کالملکھاریوسعت اللہ خان

تو بھی تو دل دار نہیں ! ۔۔ وسعت اللہ خان

ٹی وی چینل پر صورت دکھانے کا نشہ ایسا ہے کہ اچھے اچھوں کو چپر غٹو بنا دیتا ہے۔کسی بھی ٹاک شو میں مہمانوں کو بھلے نہ بولنے دیا جائے، اینکر میڈیا کی آزادی کے نام پر بے شک ان کی عزت کا گریبان تار تار کر دے یا شرکاء کے منہ میں اپنے ایجنڈے کے لقمے بنا بنا کے ڈالنے کی کوشش کرے۔تب بھی مہمان اگلے دن وہی تار تار گریبان دوبارہ سی کر اسی شو میں جانے کے لیے تیار بیٹھا ہوتا ہے۔اس کے بعد یہی مہمان کسی کانفرنس یا سیمینار میں میڈیا کی بے لگامی کا مرثیہ بھی پڑھتا ہے، رونا بھی روتا ہے کہ صاحب بدتمیزی کی انتہا ہو گئی۔میڈیا کھلے پن کے نام پر بالکل ننگا ناچ رہا ہے۔ سچ بولتا ہے پر آدھا، سیدھی سی بات کو بھی توڑ مروڑ کر جلیبی بنا دیتا ہے، مخصوص ایجنڈے کو آگے بڑھاتا ہے۔جہاں کھڑے رہنے کی ضرورت ہے وہاں لیٹ جاتا ہے اور جہاں تمیز تہذیب سے بیٹھنے کی ضرورت ہے وہاں غنڈوں کی طرح ٹانگیں چوڑی کر لیتا ہے وغیرہ وغیرہ۔
اگر یہی ٹاک شو گزیدہ مہمان ایکا کر لیں کہ فلاں چینل پر کوئی نہیں جائے گا تو دیکھئے گا کہ چند دنوں میں ہی ہچر مچر کے بعد چینل کی ادارتی پالیسی کی ٹیڑھ کیسے کم نہیں ہوتی ؟ مگر ایسا یوں ممکن نہیں کہ شوگر ملز کے باہر اس وقت جتنی طویل گنے سے لدی ٹرالیاں قطار اندر قطار سوکھ رہی ہیں ان سے کہیں تعداد میں شوقین حضرات و عمائدین ٹی وی پر اپنا چہرہ دکھانے، پٹی میں چلنے یا خبروں میں آنے یا خود خبر بننے کے لیے بیتاب بیٹھے ہیں۔اگر ٹاک بازی کے دس ماہرین یا خدائی تجزیہ کار کسی پروگرام میں اصولی یا نیم اصولی بنیاد پر شرکت سے انکار کر بھی دیں تو ان کی جگہ ایک سو دس معززین لپکنے کو تیار بیٹھے ہیں۔ دوش پھر بھی میڈیا کی بے حسی و بددماغی کے گلے میں ڈالا جائے گا۔
جب سے میڈیا بالخصوص کچھ ٹی وی چینلز ریٹنگ کش دلیلی صحافت کو ٹاٹا بائی بائی کر کے ریٹنگ دوست دلالی صحافت پر کھل کے اتر آئے ہیں۔اس کے سبب سوشل میڈیا اور رائے عامہ میں ان چینلوں سے بیزاری جو پہلے ڈھکے چھپے انداز میں تھی اب کھل کے سامنے آگئی ہے۔مگر اک طرفہ تماشا ہے ناظر کی طبیعت بھی۔اس ناظرانہ بیزارانہ لہر کا توڑ اب یہ نکالا گیا ہے کہ جو جو اینکرز ’’ بدنام نہ ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا ’’ کے اصول پر یقین رکھتے ہیں، انھوں نے ہی میڈیا کی زبوں حالی اور اس کے اسباب پر اپنے چینلز، سیمیناروں اور میڈیا ورکشاپس میں ناصحانہ گفتگو شروع کر دی ہے۔بچارے شرکا سوائے سر کھجانے کے ( کہنا میں کچھ اور چاہ رہا تھا ) کچھ نہیں کر پا رہے۔سب سے سیانے وہ حاضر و سابق سیاستداں ہیں جو اپنی ریٹنگ برقرار رکھنے کے لیے روزانہ کوئی نہ کوئی ایسی پھلجڑی چھوڑ دیتے ہیں کہ سارا میڈیا اسے ہڈی سمجھ کے لپک پڑتا ہے۔اس معاملے میں ڈونالڈ ٹرمپ تو خیر عالمی چیمپئین ہیں۔رنر اپ مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی والے ہیں۔مگر پاکستان بھی کسی اچھے خان سے اس بابت زیادہ پیچھے نہیں۔ مثلاً یہ تو ہو ہی نہیں سکتا ہے کہ پرویز مشرف کبھی منہ کھولیں اور ان کی ریٹنگ چھت پھاڑ نہ آئے۔اس سے قبل یہ اعزاز الطاف حسین کے پاس تھا۔مگر اندرونِ ملک اینکرز کے ڈارلنگ شیخ رشید کا کوئی ثانی نہیں۔ اسٹوڈیو میں ہوں کہ اسٹیج پر، ان کے معیار کی گفتگو کوئی دوسرا سیاستداں نہیں کر سکتا۔اس معاملے میں شیخ رشید کے قریب ترین کند ہم جنس عمران خان روز بروز ’’ ریٹنگ کے لیے کچھ بھی کرے گا ‘‘ کے فلسفے پر راسخ تر ہوتے جا رہے ہیں۔ اب آپ کہیں گے کہ مثال دے کر خط کشیدہ الفاظ میں صاف صاف واضح کریں۔ایک آدھ مثال ہو تو دے بھی دوں کیونکہ کالم کا سپیس اتنا نہیں۔ان دگجوں کے بعد خواجہ آصف، سعد رفیق وغیرہ آتے ہیں اور پھر بی ٹیم شروع ہو جاتی ہے ، فواد چوہدری ، طلال چوہدری ٹائپ۔اور جب میڈیا میں ان اکابرین کے کسی جملے یا بیان کے تعلق سے بینڈ باجے کے ساتھ ہا ہا کار مچتی ہے تب ان جملہ بیان بازوں کو اس ہڈی جھپ تلملاہٹی الیکٹرونک غل غپاڑے سے جو آنند ملتا ہے کیا کسی چرس ، گانجے یا کوکین کے کش میں ملے گا۔
اب تو معاملہ اور اوپر تک جا پہنچا ہے۔ وہ بات پرانی ہوئی کہ جج نہیں ان کے فیصلے بولتے ہیں۔اب فیصلے بولیں نہ بولیں جج بولنے سے نہیں چوکتے اور جو من میں آئے بول دیتے ہیں۔ اب تو عزت ماآب بابا رحمت بھی میڈیا کو لال کپڑا دکھا کر جھکائی دینا سیکھ گئے ہیں۔
ریٹنگ کے تالاب میں تازہ تھرتھلی کا محرک آنر ایبل چیف جسٹس ثاقب نثار کی جانب سے دی گئی یہ مثال ہے کہ ’’ تقریر عورت کے اسکرٹ جیسی ہونی چاہیے۔اتنی طویل بھی نہیں کہ سننے والا بور ہو جائے ، اتنی مختصر بھی نہیں کہ موضوع ہی رہ جائے‘‘۔توجہ دلاؤ عرضی پر یہ وضاحت آئی کہ یہ مقولہ دراصل چرچل کا ہے۔میں نے تو بس چرچل کا چرچا کیا۔
حالانکہ اکثر ٹاک شوز میں اس وقت جس کینڈے کی گفتگو ہو رہی ہے اسے دیکھنے اور سننے کے بعد چیف جسٹس کی جانب سے چرچلئن مثال ایک ہلکی پھلکی پھلجڑی سے زیادہ نہیں مگر پھلجڑی بھلے جتنی چھوٹی ہو عہدہ بہرحال بہت بڑا ہے اور آپ تو جانتے ہی ہیں کہ جن کے رتبے ہیں سوا ان کی سوا مشکل ہے۔ابھی تو عزت ماآب چیف جسٹس کا کوئٹہ والا فرمودہ بھی نہیں بھولا کہ پاکستان بنانے کی تحریک میں ایک طرف تو مسلمان تھے اور دوسری طرف وہ قوم تھی جس کا میں نام بھی نہیں لینا چاہتا۔ اس عزت افزائی پر پاکستانی ہندوں نے جانے دل ہی دل میں کیا کیا خیال نہ باندھے ہوں گے۔ابھی تو پاناما پیپرز کیس میں نواز شریف کی نا اہلی کے بارے میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ کے فیصلے کی پہلی لائنیں بھی خشک نہیں ہو پا رہیں۔’’ ایک مافیا خاندان کی خونی کہانی کے بارے میں انیس سو انہتر میں شائع ہونے والے ماریو پیوزو کے مقبول ناول گاڈ فادر کا آغاز اس جملے سے ہوتا ہے کہ ہر بڑی دولت کے پیچھے جرم چھپا ہے ( بالزاک ) ‘‘۔
مگر صاحب یہ میڈیا تو آپے سے باہر ہوگیا ہے۔ اس کا کچھ ہونا چاہیے۔
ہم وفادار نہیں تو بھی تو دلدار نہیں
(بشکریہ ایکسپریس)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker