ادبطلعت جاویدلکھاری

ہالی وڈ اور ڈاکٹر ڈڈول۔۔طلعت جاوید ( 2)

( گزشتہ سے پیوستہ )
غوری کئی روز سے سلیم ہالی وڈ کی تلاش میں سرگرداں تھا۔ وہ غوری کی کمرے میں موجودگی کے دوران وہاں قدم نہ رکھتا۔ نجانے کرایہ کی ادائیگی میں تاخیر ہوئی تھی یا غوری کرایہ بڑھانا چاہتا تھا ہر روز ایک قضیہ کھڑا رہتا تھا۔ ایک روز غوری کو کمرے میں سلیم کا الماری میں چھپایا ہوا بجلی کا ہیٹر مل گیا تو اس نے آسمان سر پر اٹھا لیا اور چوکیدار خان کو ساتھ ملا کر سلیم کا سامان کمرے سے باہر رکھنے لگا۔ سلیم ابھی دفتر سے واپس نہ آیا تھا۔ اگرچہ گیسٹ ہاؤس میں بجلی کا ہیٹر استعمال کرنے کی ممانعت تھی مگر کم و بیش ہر کمرے میں ہیٹر استعمال ہوتا تھا۔ جاڑوں کی سرد راتوں میں جب تمام کمروں میں ہیٹر لگے ہوتے تو صحن میں لگا ہوا بلب محض دیئے جتنی روشنی دے رہا ہوتا تھا۔ عام تاثر یہ تھا کہ غوری نے بجلی کا میٹر بند کرایا ہوا ہے لہٰذا کسی کو اس کے ساتھ ہمدردی نہ تھی۔سلیم کے کمرے کے باہر ایک ہجوم اکٹھا ہو گیا۔ تمام مکین غوری کو کمرہ خالی کرنے سے منع کر رہے تھے۔ غوری اپنی حمایت کے لیے باہر سے باورچی حاکم علی اور ٹیلر ماسٹر کو لے آیا جو بظاہر تو غوری کا ساتھ دے رہے تھے مگر دراصل ان کی ہمدردی بھی ہالی وڈ کے ساتھ تھی۔ اس اثنا میں اختر بینک سے واپس آ گیا، یوں تو وہ سلیم ہالی وڈ سے ناراض رہتا تھا مگر اس لمحے وہ سلیم کا طرفدار بن گیا اور غوری سے جھگڑنے لگا کہ وہ خود تو پانی اور بجلی کے بلوں میں ہیراپھیری کرتاہے، سرکاری ٹیکس ادا نہیں کرتا اور غریب کرایہ داروں اور طالب علموں کا استحصال کرتا ہے۔ اختر کی بلاتوقف انگریزی میں گفتگو اور دیگر حاضرین کی درخواست سے متاثر ہو کر بالآخر غوری نے سلیم کا سامان اندر رکھنے کی حامی بھر لی۔ اس اثنا میں سلیم بھی دفتر سے واپس آ گیا اور صورت حال دیکھ کر چونک سا گیا مگر جلد ہی اس نے خود پر قابو پا کر اپنی مجبوریوں کی ایسی پُر اثر اداکاری کی کہ غوری کا دل پسیج گیا۔ غوری نے سلیم کو گلے لگایا اور یہ کہتے ہوئے کہ
”اگر تیرا انصاف یہی ہے تو ٹھیک ہے۔“
سلیم کو سامان دوبارہ کمرے میں رکھنے کی اجازت مل گئی۔
ایک روز دو ادھیڑ عمر بھاری بھرکم خواتین چادریں اوڑھے اٹیچی کیس تھامے سلیم کی بابت پوچھتے ہوئے گیسٹ ہاؤس میں داخل ہوئیں۔ گلابی جاڑوں کے دن تھے۔ سلیم غسل خانے میں نہا رہا تھا اور نہاتے ہوئے گنگنا بھی رہا تھا۔ مہمان خواتین میں سے ایک سلیم کی والدہ اور دوسری اس کی خالہ تھی۔ چوکیدار نے غسل خانوں کے باہر رکھی ایک چارپائی پر انہیں بٹھا دیا اور سلیم کو آواز دے کر ان کی آمد سے مطلع کیا۔ سلیم نے دورانِ غسل ہی ان سے سلام دُعا کی اور اداکاری کرتے ہوئے کراہنے لگا کہ
”بے جی پانی بہت گیلا ہے۔“
دونوں خواتین چادروں میں منہ چھپائے ہنسنے لگیں۔ ہمیں اندازہ ہو گیا کہ یہ سارا خاندان ہی ازلی خوش مزاج ہے۔ سلیم یوں تو غسل خانے سے تولیہ باندھے ہوئے باہر نکلتا تھا اس روز چوکیدار کو آواز دے اپنے کپڑے منگوائے اور زیب تن کر کے والدہ اور خالہ کے ساتھ نہایت گرم جوشی سے ملاقات کی۔
مارچ 1977ءکے دن تھے، بھٹو کے خلاف PNA کی تحریک زوروں پر تھی۔ اختر کے فلک شگاف ریڈیو کی افادیت بہت بڑھ گئی تھی۔ صبح سویرے اور رات کو خصوصی طور پر بی بی سی کی نشریات سنی جاتیں اور گھنٹوں ان پر تبصرے ہوتے۔ گیسٹ ہاؤس کا صحن ہائیڈ پارک کا نقشہ پیش کرتا تھا۔ لوہاری گیٹ کی مسجد سے جلوس ترتیب پاتے اور ناصر باغ سے ہوتے ہوئے مال روڈ پر چیئرنگ کراس تک کا فاصلہ رات گئے تک طے کرتے۔ آنسو گیس، لاٹھی چارج اور گولی چلنے کی خبریں سینہ گزٹ سے ہوتی ہوئی رات کو خبرنامے سے تصدیق پاتیں اور صبح تازہ اخبار کی آمد کے بعد درست صورتحال کا اندازہ ہوتا۔ ایک روز خبر آئی کہ ریگل چوک پر احتجاج کرنے والے ایک نوجوان کی ایک فوجی کپتان کے ساتھ تلخ کلامی ہوئی اور کسی بات پر مشتعل ہو کر کپتان نے سرکاری پستول نکالا اور اس نوجوان کے سینے میں گولی اتار دی اور وہ موقع پر جاں بحق ہو گیا۔ اس روز گیسٹ ہاؤس میں موت کی سی خاموشی رہی۔ اگلے روز خبر آئی کہ لاہور کے GOC جنرل اقبال نے مظاہرین پر گولی چلانے سے انکار کر دیا ہے۔
ایک صبح صحن میں شور کی آواز سے آنکھ کھل گئی۔ ساتھ کے کمرے والے چوہدری صاحب صحن میں جوتے سے کسی کی پٹائی کر رہے تھے۔ ہر ضرب کے ساتھ ایک فحش گالی بھی نذر کرتے۔ سلیم اور اختر کی آوازیں بھی نمایاں تھیں۔ باہر نکل کر دیکھا تو چوہدری صاحب نے اپنی چارپائی الٹا رکھی تھی اور جوتوں کے وار کر کے کھٹمل مار رہے تھے جو انہیں رات بھر تنگ کرتے رہے تھے۔ اختر بلند آواز میں کھٹملوں کی نشاندہی کر رہا تھا اور انگریزی میں چوہدری صاحب کو ہدایات دے رہا تھا۔ سلیم اپنے دروازے میں کھڑا محض ”ہلہ شیری“ پر اکتفا کر رہا تھا۔ اختر کو چوہدری صاحب کی مدد کرتے دیکھ کر حیرت سی ہوئی ان کے درمیان تو ریڈیو کی بلند آواز کی وجہ سے کئی بار جوتم پیزار ہو چکی تھی۔ اختر چوہدری صاحب کو ان کے بار بار تھوکنے کی عادت کے باعث ”تھوتھو چیپ“ کہہ کر مخاطب ہوتا تھا۔ بہرحال اس مصیبت کی گھڑی میں وہ چوہدری صاحب کی صبح سویرے مدد کے لیے پیش پیش تھا۔
