کالملکھارییاسر پیرزادہ

زندگی میں پچھتاوے نہیں ہونے چاہئیں۔۔یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم

پسند کی شادی کا ارادہ کرنے والے کسی نوجوان نے ایک مرتبہ مجھ سے پوچھا کہ کیا اسے اپنی مرضی کی شادی کرنی چاہیے یا والدین کی بات مان کر اُن کی من پسند بہو کے حق میں ہاں کر دینی چاہیے ؟ جواب میں اُس سے میں نے کچھ سوال کیے تاکہ اندازہ لگا سکوں کہ وہ شادی کو کتنا سنجیدگی سے لیتا ہے ، عورت کے بارے میں اُس کے کیا خیالات ہیں ، کہیں وہ محض جوانی کے اُبال کے تحت کوئی فیصلہ تو نہیں کررہا اور لڑکا اور لڑکی کا خاندان سماجی رتبے اور ’کلاس‘ کے اعتبار سے برابر ہے یا دونوں میں غیر معمولی فرق ہے؟جب وہ اِن تمام باتوں کا غیر تسلی بخش جواب دے چکا تو میں نے اُس سے کہا کہ زندگی میں کوئی بھی بڑا یا چھوٹا فیصلہ کرتے وقت دو باتوں کو مدنظر رکھنا چاہیے ۔ پہلی بات تو یہ کہ اُس فیصلے کے نتیجے میں کوئی پچھتاوا نہ ہو اور دوسری یہ کہ اُس فیصلے کے نتائج اور مضمرات کا سامنا کرنے کی آپ میں ہمت اور حوصلہ ہو۔پھر اُس نوجوان سے میں نے کہا کہ اپنی شادی کے فیصلے کو اِن دونوں باتوں کی چھلنی سے گزار کر دیکھو کیا ہوتا ہے ؟ جواب میں اُس نے ہونقوں کی طرح پوچھا ’کہا ں ہے چھلنی ؟‘ دل تو کیاکہ اِس بات پر میں اپنا ہی سر پیٹ لوں مگر مجھ پر ’کاونسلنگ ‘ کا بھوت سوار تھا سو میں نے پروین شاکر کی طرح کمال ضبط سے خود کو آزمایا اور شادی سے متعلق کچھ ’عملی ٹِپس‘ دے کر نوجوان کو نیک تمناوں کے ساتھ رخصت کر دیا ۔یہ بتانے کی چنداں ضرورت نہیں کہ فدوی سے مشاورت کے بعد اُس کی زندگی میں چند ماہ میں ہی کیسے انقلاب آ گیا اور پھر کس تیزی کے ساتھ اُس نے کامیابی کی منازل طے کیں ۔ آپ کے لیے فقط اتنا جاننا کافی ہے کہ آج کل اُس کے جسم سے شعائیں نکلتی ہیں ،وہ روزنامہ کالک کا ایک ممتاز کالم نگار ہے اور شام کو تاج سنیما کے باہر مالشیے کا کام کرتاہے ۔دونوں کاموں کا ریٹ نہایت مناسب ہے ۔
آپ میں سے جن لوگوں کا خیال ہے کہ یہ واقعہ میں نے محض تفنن طبع کی غرض سے بیان کیا ہے اُن کا خیال درست ہے ۔ اصل بات جو میں اُس نوجوان کو سمجھانا چاہتا تھا وہ صرف یہ تھی کہ زندگی میں کوئی پچھتاوا نہیں ہونا چاہیے اور پچھتاوے سے بچنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ زندگی کے فیصلے اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق ہمیشہ خود کریں۔ اِس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ شادی ، کاروبار یا ملازمت جیسے گمبھیر معاملات میں کسی سیانے آدمی سے مشورہ ہی نہ کریں ۔ نہ صرف یہ کہ کسی مرد عاقل سے مشورہ کریں (سمجھدار خاتون ہو تو زیادہ بہتر ہے ) بلکہ فیصلے سے پہلے معاملے کے تمام پہلووں کی پڑتال کریں اور دیکھیں کہ مختلف پہلووں سے فیصلے کے کیا ممکنہ نتائج برآمد ہو سکتے ہیں اور اِن نتائج میں سے کو ن سی صورتحال سے آپ نمٹ سکتے ہیں اور کس سے نمٹنا آپ کے لیے مشکل ہوگا۔ اِس مشق کے بعد اپنی سمجھ بوجھ اور عقل و فہم کو بروئے کار لا کر خود فیصلہ کریں تاکہ بعد میں کوئی پچھتاوا نہ ہو۔شادی کی مثال ہی لے لیں۔
ایک شخص پسند کی شادی کرنا چاہتا ہے مگروالدین راضی نہیں ،بہترین بات تو یہ ہوگی کہ والدین کو راضی کر لیا جائے لیکن اگر وہ نہ مانیں تو پھر کیا کیا جاوے؟ اُس صورت میں اپنے سامنے یہ چار ممکنہ صورتیں رکھنی چاہئیں۔پہلی، اگر میں نے اپنی پسند کی شادی کی اور وہ کامیاب ہو گئی تو پھرمیری زندگی سکھی ہو جائے گی،کوئی پچھتاوا نہیں ہوگا ۔ دوسری، اگر میں نے اپنی مرضی کے برعکس گھر والوں کے دباو میں شادی کی اور وہ کامیاب نہ ہوئی تو زندگی بھی تباہ ہوگی اور پچھتاوا بھی تمام عمر پیچھا نہیں چھوڑے گا۔ تیسری، اگر اپنی مرضی سے کی گئی شادی نہ چلی تو زندگی میں سکھ نہیں ملے گا مگر یہ حسرت بھی نہیں رہے گی کہ اپنی مرضی نہیں کی ، مطلب یہ کہ پچھتاوا نہیں (یا کم )ہوگا۔ چوتھی،اگر اپنی پسند کی لڑکی کو چھوڑ کر گھر والوں کی پسند کی شادی کی اور وہ کامیاب ہو گئی تو زندگی میں سکھ تو مل جائے گا مگر شاید یہ پچھتاوا رہ جائے کہ کاش اپنی پسند کی لڑکی سے ہی شادی کر لیتا۔ سو، آخری تجزیے میں جو بات اہمےت رکھتی ہے صرف یہی ہے کہ جب بندہ بستر مرگ پر ہو اور اُس کی پوری زندگی کی فلم ’ریوائنڈ‘ ہو کر اُس کی آنکھوں کے سامنے چلے گی تو اُس فلم میں پچھتاوے کم سے کم ہوں۔ اپنی زندگی کی فلم کے ہر سین کے بعد وہ تڑپ کر یہ نہ کہے کہ کاش اُس وقت میں نے پسند کی شادی کی ہوتی ، کاش میں نے دنیا دیکھ لی ہوتی ، کاش اپنا قیمتی وقت معمولی کاموں میں برباد نہ کیا ہوتا ، کاش دولت کمانے کے ساتھ ساتھ اپنی ذات پر بھی پیسہ خرچ کیا ہوتا،کاش دوسرے انسانوں کی زندگی سنوارنے میں اُن کی مدد کی ہوتی یا کاش کوئی کام ایسا کیا ہوتا جس پر مجھے فخر ہوتا !
پچھتاوے کا ’فلٹر‘ لگانے کا بعد دوسرا فلٹر نتائج کا لگائیں اور یہ سوچ کر فیصلہ کریں کہ آپ ہمت اور حوصلے کے ساتھ اپنے فیصلے کے اچھے برے نتائج کا سامنا کریں گے ۔ہم زندگی میں جو مختلف فیصلے کرتے ہیں اُن کے کچھ مضمرات ہوتے ہیں ، اُن مضمرات کا ہمیں ادراک ہونا چاہیے۔لیکن کوئی بھی انسان ،چاہے وہ کتنا بھی ذہین اور عقل مند کیوں نہ ہو،کسی معاملے کے تمام پہلووں سے آگاہی نہیں رکھ سکتا اور نہ ہی کسی کے پاس ایسا کوئی طریقہ ہے جس سے وہ یہ جان سکے کہ اُس کا کوئی فیصلہ آئندہ زندگی میں کتنا سود مند ثابت ہوگا۔ اوائل عمری میں لوگ نا سمجھ ہوتے ہیں ، تجربے کے ساتھ سیکھتے ہیں ، انجانے میں غلطیاں کر جاتے ہیں ، اِن باتوں کا کوئی لگا بندھا حل نہیں۔لہذا جتنی جلدی ہو ہمیں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ زندگی میں ہم جو بھی فیصلے کرتے ہیں اُن کا اچھا برا، چھوٹا بڑا، معمولی یا غیر معمولی ،کوئی نہ کوئی نتیجہ ضرور نکلتا ہے،اُن نتائج کا سامنا کرنے کا ہم میں حوصلہ چاہیے۔اگر یہ نتائج مثبت ہوں تو کوئی ملال کی بات نہیں ، لیکن اگر کسی فیصلے کا نتیجہ منفی نکل آئے تو قسمت کو کوسنے کی ضرورت نہیں کیونکہ کلیہ نمبر ایک کے مطابق یہ فیصلہ آپ کا اپنا تھا لہذا پچھتاوا کیسا؟ دراصل ہماری زندگی کے بہت سے فیصلے ایک انجانے سماجی دباو کے تحت بھی ہوتے ہیں اور وہ دباو ’لوگ کیا کہیں گے ‘ کا ہوتا ہے ۔ویسے تو یہ بات خاصی گھسی پٹی ہے کہ ’لوگ کیا کہیں گے ‘ سے کوئی فرق نہیں پڑتا ، سچی بات ہے کہ فرق پڑتا ہے ، ہم کسی جنگل میں نہیں رہتے ، انسانوں کے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں انسانوں سے میل ملاقات کے بغیر جینا ممکن نہیں،سو لا محالہ جب لوگ آپ کے بارے میں کوئی منفی رائے (درست یا غلط) بنا لیتے ہیں تو اِس سے آپ ایک قسم کے سماجی دباوکے زیر اثر آ جاتے ہیں ۔ کلیہ اِس ضمن میں یہ ہے کہ صرف اُن لوگوں کی رائے کی پروا کریں جو آپ کے قریب ہیں، ہمدرد اور خیر خواہ ہیں ، مخلص اور مدد گار ہیں تاہم کسی بھی معاملے میں حتمی فیصلہ آپ ہی کا ہونا چاہیے ۔پچھتاوے سے بچنے کا یہ تہر بہدف نسخہ ہے ۔
(گردوپیش کے لیے ارسال کیاگیاکالم)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker