اختصارئےلکھاریمظہر خان

کیا آئی ایم ایف کے ریلیف پیکج سے معیشت کو سہارا مل سکے گا ؟ ۔۔ مظہر خان

اس وقت پاکستان سمیت پوری دنیا معاشی بحران کا شکار ہے، امریکہ ہو یا چین یا صومالیہ کوئی بھی ملک ایسا نہیں جہاں معاشی بحران نہ آیا ہو، امیر ممالک اپنی کمپنیوں ، اداروں اور شہریوں کے لیے ریلیف پیکیج جاری کر رہے ہیں تاکہ اس بحران میں معیشت کو سہارا دیا جا سکے، بدلتے حالات کے ساتھ نت نئی منصوبہ بندیاں کی جا رہی ہیں تاکہ کرونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال سے معیشتوں کو سنبھالا جا سکے، ایسے میں ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف سمیت دنیا کے بڑے ادارے بھی ریلیف پیکیج اناؤنس کر رہے ہیں تاکہ ممالک کی گرتی معیشتوں کو سہارا مل سکے، امریکہ نے اپنی ایئر لائنز سمیت بڑی کمپنیوں اور عوام کے لیے دو ٹریلین ڈالرز کا پیکیج اناؤنس کیا ہے، اسی طرح چین نے بڑی کمپنیوں کو سنبھالا ہے۔
آئی ایف ایف اب تک 25 ممالک کے لیے ریلیف پیکیج کا اعلان کر چکا ہے اور دیگر غریب ممالک کے لیے بھی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے ۔ ایسے حالات میں تھرڈ ورلڈ سے تعلق رکھنے والے پاکستان کے لیے بھی معاشی مسائل بہت زیادہ ہیں، پاکستان کی معاشی گروتھ کئی دہائیوں بعد منفی میں جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے اور مہنگائی کی شرح 11 فیصد سے بھی زیادہ ہو گی، حکومت نے عوام اور انڈسٹریز کے لیے ریلیف پیکیج تو اناؤنس کیا ہے لیکن ہماری کمزور معیشت اس ریلیف پیکیج پر مکمل عملدرآمد کرانے میں بہت بڑی رکاوٹ ہے، ویسے بھی حالیہ دور حکومت میں پاکستانی معیشت پہلے ہی بری طرح متاثر ہوئی تھی اور ڈالرز کے ریٹ بڑھنے اور کساد بازاری میں اضافے نے عام آدمی کے لیے بہت مسائل پیدا کیے ہوئے تھے۔
موجودہ حالات میں وزیراعظم عمران خان کی طرف سے اندرون اور بیرون ملک مقیم مخیر پاکستانیوں سے فنڈنگ کی بھی درخواست کی گئی لیکن دنیا بھر کی مجموعی صورتحال سے اس میں خاطر خواہ کامیابی نہیں مل سکی، ایسے میں آئی ایم ایف کی طرف سے پاکستان کے لیے ایک ارب اور 38 کروڑ ڈالرز کے اضافی قرضے کی منظوری خوش آئند ہے اس سے پاکستانی معیشیت کو سنبھالنے میں بہت مدد ملے گی۔
لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان اقدامات سے ملکی معیشت کو مستقل سہارا مل پائے گا تو اس کا واضح جواب ہے کہ نہیں۔ اس کے لیے پاکستانی حکومت کو کچھ اچھا اور آگے بڑھ کر سوچنا ہو گا، اب وقت ہے ہم ایسی معاشی پالیسی اپنائیں جس کے دوررس نتائج حاصل کر سکیں، یہ وقت ہے ہم زراعت پر خصوصی توجہ دیں، پاکستانی ایک زرعی ملک ہے اور اس کی بیشتر انڈسٹری بھی زراعت سے منسلک ہے، اگر ہم چاہتے ہیں کہ مستقبل میں پاکستان ایک مضبوط معیشت بن کر ابھرے تو ہمیں تمام وسائل اور توجہ زراعت پر مرکوز کرنے کی ضرورت ہے یا ایسی سمت متعین کرنے کی ضرورت ہے کہ جب پوری دنیا اور ہم کرونا سے باہر نکلیں تو اس وقت کم از کم ہم معاشی خوشحالی کی راہوں پر چل نکلیں، ہم نہ آئی ایم ایف کے ہاتھوں گروی رہیں اور نہ ورلڈ بنک کے ہاتھوں بلیک میل ہوں بلکہ ہماری معیشت خود انحصاری پر مبنی ہو، پاکستانی ماہرین معیشت کے پاس وقت ہے کہ وہ ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچیں اور حکومت اس پر عملدرآمد یقینی بنائے، جو کام پاکستان بننے کے بعد ہونا چاہئیے تھا اور ہماری غلطیوں کی وجہ سے نہیں ہو سکا وہ آج کرنے کی ضرورت ہے، شاید قدرت نے ہمیں ایک اور موقع دیا ہے اور اگر اب بھی ہم نے درست راستہ اختیار نہ کیا تو کہیں ہم یہ سنہری موقع بھی نہ گنوا بیٹھیں اور کرونا وائرس سے نکلتے نکلتے مزید معاشی مسائل میں الجھ کر رہ جائیں

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker