کالملکھارییاسر پیرزادہ

کیا ہم منحوس دور میں جی رہے ہیں ؟۔۔ذرا ہٹ کے/یاسر پیرزادہ

ہمارا سول سروس کا ایک دوست بڑی دلچسپ بات کیا کرتا ہے ، وہ کہتا ہے کہ جب میں نیا نیا نوکری میں آیا تھا تو بڑاخوش تھا کہ افسر بن گیا ہوں مگر وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ مجھ پر انکشاف ہوا کہ سرکاری نوکری میں اب وہ کرو فر نہیں رہا ، میری جب بھی کہیں نئی تعیناتی ہوتی اور میں چارج لینے کے بعد پی اے سے پوچھتا کہ ہاں بھئی اِس عہدے کی کیا مراعات ہیں ، دفتر میں کتنی گاڑیاں ، سرکاری رہائش گاہ کہاں ہے، میرے پاس کیا اختیارات ہیں تو ہمیشہ ایک ہی جواب ملتا کہ سر اب وہ بات نہیں رہی جو پہلے تھی، پہلے توسترہ گریڈ والے کے پاس چا ر چار گاڑیاں ہوا کرتی تھیں ،اب تو ہم نے مشکل سے آپ کے لیے ایک گاڑی سنبھال کر رکھی ہے ، سرکاری رہائش گاہ کی مرمت کے لیے فنڈ نہیں ہیں اور ”devolution“ کے بعداختیارات کا تو آپ کو پتا ہی ہے کہ کیا حال ہوا ہے ۔میرا دوست کہتا ہے کہ اِن بیس بائیس برسوں میں جب بھی کہیں پوسٹنگ ہوئی ہمیشہ یہی منحوس فقرہ سننے کو ملا کہ ”سر ،اب وہ پہلے والی بات نہیں رہی !“
تفنن برطرف ،ہماری نسل کے لوگ جو ستّر کی دہائی میں پیدا ہوئے اور اسّی کی دہائی میں جن کالڑکپن گذرا ،یہی منحوس جملہ سُن کر بڑے ہوئے کہ اب وہ بات نہیں رہی ۔سن ساٹھ اور ستّر کے جوقصے ہم نے اپنے بڑوں سے سُن رکھے ہیں وہ ہمارا دل جلانے کے لیے کافی ہیں ،مثلاً میرے ایک بزرگ دوست بتاتے ہیں کہ لاہور اور کراچی جیسے بڑے شہروں کی ’نائٹ لائف‘ بہت شاندار ہوا کرتی تھی ،بالکل ویسی جیسی کسی میٹرو پولیٹن شہر کی ہونی چاہیے ، لاہور کے مال روڈ پر ایک تھری بیلز نائٹ کلب ہوا کرتا تھا ،یہ فیروز سنز کے بالمقابل سڑک کے پار تھا اور کلب کی نشانی یہ تھی کہ اِس کے باہر تین بڑی بڑی گھنٹیاں لگی ہوئیں تھیں، اِس سے ذرا آگے ریگل چوک کی طرف ہوٹل کیسینو تھا ، یہ کوئی جوا خانہ نہیں تھا مگر یہاں ہر شام رقص ہوا کرتا تھا، اسی طرح مال روڈ پر ہی ریگل بس سٹینڈ کے پیچھے سٹینڈرڈ ہوٹل ہوتا تھا جو کیبرے ڈانس کے لیے مشہورتھا۔ہاں ایک میٹرو پول ہوٹل بھی تھا جو اُس جگہ واقع تھا جہاں آج واپڈا ہاؤس ہے ، اِس جگہ چھوٹی چھوٹی یک منزلہ عمارتیں تھیں جن میں سے ایک یہ ہوٹل تھا ،یہاں بھی ہر شام رقص کی محفل ہوتی تھی ، یہی حال فلیٹیز ہوٹل کا تھا جہاں ہالی وڈ کی اداکاری ایوا گارڈنر اپنی فلم کی شوٹنگ کے لیے ٹھہری تھی ، آج بھی اس کے نام کا سویٹ فلیٹیز میں موجود ہے ۔جہاں آج کل الفلاح بلڈنگ ہے اِس جگہ ایک وسیع ٹیکسی سٹینڈ ہوتا تھا جہاں فورڈ گاڑیاں بطور ٹیکسی امرا کے لیے دستیا ب ہوتی تھیں، انہیں ایک باوردی شوفر چلاتا تھا۔یہ ہلکی سی جھلک صرف لاہور کے مال روڈ کی ہے ۔اِس سنہری دور کی ایک اور خاص بات یہ تھی کہ آپ پاکستانی پاسپورٹ پر پوری دنیا گھوم سکتے تھے ، میرے والد صاحب نے اپنا لمبریٹا اسکوٹر بیچ کر چند ہزار روپوں میں پاکستان سے امریکہ تک کا سفر کیا جس میں یورپ کا بائی روڈ سفر بھی شامل ہے ، آج آپ اتنے پیسوں میں بمشکل سانگلہ ہل ہی جا سکتے ہیں۔اُس زمانے میں کوئی ویزادرکار تھا نہ امیگریشن کی جھنجھٹ ہوا کرتی تھی، ہپی از م کا دور تھا، جس کا جہاں دل کیا سو گئے ، جہاں دل کیے چل دیے ، کوئی پوچھنے والا نہیں تھا،کوئی ٹوکنے والا نہیں تھا، آج کل توہر شخص دوسرے کو مشکوک سمجھتا ہے اور رہی سہی کسر موبائل فون نے پوری کر دی ہے جس کی موجودگی میں لوگ آپس میں گفتگو ہی نہیں کرتے۔ کہاں ہپی ازم اور کہاں یہ موبائل ازم!
پھر ہم نے ستّر سے اسّی کی دہائی میں چھلانگ لگائی ، پہلے ملک میں مارشل لا لگا اور پھر ہمارے ہمسائے میں جنگ شروع ہو گئی ،ہم بھی اِس جنگ میں کود گئے ،ایسی آگ بھڑکی کہ اگلی کئی دہائیوں تک بجھائی نہ جا سکی ، اِس جنگ نے ہمارے معاشرے پر جو اثرات مرتب کیے ہم آج تک اُن سے چھٹکارا نہیں پا سکے ۔ملک میں ہیروئن ، کلاشنکوف اور انتہاپسند لٹریچر آیا، یہ لٹریچر پڑھ کر ہم جوان ہوئے ، ایک عجیب و غریب جنونی ذہن کے ساتھ ، جس میں کوئی تنقیدی شعور تھا اور نہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت۔خیر،خدا خدا کرکے مارشل ختم ہوا، پھر افغان جنگ بھی اپنے انجام کو پہنچی، ہم نے سوچا اب کچھ سکھ کا سانس ملے گا مگر یہ خوش فہمی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔مشکل سے ایک دہائی بغیر کسی عذاب کے گذری مگر 1999میں دوبارہ مارشل لا لگ گیا اور پھر وہ واقعہ ہوا جس نے دنیا ہمیشہ کے لیے بدل کرکے رکھ دی ، نیو یارک کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملہ ہو گیا،جس کے نتیجے میں2001میں پھر ہمارے ہمسائے میں جنگ شروع ہو گئی اوریہ خطہ پوری دنیا کی فوجوں کا اکھاڑہ بن گیا ۔ کچھ عرصہ ڈالروں کی ریل پیل رہی مگر پھر ایسی دہشت گردی شروع ہوئی کہ جس نے نہ صرف ہماری نسل کے لوگوں بلکہ بعد میں پیدا ہونے والوں کو بھی عجیب ذہنی مریض بنا دیا،کچھ پتہ نہیں چلتا تھا کہ کب کہاں کس جگہ دھماکہ ہو جائے اور کسی کا پیارا اس میں مارا جائے ، لوگ شام کو خیریت سے گھر واپس پہنچنے پر شکر ادا کرتے تھے ، مائیں بچوں کو اسکول یوں بھیجتی تھیں جیسے جنگ پر بھیج رہی ہوں۔ اللہ کا شکر ہے کہ یہ دور بھی ختم ہوا، انیس سال بعد امریکہ ایک معاہدہ کرکے افغانستا ن سے نکلنے کے لیے تیار ہو گیا ۔2020شروع ہوا تویوں لگا جیسے ہماری نسل کا منحوس دور ختم ہو گیاہے اور ا ب شاید ہم سکھ کا سانس لے پائیں گے، مگر نہیں ، اب وہ ہوا ہے جس کا کسی نے سوچا بھی نہیں تھا ، ایک ایسی عالمی وبا پھیلی ہے جس نے پوری دنیا کو دہشت زدہ کر دیا ہے ، بیشتر یورپ مکمل بند ہو چکا ہے ، امریکہ اور کنیڈا بند ہونے کے قریب ہیں ، عالمی منڈی میں افرا تفری کی صورتحال ہے ، لوگ ان دیکھے مستقبل سے خوفزدہ ہو کر خوراک ذخیرہ کرنے میں لگے ہیں ، وہ قومیں جن کی خوش مزاجی ، اخلاقیات اور ایثار کی ہم مثالیں دیتے نہیں تھکتے تھے اب وہی لوگ بازاروں میں ایک دوسرے سے آٹے کے تھیلے کے لیے گتھم گتھا ہیں ،ہوائی اڈے بند ہو رہے ہیں ، سٹا ک مارکٹیں بیٹھ چکی ہیں ،کسی کو کچھ پتہ نہیں کہ کل کیا ہوگا۔
یہ بات درست ہے کہ ہر دور کے اپنے مثبت اورمنفی پہلو ہوتے ہیں ،جیسے تیس اور چالیس کی دہائی میں پیدا ہونے والوں نے دوسری عالمی جنگ میں آنکھ کھولی اور پھر سن سینتالیس کا خون خواربٹوارہ دیکھا ،لیکن اِن لوگوں کی یہ خوش قسمتی ضرور تھی کہ انہوں نے تاریخ میں (نا چاہتے ہوئے بھی ) کوئی نہ کوئی حصہ ضرور ڈالا ، اِس دور میں ایک ایسے معاشرے میں رہنے کا تجربہ کیا جہاں مختلف مذاہب کے لوگ اکٹھے رہتے تھے ،پھر انگریزوں کے خلاف تحریک چلائی ، علیحدہ ملک حاصل کرکے ایک بالکل مختلف قسم کاتجربہ کیا ،اسی دور میں اردو ادب نے اپنا عروج دیکھا، سن تیس،چالیس اور پچاس کے عشرے میں جو ادب تخلیق کیاگیا اس کی مثال نہیں ملتی ۔اس کے برعکس ہم جس منحوس دور میں پروان چڑھے اس میں کوئی تاریخ بنتی دیکھی اورنہ آزادی کے پائے کا کوئی انقلاب دیکھا،ادب ، شاعری اورفلسفے میںبھی کوئی جان پیدا نہیں کی،بس ایک کے بعد دوسرا آمر آیااور پھرایک کے بعد دوسری افتاد آئی، ہم فقط تماشائی بنے بیٹھے رہے ۔ لیکن اِس میں خود کو ملامت کرنے والی بھی کوئی بات نہیں کیونکہ اِس پر ہمارا بس نہیں ،تاریخ میں اکثرواقعات یوں کروٹ بدلتے ہیں کہ درمیان کی کچھ دہائیوں میں زندگی بے معنی لگتی ہے، ہم ایسے ہی دور کی پیداوار ہیں ، اسی لیے یہ منحوس فقرہ سنتے ہوئے جوان ہوئے کہ اب وہ پہلے والی بات نہیں رہی!
( گردوپیش کے لئے ارسال کیا گیا کالم )

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker