ہر سال جب اکیڈمی ایوارڈز کا اعلان ہوتا ہے تو میں آسکر جیتنے والی بہترین فلم ضرور دیکھتا ہوں، اِس مرتبہ یہ ایوارڈ ایک ایسی فلم کو دیا گیا ہے جس کی کہانی خاصی پیچیدہ ہے ، فلم کا نام ہے Everything Everwhere All At Once۔اِس فلم کوگیارہ تمغوں کے لیے نامزد کیا گیا جن میں سے سات تمغے اِس کے حصے میں آئے بشمول بہترین فلم، بہترین ہدایتکار ، بہترین اداکارہ اور بہترین اداکار۔فلم کی کہانی کچھ یوں ہے کہ ایولین ایک چینی نژاد امریکی ہے جس کی عمر پچاس برس کے قریب ہے، لانڈری کا کاروبار چلانے کی کوشش کر رہی ہے، اُس کے شوہر کا نام ویمنڈ ہے ۔ایولین اپنی بیٹی جوئے کے بارے میں فکر مند ہے کیونکہ وہ ہم جنس پرست ہے اور ایک سفید فام لڑکی سے محبت کرتی ہے۔چینی سالِ نوکے موقع پر ایولین کو محکمہ انکم ٹیکس سے بلاوا آتاہے کہ اُس کے کاروبار کی چھان پھٹک کی جائے گی ، وہ اپنے باپ اور شوہر کے ساتھ ٹیکس کے دفتر جاتی ہے ۔جب وہ تینوں دفتر کی عمارت میں داخل ہوتے ہیں تو اچانک اُس کا شوہر ویمنڈ عجیب و غریب طریقے سے برتاؤ کرنا شروع کردیتا ہے اور اُس کی شخصیت تبدیل ہوجاتی ہے ، یوں لگتا ہے جیسے اُس کے جسم میں کسی اور کی روح حلول کرگئی ہو۔ وہ ایولین کے کانوں میں کسی قسم کا آلہ لگاتا ہے اور پھر سمارٹ فون پر کوئی پروگرام چلاتا ہے جسے دیکھ کر ایولین کی آنکھیں حیرت سے پھٹی کی پھٹی رہ جاتی ہیں ، اُس کی پوری زندگی کسی فلم کی جھلکیوں کی طرح سامنے چلنے لگتی ہیں ، اُس کی پیدایش ، باپ کا سخت رویہ ،ویمنڈ سے ملاقات اور شادی ، والدین کا قطع تعلق کرلینا ،ایولین کا امریکہ آ کر بس جانا، لانڈری کا کاروبار شروع کرنا، بیٹی کا پیدا ہونا۔یہاں سے فلم میں حیرت انگیز موڑ آتا ہے ، اُس کا شوہر ویمنڈ ، جس کی شخصیت غیر معمولی انداز میں تبدیل ہوچکی ہے ،ایولین کو بتاتا ہے کہ اُس نے اپنی زندگی میں جوبھی فیصلے کیے تھے اُن فیصلوں نے کئی متبادل حقیقتوں کو جنم دیا ہے اور اُن میں سے ایک حقیقت اُس کے شوہر کی تبدیل شدہ شخصیت ہے جس کا نام الفا ویمنڈ ہے کیونکہ اُس کا تعلق ایک دوسری کائنات سے ہے جس کا نام الفا کائنات ہے اور یہ وہ کائنات ہے جس نے پہلی مرتبہ کسی دوسری کائنات سے رابطہ قائم کیا ہے ۔یہاں سے فلم کی کہانی مزید پیچیدہ ہوجاتی ہے اور کائناتی گتھیوں میں الجھتی چلی جاتی ہے جسے سمجھنے کے لیے دماغ پر خاصا زور ڈالنا پڑتا ہے ۔ ویسے تو فلم میں میاں بیوی کی طلاق کا مسئلہ بھی دکھایا گیاہے مگر اِس بات کاامکان کم ہے کہ فلم پاکستانی خواتین وحضرات کو پسند آئے گی کیونکہ ہم لوگ جس کائنات میں رہتے ہیں اُس میں جب تک فلم میں ناگن ڈانس نہ دکھایا جائے، فلم کامیاب نہیں ہوتی۔
اِس قسم کی فلمیں اورفلسفہ ذہن کو جھنجھوڑکر رکھ دیتے ہیں ، انسان کو اپنی کم مائیگی کا احساس ہوتا ہے ،دماغ میں بہت سے نئے سوالات جنم لیتے ہیں ، پرانے تصورات باطل لگنے لگتے ہیں ،کائنات کے اسرار جاننے کی تڑپ بڑھ جاتی ہے اوریوں لگتا ہے جیسے یہ کائنات لامحدود ہے ۔مگر جب ہم کائنات کو لا محدود کہتے ہیں تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے ہمزاد کہاں ہیں کیونکہ اگر کائنات لا محدود ہے تو پھر لا محدود دنیائیں بھی ہوں گی اور اگر لا محدود دنیائیں ہوں گی تو لا محالہ ہماری جیسی دنیا بھی ہوگی ، ہمارے جیسی دنیا ہوگی تو اُس میں ہم بھی ہوں گے یعنی ہمارا کوئی ہمزاد ہوگا اور اگر ایسا ہوتا تو اب تک اُس ہمزادسے ملاقات ہوجاتی۔یہ اِن فلموں کا فلسفیانہ پہلو ہےجو یقیناً بے حد متاثر کُن ہے مگراِس کے علاوہ بھی ایسی فلموں میں ایک پیغام پوشیدہ ہوتاہے کہ دنیا وہ نہیں ہے جو ہم اپنی نظروں سے دیکھتے ہیں ،دنیا کو محض ذاتی زندگی کے تجربات کی روشنی میں نہیں سمجھا جا سکتا ،اِس دنیا میں سات ارب انسان بستے ہیں اور اُن تمام انسانوں کا زندگی کے بارے میں تجربہ مختلف ہے ، یہ ممکن نہیں کہ ہم کسی ایک انسان کے تجربے کی بنیاد پر زندگی کی حقیقت کو جان سکیں ۔ ہم جیسے معاشروں میں رہنے والوں کا المیہ یہ ہےکہ ہم نہ صرف کسی ایک نظریے پر جامد ہوجاتے ہیں بلکہ اُس کی حفاظت کے لیے مرنے مارنے پر بھی آمادہ رہتے ہیں۔نظریات اور خیالات کے تنوع کو تسلیم کرنا ہم نے نہیں سیکھا،یہی وجہ ہے کہ جو شخص بھی رٹے رٹائے نظریات پر سوال کرتا ہے اسے کبھی مذہب کے نام پر تو کبھی قومیت کے نام پر خاموش کروا دیا جاتا ہے ، یہ خاموشی کسی بھی معاشرے کے لیے زہر قاتل ہے۔
کبھی کبھی یوں لگتا ہے جیسے یہ سادہ سی باتیں کسی اور کائنات کی ہیں جن کا ہم سے کوئی تعلق نہیں اور یہ ہمارے لیے فقط سائنس فکشن ہیں۔بعض دوستوں کا خیال ہے کہ فلموں کو کالموں کا موضوع نہیں بنانا چاہیے، اب اُن سے کیا عرض کروں، فلم تو بہانہ ہے بات کرنے کا، جو بات ہم کہنا چاہتے ہیں وہ لکھ نہیں سکتے اور جو لکھ سکتے ہیں اسے بھی سات پردوں میں چھپاکر کسی فلم کی کہانی کی اوٹ میں لکھنا پڑتا ہے ۔ وجہ یہ ہے کہ معاشرے میں لوگوں کی اکثریت اپنےانداز فکر کو الہامی سچ سمجھتی ہے اور اُس سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں، یوں کہیے کہ لوگ یہ تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں کہ اُن کےعلاوہ کسی دوسرے کا نقطہ نظر بھی درست ہوسکتا ہے، ہم نے ایک ہی لاٹھی رکھی ہے جس سے سب کو ہانکتے ہیں،جو اس لاٹھی کی زد میں آگیا اس کی خیر نہیں۔ تشویش ناک بات یہ ہے کہ پڑھے لکھے لوگ زیادہ گمراہی کا سبب بن رہے ہیں،ان پڑھ بیچارہ تو دوسروں کا محتاج ہوتا ہے،دانشور خطرناک ہوتا ہے جو اِس قدرتیقن سے بات کرتا ہےکہ گمان ہوتاہے جیسے یہ سچ اُس پر براہ راست آسمان سے اترا ہے۔ جب تک ہم اپنی کھوپڑیوں سے خول اتار کرکسی دوسرے کی بات نہیں سنیں گے اور یہ تسلیم نہیں کریں گے کہ مد مقابل کی بات، چاہے جتنی بھی باغیانہ کیوں نہ ہو، درست ہو سکتی ہے،اُس وقت تک ہمارے حالات تبدیل نہیں ہوں گے۔
دنیا میں عجیب و غریب موضوعات پر فلمیں بنائی جاتی ہیں ، نت نئے انداز میں افسانے لکھے جاتے ہیں ، باغیانہ مصوری کی جاتی ہیں ،اسی کو فنون لطیفہ کہتے ہیں ، یہی آرٹ ہے ، اسی کا نام تخلیق ہے ۔ ادیب یا تخلیق کار وہی ہوتا ہے جو اپنے موضوع کے انتخاب یا اچھوتے انداز بیان سے آپ کے ذہن پر خراشیں ڈال دے۔ہمارے ہاں اول تو ایسا کوئی کام ہوتا نہیں اور اگر کوئی ہمت کرکےذرا سی بولڈ فلم بنانے کی جرات کر ہی بیٹھے تو ہم اُس پر لٹھ لے کر پِل پڑتے ہیں کہ اِس نے ہماری مذہبی اور اخلاقی اقدارکا جنازہ نکال دیا،یہ عجیب کمزور سی اقدار ہیں جو اتنی قریب المرگ ہیں کہ ذرا سی فلم اِن کا جنازہ نکال دیتی ہے ! ہندوستان میں آج کل ہر دوسری فلم میں ہم جنس پرستی کو موضوع بنایا جاتا ہے ، کیا اُن کی ڈیڑھ ارب کی آبادی یہ فلمیں دیکھ کر ہم جنس پرست ہوگئی ہے؟ مجھے اندازہ ہے کہ اِس واحد جملے سے بھی یار لوگوں کو تکلیف ہوگی اور وہ یہ نادر شاہی فیصلہ سنادیں گے کہ میں ایل جی بی ٹی کے ایجنڈے کی حمایت کر رہا ہوں ۔ اب اِس حمایت کا بھی لطیفہ سن لیں ، ایک صاحب جو خود کو ایل جی بی ٹی کا مخالف کہتےہیں، اگلے روز انہیں کسی کالج میں نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے دیکھا، فرما رہے تھے کہ اگر ہم جنس پرستی ٹھیک ہوتی تو اب تک پوری دنیا ہم جنس پرس کیوں نہیں ہوگئی ۔سبحان اللہ، بندہ اِس ’دلیل ‘ کے بعد سوائے اِس کے کیا کہہ سکتا ہے کہ ’روئیے زار زار کیا، کیجیے ہائے ہائے کیوں !‘یہ حال ہوچکا ہے ہمارے معاشرے کا جہاں Everything Everwhere All At Once ہی زوال پذیر ہے ، دل کرتا ہے کسی اور کائنات میں ہجرت کر جائیں!
(گردوپیش کے لیے ارسال کیاگیاکالم)
فیس بک کمینٹ

