار رکھا تھا۔ وقار النسا نون نے عورتوں، بچوں اور غریبوں کی امداد کو تاعمر اپنا وظیفہ بنائے رکھا۔
انھیں اپنے شوہر کی جائیداد کی آمدنی سے جو حصہ ملتا وہ بھی بھلائی کے کاموں میں لگا دیتیں، انھوں نے کیمبرج اور آکسفرڈ یونیورسٹیوں میں پاکستانی طالب علموں کے لیے دو وظائف بھی مقرر کر رکھے تھے۔
بیگم وقار النسا نون سنہ 2000 میں 16 جنوری کو اسلام آباد میں وفات پا گئیں، جہاں انھیں ایچ 8 کے قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔
(بشکریہ: بی بی سی اردو)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker