افغانستان میں طالبان کی فتح کو چھ ماہ سے زیادہ ہوچکے ہیں، امریکہ وہاں سے دُم دباکر بھاگ چکا ہے، افغانستان میں بھارتی قونصل خانے بند ہو چکے ہیں، اشرف غنی جو ہمیں ایک آنکھ نہیں بھاتا تھااِس وقت عرب امارات میں کہیں پناہ لیے بیٹھا ہے،کابل میں ہماری مرضی کی حکومت قائم ہو چکی ہےجس کی ہم دنیا بھرمیں وکالت کرتے پھر رہے ہیں، سرحد پاردہشت گردوں کو بھارتی ایجنسیوں کی جو پشت پناہی حاصل تھی وہ ختم ہو چکی ہے، جس قسم کا افغانستان ہم چاہتے تھے الحمد اللہ ہم نے وہ ’حاصل ‘کر لیاہے، ہماری جو بھی حکمت عملی تھی اُس کا اگر کوئی آئیڈیل نتیجہ نکل سکتا تھا تو وہ نکل آیا ہے۔ ۔ ۔ لیکن اِس کے باوجود نہ جانے کیوں جمعے کو پشاور کی مسجدمیں خود کش حملہ ہو اجس میں 62 نمازی شہید ہوگئے۔ یہاں میں ایک بات کا اعتراف کرنا چاہتا ہوں اور وہ اعتراف یہ ہے کہ اپنے ہم عصر اور سینئر لکھاریوں کے برعکس میرے پاس بعض اوقات سیدھی سادھی باتوں کا جواب بھی نہیں ہوتا۔ اور ظاہر ہے کہ اِس کی وجہ میری کم علمی ہے ۔ اور کم علمی کا اِس سے بڑا ثبوت اور کیاہوگاکہ میں نے پشاور میں دھماکے کے ڈانڈے افغانستان کی فتح سے جوڑ دیئے ہیں،بھلا اِن دونوں باتوں کا آپس میں کیا تعلق! لیکن ذرا ٹھہرئے۔ یہ ’’تھیسز‘‘ میرا نہیں بلکہ اُن بزرجمہروں کا ہے جو ’’سٹریٹیجک ڈیپتھ‘‘ وغیرہ جیسی تھیوریوں کو نہ صرف سمجھتے ہیں بلکہ گاہے بگاہے ہمیں اُن کے رموز سے بھی آگاہی دیتے رہتے ہیں ۔ ہمیں یہ تمام باتیں اِن پنڈتوں نے ہی سمجھائی تھیں کہ جب افغانستان میں ہماری مرضی کی حکومت قائم ہوگی (جوکہ الحمد اللہ اب قائم ہو چکی ہے) تو پاکستان میں امن ہو جائے گا۔ امن تو خیر کیا قائم ہونا تھا، جو دہشت گردی ہمارے فوجی جوانوں اور پولیس کے سپاہیوں نے اپنا لہو دے کر ختم کی تھی وہ دوبارہ سے سر اٹھانے لگی ہے ۔ گزشتہ چھ ماہ کے دوران بلوچستان میں حملے یکایک بڑھ گئے ہیں اور پشاور دھماکے نے تو گویا ہمیں وہ وقت یادکروا دیاہے جب ہمارے شہروں میں آئے روز خود کُش حملے ہوتے تھے۔ کچھ جینئیس لوگوں نے ہمیں یہ بھی بتایا تھا کہ اب افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی کیونکہ اشرف غنی کے دور میں بھارتی ایجنسی را یہاں دھماکے کرواتی تھی ۔ اب چونکہ یہ نیٹ ورک ختم ہو چکاہے اِس لیے دہشت گردی بھی ختم ہو جائے گی۔ مجھ ایسے بندے کے ذہن میں چونکہ مفسد خیالات پنپتے رہتے ہیں سو انہی خیالات کے زیر اثر میں نے کہا تھا کہ ایسا نہیں ہوگاکیونکہ امریکہ کے جاتے ہی وہ تمام دہشت گرد جنہیں اشرف غنی کی حکومت نے افغانستان کی جیلوں میں بند کر رکھا تھا، رہا کر دئیے گئے یا بھگا دئیے گئے۔ ظاہر ہے کہ رہائی کے بعد انہوں نے ہاورڈ میں تو داخلہ نہیں لینا تھا، انہوں نے وہی کام کرنا تھاجو انہیں آتا تھالہذا وہ وہ کام شروع ہو گیا ہے ۔
لیکن یہ باتیں نقار خانے میں طوطی کی آواز ہی ہیں۔ ہم صرف دعا کر سکتے ہیں یا مرنے والوں کو شہید کہہ کر اپنا غم غلط کر سکتے ہیں ۔ اے پی ایس میں مرنے والے بچوں کوبھی ہم نے شہید کہا تھا جس پر ایک بچے کی ماں چلا اٹھی تھی کہ میں نے اپنا بچہ اسکول میں پڑھنے کے لیے بھیجا تھا، جنگ میں شہید ہونےکے لیے نہیں ۔ پشاور میں مرنے والے بھی کوئی جنگ لڑنے نہیں گئے تھے، وہ تو نماز جمعہ ادا کرنے گئے تھے۔ مذمتی بیانات بھی آنے شروع ہو گئے ہیں۔ وہی منظر آنکھوں کے سامنے لہرانے لگا ہے جب ہر دھماکے کے بعد بے معنی اور کھوکھلے مذمتی بیانات جاری کیے جاتے تھے اور مرنے والوں کے درجات بلند کرنے کی دعائیں کرکے سمجھا جاتا تھا کہ فرض ادا کر دیاگیا۔ آئن سٹائن نے کہا تھا کہ ہر مرتبہ ایک ہی قسم کا تجربہ کرکے یہ امید رکھنا کہ نتیجہ مختلف نکلے گا،پرلے درجے کی حماقت ہے۔ کئی دہائیوں ہم ایک ہی تجربہ مختلف قسم کے طریقوں سےکیے جا رہے ہیں اور ہمارا خیال ہے کہ کبھی نہ کبھی نتیجہ مختلف نکلے گا، یقینا یہ حماقت سے بھی آگے کاکوئی درجہ ہے ۔ جیسا کہ میں اپنی کم علمی کا اعتراف کرچکا ہوں اِس لیے یہ دہرانے میں کوئی حرج نہیں کہ میرے پاس اِس سوال کا جواب نہیں کہ یہ سلسلہ اب کہاں جا کر رکے گا۔ اگر سکالر حضرات سے پوچھیں تو وہ جواب میں عالمی امور کے ماہر بن کر ایسے لطیف نکات بیان کرتے ہیں کہ بندہ سر دھُنتا تو رہ جاتا ہے مگر یہ سمجھ نہیں آتی کہ اِن سب باتوں کا مطلب کیا ہے۔ اگر اِن سیانوں کی باتوں میں کوئی وزن ہوتا تو آج ہمارا یہ حال نہ ہوتا۔ پشاور دھماکے کے 62 شہیدوں کے ورثا کویہ باتیں سمجھ نہیں آئیں گے ۔ بلوچستان میں شہید ہونے والے ایف سی اور فوج کے اہلکاروں کے بچوں کوبھی اِس قسم کی سفارتی باریکیوں سے کوئی مطلب نہیں کہ آج افغانستان میں کس کی حکومت ہے اور کون اپنا بوریا بستر لپیٹ کر دوڑ گیا۔ انہیں صرف اِس بات کا علم ہے کہ اُن کے سر پر اب کوئی آسرا نہیں رہا اور اُن کی دنیا لُٹ چکی۔ بندہ سٹریٹیجک ڈیپتھ کے اِن ماہرین سے پوچھےکہ اب بھی کیا ہم افغانستان میں فتح کا جشن منائیں ؟ اور اگر یہ جشن منانا ہے تو کیا یہ جشن پشاور دھماکے میں بکھری ہوئی لاشوں پر منایا جائے یا بلوچستان میں شہید ہونے والے فوجیوں کے تابوت پر!
آج سے آٹھ دس سال پہلے جب ملک میں دہشت گردی عروج پر تھی تو ہر لمحہ یہ خوف رہتا تھا کہ کہیں کوئی دھماکہ نہ ہو جائے۔ ہم سوچتے تھے کہ پتا نہیں اِس عفریت سے کب نجات ملے گی لیکن پھر وہ دن بھی آئے جب ملک سے دہشت گردی کا تقریباً خاتمہ ہو گیا۔ اب دہشت گردی کا یہ جن پھر بوتل سے نکل رہا ہے اور اِس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے بوتل کا کاگ مضبوطی سے بند کرنے کی بجائے اتار کر رکھ دیا ہے او راِس مغالطے میں ہیں کہ یہ کاگ ہمارا ہمسایہ آکر بوتل میں لگائے گا۔ بہتر ہے کہ ہم یہ کام خود کر لیں کیونکہ ہمسائے کو صرف بوتل سے کاگ اتارنا آتا ہے، بوتل کو بند کرنا اُس نے سیکھا ہی نہیں ۔
کالم کی دُم: کرکٹ میں ’لیجنڈ‘ کا لفظ اگر کسی شخص کے لیے استعمال ہوسکتا ہے تو وہ شین وارن ہے لیکن صرف لیجنڈ ہی کیوں، جادو گرکا لفظ بھی شین وارن کی تعریف پر پورا اترتاہے۔ شین وارن نے 1993 میں پہلی مرتبہ ایشز میں باؤلنگ کروائی تو اپنی پہلی ہی گیند پر مائیک گیٹنگ کو بولڈ کردیا، اِسے Ball of the Century بھی کہا جاتا ہے،جولوگ جادو پر یقین نہیں رکھتے انہیں چاہیے کہ وہ شین وارن کی باؤلنگ دیکھیں، اُن کا جادو پر ایمان پختہ ہو جائے گا۔ اُس وقت وارن کی عمر صرف بائیس برس تھی۔ ایک مرتبہ عبدالقادر مرحوم سے میری ملاقات ہوئی تو انہوں نے وارن کے ساتھ ہونے والی اپنی ملاقات کا احوال سنایا کہ کس طرح شین وارن خاص طور سے لاہور میں اُن کے گھر آیا اور انہیں یوں ملا جیسے وہ وارن کے روحانی استاد ہوں، وارن نے بتایا کہ اُس نے اپنے گھر میں قادر کی باؤلنگ کا ریکارڈ رکھا ہوا ہےجسے وہ سیکھنے کی غرض گاہے بگاہے دیکھتا رہتا ہے۔ اُس ملاقات میں قادر کچھ دیر کے لیے ڈرائنگ روم سے باہر گئے تو وارن نے وہاں موجود ساتھی کرکٹر سے کہاکہ وہ سگریٹ پینا چاہتا ہے، اِس پر اُس نے کہا کہ شوق سے پیو، مگر وارن نےجواب دیا کہ میں عبدل کے سامنے سگریٹ پینے کی گستاخی نہیں کر سکتا۔ شین وارن نے آسٹریلیاکو لا تعداد میچ جتوائے، انگلینڈ اور پاکستان تو خاص طور سے وارن کے پسندیدہ حریف تھے، مجھے نہیں یاد پڑتا کہ پاکستان کا کوئی ایک بھی بلے باز وارن کے سامنےجم کر کھیل سکا ہو۔ اپنی موت سے بارہ گھنٹے پہلے شین وارن نے ایک ٹویٹ کی جس میں اُس نے آسٹریلوی کرکٹر روڈنی مارش کی وفات پر غم کا اظہار کیا تھا، اسے کیا معلوم تھا چند گھنٹوں بعد دنیا اُ س کی موت پربھی ایسے ہی ٹویٹ کر رہی ہوگی۔ کہنے میں یہ بات بے شک گھسی پٹی ہی لگے مگر مجھے نہیں لگتا کہ شین وارن جیسا سپنر کم ازکم اِس صدی میں دوبارہ پیدا ہوگا۔
(گردوپیش کے لیے ارسال کیا گیا کالم)
فیس بک کمینٹ

