زعیم ارشدکالملکھاری

زعیم ارشدکا کالم: گرگ آشتی

گرگ فارسی میں بھیڑیئے کو کہتے ہیں ، اور آشتی بھی فارسی ہی کا لفظ ہے جس کے معنی میل ملاپ دوستی لگاوٹ وغیرہ کے ہیں، ان دونوں الفاظ کا مرکب ہے گرگ آشتی، یعنی ایسی محبت، پیار، لگاؤ جس کے درپردہ سنگین مقاصد چھپے ہوں ، یا منافقانہ طرز عمل یا ایسا طرز عمل جو کسی کو دھوکہ دینے کیلئے اختیار کیا جائے اسے گرگِ آشتی کہا جاسکتا ہے، دراصل ایران میں جاڑے کے موسم میں جب بھیڑیوں کو شکار نہیں ملتا اور برف کی وجہ سے غذا کی قلت ہو جاتی ہے، تو بھوکے بھیڑیئے ایک دائرے میں بیٹھ جاتے ہیں اور ایک دوسرے کو گھورنا شروع کردیتے ہیں جیسے ہی کوئی بھیڑیا گرتا ہے، سب اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں اور اسے کھا جاتے ہیں۔ اصل میں اس عمل کو ہی گرگِ آشتی کا جاتا ہے۔
اب اگر ہم بغور تجزیہ کریں تو پائیں گے کہ ہمارا پورا معاشرہ بدترین گرگِ آشتی کا شکار ہے۔ ہمارے ہاں کمزوروں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر ایزاء پہنچائی جاتی ہے، نقصان پہنچایا جاتا ہے ، تذلیل کی جاتی ہے، جھوٹے تانے بانے بنے جاتے ہیں جو گرگِ آشتی کے معنوں پر بدرجہ اتم پورے اترتے ہیں۔
ہمارے معاشرے میں بھیڑیئے سے زیادہ سفاکیت موجود ہے، کوئی سوچ سکتا ہے کہ ایک پیدل اسکول جانے والی بچّی کے بیگ میں کتابوں کے سوا کیا ہو سکتا ہے، اس کے پیدل جانے سے ہی اس کی غربت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے یقینا اس بچی کے والدین نے اپنا پیٹ کاٹ کر اس کو کتابیں دلائی ہوں گی جو اس بچی اور اس کے والدین کیلئے تو ضرور قیمتی ہوں گی مگر ان اوباش نوجوانوں کیلئے تو کچھ بھی نہیں جو اس مظلوم بچی کو اکیلا پا کر اس کا اسکول بیگ چھین کر فرار ہوجاتے ہیں۔ اور بیچاری بچّی اپنی کتابوں کو بچانے کیلئے دور تک زمین پر گھسٹتی چلی جاتی ہے، مگر ناکام رہتی ہے۔ ایسی بیشمار مثالیں ہمارے اردگر پھیلی ہوئی ہیں جن سے قریب قریب ہر شخص آگاہ ہے، کیونکہ کبھی نہ کبھی وہ ان کا شکار ہوا ہوتا ہے۔ راہ چلتے کسی بزرگ سے کہا جاتا ہے کہ انکل یہ پرچہ دیکھ کر پتا سمجھا دیں، شام کا وقت ہے اندھیرا ہوچلا ہے، بوڑھا اپنا سستا سا موبائل نکال کر اس کی روشنی میں پرچی پڑھنے کی کوشش کرتا ہے کہ نوجوان پستول نکال کر کہتا ہے کہ انکل پتا مل گیا، آپ یہ موبائل ہمیں دیں اور شرافت سے سیدھے چلے جائیں۔ یہ شقاوت بھی گرگِ آشتی کے زمرے میں ہی آتی ہے۔
معاشرہ ایک ایسی ذہنی و نفسیاتی بیماری میں مبتلا ہو چکا ہے جو بھیڑیوں کی سفّاکی کو بھی شرما رہی ہے۔
غریب کی بیٹی کا عین شادی سے پہلے جہیز کا لوٹ لیا جانا، شادی کی رات دلہن کے ساتھ پانچ لوگوں کا اجتماعی زیادتی کرنا، غریب، بیوہ یا یتیموں کی املاک پر قبضہ کرلیا جانا، ہمارے معاشرے میں موجود عام گرگِ آشتی کی مثالیں ہیں اور معاشرے میں پنپنے والے رویوں میں نہایت تکلیف دہ اور خطرناک بھی ہیں۔
روزگار کا جھانسہ دیکر غریبوں اور ناداروں کی متاع قلیل کا لوٹ لیا جانا بھی معاشرے میں پنپنے والا عام گرگِ آشتی ہے ، یہاں تک کے غریب لڑکیوں کو ملازمت کے بہانے بیچ دیا جانا یا ان سے زبردستی جسم فروشی کرانا بھی گرگِ آشتی ہی ہے مگر اس گرگِ آشتی کی علّت میں سب ہی شریک ہیں چاہے وہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ہوں یا دوسرے حکومتی اور غیر حکومتی ادارے، یہ وہ بھیڑیئے ہیں جن میں ابھی جان ہے اور جو کمزور کے گرنے کا انتظار نہیں کرتے بلکہ جب چاہتے ہیں اپنے مفاد کی خاطر اسے گرادیتے ہیں۔ یہ روش صرف غریبوں اور ناداروں تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ اگر ہم ذ را اپنی تاریخ پر نگاہ ڈالیں تو پائیں گے کہ ہماری تاریخ کا ایک ایک ورق گرگِ آشتی جیسے رویوں سے بھرا پڑا ہے۔
موجودہ سماجی و سیاسی صورتحال سے لیکر قیام پاکستان تک من حیث القوم ہم زبردست منافقت زدہ رہے ہیں ، بات ایوان اقتدار کی ہو یا خوانچہ فروش کی ہم اکژیت میں مطلب پرستی و خودغرضی کا بہت بری طرح شکار ہیں اور اس قدر شکار ہیں کہ مطلب پرستی و خود غرضی کے سامنے نہ ہم کسی رشتے کو خاطر میں لاتے ہیں نہ کسی تعلق کو، بیٹا جائیداد و دولت کے حصول کیلئے باپ کے مرنے کا انتظار کرنے کے بجائے اسے ماردیتا ہے۔ بھائی بہنوں کی وراثت ہڑپنے کیلئے بہنوں کو زندہ درگور کر رہے ہیں، کیا یہ گرگِ آشتی نہیں ہے، یہ زیادہ سنگین و دلخراش گرگِ آشتی ہے تمام تر خون آشامی و درندگی کے باوجود بھیڑئے اپنے ساتھی کے مرنے کا انتظار کرتے ہیں مگر ہم تو انتظار بھی نہیں کرتے اور رشتوں ناتوں، معاشرتی اقداروں اور اخلاق و کردار کی دھجیاں بلا جھجھک اڑائے دے رہے ہیں۔
آخر ان رویوں کی معاشرے میں پنپنے کی کیا وجوہات ہوسکتی ہیں؟ ایک بڑی وجہ معاشرتی ناہمواری ہے، ازل سے معاشرے میں امیر غریب کا چکر چلتا رہا ہے اور چلتا رہے گا، مگر جو ناانصافی و بے ایمانی کا تناسب اب ہے پہلے کبھی نہ تھا، دولت جمع کرنے کا جنون اس کی بڑی وجہ ہے، جو لوگ غربت سے دونمبری کرکے امیر ہو جاتے ہیں ان کی ہوس زر اور بھڑک جاتی ہے اور وہ مز ید غریبوں کو کچل کر یا نچوڑ کر اپنی تجوریاں بھرنا چاہتے ہیں، اس کیلئے انہیں چاہے کسی کی زندگی تباہ کرنا پڑے یا کسی کی جان لینا پڑے تو بھی تردد نہیں کرتے۔
معاشرے کے سدھار کیلئے کوئی کام نہیں ہورہا، پورا معاشرہ گرگِ آشتی جیسے رویوں کا بری طرح شکار ہے مگر اہل دانش و اہل اقتدار اس طرف بالکل توجہ نہیں دے رہے، جبکہ اس پر فوری اور مستقل توجہ اور عملی اقدامات کی شدید ضرورت ہے، صاحب اقتدار سے لیکر عام آدمی تک ضرورت اس امر کی ہے کہ سب کی کردار سازی کی جائے، باقاعدگی سے عملی تحاریک کو سامنے لایا جائے جو لوگوں کے رویوں کو سزا و جزا کی بنیاد پر نہ صرف پرکھیں بلکہ نتائج کی روشنی میں عملی اقدامات بھی کریں۔ کیونکہ لگتا یہ ہے کہ گرگِ آشتی معاشرے کی فطرت ثانیہ بن چکی ہے اور صرف زبانی جمع خرچ سے معاملات درست ہونے والے نہیں ہیں۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker