ہم یہ نہیں پوچھتے کہ تیئس ( 23 ) لاکھ اراضی کا کیا رولا ہے لیکن ہم یہ تو سوچ سکتے ہیں نا کہ نئی نہریں بننی چاہییں یا نہیں ؟ نئی نہریں بنانے کا خیال بظاہر تو بڑا زبردست لگتا ہے۔ یہ گمان ہوتا ہے کہ جیسے اب پانی زیادہ ملے گا، زمینیں آباد ہوں گی، کسان خوش ہوں گے، خوراک بڑھے گی، سب کچھ اچھا ہو جائے گا۔ لیکن حقیقت میں یہ معاملہ اتنا سیدھا نہیں ہے جتنا بظاہر لگتا ہے۔
ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان پہلے ہی پانی کی کمی کا شکار ہے۔ دریا خشک ہو رہے ہیں، ڈیموں میں پانی کم ہوتا جا رہا ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ آبادی بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ اب اگر ہم ان حالات میں نئی نہریں نکالیں گے، تو وہ پانی کہاں سے آئے گا؟ زیریں علاقوں — خاص طور پر سندھ اور بلوچستان سے ۔ لیکن انہیں تو ویسے ہی پانی پورا نہیں ملتا، اور اگر مزید پانی اوپر ہی روک لیا گیا، تو نیچے والے کیا کریں گے؟ وہ لوگ تو پہلے ہی شکایت کرتے ہیں کہ پنجاب سارا پانی لے جاتا ہے۔
پھر اگر دریا کا قدرتی بہاؤ کم ہو گیا، تو سمندر کا نمکین پانی زمین کے اندر آ جائے گا۔ اور یہ مذاق نہیں ہے۔ یہ جو سندھ کے ساحلی علاقے ہیں وہاں کی زمینیں پہلے ہی خراب ہو رہی ہیں، فصلیں برباد ہو رہی ہیں، اور مچھلیاں مر رہی ہیں۔ اب اگر نئی نہریں بن گئیں اور دریا کا پانی مزید کم ہو گیا، تو یہ مسئلہ اور بھی بڑھ جائے گا۔اور بھارت کو بھی نہ بھولیں۔ ہمارے اور ان کے بیچ انڈس واٹر ٹریٹی ہے اس میں کچھ اصول بنے ہوئے ہیں۔ اگر ہم کوئی بڑا پراجیکٹ شروع کرتے ہیں اور انہیں لگے کہ ہم معاہدہ توڑ رہے ہیں، تو وہ فوراً شور مچائیں گے۔ پھر عالمی عدالتیں، دباؤ، سیاست — سب شروع ہو جائے گااور سب سے بڑھ کر یہ کہ یہ بڑے بڑے منصوبے غریب کے لیے نہیں ہوتے۔ یہ طاقتور لوگوں کے لیے ہوتے ہیں —وہی طاقتور لوگ جو تئیس لاکھ اراضی کے مالک بننے جا رہے ہیں عام کسان،جو پہلے ہی مشکل میں ہوتا ہے، وہ مزید پیچھے رہ جاتا ہے۔ پانی، جو سب کا حق ہے، وہ چند ہاتھوں میں آ جاتا ہے۔تو اگر نئی نہریں واقعی سب کے فائدے کے لیے ہوں، سب صوبوں کو برابر پانی ملے، ماحول کا خیال رکھا جائے، اور عام کسانوں کی بھی سنی جائے — تو بالکل، بناؤ نہریں۔ لیکن اگر یہ سب کچھ صرف طاقتوراشرافیہ کے فائدے کے لیے ہے، تو پھر یہ ترقی نہیں، یہ تقسیم ہے، اور نقصان بھی ہے ۔۔۔ ترقی ہونی چاہیے، لیکن سب کے لیے۔ انصاف کے ساتھ اور سمجھداری کے ساتھ۔۔
فیس بک کمینٹ

