تجزیےفاروق عادللکھاری

فاروق عادل کی تحقیقی رپورٹ : مئی 1977 ء ۔ اصغر خان نے فوج کو بھٹو کے خلاف کیسے اکسایا ؟

یہ تین جولائی 1977 کی بات ہے، وزیر اعظم کے پہلو میں رکھے گرین فون یعنی ہاٹ لائن کی گھنٹی بجی۔ وزیر اعظم ناشتے میں مصروف تھے، انھوں نے ذرا سے تکدر کے ساتھ فون کی طرف دیکھا، پھر فون اٹھا لیا اور خاموشی سے بات سننے لگے۔ فون کرنے والا خاموش ہوا تو بھٹو صاحب نے اپنے جانے پہچانے استہزائیہ لہجے میں کہا:
‘یار، انھیں چھوڑو، یہ لوگ فقط مجھ سے انٹرویو (ملاقات) لینے کے بہانے تلاش کر رہے ہیں۔’
فون کے دوسری طرف مولانا کوثر نیازی تھے، وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی کابینہ اور پاکستان قومی اتحاد کے ساتھ مذاکرات کے لیے سہ رکنی کمیٹی کے رکن۔ مولانا کوثر نیازی نے اپنی دانست میں انھیں ایک حساس نوعیت کی اطلاع فراہم کی تھی جس کی اہمیت کے پیش نظر اگر فوری طور پر کوئی موزوں قدم نہ اٹھایا جاتا تو نظام کا خاتمہ یقینی تھا۔
کوثر نیازی اپنی کتاب ’۔۔۔اور لائن کٹ گئی‘ میں لکھتے ہیں کہ بھٹو صاحب کے جواب پر وہ سر پکڑ کر بیٹھ گئے اور سوچا کہ ’یا خدا، اتنے نازک حالات میں بھی اپنی اہمیت کا اتنا احساس‘ اور وہ تلملا کر رہ گئے۔ ایک ایسے وقت میں فون کر کے وزیر اعظم پاکستان کی ذاتی مصروفیات میں مداخلت کا سبب ایک غیر معمولی اطلاع تھی جو اس سے چند منٹ پہلے ہی پاکستان قومی اتحاد کے ایک رہنما اور سابق صدر آزاد کشمیر سردار عبد القیوم خان نے ان تک پہنچائی تھی۔
سردار صاحب نے انھیں بتایا تھا کہ اتحاد کے بعض لیڈروں کا فوج سے رابطہ ہے اور خطرہ ہے کہ فوج اقتدار پر قبضہ کر لے گی۔ اس لیے آپ بھٹو صاحب سے کہیں کہ وہ سمجھوتے میں تاخیر نہ کریں بلکہ بہتر ہو گا کہ آپ اس سلسلے میں انھیں اور اتحاد کے صدر مفتی محمود صاحب کی ان سے ملاقات ہی کرا دیں۔ مولانا کوثر نیازی لکھتے ہیں کہ انھوں نے فوری طور پر یہ اطلاع بھٹو صاحب تک پہنچائی اور ان کا جواب سننے کے بعد پریشان ہو کر رہ گئے۔
کچھ دیر کے بعد جب وہ کابینہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے کیبینٹ روم پہنچے تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ آرمی چیف جنرل ضیا الحق بھٹو صاحب کے عین سامنے بیٹھے ہوئے تھے، کوثر نیازی پر بھٹو صاحب کی نگاہ پڑی تو وہ مسکرائے اور جنرل ضیا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا:
‘لو وہ آ گئے، اب خود ہی سردار صاحب سے ہونے والی بات بتائیں گے۔’
کوثر نیازی کے مطابق جنرل ضیا شاید پہلے ہی اس اطلاع کو مسترد کر چکے تھے، اس لیے بھٹو صاحب نے کابینہ کو اظہار خیال کی دعوت دی جس پر عبدالحفیظ پیرزادہ نے اسے اتحاد کا نیا شوشا قرار دیا، دیگر اراکین کابینہ نے ان کی تائید کی، سوائے وزیر اعلیٰ سندھ غلام مصطفیٰ جتوئی کے جو خصوصی دعوت پر اجلاس میں شرکت کر رہے تھے۔