ایک صبح جب اختر کے کمرے سے انگریزی میں مغلظات بکنے اور سلیم کے قہقہوں کی آواز آئی تو ہڑبڑا کر کمرے سے باہر نکلا۔ پھولے ہوئے پیٹ والی ایک بلی اختر کے کمرے کے دروازے کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی۔ ادھر سلیم اپنے دروازے میں ورزش کر رہا تھا۔ جونہی اس نے اختر کو اپنے دروازے سے برآمد ہوتے دیکھا تو خودکلامی میں بولا کہ:
”اگر بلی نے عینک والے بچے دیئے……..“
ابھی اختر عینک کے شیشے صاف کر رہا تھا کہ اس جملے کا سیاق و سباق سمجھ گیا اور سلیم کو انگریزی میں گالیاں دینے لگا۔ گیسٹ ہاؤس کے تمام مکین اس مذاق سے خوب محظوظ ہوئے۔ سلیم ہالی وڈ اور اختر خشک مزاج، تنہا، اداس اور پردیسی طالب علموں کی اس آماجگاہ میں روزانہ کوئی نہ کوئی رونق کا سامان پیدا کیے رکھتے تھے۔
برسات کے دنوں میں جب لاہور میں بارش ہوتی تو زیریں علاقے زیرِ آب آ جاتے۔ گلیاں اور بازار دریا کا منظر پیش کرنے لگتے۔ شاہ ابولمعالی روڈ، نسبت روڈ اور گیسٹ ہاؤس کے صدر دروازے کے باہر تین سے چار فٹ پانی کھڑا ہو جاتا تھا اور ہم اپنے کمروں میں مقید ہو جاتے۔ ایک سہ پہر شدید گرمی کے بعد جب کالی گھٹائیں اُمڈ آئیں تو ہم نیم سوختہ طالب علموں کے چہروں پر رونق آ گئی۔ ذرا سی دیر میں چھاجوں مینہ برسنے لگا۔ ہم اپنے کمرے کے دروازے سے بارش کا منظر دیکھنے لگے۔ یکایک سلیم ہالی وڈ جانگیہ پہنے اپنے کمرے سے نمودار ہوا اور بارش میں نہانے لگا۔ ذرا سی دیر میں اختر بھی جانگیہ پہنے تھل تھل کرتے جسم کے ساتھ صحن میں نمودار ہوا۔ اس کے مرفی ریڈیو سے کسی ہیجان انگیز فلمی نغمے کی دھن نشر ہو رہی تھی۔ وہ دونوں گیسٹ ہاؤس کے صحن میں نہاتے نہاتے افریقہ کا جنگلی رقص پیش کرنے لگے۔ سب کمروں کے مکین دروازوں میں کھڑے تالیاں بجا رہے تھے۔ پہلی اور دوسری منزل کے زینوں کے اوپر بنی ہوئی برساتی کی چھت پر سے پرنالے کی موٹی سی دھار نیچے صحن میں گر رہی تھی۔ شاہ ابوالمعالی مسجد اور مزار کے سینکڑوں کبوتر دن بھر اس برساتی کی چھت پر بیٹھے رہتے تھے اور چھت ان کی آلائشوں سے بھری رہتی تھی۔ اس روز ہالی وڈ اور ڈاکٹر ڈڈول پرنالے کی موٹی دھار کے نیچے آنکھیں بند کیے یوں شانتی سے کھڑے باریاں لے رہے تھے جیسے صدپارہ جھیل کے کنارے کسی چشمے کے مصفحا ٹھنڈے پانی کی دھار کے نیچے غسل سے لطف اندوز ہو رہے ہوں۔ ڈاکٹر ڈڈول جب اپنی باری پر پرنالے کے نیچے آتا تو دونوں ہاتھوں سے عینک کے فریم کو تھام لیتا کہ مبادا عینک گر نہ جائے۔ گیسٹ ہاؤس کے بہت سے مکین اپنے اپنے کمروں سے نکلے اور بھیگتے ہوئے ان دونوں کے گِرد گھیرا ڈال کر ناچنے لگے۔ غمِ زندگی سے آزاد، بے فکر اور خوش باش۔
پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker