دنیا کا ایک جملہ ایساہے جو بیک وقت بوربھی ہے اور دلچسپ بھی،سادہ بھی ہے پیچیدہ بھی ، کوئی جھوٹ بولے تو سچ لگتا ہے اور سچ بولے تو جھوٹ لگتا ہے، اسے آپ گھساپٹا جملہ بھی کہہ سکتے ہیں مگر جیسے ہی کوئی شخص یہ جملہ ادا کرتا ہے تو ہیجان انگیز بن جاتاہے، ویسے تو یہ دنیا کا سب سے قدیم جملہ ہے مگر آج بھی جب ہم کسی کے منہ سے سنتے ہیں تو گمان ہوتاہے جیسے بولنے والےپر تازہ تازہ وارد ہوا ہے ۔ جملہ بہت آسان ہےاور ہم سب نے سینکڑوں مرتبہ بولا اور سنا ہوگا :’مجھے تم سے محبت ہے۔‘اِس جملے میں ایک جہان آباد ہے ، جب کوئی شخص یہ جملہ بول کر اظہار محبت کرتا ہے تو اِس کا مطلب ہوتا ہے کہ اُس نے وہ تمام کہی اور ان کہی شرائط تسلیم کر لی ہیں جو اِس جملے کے نتیجے میں از خود لاگو ہوجاتی ہیں ، بالکل ایسے جیسے آپ گوگل کا کھاتہ بنانے لگیں تو پہلے وہ آپ کو پابند کرتا ہے کہ آپ اُن تمام شرائط سے ’متفق ‘ہوں جو کئی صفحات پر پھیلی ہوتی ہیں اور جنہیں ہم پڑھے بغیر ’کلک‘ کرنے پر مجبور ہوتےہیں کیونکہ اِس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی راستہ ہی نہیں ہوتا ۔محبت میں بھی بندہ ایسے ہی بے اختیار ہے، فرق صرف یہ ہے کہ برطانوی آئین کی طرح محبت کی شرائط بھی تحریری شکل میں موجود نہیں مگر اِس کے باوجود عاشقوں کو اِن شرائط کا اچھی طرح علم ہے۔ جب کوئی عاشق محبت کا دعویٰ کرتا/کرتی ہے تو یہ تمام غیر تحریری شرائط کسی نہ کسی شکل میں اُس کے علم میں ہوتی ہیں یہی وجہ ہے کہ آج تک کسی نے ’آئی لو یو‘ کے جواب میں یہ نہیں پوچھا کہ اِس کا کیامطلب ہےتاہم یہ اور بات ہے کہ بعض مخصوص حالات میں اِس جملے کا ردعمل خاصا عجیب و غریب اوربالکل غیر متوقع ہوسکتا ہے ۔ لیکن سچا عاشق ہمیشہ ہر قسم کے حالات کے لیے تیار رہتا ہے ، اُس کے لیے کسی بھی قسم کا ردعمل عجیب نہیں ہوتا، معشوق کا ریسپانس چاہے کیسا بھی ہواور عاشقی کی کتاب میں اِس بابت کچھ بھی نہ لکھا ہو، عاشق خود کو محبوب کی متلون مزاجی کے مطابق ڈھال لینے میں ذرا بھی تامل سے کام نہیں لیتا بلکہ اُلٹا اِس میں فخر محسوس کرتا ہے۔ اِس پورے عمل کے پیچھے محبت کی وہی قدیم ، لازوال روایات اور اٹل اور غیر تحریری شرائط ہیں جنہیں من و عن تسلیم کرنا ہر فرمانبردار عاشق کا فرض ہے۔لیکن کچھ عاشق سچے ہونے کے ساتھ ساتھ احتیاط پسند بھی ہوتے ہیں ، وہ چاہتے ہیں کہ اظہار محبت کرتے ہی سب باتیں طے کر لیں تاکہ بعد میں فریقین کے درمیان کسی قسم کی غلط فہمی نہ ہو ۔ میری رائے میں ایسے عاشق معصوم ہوتے ہیں ، انہیں اِس بنیادی بات کا ہی ادراک نہیں ہوتا کہ محبت ایک واحد چیز ہے جس میں آپ سب کچھ طے کربھی لیں تو اُس سے کچھ فرق نہیں پڑتا، حتّی ٰ کہ اگر عاشق معشوق سے اشٹام بھی لکھوا لے تو اُس سے کسی نہ کسی ان کہی شق کی خلاف ورزی ہو ہی جائے گی۔
ویسے تو اِس معمے کا کوئی آسان حل نہیں البتہ اردو شاعری اِس ضمن میں ہماری رہنمائی ضرور کرسکتی ہے۔ جیسے میں نے کہا کہ برطانوی آئین تو تحریری نہیں مگر کچھ روایات اتنی مسلمہ ہیں کہ اُن سے انحراف ممکن نہیں ۔اردو شاعری میں بھی ایسے ہی کچھ مسلمات ہیں ، اگر عاشقان اُن کو پلے سے باندھ لیں گے تو اُنہیں محبوب کو سمجھنے اور اسےرام کرنے میں آسانی ہوگی ورنہ یہ عمر بھر کا سفر رائیگاں تو ہے ۔مثلاً اردو شاعری کی رُو سے عاشق کو شوق شہادت ہونا چاہیے، معشوق کے ہاتھوں قتل ہونا اور وہ بھی ایسے کہ قتل میں لذت ہو اور عاشق اور معشوق دونوں کو لطف آ جائے، عاشقی کی معراج کہلاتا ہے ۔ہوسکتا ہے کہ آج کل کے عملیت پسند عاشقوں کو یہ بات عجیب لگے اور وہ اسے متشدد رجحان سمجھ کر معشوق کو کسی ماہر نفسیات سے رجوع کرنے کا مشورہ دیں مگر کیا کیجیے ،یہ اردو شاعری کے لوازمات میں سے ایک ہے۔ غالب کا شعر ملاحظہ ہو:’خنجر سے چیر سینہ اگر دل نہ ہو دونیم، دل میں چھری چبھو مژہ گر خوں چکاں نہیں۔‘شاعر کہتا ہے کہ اے میرے محبوب ذرا میری کیفیت دیکھ،اگر میرا دل دو ٹکڑے نہ ہوا ہو اور میری پلکوں سے خون نہ ٹپک رہاہو تو خودخنجر سے میرا سینہ چیر دے اور میرے دل میں چھری چلا دے یعنی اگر تیری عاشقی میں میرے دل کے ٹکڑے نہ ہوئے ہوں اور میری آنکھوں سے خون نہ بہتا ہو تو پھر تجھے حق ہے کہ مجھے اپنے ہاتھوں سے اذیت ناک موت دے ۔ویسے تو اِس شعر کے چھ سات مطلب ہیں اور تمام ہی درست لگتے ہیں، یہی اِس کی خوبی ہے ، مگر یہاں یہ نمائندہ شعر کے طور پر پیش کیا گیا ہے تاکہ شوق شہادت کا مفہوم واضح ہوسکے۔ کچھ لوگ یہ اعتراض لگا سکتے ہیں کہ عاشق تو یہاں اپنی سزا کے طور پر قتل ہونے کی پیشکش کر رہا ہے جو کہ درست بات ہے مگر یہ اِس شعر کا ایک مطلب ہے ، دوسرا مطلب یہ ہے کہ اگر عاشق کا دل اب تک دو ٹکڑے نہیں ہوا تو اسے چاہیے کہ خنجر سے اپنا سینہ چیر دے اور اگر مژہ سے خون نہیں ٹپکا تو اپنے دل میں چھری چبھو ڈالے کہ معشوق کو عشق کی یہی انتہا پسند ہے ۔
اردو شاعری کی روایات میں جن تصورات اور مسلمات کا ذکر ہے اُن کی فہرست خاصی طویل ہے ،آج کل کے عاشقوں کو شاید اِن کا علم نہ ہو، مثلاً ، خانہ ویرانی، مقتل، تیغ بدست، ناصح، چارہ ساز، غمگسار، غیر، رقیب، ہمدم، نالہ شب، بلبل، عندلیب، گلستاں، چمن،صبح بہار، شامِ تنہائی،تشنہ کامی، مے کشی،شبِ انتظار، وصل، ہجر، آشفتہ سری وغیرہ۔ایک سچے عاشق کے لیے ضروری ہے کہ وہ اِن تمام تصورات سے آگاہ ہو، آسانی کے لیے یوں سمجھیں کہ یہ عاشقوں کے لیے گویا غیر تحریری آئین ہے جس کی پاسداری سب پر فرض ہے ۔یہاں یہ بات بتانے کی چنداں ضرورت نہیں کہ آئین چاہے تحریری ہو یا غیر تحریری ہر دوصورتوں میں مقدس ہوتا ہے ، کسی کے پاس یہ آپشن نہیں ہوتا کہ وہ اپنی صوابدید کے مطابق یہ طے کرے کہ کب اُس نے آئین کی خلاف ورزی کرکے معشوق کو مقتل کا راستہ دکھاناہے اور کب اُس نے آئین کی پاسداری کرکے صبح ِبہار کا عندیہ دینا ہے ۔عاشقوں کے اِس آئین میں ہر کسی کا کردار متعین ہے اور ہر تصور کی وضاحت صراحت کے ساتھ کردی گئی ہے ۔۔۔رقیب کے ساتھ کیا سلوک ہوگا، ناصح کا کیا کام ہے، غمگسار کی کیا ذمہ داری ہے ، وصل کیسے ہوگا، ہجر میں کیا کرنا ہے ، عندلیب کو آہ و زاری کی کتنی اجازت ہے ، بلبل کی نغہ سرائی کیا حدود ہیں ، مے کشی کے کیا آداب ہیں۔۔۔!یہ مسلمات ہیں ، اردو شاعری کے نقادوں کو اِن میں کسی قسم کا کوئی ابہام نہیں ، لہذا عاشقوں کو چاہیے کہ اگر وہ سچے عاشق ہیں اور اگر انہوں نے آئینِ عشق کا حلف اٹھا رکھا ہے تو پھر اِس آئین سے روگردانی نہ کرنے کی ایسی یقین دہانی کروائیں کہ بلبل خود پکار اٹھے کہ صاحب پرے پرے۔!
(گردوپیش کے لیے ارسال کیا گیا کالم)
فیس بک کمینٹ

