کالملکھارییاسر پیرزادہ

مولانا طارق جمیل اب فیشن انڈسٹری میں!۔۔یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم

مولانا طارق جمیل عہد حاضر کے بہت بڑے عالم دین ہیں ، واعظ ہیں ،مبلغ ہیں، خطیب ہیں ۔ اللہ نے اِن کو بہت صلاحیتوں سے نوازا ہے ،آپ کا حافظہ قابل رشک ہے، سینکڑوں آیتیں ،احادیث اور روایتیں آپ کو ازبر ہیں ، تقریر کرتے ہیں تو سماں باندھ دیتے ہیں ،ایسی فصاحت اور بلاغت سے گفتگو کرتے ہیں کہ بندہ مبہوت ہو جاتا ہے۔اکثر اپنی تقاریر میں حور کا سراپا بیان کرتے ہیں تو مردوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ۔دنیا بھر میں آپ کے پرستار پھیلے ہیں ، مولانا کہیں بھی چلے جائیں لوگ دیوانوں کی طرح اُن کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں ، اُن کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بیتاب رہتے ہیں ، اُن سے ہاتھ ملانے کو خوش بختی سمجھتے ہیں اور اُن کی میزبانی کے لیے دل و جان سے حاضر رہتے ہیں۔عام طور سے ایسی شہرت اور پذیرائی فلمی ستاروں کو ملتی ہے مگر اسے مولانا کی شخصیت کی کشش ہی کہیے کہ فلمی ستار ے بھی مولانا سے ملاقات کو اپنی سعادت سمجھتے ہیں ۔یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ مولانا کو اگر اپنی قسمت خود لکھنے کا اختیار ہوتا تو بھی وہ ایسی نہ لکھ پاتے جیسی خوش نصیبی اللہ نے انہیں عطا کی ہے۔حال ہی میں مولانا نے اپنے نام سے کپڑوں کا ایک ’برینڈلانچ ‘ کیا ہے جس کا بہت شاندار افتتاح ہوا۔ مولاناکا کہناہے کہ اِس کاروبار سے ہونے والی آمدنی کومدرسوں میں پڑھنے والے طلبا کی تعلیم پر خرچ کیا جائے گا ۔جیسی قسمت مولانا نے پائی ہے اسے دیکھتے ہوئے مجھے یقین ہے کہ مولانا کا یہ برینڈ ،انشا اللہ ، کامیاب ہوگا اور بہت جلد اِس کی شاخیں ملک کے دیگر شہروں میں بھی کھل جائیں گے۔میری نیک تمنائیں مولانا کے ساتھ ہیں ۔
کاروبار کرنا سنت رسول ﷺ ہے ، ہر شخص کو حق حاصل ہے کہ وہ جائز طریقے سے روزی کمائے ، البتہ اِس میں کچھ اصول اسلام نے بیان کر دیے ہیں جن پر عمل کرنا ضروری ہے۔مثلاً ناجائز منافع خوری کی ہر گز اجازت نہیں ، مال میں اگر کوئی نقص ہو تو فروخت کرتے وقت گاہک کو بتانا ضرور ی ہے،گاہک جو چیز طلب کرے اسے وہی دی جائے ، ناپ تول پورا رکھا جائے ، عہد کی پاسدار ی کی جائے ،ما ل میں کوئی ملاوٹ نہ ہو،وغیرہ۔مجھے یقین ہے کہ کاروبار کرتے ہوئے مولانا اِن تمام باتو ں کا خیال رکھیں گے اور ’خریدا ہوا مال واپس یا تبدیل نہیں ہوگا ‘ جیسی پالیسی نہیں اپنائیں گے ، نفع پر پورا ٹیکس دیں گے ،ملازمین کو وقت پر اجرت دیں گے ،چھٹی کرنے پر اُن کی تنخواہ نہیں کاٹیں گے اورلیبر قوانین کی پاسداری کریں گے ۔لیکن کیا فیشن کا کاروبار کرنا مولانا جیسے جید عالم دین کے لیے مناسب ہے؟مولانا طارق جمیل اگر کوئی پٹرول پمپ کھولتے ، ٹائروں کی دکان شروع کرتے ،کسی میڈیکل سٹور میں اپنا حصہ ڈالتے ، کوئی اشاعتی ادارہ بنا لیتے یا کسی اسپتال کا سنگ بنیاد رکھتے تو کسی کو کوئی اعتراض نہ ہوتا۔مگر جو کاروبار مولانا نے شروع کیا ہے اُس کا تعلق براہ راست فیشن انڈسٹری سے ہے اور یہ پوراایک لائف سٹائل ہے جو دین کی اُس تعبیر سے بالکل مختلف ہے جس کی تبلیغ مولانا اپنی تقاریر میں کرتے ہیں ۔اکیسویں صدی کی فیشن انڈسٹری ایک خاص فلسفے پر کھڑی ہے اور یہ فلسفہ شخصی آزادی ، صارفیت (consumersim) ، ذات کی تشہیر، خود نمائی اور ایک خاص قسم کے ’باڈی امیج‘ کی ترویج کرتا ہے ۔اِس میں سادگی ، تقویٰ اور قناعت جیسے اعلی ٰ تصورات کی کوئی گنجایش نہیں۔اِس میں بندے کی اپنی ذات اہم ہے ، اُس کی سیلفی ، اُس کا سکون، اُس کا انسٹا گرام ، اُ س کی انفرادیت اور اُس کی پسند ہر چیز پر مقدم ہے۔اس میں فرد اہم ہے،معاشرہ اہم نہیں۔یہ فرد کی خود نمائی کا ایک پورا پیکج ہے جو مذہب سے متصادم ہے ،یہ rat raceکو بڑھاوا دیتا ہے اور ایک الگ طرح کی سوچ کو پروان چڑھاتا ہے جس میں چیزیں ضرورت کے تحت نہیں بلکہ بلاضرورت خریدی جاتی ہیں ۔یہ درست ہے کہ کپڑا انسان کی ضرورت ہے ، اچھا لباس پہننا چاہیے ، اسلام میں اِس کی ممانعت نہیں مگر جس کاروبار میں مولانا نے ہاتھ ڈالا ہے وہ کپڑوں کا نہیں فیشن کا کاروبار ہے اور یہ کاروبار ضرورت کے ماڈل پر نہیں اسراف کے ماڈل پر کھڑا ہے ورنہ اچھے کپڑے تولوگ ہر زمانے میں لوگ پہنتے تھے۔جن لوگوں کو اِس میں کوئی شبہ ہو وہ مولانا کی ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں،وہاں خواتین کے فیشن ایبل ملبوسات French Floral، Tudor Times، Sepiaکے ناموں سے دستیاب ہیں ۔مولانا کی ویب سائٹ کسی بھی دوسری فیشن آؤٹ لٹ سے مختلف نہیں ۔وہی پٹرول پمپ والی مثال کہ مولانا اگر پٹرول پمپ کھولتے تو اعتراض کی گنجایش نہ ہوتی کیونکہ کوئی شخص شوقیہ پٹرول خریدنے نہیں آتا ضرورتاً آتا ہے ، دوائیوں کا کاروبار بھی ٹھیک تھا کہ کوئی محض اِس لیے دوائی خریدنے نہیں پہنچ جاتا کہ اُس کی جیب میں نوٹ مچل رہے ہوتے ہیں بلکہ صرف بیمار ہونے کی صورت میں خریدتا ہے جبکہ فیشن کے کپڑے ضرورتاً نہیں خریدے جاتے consumerismکے زیر اثر خریدے جاتے ہیں ۔ ضرورت کے لیے تھان سے کپڑا اتروا کردرزی کو کہا جاتا ہے کہ بھائی دو سوٹ بنا دینا۔
مولانا جعفر شاہ پھلواروی ایک جید عالم دین گذرے ہیں ، اُن کی کتا ب ’اسلام اور موسیقی ‘ پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے ،اِس کتاب میں انہوں نے قران اور احادیث کی روشنی میں یہ ثابت کیا ہے کہ اسلام میں موسیقی کی ممانعت نہیں ۔ بہت سے علما اُن کی رائے سے اتفاق نہیں کرتے لیکن یہ موضوع بحث نہیں ۔فرض کریں کہ مولانا پھلواروی ،جو موسیقی کو جائز سمجھتے ہیں ، طبلے سارنگی کی کوئی دکان شروع کر لیتے یا موسیقی سکھانے کا کوئی اسکول کھول لیتے تو اُن کی اپنی تعلیمات کے منافی نہ ہونے کے باوجود کیا یہ کاروباراُن کے لیے مناسب ہوتا؟(اِس مثال کا مقصد موسیقی سے وابستہ افراد کی بے توقیری ہر گز نہیں ۔)بس یہی دلیل مولانا طارق جمیل کے باب میں بھی ہے ، انہیں کوئی ایسا کاروبار کرنا چاہیے تھا جو اُن کی تعبیرِ دین کے منافی نہ ہوتا۔یہا ں ایک بات کی وضاحت ضروری ہے کہ مولانا طارق جمیل کو فیشن سمیت ہر جائز کاروبار کرنے کا حق حاصل ہے، اِس ضمن میں کوئی قانونی رکاوٹ نہیں بلکہ میرے جیسا گناہ گار آدمی تو سب سے پہلے اُن کا گاہک بنے گا کہ میں تو دنیا دار ہوں۔ میرا مدعا صرف یہ ہے کہ اُن جیسے عالم دین کے لیے فیشن کا کاروبار مناسب نہیں تھا ، وہ تو ہمیں تقویٰ اور سادگی کا درس دیتے تھے ، اب اُ ن کی بات مانیں یا اُن کے برینڈڈ کپڑے خریدیں!
مولانا کی یہ بات قابل ستایش ہے کہ وہ اپنے کاروبار کی آمدن کو مدارس کے طلبا کے لیے وقف کر یںگے مگر اِس کے لیے ضروری ہے کہ وہ ’ہمدرد فاؤنڈیشن ‘ کی طرز پر قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے ایک ٹرسٹ بنائیں اور ہر سال تمام کھاتے اپنی ویب سائٹ پر ظاہر کریں۔مولانا کی دیانت میں کوئی شبہ نہیں مگر وقف کرنے کا درست طریقہ یہی ہے۔بصورت دیگر آمدنی وقف کرنے کا یہ دعوی ٰ اُن کمپنیوں سے مختلف نہیں ہوگا جو سارا سال نفع کمانے کے بعدایک آدھ فیصد Corporate Social Responsibilityکے نام پر خرچ دیتی ہیں جو اصل میں کمپنی کا مثبت تاثر قائم رکھنے کا خرچہ ہوتا ہے ۔
(گردوپیش کے لیے ارسال کیاگیا کالم)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker