عمران خان نے کہا ہے کہ اس ملک میں اگر ’میرے‘ جیسے آدمی پر حملہ کی ایف آئی آر درج نہیں ہوسکتی تو دیکھیں کہ عام آدمی کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہوگا؟ اپنے اختصاص کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’میں اس ملک کی سب سے بڑی پارٹی کا لیڈر اور سابق وزیر اعظم ہوں‘۔ عمران خان نے اپنا یہ ’کرب‘ بیان کرنے کے بعد بتایا ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ’ملک میں قانون کی حکمرانی نہیں ہے۔ اور میں اسی کے لئے جد و جہد کررہا ہوں‘۔
یہ دلچسپ استدلال ہے کیوں کہ عمران خان مطالبے منوانے کی سیاست کرتے ہیں، اپنی ذمہ داری قبول کرنے پر یقین نہیں رکھتے۔ وہ بس یہ چاہتے ہیں کہ ان کے منہ سے نکلے ہوئے ہر لفظ کو پتھر پر لکیر سمجھ لیا جائے۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے جاں نثاروں کا ایک گروہ تیار کرلیا ہے جو عمران خان کے کسی بیان، دلیل، جواز یا مؤقف کا حقیقت پسندانہ تجزیہ کرنے پر یقین نہیں رکھتا۔ ان کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے لیڈر نے جو جیسے کہہ دیا بس اسے ہی حرف آخر مان لیا جائے۔ جمعرات کے روزوزیر آباد میں عمران خان کے کنٹینر پر حملہ کے معاملہ کو ہی لیا جائے تو عمران خان نے ایک مؤقف اختیار کیا جس کا تمام متن سیاسی ہے اور جس کی بنیاد پر گھڑا گیا سارا قصہ سیاسی پزیرائی حاصل کرنا ہے۔ عمران خان کسی صورت اس واقعہ کی تحقیقات کروانے میں دلچسپی نہیں رکھتے ، اسی لئے وہ ایف آئی آر درج کرنے کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
پھر بھی اگر حجت کے لئے مان لیا جائے کہ عمران خان واقعی اس حملہ کے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچانا چاہتے ہیں جس میں ایک بے گناہ شخص جاں بحق ہو گیا تھا تو وہ کس حیثیت میں پولیس کے دائرہ اختیار میں مداخلت کا مطالبہ کررہے ہیں۔ اول تو کنٹینر پر حملہ ایک ایسا معاملہ ہے جس میں پولیس ہی کو تمام اختیار حاصل ہونا چاہئے۔ جائے وقوعہ کا جائزہ لینے اور سیکورٹی کی صورت حال کو پیش نظر رکھ کر پولیس ہی فیصلہ کرسکتی ہے کہ اس واقعہ کی کیسی ایف آئی آر درج کی جائے۔ لیکن عمران خان اپنی سیاسی حیثیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے ایک بے بنیاد مطالبے کو حقیقیت بنانے کے لئے ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ پنجاب حکومت اور وزیر اعلیٰ اس متن کی ایف آئی آر کاٹنے پر تیار نہیں ہیں۔
عمران خان اگر واقعی ذمہ داری قبول کرنے کا رویہ رکھتے ہیں اور قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں تو انہیں چند سوالوں کے جواب دینے چاہئیں اور چند باتوں کو تسلیم کرنا چاہئے۔ پہلا سوال تو یہی ہے کہ قانون کی حکمرانی کیسے نافذ ہوگی؟ یہ کوئی آسمان سے اترا ہؤا تحفہ نہیں ہے بلکہ کسی معاشرے کے شہریوں کو مروجہ قوانین اور طریقہ کار پر عمل کرتے ہوئے اسے یقینی بنانا ہوتا ہے۔ باقی لوگوں کی بات جانے دیں ، عمران خان یہ بتائیں کہ کیا انہوں نے اس حملہ کا شکار ہونے والے ایک شہری کے طور پر اپنی ذمہ داری پوری کی ہے؟ وہ جس کنٹینر پر سفر کررہے تھے، اس پر فائرنگ ہوئی اور ان کے وفادار فوری طور سے انہیں کار میں ڈال کر لاہور کے شوکت خانم ہسپتال لے گئے۔ کیا ملک میں نفاذ قانون کا یہی طریقہ موجود ہے یا کسی حادثہ میں زخمی ہونے کی صورت میں متعلقہ شخص کو مقامی سرکاری ہسپتال سے معائنہ کروانے اور طبی رپورٹ فراہم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ عمران خان اگر ایک سیاسی پارٹی کے لیڈر ہیں اور سابق وزیر اعظم ہیں تو کیا وہ ایک عام شہری کے مرتبہ و مقام سے بلند ہوچکے ہیں؟ قانون کی حکمرانی کا اصول اس امتیازی سلوک کو نہیں مانتا لیکن عمران خان کا اصرار ہے کہ ان کے ساتھ خصوصی اور امتیازی سلوک کیا جائے۔ کیوں؟
عمران خان نے شوکت خانم میں علاج کروایا ۔ یہ ایک نجی کینسر ہسپتال ہے جسے حادثہ میں زخمی ہونے والے کسی شخص کا طبی معائنہ کرکے قانون کے مطابق میڈیکل رپورٹ جاری کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ ایک مجرمانہ فعل کا نشانہ بننے والے کسی شخص کو اگر شکایت کرنے کا حق ہے تو اس پر یہ فرض بھی عائد ہوتا ہے کہ وہ قانون کا متعین طریقہ اختیار کرے اور سرکاری اداروں کو جن میں پولیس سر فہرست ہے، اپنا کام کرنے دے۔ عمران خان یہ دونوں کام کرنے سے انکار کررہے ہیں لیکن انہیں یہ شکایت ضرور ہے کہ ایک ایسی ایف آئی آر کیوں نہیں کاٹی جاتی جس میں وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کے علاوہ ایک فوجی میجر جنرل کا نام بھی شامل کیا جائے۔ اس کا ثبوت کیا ہے؟ اور اس کا تعین کیسے ہوگا کہ عمران خان کا الزام درست ہے اور وہ سیاسی مفاد کے لئے ایک نیا جھوٹا بیانیہ تیار نہیں کررہے۔ حال ہی میں انہوں نے امریکی سازش کا بے بنیاد اور صریحاً جھوٹ پر مبنی مؤقف عام کرکے ملک و قوم کے مفادات کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ افترا پردازی کرنے والے شخص کے ایک ایسے الزام کو کیسے تسلیم کیا جا سکتا ہے جس میں ملک کے وزیر اعظم و وزیر داخلہ کے علاوہ ایک سرونگ جنرل کو نامزد کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
عمران خان اگر اپنی معلومات اور دعوے میں سچے ہیں تو اسے سچا ثابت کرنے کا ایک ہی ممکنہ طریقہ ہوسکتا ہے۔ وہ اپنی تحریری درخواست متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او کے پاس جمع کروادیں اور پولیس ضابطے کی کارروائی کرتے ہوئے الزامات کی تحقیقات کرے اور اگر اسے ایسے کوئی ثبوت مل جائیں کہ ان الزامات میں صداقت ہوسکتی ہے تو وہ انہیں ایف آئی آر میں شامل کرسکتی ہے۔ بصورت دیگر عمران خان کو اس پولیس نظام کے مطابق اپنا تعاون فراہم کرنا چاہئے جو اس ملک کے ہر شہری کا فرض ہے۔ یعنی کسی سرکاری ہسپتال میں خود کو طبی معائنہ کے لئے پیش کرنا اور پولیس تھانے حاضر ہوکر ذمہ دار پولیس افسر کے پاس قانون کے مطابق اپنا بیان درج کروانا۔ ایف آئی آر میں اپنی مرضی کے نام شامل کرنے پر اصرار کرنے کی بجائے ، اس بیان میں وہ ان لوگوں کا نام لے سکتے ہیں جن پر انہیں اس حملہ میں ملوث ہونے کا شبہ ہے۔ لیکن عمران خان پاکستانی شہری کے طور پر قانون کے اس تقاضے کو پورا کرنے پر تیار نہیں ہیں۔ البتہ قانون کی بالادستی کا رونا روتے ہوئے ان کی آواز ضرور بلند ہوجاتی ہے۔ اس طرز عمل کو اگر تضاد بیانی اور ڈھونگ نہ کہا جائے تو کیا سمجھا جائے؟
عمران خان وزیر آباد سانحہ کی ایف آئی آر درج کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ نامزد افراد کا نام شامل کروانا ان کا بنیادی انسانی حق نہیں ہے لیکن وہ اس پر مصر ہیں اور چونکہ صوبے میں ان کی اپنی پارٹی کی حکومت ہے، اس لئے وہ وزیر اعلیٰ کو مجبور کررہے ہیں کہ اگر ایف آئی آر ان کی مرضی کے مطابق درج نہیں ہوتی تو وہ پولیس کو ایف آئی آر کاٹ کر کارروائی بڑھانے سے روکیں۔ اس وقت یہی ہورہا ہے جو کسی سانحہ کے بعد تعطل کی بدتر مثال ہے۔ اس طریقہ کو تحقیقات میں رکاوٹ دالنے اور مناسب شواہد و ثبوت ضائع کرنے کی مجرمانہ کوشش بھی کہا جاسکتا ہے۔ عمران خان اس غیر قانونی کام میں براہ راست ملوث ہیں۔ لیکن انہیں قانون کی حکمرانی چاہئے۔ قانون کی حکمرانی چاہنے والا لیڈر اپنی ہی حکومت کے قانونی اختیار کو محدود کرنے کی کوشش نہیں کرتا بلکہ وہ متعلقہ اہلکاروں کو آزادی اور خود مختاری سے کام کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
پرویز الہیٰ تحریک انصاف کی حمایت سے وزیر اعلیٰ کے عہدے پر فائز ہیں۔ لیکن وہ عمران خان کے اس مطالبے سے متفق نہیں ہیں کہ ایک جنرل کو کسی ٹھوس ثبوت کے بغیر ایک ایف آئی آر میں نامزد کردیا جائے۔ البتہ وہ عمران خان کے مطالبے پر سرے سے ایف آئی آر درج ہونے کا راستہ روکے ہوئے ہیں جو صریحاً غیر قانونی اور غیر اخلاقی طرز عمل ہے ۔ لیکن وہ عمران خان کی خوشنودی کے لئے ایسا کرنے پر مجبور ہیں۔ تحریک انصاف کے چئیرمین کے طور پر عمران خان اگر یہ سمجھتے ہیں ان کا اپنا وزیر اعلیٰ قانون کے مطابق کام نہیں کررہا تو تحریک انصاف پرویز الہیٰ کی حمایت سے دست بردار ہوکر نیا وزیر اعلیٰ کیوں نہیں لے آتی؟ کیوں کہ مسلم لیگ (ق) کی آٹھ دس سیٹوں کے بغیر تحریک انصاف صوبے میں حکومت نہیں بنا سکتی۔ ملک میں انقلاب برپا کرنے کا دعوے دار سیاسی لیڈر اس حد تک کمزور اور بودا ہے کہ وہ ایک صوبے کی حکومت چھوڑنے کا خطرہ مول لینے پر تیار نہیں ہے۔ عمران خان کے لئے سیاست اگر ناجائز فائدے اور سہارے تلاش کرنے کا نام نہیں ہے تو وہ کیوں پنجاب کے علاوہ خیبر پختون خوا کی اسمبلیاں توڑ کر انتخابات کا مطالبہ منوانے کی کوشش نہیں کرتے۔ یہ بات درست ہے کہ پاکستان میں قانون کو بالا دستی حاصل نہیں ہے لیکن اس کی بنیادی وجہ عمران خان جیسے مفاد پرست سیاست دان ہیں جو اقتدار کو اپنی ضرورتوں کے مطابق استعمال کرتے ہوئے کسی بھی حد کو عبور کرنے پر تیارر ہتے ہیں۔
عمران خان کسی صورت وزیر آباد سانحہ کی تحقیقات نہیں چاہتے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ پرویز الہیٰ کی ’سرکشی‘ کے باوجود انہیں قبول کرنے پر مجبور ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ پرویز الہیٰ کی حکومت ختم ہوگئی تو نئی حکومت ان کی مرضی کے مطابق نہیں بن سکے گی اور وہ وزیر آباد میں کنٹینر پر حملہ کی مناسب تحقیقات کرواکے حقائق منظر عام پر لے آئے گی۔ یہ حقائق عمران خان کی جھوٹے نعروں اور الزامات کا پول کھول سکتے ہیں۔ وہ اپنی حکومت کے ذریعے اس سانحہ کے اصل حقائق چھپا کر خود کو ایک ایسے ہیرو کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں جسے حکومت وقت اور فوج مل کر مروانا چاہتی ہے۔ جب تک سچ چھپا رہے گا عمران خان اپنے حامیوں کو اپنا یہ جھوٹ بیچتے رہیں گے۔
یہی وجہ ہے کہ انہوں نے وزیر اعظم کی اس تجویز کو بھی بے سود قرار دیا ہے جس میں انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان سے وزیر آباد سانحہ کی تحقیقات کے لئے فل کورٹ کمیشن بنانے کی درخواست کی ہے۔ آج پریس کانفرنس میں عمران خان نے اس معاملہ پر بات کرتے ہوئے کہا: وزیر اعظم کی طرف سے جوڈیشل کمیشن قائم کرنے کی تجویز خوش آئیند ہے لیکن یہ کمیشن بھی غیر جانبدارانہ تحقیقات نہیں کرسکتا کیوں کہ میں جن لوگوں کو اس حملہ کا ذمہ دار سمجھتا ہوں ، وہی سب ایجنسیوں کو کنٹرول کرتے ہیں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے اس تجویز سے اتفاق ہے کہ چیف جسٹس تحقیقاتی کمیشن بنائیں لیکن میرا سوال ہے کہ یہ تحقیقات کون کرے گا۔ کیوں کہ میں جن تین افراد پر شبہ کررہا ہوں ، سب اختیارات ان کے پاس ہیں۔ اس صورت میں غیر جانبدارانہ تحقیقات نہیں ہوسکتیں۔ اسی لئے میرا مطالبہ ہے کہ پہلے یہ تینوں استعفیٰ دیں پھر تحقیقات ہوں۔گویا نہ نو من تیل ہوگا نہ رادھا ناچے گی۔ عمران خان ملک کی سپریم کورٹ کے ججوں پر مشتمل کسی کمیشن کی غیر جانبداری، اختیار اور خود مختاری پر قبل از وقت شبہ کا اظہار کرکے ، اسے مشکوک بنارہے ہیں کیوں کہ وزیر آباد سانحہ کی اصل کہانی ان کے سیاسی بیانیہ کی موت ثابت ہوگی۔

