سرائیکی وسیبلکھارییوسف رضا گیلانی

سید علمدار حسین گیلانی کی یادیں : 41 ویں برسی پر یوسف رضا گیلانی کا مضمون

میرے والد محترم سیّد علمدار حسین گیلانی 12دسمبر 1919ءبمطابق آٹھ محرم الحرام اپنے آبائی گھر واقع پاک دروازہ ملتان میں پیدا ہوئے۔ پیدائش کے وقت اُن کا نام سیّد ابوالحسن رکھا گیا۔ لیکن آٹھ محرم الحرام کی نسبت سے بعد میں علمدار حسین رکھ دیا گیا اور یہی نام معروف ہوا۔ والد محترم نے ابتدائی تعلیم ملتان اور مظفرگڑھ میں حاصل کی کیونکہ دادا مخدوم غلام مصطفی شاہ گیلانی اُن دنوں سَب ڈویژنل مجسٹریٹ علی پور، مظفرگڑھ تعینات تھے۔ نوابزادہ نصراﷲ خان والد محترم کے کلاس فیلو تھے۔ والد محترم نے 1941ءمیں ایمرسن کالج ملتان سے بی۔اے کا امتحان پاس کیا۔ وہ خاندان کے دوسرے فرد تھے جنہوں نے بی۔اے تک تعلیم حاصل کی۔
والد محترم نے اپنے زمانہ طالب علمی ہی سے سیاست میں حصہ لینا شروع کر دیا اورآل پاکستان مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی۔ جب وہ ایف۔اے کے طالب علم تھے تو انہوں نے اپنے بزرگ سیّد زین العابدین شاہ اور مسلم لیگ ضلع ملتان کے صدر چچا مخدوم غلام نبی شاہ گیلانی کے ساتھ مل کر مسلم لیگ کے لیے کام کیا۔
والد محترم صاحب اپنے گھر ’الجیلان‘ واقع سورج کنڈ روڈ کو خوش بختی اور ملتان کی سیاست کا محور سمجھتے تھے کہ اس گھر میں گورنر جنرل غلام محمد، خواجہ ناظم الدین، وزارئے اعظم نوابزادہ لیاقت علی خان، حسین شہید سہروردی، آئی آئی چندریگر اور ملک فیروز خان نون کے علاوہ محترمہ فاطمہ جناح اور سردار عبدالرب نشتر اور راجہ غضنفر علی جیسی نامور شخصیات تشریف لا چکی تھیں۔ علاوہ ازیں پیر صاحب اجمیر شریف بھی اس گھر میں تشریف لا چکے تھے۔1951ءکے عام انتخابات میں والد محترم کے نامزد اُمیدواروں کو مسلم لیگ کے ٹکٹ دیئے گئے۔ ان انتخابات کے سلسلے میں مسلم لیگ کا کنونشن ہمارے گھر ’الجیلان‘ ملتان میں ہوا جس کی صدارت وزیر اعظم پاکستان اور صدر مسلم لیگ نوابزادہ لیاقت علی خان نے کی۔ جلسے کے دوران وزیراعظم نے والد محترم ، تایا ولایت حسین اور چچا رحمت حسین کے ہاتھ تھام کر کہا:
“They are the backbone of the Muslim League”
ترجمہ: یہ مسلم لیگ کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔
والد گرامی کا قول تھا کہ اگر کسی شخص کے ہاتھ میں شفا ہونے کے باوجود وہ کسی دوسرے شخص کو فیض یاب نہیں کرتا تو ایسا شخص خود بدنصیب ہے۔ والد کی یادداشت کمال کی تھی۔ اُنہیں ہزاروں لوگوں کے نام زبانی یاد تھے اور جب کبھی کسی تقریب میں لوگوں کو مدعو کرنا ہوتا تو بہت ہی کم وقت میں اپنی یادداشت سے لوگوں کے نام تحریر کروا دیتے تھے۔
والد محترم صاحب نے ہمیں اپنے صوبائی وزیر بننے کا واقعہ یوں سنایا کہ ایک مرتبہ مَیں وزیراعلیٰ پنجاب فیروز خان نون سے ملنے اُن کے گھر گیا کہ تمہارے نانا مخدوم الملک سیّد غلام میراں شاہ سے اچانک ملاقات ہو گئی۔ مَیں نے اُن سے دریافت کیا کہ آپ کیسے تشریف لائے؟ انہوں نے بتایا کہ مَیں سردار محمد خان لغاری (سردار فاروق احمد خان لغاری کے والد) کو صوبائی وزیر بنوانے آیا ہوں۔ مجھے یہ سن کر افسوس ہوا کہ انہیں لغاری صاحب کے علاوہ میری بھی سفارش کرنی چاہیے تھی۔ جب میری ملاقات نون صاحب سے ہوئی تو انہوں نے کہا کہ تم وزیر اعلیٰ پنجاب ہو اور مجھے اپنی کابینہ بنا کر دو۔ مَیں نے کہا کہ مَیں وزیراعلیٰ نہیں ہوں، آپ ہی ہیں اور یہ استحقاق بھی آپ ہی کا ہے۔ مگر وہ بضد تھے کہ کابینہ مجھے ہی بنانی ہے۔ مَیں نے کابینہ کے لیے پانچ نام تجویز کیے جن میں سردار محمد خان لغاری، رانا عبدالحمید، مظفر علی قزلباش، چوہدری علی اکبر اور شیخ مسعود صادق کے نام شامل تھے مگر جب کابینہ کا اعلان ہوا تو ایک نام کا اضافہ تھا اور وہ نام میرا تھا۔
والد محترم نے 1953ءمیں فیروز خان نون کی کابینہ میں بطور وزیر صحت و بلدیات حلف اٹھایا۔ وزارتِ بلدیات عوام کے ساتھ رابطے اور مقامی سطح کے کام کروانے کے نقطہ نظر سے اہم ہے۔ والد محترم صاحب نے وزیر صحت کی حیثیت سے گرانقدر خدمات انجام دیں۔ انہوں نے کئی اضلاع میں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال (ڈی ایچ کیو) بنوائے جن میں ملتان، میانوالی، مظفرگڑھ اور ڈیرہ غازی خان کے ہسپتال قابلِ ذکر ہیں۔ ان کے علاوہ نشتر ہسپتال و میڈیکل کالج ملتان کے قیام میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ میو ہسپتال لاہور اور ساملی سینی ٹوریم (ٹی بی ہسپتال) مری کی توسیع بھی ان ہی کے دور میں ہوئی۔ اس دور میں ڈاکٹروں کی بے حد کمی تھی اور دیہی علاقوں میں طبی سہولتیں نہ ہونے کے برابر تھیں۔ اس اہم انسانی مسئلے کے فوری حل کے لیے والد صاحب نے وکٹوریہ ہسپتال، بہاولپور میں ایل ایس ایم ایف میڈیکل سکول کی بنیاد رکھی۔ میٹرک کے بعد اس سکول میں تین برس کا میڈیکل کورس کروایا جاتا تھا جس کے بعد دو برس تک دیہی علاقے میں خدمات انجام دینے کی لازمی شرط پوری کرنے پر متعلقہ اُمیدوار ایم بی بی ایس کے امتحان دینے کا اہل قرار پاتا تھا۔ ماموں مخدومزادہ سیّد حسن محمود اس دور میں بہاولپور ریاست کے وزیر اعلیٰ تھے۔ انہوں نے اس نیک کام کے لیے بنیادی ضروریات بہم پہنچائیں اور یوں ایک دردمند دل کی انقلابی سوچ نے نہ صرف دیہی علاقوں میں طبی سہولیات مہیا کر دیں بلکہ ملک میں ڈاکٹروں کی شدید کمی دور کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ ملک میں اس پالیسی کے تحت سینکڑوں ڈاکٹروں نے اپنی اعلیٰ قابلیت اور خدمات کی بدولت بڑا نام کمایا۔ والد نے اپنے دورِ اقتدار میں عوام الناس کو روزگار فراہم کرنے کے لیے بھی جدوجہد کی۔ بطور وزیرِ صحت انہوں نے ایم بی بی ایس میں غریب لوگوں کے بچوں کو بھی داخلہ دلوا کر ڈاکٹر بنوایا کیونکہ اس وقت میڈیکل کالج کی نامزدگی وزیرِ صحت پنجاب خود کیا کرتا تھا۔
1953ءمیں والد محترم کے پارلیمانی سیکرٹری چوہدری فضل الٰہی تھے جو بعد میں صدرِ پاکستان کے عہدے پر فائز ہوئے۔ سردار عطا محمد خان لغاری محکمے کے سیکرٹری تھے جو بعد میں رکن صوبائی اسمبلی (ایم پی اے) منتخب ہوئے۔ والد کو اس حیثیت سے بھی یاد رکھا جاتا ہے کہ صوبائی وزیر صحت و بلدیات بننے پر 1954ءمیں انہوں نے قیامِ پاکستان کے بعد پہلی مرتبہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کروائے۔ انہوں نے کوشش کی کہ ہر ضلع میں ایک لائبریری ہو تاکہ عوام کی کتابوں تک رسائی ممکن بنائی جا سکے۔ اس سلسلے میں قلعہ کہنہ قاسم باغ ملتان میں ایک وسیع میونسپل لائبریری کا افتتاح کیا جو ملتان کے لیے ایک عظیم علمی خزانہ ہے۔ والد کچھ عرصہ امپروومنٹ ٹرسٹ (موجودہ وزارتِ ہاؤسنگ) کے صوبائی وزیر بھی رہے۔ اس وقت انہوں نے گلبرگ، لاہور اور مری کو ترقی دلانے کے لیے خصوصی طور پر دلچسپی لی جس کی وجہ سے پورے ملک سے لوگوں نے سرمایہ کاری کی اور کچھ ہی عرصے میں وہ سب سے زیادہ پُر رونق آبادیاں بن گئیں۔
والد صاحب نے اپنے بھائیوں مخدوم ولایت حسین گیلانی، مخدوم سیّد شوکت حسین گیلانی اور مخدومزادہ سیّد فیض مصطفی گیلانی کے ساتھ مل کر ’انجمن اسلامیہ‘ ملتان کے لیے بھرپور کام کیا۔ جس کے تحت ان کی زندگی ہی میں کئی سکولوں اور کالجوں کا قیام عمل میں آیا۔ انجمنِ اسلامیہ کی چند تعلیمی یادگاریں گیلانی لاءکالج، ولایت حسین اسلامیہ کالج، علمدار حسین کالج، اسلامیہ ہائی سکول حرم گیٹ، اسلامیہ ہائی سکول عام خاص باغ اور اسلامیہ ہائی سکول دولت گیٹ ہیں۔
والد گرامی کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ 1956ءکا آئین بنانے والوں میں شامل تھے۔ آئین کی اہمیت اور تقدس کو اُن سے بہتر کون جان سکتا ہے جنہوں نے قیامِ پاکستان کے لیے اَن گنت قربانیاں دی ہوں۔ آئین پاس ہونے پر انہوں نے تمام اراکین کے ساتھ بابائے قوم قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے ننگے پاؤ ں اُن کے مزار پر حاضری دی۔ اُن کے اس عمل میں قوم کے لیے پیغام تھا کہ زندہ قومیں اپنے محسنوں سے محبت اور اُن کا ادب و احترام اُن کی زندگی اور بعد از زندگی برقرار رکھتی ہیں۔ دنیا کی مشہور سوانح عمری “The World’s Who’s Who 1954-55 Edition” میں بھی اُن کا نام شامل ہوا۔
اکتوبر 1958ءمیں جنرل ایوب خان نے ملک میں پہلا مارشل لاءنافذ کیا اور 1956ءکا آئین معطل کر دیا۔ ’تحریک پاکستان‘ کے کارکنان اور چوٹی کے سیاستدانوں کو اَیبڈو کے ذریعے نااہل کر دیا گیا۔ اس بدنامِ زمانہ قانون کی زد میں آنے والوں میں حسین شہید سہروردی، خواجہ ناظم الدین، آئی آئی چندریگر، فیروز خان نون، خان عبدالقیوم خان، محمد خان لغاری، کرنل (ر) عابد حسین، سیّد حسن محمود، ایوب کھوڑو، پیر الٰہی بخش، جی ایم سیّد، قاضی علی اکبر، قاضی عیسیٰ اور کئی دیگر رہنماؤ ں کے علاوہ میرے والد محترم بھی شامل تھے۔ ایوب خان نے اَیبڈو کے ذریعے بیک جنبشِ قلم سب کو بد دیانتی کے بلا ثبوت الزام کے تحت نااہل قرار دے دیا اور یوں سیاست کے میدان میں صفِ اوّل کے رہنماؤ ں کو پیچھے دھکیل دیئے جانے سے ایسا خلا پیدا ہوا جس نے ملک کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں۔ یہ قانون سات سال تک نافذ رہا۔
مَیں نے ہمیشہ والد محترم کو اپنے بھائیوں کے ہمراہ عیدمیلاد النبی کے مرکزی جلوس، دس محرم الحرام اور ہر جمعرات کو دربار حضرت پیر پیراں موسیٰ پاک شہیدؒ پر حاضری دیتے ہوئے دیکھا۔ وہ جمعرات کو بڑی ہمشیرہ کے پاس جاتے اور رات کا کھانا خاندان کے افراد کے ساتھ مل کر کھاتے، یہیں پر خاندان کے اکثر معاملات اور مسائل پر گفتگو ہوتی۔ یہ سلسلہ خاندان میں اتفاق قائم رکھنے کا موجب تھا۔
والد محترم کو لاہور بہت پسند تھا۔ وہ جب بھی لاہور جاتے تو داتا دربار حاضری ضرور دیتے تھے۔ کبھی کبھار دربار میاں میرؒ پر بھی حاضری کے لیے جاتے تھے۔ کئی مرتبہ مَیں بھی ان کے ہمراہ گیا۔والد محترم صاحب ہمیشہ تین رمضان المبارک کو اپنے ہاتھ سے کھانا تیار کرتے اور کہتے کہ یہ بی بی فاطمہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا کے وصال کا دن ہے۔ اُس دن اپنے دوستوں کو مدعو کرتے اور اُن کی خوب تواضع کرتے تھے۔ زندگی بھر انہوں نے اس روایت کو نہایت محبت و شوق سے نبھایا۔ اتفاق ہے کہ وہ اسی دن یعنی تین رمضان المبارک مورخہ 9 اگست 1978ءکو نشتر ہسپتال، ملتان میں انتقال کر گئے۔ اِنّا لِلّٰہِ و اِنّا اِلَیہِ رَاجِعُون۔
والد محترم باقاعدگی سے ڈائری لکھا کرتے تھے۔ اپنی وفات سے ایک روز قبل انہوں نے ڈائری میں احمد ندیم قاسمی کا یہ شعر لکھا:
عمر بھر سنگ زنی کرتے رہے اہلِ وطن
یہ الگ بات ہے دفنائیں گے اعزاز کے ساتھ
آج والد محترم صاحب کو ہم سے بچھڑے 41 برس ہو گئے اور ان کے یومِ وفات پر مَیں انہی کی روایات پر عمل کرتے ہوئے 3 رمضان المبارک کو دوستوں کو زحمت دیتا ہوں، ان کی افطاری کرواتا ہوں جس موقع پر اُن کے درجات کی بلندی کے لیے دُعا کی جاتی ہے۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker