مصنوعی ذہانت کے حامل چند روبوٹس نے جنیوا میں پریس کانفرنس کی ہے اور انسانوں کو یقین دلایا ہے کہ اُن کا اپنے خالق کے خلاف بغاوت کا کوئی ارادہ نہیں اور نہ ہی وہ انسانوں کی ملازمتوں پر قبضہ کرنے کا کوئی منصوبہ رکھتے ہیں ۔گریس نامی ایک خاتون روبوٹ نے صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ انسانوں کے شانہ بشانہ کام کریں گی اور طب کے شعبے میں پیش آنے والی مشکلات کو دور کرنے کے لیے اُن کی معاونت کریں گی ۔ایک سوال کے جواب میں امیکا نامی روبوٹ نے، جس کی جنس کا پتا نہیں چل سکا، کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ انسانوں کے خلاف بغاوت کرنے سے متعلق آپ کے شبہات میں کوئی صداقت ہے، میرا خالق تو بے حد شفیق ہے اور میں اپنی موجودہ حالت سے بہت خوش ہوں۔
اِن شریف انفس روبوٹس کی باتیں سُن کر میرے سر سےیہ بوجھ قدرے کم ہوگیاہے کہ مصنوعی ذہانت دنیا کو برباد کردے گی، جب گریس نے کہہ دیا تو یقین تو کرنا پڑےگا ،ہاں اگر کوئی بوٹا ولد چراغ دین کہتا تو ہم یقین نہ کرتے بلکہ لٹھ لے کر اُس غریب کے پیچھے پڑ جاتے اور اُس وقت تک پڑے رہتے جب تک وہ غریب ناک سے لکیریں نہ نکالتا۔خیر، بات کہیں اور نکل جائے گی، واپس آتے ہیں۔اِس پریس کانفرنس کے بعدبھی کچھ رپورٹر حضرات نے ایکسکلوسو خبر نکالنےکے لیے اِن روبوٹس سے علیحدگی میں بات کی مگر اُن کے ہاتھ کچھ نہ آیا، روبوٹس نےنہایت چالاکی کے ساتھ تمام سوالوں کا جواب دیا اور صحافی بیچارے اپنا سا منہ لے کر رہ گئے۔اِن روبوٹس کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ انہیں مصنوعی ذہانت کے جدید ترین سافٹ وئیر کی مدد سے تخلیق کیا گیا ہے، یہی وجہ ہے کہ پریس کانفرنس میں اِن کی کارکردگی اِس قدر متاثر کُن تھی کہ اُن کے تخلیق کاربھی حیران رہ گئے۔یقینا ًایسا ہی ہوگا مگر میرے خیال میں فی الحال اِن کی بات چیت کی صلاحیت کچھ کتابی قسم کی ہے کیونکہ اگر اِن میں سے کوئی روبوٹ حاضر جواب ہوتا/ہوتی تو بغاوت کے سوال پر کہتا کہ حضور آپ خواہ مخواہ ہم سے خوفزدہ ہو رہے ہیں ، اگر آپ تباہ و برباد ہوئے تویہ بربادی محض آپ کےمقدر کی وجہ سے ہوگی نہ کہ ہمارے ظلم و ستم کی وجہ سے، بقول غالب ’تم سے بے جا ہے مجھے اپنی تباہی کا گلہ،اِس میں کچھ شائبہ خوبی تقدیر بھی تھا۔‘لیکن شاید مصنوعی ذہانت کو حاضر جوابی کے اِس مقام تک پہنچنے میں کچھ وقت لگے ۔تاہم جس رفتار سے یہ روبوٹ خود کو اپ گریڈ کر رہے ہیں وہ دن دور نہیں جب وہ اپنی گفتگوکو اشعارسے مرصع کرکے ہمیں لا جواب کردیا کریں گے۔جیسا کہ میں نے کہا یہ روبوٹ نہایت شریف قسم کے ہیں ،اِن کی شرافت کا اندازہ اِس بات سے لگا لیں کہ اِن کے خالق نے انہیں حکم دیاکہ سجدہ کرو تو یہ فوراً سجدے میں گر گئے اور چُپ چاپ بغاوت نہ کرنے کا عہد بھی کرلیا لیکن کل کلاں کواگر اِن میں سےکوئی ابلیس پیدا ہوگیا اور اُس نے انسان کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا، پھر کیا ہوگا۔شایدوہ دن بغاوت کا ہوگااور اُس دن انسان اور مصنوعی ذہانت کے درمیان جنگ کی ابتدا ہوگی۔ اِس جنگ کی انتہا کیا ہوگی ،یہ کوئی نہیں جانتا!
ممکن ہے آپ میں کچھ لوگ یہ سمجھتے ہوں کہ مصنوعی ذہانت کے حامل یہ روبوٹ کبھی انسانوں سے آگے نہیں نکل پائیں گےکیونکہ انسان آخر اِن کاخالق ہے ، اپنے خالق کے خلاف بھلاکوئی بغاوت کیسے کرسکتا ہے ، کیا انسان کی یہ جرات ہے کہ وہ خالقِ کائنات کے سامنے سر اٹھا سکے، ہمیں تو یہ بھی نہیں پتا کہ اِس کائنات کی ابتدا اور انتہا کیا ہے ، ایسے میں کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ، یہ روبوٹ اگر کبھی بغاوت کے بارے میں ’سوچیں ‘ گے تو اِن کا پلگ اتار دیا جائے گا یا ِاِن کی بیٹری نکال دی جائے گی ، جس کے بعد یہ ناکارہ ہوجائیں گے اور اُس وقت تک کچھ کرنے کے قابل نہیں رہیں گے جب تک انہیں دوبارہ چارج نہیں کیا جائے گا، ویسے بھی انسان جب چاہے گا اِن کی مصنوعی ذہانت کے پروگرام میں اپنی حفاظت کے نکتہ نظر سے تبدیلیاں کر لے گا اور یوں سب کچھ ہمارے ہاتھ میں ہی رہے گا۔میں کوئی سافٹ انجینئر تو نہیں لہذا یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ یہ تمام باتیں کس حد درست ہیں لیکن مصنوعی ذہانت پر بنائی گئی ایک فلم سیریز کے بارے میں ضرور بتا سکتا ہوں جو میری پسندیدہ فلموں کی فہرست میں شامل ہے۔سیریز کا نام بلیک مرر ہے اور قصے کا نام ’میٹل ہیڈ‘۔کہانی بے حد عجیب ہے ۔چند لوگ ایک تباہ حال شہر کوئی چیزتلاش کرنے کی غرض سے گاڑی میں گھومتے ہوئے ایک گودام میں پہنچتے ہیں،اِن لوگوں میں ایک عورت بھی شامل ہے۔یہ لوگ کسی انجانے خطرے سے سہمے ہوئے لگتے ہیں اور نہایت پھونک پھونک کر قدم رکھ رہے ہیں، چاروں طرف ہُو کا عالم ہے اور یوں لگتا ہے جیسے شہر میں کوئی تباہی آئی ہو۔گودام میں مطلوبہ شے کو تلاش کرنے کے دوران اُن سے کوئی چیز گر جاتی ہے جس سے گودام میں موجود کتے کی شکل کا ایک روبوٹ جاگ اٹھتا ہو اور ایک ایک کرکے تمام لوگوں کو بے دردی سے مار دیتا ہے۔عورت بڑی مشکل سے جان بچا پاتی ہے مگر یہ روبوٹ اُس کا پیچھا نہیں چھوڑتا،اِس روبوٹ کو ختم کرنے کا کوئی صورت دکھائی نہیں دیتی ، یہ خود ساختہ طریقے سے شمسی توانائی سے چارج ہوتا رہتا ہےاوراپنے ہدف کا اُس وقت تک تعاقب کرتا رہتا ہے جب تک اُس کو پا کر ختم نہ کر دے۔عورت نہایت چالاکی سے اُس پر روغن کا ڈبہ الٹا دیتی ہے تاکہ اسے ’اندھا‘ کردے مگر یہ چند لمحوں میں ہی خود کو دوبارہ اِس قابل بنا لیتا ہے کہ عورت کا پیچھا کرسکے، بالآخر عورت کے ہاتھ میں بندوق آتی ہے اور وہ روبوٹ کا نشانہ لے کر اُس کے ٹکڑے کردیتی ہے ، روبوٹ کے پرخچے تو اُڑ جاتے ہیں مگر اُن میں سے ایک چھرا نکل کر عورت کی شہہ رگ میں پیوست ہوجاتا ہے اور یوں وہ بھی ساتھ ہی مر جاتی ہے۔مصنوعی ذہانت کے خطرے کو سمجھنے کے لیے بلیک مرر سے بہتر کوئی سیریز نہیں ، اِس کے کم و بیش تمام قصے ہی بے حد اچھوتے انداز میں اِس موضوع کا احاطہ کرتے ہیں۔
جنیوا میں نو عدد روبوٹس نے انسانوں کو بغاوت نہ کرنے کا یقین تو دلایا ہے مگر یہ یقین دہانی اُسی وقت تک ہی کا رآمد ہے جب تک اِن کا خالق میٹل ہیڈ میں دکھائے گئے کتے کی قسم کا کوئی خطرناک روبوٹ نہ بنا لے۔یہ نو روبوٹ تو شریف ہیں ، اسی لیے اِن کے خیالات بھی بالکل کسی مثالی انسان کی طرح ہیں جس کونہ غصہ آتا اور نہ وہ تباہی کا خواہاں ہے۔لیکن جس دن کسی انسان نے یہ طے کر لیا کہ وہ اِن روبوٹس کی مصنوعی ذہانت کو تخریبی سانچے میں یوں ڈھال لے گا کہ وہ اُس کے حکم کے مطابق ڈاکے ڈال سکیں یا لوگوں کا قتل کرسکیں تو پھر یہی روبوٹس کچھ اِس قسم کی باتیں کیا کریں گے کہ ’مالک ، اگر آپ کہیں تو میں اُس سیاہ فام شخص کی بوٹیاں کردوں جس نے آپ پر نسل پرستی کا الزام لگایا ہے ، یا پھر ’ مالک ،آج میں نے آپ کے حکم کے مطابق تین بنک لوٹے اور وہاں مزاحمت کرنے والوں میں سے دو کو قتل کرکے اُن کی لاشیں ٹھکانے لگا دیں، مرنے والوں میں سے ایک شخص کے تین بچے تھے اور دوسری عورت تھی جس کی اگلے ماہ شادی تھی، امید ہے آپ میری اِس کاروائی سے مسرور ہوں گے۔‘
نہ جانے کیوں مجھے یوں لگ رہے جیسے میں نے آپ کو الف لیلیٰ سنا دی ہے۔ اللہ جانے یہ سب کچھ ہوگا یا نہیں اور اگر ہوگا تو شاید ہماری زندگیوں میں نہ ہو۔ویسے بھی مجھے ایسی کسی دنیا میں جینےکی خواہش نہیں جو روبوٹس کے تابع ہو، انسانوں کی غلامی سے تو نجات ممکن ہے ، روبوٹس کی غلامی میں تو یہ امید بھی نہیں !
(گردوپیش کے لیے ارسال کیا گیا کالم)
فیس بک کمینٹ