سردار عبد القیوم خان نے مولانا کوثر نیازی کو جو اطلاع فراہم کی تھی، اس کا ایک سبب فوری اور ایک چند ہفتے پرانا تھا۔ کتاب ’مذاکرات سے مارشل لا تک‘ میں انھوں نے ان دنوں کی پیشرفت بیان کی ہے۔
پاکستان قومی اتحاد اور حکومت کے درمیان مذاکرات کی ایک فیصلہ کن نشست کا آغاز یکم جولائی 1977 کو رات آٹھ بجے شروع ہوا جو مسلسل ساڑھے تیرہ گھنٹے جاری رہنے کے بعد صبح ساڑھے چھ بجے ختم ہوا تھا۔ فریقین کے درمیان سمجھوتہ طے پا گیا اور مفتی محمود یہ کہہ کر روانہ ہوئے تھے کہ اتحاد کی مرکزی کونسل کی منظوری کے بعد ہم سمجھوتے پر دستخط کر دیں گے۔
اتحاد کے یہ قائدین وزیر اعظم ہاؤس سے واپس پہنچے تو اصغر خان نے انھیں آڑے ہاتھوں لیا۔ تھکن سے نڈھال مفتی محمود اور پروفیسر غفور نے ان سے سوال کیا:
‘آخر آپ چاہتے کیا ہیں، ہم لوگ کیا کرتے؟’
اصغر خان نے گرجتے ہوئے جواب دیا: ’آپ اجلاس سے اٹھ کر چلے آتے، کس گدھے نے آپ کو رات بھر جاگ کر مذاکرات کرنے کا مشورہ دیا تھا؟ یہ تو بھٹو کی پرانی اور مخصوص چال ہے، وہ اسی طرح تو جگا کھا کر مارتا ہے۔ یہ ایکارڈ سراسر الفاظ کی ہیرا پھیری ہے جسے سمجھنے کی آپ لوگوں کو توفیق ہی نہیں ہو سکتی۔ میں اس سمجھوتے پر لعنت بھیجتا ہوں اور اگر آپ لوگوں نے اس پر دستخط کیے تو یاد رکھیں کہ میں آپ کے خلاف بھی تحریک چلاؤں گا اور عوام کو بتاؤں گا کہ آپ لوگوں نے شہیدوں کے خون سے غداری کی ہے۔‘
کچھ دیر کے بعد انھوں نے کہا: ’اب آپ لوگ درمیان سے ہٹ جائیں، میں خود تمام معاملات ہینڈل کروں گا اور فوج کی طرف سے یہ گارنٹی بھی دینے کو تیار ہوں کہ مارشل لا لگنے کے بعد نوے دن کے اندر اندر فوج الیکشن کرا دے گی۔‘
اصغر خان کی ان باتوں کے بعد اجلاس میں سناٹا چھا گیا۔ کچھ دیر کے بعد مفتی محمود نے انھیں سمجھانے کی کوشش کی لیکن انھوں نے ‘تحقیر آمیز’ انداز میں ‘ہوں’ کہا اور اجلاس سے اٹھ کر چلے گئے۔
سردار قیوم کی مولانا کوثر نیازی سے اس ملاقات کا نسبتاً پرانا پس منظر خود ان کا اصغر خان سے ایک مکالمہ تھا۔ یہ مئی 1977 یا اوائل جون کی بات ہو گی جب بھٹو صاحب نئے عام انتخابات پر آمادگی ظاہر کر چکے تھے اور مذاکرات شروع ہونے کی بات چل رہی تھی۔ ان ہی دنوں کسی نشست میں اصغر خان نے کہا:
‘جانے دو مذاکرات کو’
اس کے جواب میں سردار عبد القیوم خان نے کہا کہ اس طرح تو پھر فوج آ جائے گی۔ یہ جواب سن کر انھوں نے کہا:
‘آتی ہے تو آنے دو’۔
اس مکالمے کے بعد دونوں راہنماؤں میں کہیں فوج کے آ جانے اور اس کی واپسی کی مشکلات کے خالص پیشہ ورانہ پہلوؤں پر تبادلہ خیال ہوا جس کے بعد اصغر خان نے تقریباً لاجواب ہو کر یہ تسلیم کر لیا کہ اچھا ٹھیک ہے، مذاکرات کر لیں۔
اصغر خان پاکستان قومی اتحاد کے اجلاسوں میں جس طرح غیض و غضب کا مظاہرہ کیا کرتے تھے اور فوج کی طرف سے ضمانتیں پیش کر کے مارشل لا کے حق میں دلائل دیا کرتے تھے، حزب اختلاف کی قیادت کو اس سلسلے میں کوئی حیرت نہیں تھی۔
اس کا سبب یہ تھا کہ اوائل مئی میں جب انتخابی دھاندلیوں کے خلاف پاکستان قومی اتحاد کی تحریک اپنے عروج پر پہنچ چکی تھی جس سے نمٹنے کے لیے مختلف شہروں میں فوج تعینات کی گئی تھی اور چند شہروں میں مارشل لا بھی لگایا جا چکا تھا جسے عدلیہ کی طرف سےغیر آئینی قرار دے دیا گیا۔
اصغر خان نے فوجی قیادت کو ایک کھلا خط لکھا جس کی تین ہزار کاپیاں فوجی افسروں میں تقسیم کی گئیں۔
اصغر خان نے اس خط میں۔ فوجی قیادت کو مخاطب کرکے اسے مشورہ دیا:
1-افسران ان دنوں جن سرگرمیوں میں مصروف ہیں، وہ سوچیں کہ کیا وہ قانونی ہے؟ اگر جواب نہ میں ہو تو پھر آپ اخلاقی طور پر دیوالیہ اور اپنی ملک و قوم کے خلاف سنگین جرائم کے مرتکب ہوں گے۔
2-مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن ایک سازش تھی جس میں موجودہ وزیر اعظم نے شاطرانہ کردار ادا کیا، اس کے بعد پاکستان کے مختلف حصوں میں بھی ایسے ہی آپریشن کرائے جن میں بلوچستان اور دیر کے علاقے شامل ہیں۔ اب انھوں نے انتخابی دھاندلی کروا دی ہے۔ کئی لوگوں کو کاغذات نامزدگی ہی داخل نہیں کرانے دیے گئے جن لوگوں نے کوشش کی، ان میں سے کچھ اب تک لاپتہ ہیں۔
3-ان انتخابی دھاندلیوں کے بعد بچے اور عورتیں تک سڑکوں پر بطور احتجاج نکل آئے ہیں۔ ان پر تشدد کیا گیا اور ہزاروں لوگ قتل کیے جا چکے ہیں جس پر آپ کے سر شرم سے جھک چکے ہوں گے۔ ان لوگوں نے قربانی اس لیے دی ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے ساتھ دھوکا کیا گیا ہے۔
4-یہ انتخابات آزادانہ اور منصفانہ نہیں تھے، بھٹو آئین کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا ہے، آپ پر یہ فرض نہیں ہے کہ اس غیر آئینی حکومت کا دفاع کریں اور وہ آپ کو عوام کو قتل کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ آپ اس بچے کو گولی مار کر ہلاک کرنے کی وضاحت کس طرح کر سکتے ہیں جس نے فوج کو اپنے ہاتھ سے وکٹری کا نشان بنا کر دکھایا تھا؟
5-‘کیا آپ نہیں سمجھے کہ اپنی تاریخ کے تیس بدترین سالوں کے دوران پاکستان بھر کے عوام نے اپنی افواج کے لیے محبت اور خلوص کا جذبہ ظاہر کیا ہے، جب آپ نے مشرقی پاکستان میں ہتھیار ڈالے تو عوام خون کے آنسو روئے، انھوں نے ہمیشہ آپ کی عزت کی، دعائیں مانگیں۔ انھوں نے خود کو بھوکا رکھا اور اپنے بچوں کو بھوکا مارا کہ آپ کو پیٹ بھر کر کھانے کو ملے اور آپ کے جنرل اور اعلیٰ افسر ایسی زندگی گزار سکیں جو برطانیہ اور امریکی جرنیلوں کو نصیب نہیں۔ مجھے یہ کہتے ہوئے دکھ ہو رہا ہے کہ محبت دم توڑ چکی ہے، خدارا،اسے نفرت میں مت بدلنے دیجئے’۔
6-موجودہ حالات میں فرائض کی بجا آوری کا مطلب غیر قانونی احکامات پر عمل درآمد نہیں۔ آپ کے لیے یہ وقت آ گیا ہے کہ اس اپیل کا ایمان داری سے جواب دیں اور پاکستان کو بچائیں.
پاکستان قومی اتحاد کے سیکرٹری جنرل پروفیسر غفور احمد نے اپنی کتاب ‘پھر مارشل لا آ گیا’ میں لکھا ہے کہ جہاں تک ان کی معلومات ہیں، اصغر خان نے یہ خط اتحاد کی قیادت کو اعتماد میں لیے بغیر تحریر کیا تھا۔
حکومت کی طرف سے اس خط کا ردعمل بڑا سخت تھا۔ اس سلسلے میں وزیر اعظم کی خواہش پر وزارت دفاع کے ترجمان نے اگلے روز ایک بیان جاری کیا۔ اس بیان میں واضح کیا گیا کہ فوج کسی ایک شخص کی نہیں بلکہ اس ملک اور آئین کی وفادار ہے اور اگر حکومت آئین کی دفعہ 245 کے تحت چاہے تو وہ فوج کی خدمات حاصل کر سکتی ہے۔ بیان میں حکومت آئینی اور قانونی قرار دینے کے علاوہ یہ بھی قرار دیا گیا کہ کچھ ملک میں انتشار پھیلا رہے ہیں۔
اس بیان کا دوسرا اور اہم ترین پہلو یہ تھا جس میں اصغر خان کے خط کے نکات کی نکتہ بہ نکتہ تردید کرتے ہوئے کم و بیش اس خط کے تمام نکات بھی اس میں سمو دیے گئے تھے۔ ردعمل کا یہ انداز اس پس منظر میں اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ وہ صحافت پر پابندیوں کا زمانہ تھا اور اخبارات آزادی کے ساتھ ہر بات شائع نہیں کر سکتے تھے لیکن وزارت دفاع کے ترجمان کی اس خبر کے ذریعے عوام تک اصغر خان کے خط کے تقریباً تمام مندرجات پہنچ گئے۔
مولانا کوثر نیازی نے لکھا ہے کہ اس بیان کی اشاعت کے بعد سیکرٹری دفاع غلام اسحاق خان (بعد میں صدر) نے جنرل ضیا سے پوچھا کہ یہ بیان آپ نے کیوں جاری کرایا؟ جس پرانھوں نے کہا کہ کیوں، اس میں ایسی کیا بات ہے تو جواباً غلام اسحاق خان نے انتخابات کی شفافیت پر سوال اٹھایا۔
اس بیان کے ردعمل میں دوسری خبر چھ جولائی کو شائع ہوئی جس میں کہا گیا کہ اصغر خان نے مسلح افواج میں بے اطمینانی پھیلانے اور اپنے فرائض سے روگردانی پر اکسانے کی کوشش کی ہے جس پر یہ جائزہ لیا جا رہا ہے کہ اس جرم پر ان کے خلاف کس قسم کی کارروائی کی جائے۔
مؤرخین 1977 کے مارشل لا کے نفاذ کے سلسلے میں اصغر خان کے اس خط کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔ شجاع نواز لکھتے ہیں کہ اس خط کی وجہ سے بھٹو صاحب پہلے ہی پریشان تھے لیکن ان ہی دنوں جنرل ضیا کے ساتھ بھی ان کی بدمزگی ہو گئی۔
بھٹو صاحب نے جنرل ضیا سے شکایت کی کچھ جرنیل حزب اختلاف کے رابطے میں ہیں جو تشویش کی بات ہے۔ بھٹو صاحب کی اس بات پر جنرل ضیا نے احتجاج کیا اور کہا کہ آپ کو جرنیلوں کی جاسوسی نہیں کرانی چاہیے جس پر حکومت نے انٹیلی جنس بیورو کا سربراہ تبدیل کر دیا، شجاع نواز کے مطابق اس سے فوج کو سول اداروں پر بالادستی حاصل ہو گئی۔
ممکنہ طور پر وہ کون سے جرنیل ہو سکتے ہیں جو حزب اختلاف سے رابطے میں تھے مؤرخ اور سیاسی امور کے ماہر ڈاکٹر اشتیاق احمد نے اپنی کتاب ‘عسکری ریاست’ میں دعویٰ کیا ہے کہ اصغر خان نے اپوزیشن کو مشورہ دیا تھا کہ حاضر سروس جرنیلوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔
اس مقصد کے لیے حزب اختلاف نے دو ریٹائرڈ افسروں جنرل گل حسن اور ایئر مارشل رحیم کی خدمات حاصل کیں تاکہ فوج میں لابنگ کی جا سکے۔ شاید یہی سبب رہا ہو گا کہ یہ دو ریٹائرڈ افسر جو بیرون ملک بطور سفیر تعینات تھے، احتجاجی تحریک کے زور پکڑتے ہی مستعفی ہو کر پاکستان آ گئے۔
ڈاکٹر حسن عسکری رضوی نے ‘ملٹری، سٹیٹ اینڈ سوسائٹی ان پاکستان’ میں لکھا ہے کہ فوج کو بھٹو کی حمایت سے باز رکھنے کے لیے حزب اختلاف کے راہنماؤں نے فوج کے سربراہ سے ملاقات کی کوشش کی، فوج کو بھٹو کی حمایت سے باز رکھنے کے لیے براہ راست یا بلا واسطہ دباؤ ڈالنے کی کوشش کی۔
اتحاد کے راہنماؤں اور کارکنوں نے بڑی تعداد میں آرمی چیف کو ٹیلی گرام بھیجے، خطوط لکھے اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ بھٹو کی حکومت کا خاتمہ کر دیں۔ اسی طرح شجاع نواز نے لکھا ہے کہ خواتین نے فوجی افسروں کے گھروں میں جا کر چوڑیاں پیش کیں۔
ڈاکٹر اشتیاق اور دیگر مصنفین کے ان دعووں سے یہ تاثر قوی ہوتا ہے کہ جیسے ساری حزب اختلاف ہی مارشل لا کے نفاذ کے لیے کام کر رہی تھی لیکن حزب اختلاف کے راہنماؤں پروفیسر غفور احمد اور سردار عبد القیوم خان کی کتابوں سے اس کی تردید ہوتی ہے، پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے مولانا کوثر نیازی کی کتاب سے ان دو راہنماؤں کے مؤقف کی تائید ہوتی ہے لیکن مارشل لا کے نفاذ سے متعلق بعض حلقوں کی یک سوئی کے اشارے بھی ملتے ہیں۔
سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی کتاب ‘اگر مجھے قتل کیا گیا’ میں دعویٰ کیا ہے کہ مارشل لا کے نفاذ سے بہت پہلے جنرل ضیا نے اپنے اختیار سے تجاوز کرتے ہوئے فوجی افسروں کے سپرد یہ ذمے داری کر دی تھی کی وہ انتخابی دھاندلیوں کی تحقیقات کریں، گویا مارشل لا کے نفاذ کی تیاری پہلے سے ہی موجود تھی۔
ان مورخین اور مصنفین کے بیان کردہ واقعات سے بھی یہی اندازہ ہوتا ہے کہ ملک میں مارشل لا لگانے کا منصوبہ موجود تھا جس کی راہ ہموار کرنے کے لیے مختلف طریقے اختیار کیے گئے، اصغر خان کا خط ان دنوں میں اپنی انفرادیت اور خط لکھنے والی ممتاز شخصیت کی وجہ سے سب سے زیادہ اہمیت اختیار کر گیا۔
خط فوجی افسروں اور جوانوں پر کس انداز میں اثر انداز ہوا؟
اس کی ایک مثال جو بیان کی جاتی ہے لاہور میں دیکھنے کو ملی جب فوج کے تین سینیئر افسروں نے مطالبہ کیا کہ انھیں مارشل لا ڈیوٹی سے سبک دوش کر دیا جائے۔ اس واقعے کی تفصیلات شجاع نواز نے اپنی کتاب ’کراس سورڈز‘ میں درج کی ہیں۔
ان افسروں میں بریگیڈیئر اشتیاق علی خان، بریگیڈیئر سید محمد اور بریگیڈیئر نیاز احمد شامل تھے۔ یہ خبر ملتے ہی فوج کے سربراہ جنرل ضیا لاہور پہنچے۔ یہ افسر ان کے سامنے پیش ہو گئے اور یہ مؤقف اختیار کیا کہ ان کا ضمیر اجازت نہیں دیتا کہ وہ انتخابی دھاندلیوں اور بد عنوانیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے عوام پر گولیاں برسائیں۔ اس لیے انھیں مارشل لا ڈیوٹی سے واپس بلا لیا جائے۔
جنرل ضیا نے ان افسروں کو ملازمت سے فی الفور برخواست کر دیا۔ مولانا کوثر نیازی نے اپنی کتاب ‘—-اور لائن کٹ گئی’ میں فوجی افسروں کے بعض ایسے جملے درج کیے جو انھوں نے وزیراعظم کے سامنے ادا کیے۔ مثلآ ایک جگہ وہ لکھتے ہیں کہ ایک جنرل نے بھٹو صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ حزب اختلاف کے ساتھ معاملات جلد از جلد طے کر لیے جائیں ورنہ خطرہ ہے کہ کہیں فوج کے درمیان ہی کشیدگی نہ پیدا ہو جائے۔
لاہور کے کور کمانڈر جنرل اقبال نے ان سے کہا کہ اب لاہور میں آئندہ فوج کی تعیناتی ممکن نہ ہوگی کیونکہ ریٹائرڈ فوجی افسر بھی ایجی ٹیشن میں شریک ہیں۔ فوج ہوا میں فائرنگ نہیں کرتی لیکن اس بار یہ بھی ہو گزرا ہے۔ کور کمانڈر کراچی جنرل جہانزیب ارباب نے کہا کہ نچلے رینکس میں احکامات بے اثر ہو رہے ہیں، اگر وہ مانتے بھی ہیں تو بے دلی سے۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker