کالملکھاریوسعت اللہ خان

وسعت اللہ خان کا کالم : میں کسی سے نہیں ڈرتا ورتا۔۔۔

محمد زبیر کا نام سنا ہے؟
یہ نوجوان جو انڈین خبررساں ویب سائٹ آلٹ نیوز کے بانیوں میں شامل ہیں اور ان دنوں ایک ٹویٹ کے جرم میں بغاوت، ساز باز، بیرونِ ملک سے امداد، مذہبی منافرت پھیلانے اور دیش کو بدنام کرنے کی دفعات کے تحت پولیس تحویل میں ہے ۔وہ الگ بات کہ یہ ٹویٹ بھائی زبیر نے سنہ 2018 میں کی تھی اور گرفتار کرنے والوں کو اسے سمجھنے میں چار برس لگے۔مگر زبیر کا اصل قصور غالباً یہ ہے کہ حکمران بی جے پی کے ان دو عہدیداروں کے توہینِ مذہب سے متعلق بیانات کو سوشل میڈیا پر نمایاں کیا جن کے نتیجے میں نہ صرف مقامی مسلمان اقلیت میں احتجاجی بے چینی پھیلی، ایک ہندو شہری کا دو مسلمان شہریوں کے ہاتھوں قتل ہوا بلکہ دیگر مسلمان ممالک نے بھی توہین آمیز بیانات کی سرکاری سطح پر مذمت کرتے ہوئے مودی حکومت کو اقلیتوں کے ساتھ طرزِ عمل کو بہتر بنانے کے لیے دباؤ میں لانے کی کوشش کی۔
کچھ ایسے منافرتی و دیش بدنامی کے الزامات میں ریاست گجرات میں بیس برس پہلے ہونے والے مذہبی قتلِ عام کے حقائق سامنے لانے کی مسلسل کوشش کی پاداش میں سرکردہ انسانی حقوق کارکن تیستا سیتل واد بھی ان دنوں زیرِ حراست ہیں۔
اس سے پہلے معروف سٹینڈ اپ کامیڈین منور فاروقی پر بھی ان منافرتی لطائف کی بابت مقدمہ ٹھوکا گیا جو انھوں نے ابھی سنائے بھی نہ تھے۔ فاروقی نے اس ریاستی مذاق کی تاب نہ لاتے ہوئے اپنے پیشے سے ہی توبہ کرنے کی ٹھان لی۔
اور یہ تو ابھی جمعے کا ہی واقعہ ہے کہ صحافتی نوبیل انعام کہے جانے والے پلٹزرز پرائز حاصل کرنے والی انڈین کشمیری فوٹو گرافر ثنا مٹو کو دلی ایرپورٹ پر بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے باوجود پیرس جانے سے روک دیا گیا۔ اگلے دن مٹو کو معلوم ہوا کہ ان کے خلاف تو جموں میں کوئی پرچہ کٹا ہوا ہے اور وہ پولیس کو مطلوب ہیں۔
جانی مانی انڈین صحافن رعنا ایوب کی دبنگ رپورٹنگ کو بھلے باقی دنیا کتنا ہی سراہے اور اعزازات سے نوازے مگر وہ فی الحال اپنے وطن نہیں لوٹ سکتیں کیونکہ ہر صبح انہی کے ہم وطنوں کی جانب سے بھیجے گئے غلاظت بھرے ریپ کی دھمکیوں کے سینکڑوں ٹویٹ ان کے اکاؤنٹ پر جگمگا رہے ہوتے ہیں۔ وہ غدار، ملک دشمن اور انڈیا کو بدنام کرنے کی روز بروز لمبی ہوتی فہرست میں سرِفہرست ہیں۔
ان ہی حرکتوں کی بنا پر پاکستان میں نئے انڈیا کو ایسی نیم فاشسٹ ریاست سمجھا جاتا ہے جو مکمل یک جماعتی فسطائیت سے محض چند قدم پیچھے ہے۔اس قدر دگرگوں حالات اور بدنامی کے باوجود بھی انڈین سرکار ابھی تک آواز بند کرنے اور بنیادی سوالات اٹھانے کی حوصلہ شکنی کے معاملے میں فرسودہ نوآبادیاتی ہتھکنڈے استعمال کرنے کی سوچ سے باہر نہیں نکل پائی۔ حالانکہ نئے زمانے کے فطین مخالفین سے نمٹنے کے لیے ایک سے ایک منہ بند کرنے والے نویکلے طریقے نہ صرف دستیاب ہیں بلکہ مؤثر انداز میں استعمال بھی ہو رہے ہیں۔
باضابطہ گرفتاریوں، افسانوی ایف آئی آریں کاٹنے، جھوٹے گواہوں کا انتظام کرنے، مرضی کے ججوں کی کھوج، ریمانڈ میں توسیع در توسیع کے بہانے جیلوں میں ٹھونسے رکھنے، مجمع پر گولی چلانے اور لاٹھی ڈنڈے گیس کے دور سے دنیا کہیں آگے نکل گئی ہے۔یہ ہاتھ کی صفائی اور وارداتی ستھرائی کا دور ہے۔ ریاست کو براہِ راست سامنے آ کر کڑے سوالوں کا سامنا کرنے کی اب ضرورت ہی نہیں۔ یہ آؤٹ سورسنگ کا زمانہ ہے۔ کسی بھی ٹرول بریگیڈ کو مطلوبہ ہدف کی تصویر دے دو اور پھر اس کی ڈجیٹل سنگساری کا فاصلے سے لطف اٹھاؤ ۔
کسی شہری کے خاندان کی عورتوں کو تھانے بلا کے بے عزت کرنا ہم مشرقی ریاستوں کو ویسے بھی زیب نہیں دیتا۔اس سے بہتر ہے کہ جدید فیشن کے مطابق گھوسٹ اکاؤنٹس سے ان کی نجی، جعلی یا مارفڈ تصاویر ریلیز کروا دی جائیں۔ ریاستی مشینری پر ضمیر کا بوجھ بھی نہیں پڑے گا اور جس کی تصویر استعمال ہوئی ہے وہ صفائی دیتے دیتے ہی خرچ ہو جائے گا یا ہو جائے گی۔
بھلا کیا ضرورت ہے ایف آئی آر کاٹ کے کھلے عام گرفتار کر کے جیل میں بند کر کے ہیرو بنانے کی ۔جب منہ پر ڈھاٹے باندھ کر دیوار پھاند کے بندہ اٹھا کے بنڈل بنا کے بنا نمبر پلیٹ یا جعلی نمبر پلیٹ والی فور وہیلر میں پھینک کر یہ جا وہ جا کا مجرب و کامیاب نسخہ موجود ہے۔
اس کے بعد پیچھے رہ جانے والے متاثرین کو آزادی ہے کہ ایک سے دوسرے تھانے میں پرچہ کٹوانے کے لیے جوتیاں چٹخاتے پھریں، کبھی اس حساس ادارے سے اپیل کریں، کبھی فلاں غیر حساس ادارے کے در پر جائیں، کبھی ہائی کورٹ کی زنجیر ہلائیں تو کبھی سپریم کورٹ کے ججوں کی ایک نگاہ، جی ہاں صرف ایک نگاہ کے منتظر رہیں۔
جب بندے کا پتہ ہی نہیں کہ کون لے گیا، کہاں لے گیا، کب آئے گا، نہیں آئے گا تو کوئی بھی پلسیا، رکنِ پارلیمان، وزیرِ داخلہ، وزیرِ اعظم، وزیرِ اعلیٰ، تحقیقاتی کمیشن، عزت مآاب جج، انسانی حقوق کا کوئی مقامی و غیر مقامی ادارہ کیا بھاڑ پھوڑ لے گا۔
نہ بندہ غائب کرنے والے کا دستاویزی ریکارڈ ہے، نہ غائب ہونے والے کا کوئی قانونی ریکارڈ، نہ اس عمارت کا کوئی پتہ ہے جہاں وہ الٹا یا سیدھا لٹکا ہوا ہے اور نہ کسی ریمانڈ یا سماعت کی کھکیڑ ہے۔ ایسے میں اٹھانے والا اٹھنے والے کو طبیعت سے دھو دھا کے تھوتھے چنے میں بدل سکتا ہے۔
اکثر تو ان تھوتھے چنوں کا ڈھانچہ تک نہیں ملتا۔ یہ وہ ہیں جو مجسم اٹھتے ہیں اور پھر یادوں کی قبر میں دفنا دیے جاتے ہیں۔
ان میں سے کوئی کوئی زیادہ ہی خوش قسمت ہوا تو بے روح کھوکھا بن کے واپس آتا ہے۔ مگر گھر والے اس پر بھی اوپر والے کا شکر ادا کرتے ہیں جس نے اوپر والوں کے دل میں کم ازکم اتنا رحم تو ڈالا کہ زندہ لاش ہی لوٹا دی۔
یہ زمینی خدا چاہتے تو گولیوں سے کھڑکی بنا ہوا جسم بے چہرہ بھی لوٹا سکتے تھے یا کسی پرچی پر سندیسہ بھجوا سکتے تھے کہ فلاں ویرانے سے جا کے باقیات اٹھا لو۔اس ماحول میں وہ سب شہری خود کو قسمت کا دھنی سمجھیں جنہیں قلمی، زبانی، دانشی و سیاسی بکواس کے باوجود بے نام سائے محض لات، مکہ، چپیڑ مار کے بخش دیتے ہیں یا ایک آدھ بازو وازو یا انگلی توڑ کے چھوڑنے کا احسان کرتے ہیں یا پھر چند گھنٹوں اور دنوں تک مہمان نوازی کر کے واپسی کا کرایہ دے کر کسی ویران سڑک پے چلتی گاڑی سے اتار دیتے ہیں۔ ایسے آزاد لوگوں کو خود کو وی آئی پی سمجھنا چاہیے۔

( بشکریہ : بی بی سی اردو )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker