افسانےزعیم ارشدلکھاری

زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہے۔۔زعیم ارشد

عید کی آمد آمد تھی کالج کی فلاح و بہبود سوسائٹی نے پروگرام بنا یا کہ اس بار عید سے پہلے کچھ وقت بوڑھے ، نادار اور بے گھر لوگوں کے ساتھ گزارا جائے بالخصوص ان لوگوں کے ساتھ جن کو لوگ اولڈ ہاؤس میں چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ ارادہ تھا ان کو کچھ عید کے تحفے ، نئے کپڑے وغیرہ بھی ہدیہ کئے جائیں اور ان کی تنہائی کو بانٹ کر کچھ دلجوئی کی جائے ۔ یہ دس بارہ طلبہ و طالبات کا گروپ تھا جن کی سربراہی پروفیسر مسز شاہینہ عالم کر رہی تھیں۔ ان کا پہلے ہی سے اولڈ ہاؤس کی انتظامیہ سے رابطہ تھا، تو جیسے ہی یہ استقبالیہ پر پہنچے ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ اور انہیں بنیادی معلومات فراہم کرنے کے بعد لاوارث اور ترک کئے گئے لوگوں تک پہنچا دیا گیا، یہ لوگ ہر ایک سے بہت ہی تپاک اور پیار سے مل رہے تھے جسے وہاں مقیم لوگ حیرت اور خوشی کے ملے جلے جذبات کے ساتھ دیکھ رہے تھے۔
وہ سب ایک بڑے ہال میں جاکر بیٹھ گئے جہاں بہت سارے بوڑھے اور ادھیڑ عمر کے لوگ رہتے تھے، ان سب میں ایک قدر مشترک تھی کہ ان سب کے چہروں پر بہت ہی گہری یاسیت اور مایوسی با آسانی دیکھی جا سکتی تھی۔ ان میں زیادہ تر لوگ فوری توجہ کے متمنی تھے ، وہ بات کرنا چاہتے تھے، اپنے دل کی بھڑاس نکالنا چاہتے تھے، اپنا پیغام اپنے پیاروں تک پہنچانا چاہتے تھے، ہلکی ہلکی سی سرگوشیوں نما سسکیاں بھی سنائی دے رہی تھیں۔ ان سب لوگوں نے محسوس کیا کہ ایک بہت ہی پروقار سی خاتون الگ تھلگ بیٹھی ہیں لگ تو وہ بھی حالات کی ستائی ہوئی اور پریشان رہی تھیں مگر ان میں ایک الگ چھب تھی ایسا لگ رہا تھا جیسے کھنڈر بتا رہے تھے عمارت عظیم تھی۔
وہ سب ان کی جانب متوجہ ہو گئے، اور بات شروع کرنا چاہی تو انہوں ٹال دیا، پروفیسر صاحبہ کو جانے کیوں ایسا لگ رہا تھا جیسے انہوں ان خاتون کو پہلے بھی کہیں دیکھا ہے، یا ان سے ملی ہیں۔ طلبہ طالبات تو آگے بڑھ گئے مگر پروفیسر صاحبہ اپنا تجسس نہ چھپا سکیں اور ان کے قریب آ کر بیٹھ گئیں، حال احوال پوچھنے پر وہ کہنے لگیں کہ میں یہاں بہت خوش ہوں کیونکہ میرے لئے اس سے بہتر گوشہء عافیت کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا۔ یہ جواب سن کر پروفیسر صاحبہ حیران رہ گئیں، انہیں اب ان کی آواز بھی کچھ کچھ جانی پہچانی سی لگ رہی تھی۔ ان کا تجسس اب عروج پر پہنچ چکا تھا ، پوچھنے لگیں کہ آپ کچھ اپنے بارے میں بتائیں تو وہ پھر ٹالنے لگیں ۔ مگر پروفیسر صاحبہ کے اصرار پر کہنے لگیں کہ میں میرا نام نجمہ ہے اور میں منٹو سرکل میں پڑھا کرتی تھی، اتنا کہنا تھا کہ پروفیسر صاحبہ کی زبان سے ایک چیخ سی نکلی نجمہ آپا آپ؟ اور پروفیسر صاحبہ کے دماغ میں زندگی کی فلم ریوائنڈ ہونے لگی۔
ان کی آنکھوں کے سامنے کالج کے زمانے کے مناظر گھومنے لگے، کالج کا اسپورٹس ویک زور و شور سے جاری تھا ، کھلاڑی جان مار رہے تھے اور ان کے سپورٹر ان کی پذ یرائی میں آسمان سرپر اٹھائے ہوئے تھے۔ ہر طرف اسپورٹس کٹس کی بہار تھی۔ نعرے لگ رہے تھے ہنسی مذاق ہو رہا تھا کھانا پینا ہو رہا تھا، غرض ہر جانب بس خوشی ہی خوشی بکھری معلوم ہوئی تھی۔ ایسے میں نجمہ کا فائنل میچ کالج کی بیڈ منٹن چیمپئن کے ساتھ تھا سب کا یہی قیاس تھا کہ اس بار نجمہ ہی چیمپئن بنے گی۔ آہستہ آہستہ لوگ کورٹ کے گرد جمع ہونا شروع ہو گئے، میچ شروع ہوا تو دفاعی چیمپئن کا پلڑا بھاری رہا، مگر کچھ ہی دیر میں نجمہ نے کم بیک کیا اور سیٹ پر سیٹ جیتنا شروع کردیا۔ اور ایک کانٹے کے مقابلے کے بعد نجمہ مقابلہ جیتنے میں کامیاب ہوگئی۔ نجمہ کے چاہنے والوں نے خوب بھنگڑے ڈالے شور مچایا، اس بار انعامات کی تقسیم والے روز نجمہ سب سے زیادہ بار اسٹیج پر بلائی گئی اس نے کئی مقابلوں میں نمایاں کامیابی حاصل کی تھی۔
اسپورٹس ویک کے دوران جمال مسلسل نجمہ پر نگاہ رکھے ہوا تھا، وہ دل ہی دل میں اس سے متاثر ہوچکا تھا، وہ نجمہ کی شخصیت کے سحر میں پوری طرح گرفتار ہوگیا تھا، ویسے وہ ہر ہفتے کسی نہ کسی کی ز لف گرہ گیر کا شکار ہو ہی جاتا تھا۔ مگر اس بار معاملہ بالکل الگ تھا۔ نجمہ کو اس بات کی بالکل بھی خبر نہ تھی اور وہ اپنی دھن میں مگن تھی۔ جمال ایک امیر زادہ تھا کالج میں بڑی شان سے ایک مہنگی ترین بائیک پر آتا تھا ، وہ خود بھی خاصا جاذب نظر تھا، عموماً کالج کی لڑکیاں اس کے اردگرد پائی جاتی تھیں۔ پھر آہستہ آہستہ نجمہ اور جمال کی دوستی ہوگئی اور وہ ساتھ ساتھ نظر آنے لگے۔ اب وہ اکثر کالج کے بعد بھی نظر آجاتے تھے۔ جانے کب وقت پر لگا کر اڑ گیا اور کالج کا دور ختم ہوا، جمال انجینئرنگ کالج میں چلا گیا اور نجمہ فائننس پڑھنے یونیورسٹی میں چلی گئی۔ آہستہ آہستہ ان کا ملنا جلنا کم ہوتا گیا، اور پھر بالکل ہی ختم ہوگیا، جمال نے انجینئرنگ مکمل کی تو اعلی تعلیم کیلئے ملک سے باہر چلا گیا۔ ا ب اس کا نجمہ سے کوئی رابطہ نہ تھا۔ نجمہ کے ماسٹرز کرتے کرتے اس کی والدہ بیمار رہنے لگیں ، اور پھرکچھ عرصہ بیمار رہنے کے بعد وہ خالق حقیقی سے جا ملیں۔
نجمہ کیونکہ بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھی والدہ چاہتی تھیں کہ نجمہ کی شادی ہو جائے مگر پہلے تعلیم اور پھر ماں کی بیماری کی وجہ سے وہ شادی نہ کر سکی اور والدہ کی وفات کے بعد چھوٹے بہن بھائیوں کا ماں بن کر خیال رکھنے لگی۔ اب اس نے خود کو شادی سے بالکل ہی روک لیا تھا، نجمہ کو جلد ہی ایک بڑے ادارے کے اکاؤنٹس ڈپارٹمنٹ میں نوکری مل گئی۔ یہاں تک تو پرفیسر صاحبہ نجمہ باجی کی زندگی کے متعلق جانتی تھیں ، پوچھنے لگیں کہ نجمہ باجی پھر کیا ہوا آپ تو بہت اچھے ادارے میں ملازم ہوگئی تھیں۔ نجمہ آپا کچھ دیر تو کچھ نہ بولیں پھر کہنے لگیں، کہ اماں کی موت کے بعد ابا بھی ریٹائر ہوگئے، اب ساری ذمہ داری مجھ پر ہی آپڑی تھی۔
چھوٹے بہن بھائی پڑھتے چلے گئے اور میں انتھک محنت کرتی چلی گئی ، وقت گزرنے کا پتہ ہی نہ چلا، عمر کا ایک خوبصورت حصہ دبے پاؤں نکل گیا، جیسے جیسے چھوٹے بہن بھائی تعلیم مکمل کرتے گئے، میں ان کی شادیاں کرتی چلی گئی۔ بہنیں تو بیاہ کر اپنے اپنے گھر چلی گئیں بھائی بھی والد کی ذمہ داری سے دامن چراکر الگ ہوگیا۔ اب بوڑھے والد کی پوری ذمہ داری مجھ ہی پر تھی، دن بھر دفتر میں سر کھپاتی اور گھر آکر بوڑھے والد کی تیمارداری کرتی۔ عمر ڈھلنے لگی تھی بالوں مین اب چاندی اترنے لگی تھی۔ مگر شخصیت کا حسن و شادابی ابھی باقی تھا، اس پر لباس کے خاص چناؤنے اسے آج بھی منفرد و مسحورکن بنا رکھا تھا۔ پھر اس کی شخصیت کی زندہ دلی اور خوش اخلاقی نے اسے دفتر میں بہت ہی ہردل عزیز اور مقبول بنا رکھا تھا۔ اور لوگ اس کی موجودگی کو پسند کرتے تھے۔
نجمہ آج بھی اپنے لباس اور بالوں کی محصوس کٹنگ کی وجہ سے خاصی جاذب نظر آتی تھی۔ شاید یہی وجہ تھی کہ اکاؤنٹس کے سربراہ بھی اس کی شخصیت سے متاثر ہوئے بنا نا رہ سکے۔ وہ خود بھی ایک مسحورکن شخصیت کے مالک تھے اور خوش لباسی میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔
وہ آہستہ آہستہ میری جانب مائل ہوتے چلے گئے۔ وہ اس کے کام کو سراہتے تھے اس کی ترقی میں معاونت کرتے تھے۔ وہ دونوں ایک دوسرے کو پسند کرنے لگے تھے، کام بھی مل جل کر کرتے تھے۔ نجمہ شاہد صاحب کی نظروں کی پسندیدگی اور لفظوں میں چاہت باآسانی محسوس کرتی تھی۔ وہ دفتر ی اوقات کے بعد بھی کام کیا کرتے تھے اور خوب باتیں بھی کیا کرتے تھے۔ شاہد صاحب پہلے سے شادی شدہ اور بچوں والے تھے۔ مگر وہ اب خاصے قریب آچکے تھے اور اپنی پسندیدگی کا اظہار عموماً تحائف کے تبادلوں کی شکل میں کیا کرتے تھے۔ وہ اکثر شاہد صاحب کیلئے گھر سے ان کی پسند کے کھانے بنا کر لاتی تھی، وہ دونوں لنچ ساتھ ہی کیا کرتے تھے۔دونوں خوبصورت تھے، خوش لباس تھے اور ایک ہی پیشے سے وابسطہ تھے یہ مماثلت ان کو اور بھی قریب لانے کا سبب بنی۔
ایک دن وہ اور شاہد صاحب ان کے کمرے میں کسی دفتری معاملے پر کام کر رہے تھے کہ ایک جونئیر لڑکا کمرے میں ایک چیک پر سائن کروانے داخل ہوا، شاہد صاحب کو یہ شدید ناگوار گزرا، مگر انہوں نے اس کے لائے ہوئے کاغذات کا جائزہ لینا شروع کردیا، پھر غصے سے معلوم کیا کہ اسے کام کرتے ہوئے کتنا عرصہ ہوگیا ہے، لڑکے نے جواب دیا کہ پانچ سال، تو انہوں نے کہا کہ تم نے پانچ سال میں کچھ بھی نہیں سیکھا۔ سپورٹ پیپر کیا ہیں اور چیک کیا بنا کر لائے ہو۔ اگر تم نے دوبارہ ایسی غیر ذمہ داری سے کام کیا تو میں تمہارے ساتھ بہت سختی سے پیش آؤں گا۔ لڑکے کو یہ سخت ناگوار گزرا کہ اسے نجمہ کی موجودگی میں سخت سست کہا گیا۔ وہ دل ہی دل میں مزہ چکھانے کا سوچتا ہوا وہاں سے چلا آیا۔ اور سوچتا رہا کہ اس بے عزتی کا بدلہ کس طرح لیا جائے، کہ اچانک اس کے دماغ میں جیسے بجلی سی چمکی، ٹیم ممبر ہونے کی وجہ سے اس کے پاس شاہد صاحب کے گھر کے نمبرز موجود تھے اس نے کچھ دن رک کر انجان بن کر شاہد صاحب کی بیوی کو کال کی اور کہا کہ آپ کے شوہر دفتر میں ایک خاتون سے عشق فرما رہے ہیں۔ یہ سن کر ان کی بیوی آگ بگولہ ہوگئی اور اس لڑکے سے کہنے لگی کہ اگر کبھی تم عین موقع پر مجھے اطلاع کردو تو میں تمہاری بہت شکرگزار رہوں گی۔ اب یہ موقع کی تلاش میں رہنے لگا، اور مہینے کے آخر میں جب نجمہ اور شاہد صاحب پے رول پر کام کر رہے تھے اس نے ان کی بیوی کو فون کر دیا، کچھ ہی دیر میں وہ ان کے دفتر میں آن دھمکی اور سیدھی شاہد صاحب کے کمرے میں جا گھسی، اس کے بعد پورے دفتر نے وہ شور شرابہ سنا کہ پہلے کبھی نہ سنا تھا۔ صاف لگ رہا تھا جیسے شاہد صاحب اپنی بیوی کو سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں مگر وہ مسلسل چیخ رہی تھی۔ چلا رہی تھی۔ آخر شاہد صاحب کے دفتر کا دروازہ کھلا اور شاہد صاحب کسی سے بنا کچھ کہے تیزی سے دفتر سے چلے گئے، اسکے بعد ان کی بیوی نکلی وہ بھی تیز تیز چلتی ہوئی دفتر سے چلی گئی، لوگوں نے محسوس کیا کہ نجمہ کی اس دوران بالکل آواز نہیں آئی اور اب بھی بالکل خاموشی تھی ، کافی دیر بعد ایک لڑکے نے جھانک کر دیکھا تو پایا کہ نجمہ کرسی پر ایک جانب ڈھلکی ہوئی ہیں ، اس نے ایک ساتھی لڑکی کو بلایا اور نجمہ کو چیک کرنے کو کہا، تو پایا کہ وہ تو بیہوش ہیں ، خیر پانی کے چھینٹے مار ے تو ان کو ہوش تو آگیا مگر وہ بہت ہی شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھیں اور مسلسل روئے جا رہی تھیں اس کے بعد وہ بھی اٹھیں اور دفتر سے چلی گئیں۔ کچھ دن تک شاہد صاحب اور نجمہ دونوں آفس نہیں آئے، مگر جب آئے تو شاہد صاحب نے استعفی دے دیا تھا اور نوٹس پیریڈ معاف کرا کر چند دن ہی میں دفتر سے رخصت لے لی وہ لوگوں سے الوداعی ملاقات کرنے آئے تو ہر ایک سے بڑے تپاک سے ملے، لوگوں نے چاہا کہ ان کے اعزاز میں ایک الوداعی پارٹی کرلیں مگر انہوں نے یکسر مسترد کردیا، سب سے آخر میں وہ نجمہ کے پاس آئے اور بولے کہ وہ اس سارے واقعے پر نہایت شرمندہ ہیں اور تاعمر شرمندہ رہیں گے اسی لئے وہ پاکستان چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ نجمہ کہ لئے یہ دوسرا بڑا سانحہ تھا، مگر سہنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ آہستہ آہستہ زندگی پھر سے معمول پر آگئی اور تیزی سے دوڑنے لگی چند سال گزرے تھے اب والد کی صحت بہت خراب ہوچکی تھی، وہ مسلسل بیمار رہتے تھے، اور پھر ایک دن وہ بھی راہی عدم ہوئے، اب نجمہ بالکل تنہا رہ گئی تھی، بہن بھائی ملتے نہ تھے۔ عمر کی تلوار مسلسل وار کر رہی تھی جس کے نشانات اب ان کے چہرے پر بہت گہرے اور صاف نظر آنے لگے تھے۔
کئی سال سے ایک پرائیویٹ ٹیکسی ڈرائیور ان کو دفتر لانے لیجانے کا کام کر رہا تھا، یہ کسی دفتر میں کام کرتا تھا اور کثیر العیال ہونے کی وجہ سے کچھ اضافی آمدنی کیلئے پول کی ٹیکسی چلاتا تھا جس کے ذریعے چند لوگوں کو دفتر لاتا لیجا تا تھا، نجمہ بھی ان ہی میں سے ایک تھی وہ نجمہ کے اکیلے پن سے واقف تھا، ایک روز اس نے نجمہ کو سب سے آخر میں ڈراپ کیا، اور کہنے لگا کہ اگر میں آپ سے ایک بات پوچھوں تو آپ ناراض تو نہیں ہوں گی؟ نجمہ نے کہا نہیں آپ پوچھیں کیا بات ہے؟ تو بولا کہ آپ کب تک اس طرح زندگی گزاریں گی شادی کیوں نہیں کرلیتیں، نجمہ بولی کہ اب اس عمر میں مجھ سے شادی کون کرے گا، تو وہ جیسے پہلے سے تیاری کرکے آیا تھا جھٹ سے بول پڑا کہ میں کروں گا اگر آپ مناسب سمجھیں تو، نجمہ اس غیر متوقع جواب کیلئے تیار نہ تھی ، سٹپٹا سی گئی، اتنے میں گھر آگیا اور وہ اتر کر گھر چلی گئی، مگر ڈرائیور نے اسے ایک عجیب مخمصے میں گرفتار کردیا تھا، وہ رات بہت دیر تک سوچتی رہی پھر یہ سوچ کر مطمئن ہوگئی کہ کل اپنی قریب ترین دوست سے مشورہ کرکے دیکھتی ہوں، صبح جب آفس پہنچی تو اس نے اپنی دوست کو سارا قصہ سنایا، وہ ڈرائیور کو جانتی تھی، کہنے لگی کہ اگر اس کے بیوی بچوں سے جھگڑا نہ ہو تو آدمی مناسب لگتا ہے، شام جب وہ اسے چھوڑنے آیا تو پوچھنے لگا کہ آپ نے کچھ سوچا؟ نجمہ نے کہا کہ بھئی تمہارے بیوی بچے لڑائی کریں گے تم ایک کنبہ والے شخص ہو، تو وہ بولا کہ اس نے سب تیاری کی ہوئی ہے، بیوی بچے راضی ہیں سب خوش ہوں گے۔ اس طرح نجمہ کا نکاح میر دریا خان سے ہو گیا، شروع کے دن واقعی بہت اچھے گزرے دریا خان اب نجمہ کے ساتھ ہی آکر رہنے لگا تھا، اس نے اب دفتر جانا اور ٹیکسی چلانا بھی چھوڑ دیا تھا وہ اب پوری طرح نجمہ کی کمائی پر انحصار کرنے لگا تھا اس کے اپنے بیوی بچے بھی نجمہ کی کمائی پر پل رہے تھے۔ نجمہ صبر سے سب کی کفالت کر رہی تھی وہ کبھی کبھی دل میں سوچتی تھی کہ چلو اس پیسے کا کچھ تو مصرف نکلا، مگر حالات اس وقت بد ترین شکل اختیار کر گئے جب دریا خان نے نجمہ کے مکان کو بیچنے کی کوشش کی جس پر نجمہ راضی نہ ہوئی ، یہ انکار دریا خان کو بہت ناگوار گزرا، اس نے نجمہ پر بد ترین تشدد کیا جس کی نجمہ بالکل بھی عادی نہ تھی وہ شدید جسمانی اور نفسیاتی اذیت کا شکار ہوگئی اور بستر سے جالگی وہ نجمہ پر مسلسل دباؤ ڈالتا رہا، آخر نجمہ کو مجبوراً اپنے ساتھ کام کرنے والوں کو بتانا پڑی جنہوں نے قانون کا سہارا لیا جو دریا خان کو ایک آنکھ نا بھایا اور وہ اسے طلاق دے کر چلا گیا ۔ نجمہ ایک بار پھر اکیلی رہ گئی تھی۔ تو آپ یہاں کیسے پہنچیں پروفیسر صاحبہ نے اپنے آنسو پونچھتے ہوئے پوچھا، تو نجمہ کہنے لگی کہ جب میں نوکری سے ریٹائر ہوگئی تو بھائیوں نے وہ مکان بیچ کر حصے کر لئے اور مجھے یہاں چھوڑ گئے۔ پروفیسر صاحبہ کو لگا جیسے ساغر صدیقی نے یہ شعر : زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہے، جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یا د نہیں نجمہ کی زندگی کو دیکھ کر ہی لکھا ہوگا۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker