اختصارئےحسنین رضویلکھاری

اقبال اور نظریہ پاکستان ۔۔حسنین رضوی

نظریہ عربی زبان کا لفظ ہے ، بعض دانشور اسے ” تصور ” کے متبادل کے طور پر استعمال کرتے ہیں حالانکہ ایسا درست نہیں ، لغت میں تصور کا مفہوم یہ ہے کہ کسی چیز کو خیال میں لانا یا کوئی خالی نقشہ بنانا جبکہ نظریہ کسی خیالی نقشے کی وضاحت کو کہتے ہیں ۔ گویا تصور پہلے جنم لیتا ہے اور نظریہ بعد میں ۔
علامہ اقبال کے بارے میں جب یہ کہا جاتا ہے کہ انھوں نے پاکستان کا ایک خواب دیکھا تو اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ واقعی انھوں نے سوتے ہوئے کوئی خواب دیکھا بلکہ اس سے مراد وہ ” تصور پاکستان ” ہے جو انھوں نے ایک نئی اسلامی ریاست کے بارے میں پیش کیا ۔
یہ تصور پاکستان انھوں نے باقاعدہ طور پر سب سے پہلے 29 دسمبر 1930ء کو الہ آباد میں مسلم لیگ کے سالانہ جلسے کی صدارت کرتے ہوۓ پیش کیا تھا۔۔
آپ نے فرمایا … برصغیر میں ایک اسلامی ریاست کا قیام اس خطے اور اسلام دونوں کے مفاد میں ہوگا ، میں یہ مطالبہ کرتا ہوں کہ مسلمانوں کی ایک مربوط ریاست قائم کی جاۓ …..
آگے چل کر انھوں نے اپنے خطبے میں ارشاد فرمایا کہ فلاں فلاں علاقوں پر مشتمل ایک نئی اسلامی ریاست کو ابھرتے ھوۓ میری آنکھیں دیکھ رہی ہیں ….
گویا انہیں یہ یقین تھا کہ ان کا پیش کیا ہوا ” تصور” ہر حال میں عمل میں آئے گا ۔بعد میں انھوں نے قائد اعظم کو37- 1936ء میں جو خطوط لکھے اس میں اس تصور کی وضاحت کی ( یہ خطوط 1942 ء میں شائع ہونے والی کتاب ” قائد اعظم کے نام اقبال کے خطوط ” میں موجود ہیں ) یہ کتاب تمام اہم لائبریریوں میں آج بھی موجود ہے۔
جبکہ آپ کا تصور پاکستان تو خطبہ الہ آباد سے بہت پہلے 1907ء میں جب آپ کی نظم ” نئی منزل کی نشاندہی ” شائع ہوئی جو کہ ” بانگ درا ” میں موجود ہے …..
میں ظلمت شب میں لے کے نکلوں گا اپنے درماندہ کارواں کو
شررفشاں ہوگی آہ میری ، نفس مرا شعلہ بار ہوگا
سفینہ برگ گل بنا لے گا قافلہ مور ناتواں کا
ہزار موجوں کی ہو کشاکش مگر یہ دریا سے پار ہوگا
علامہ اقبال کا تصور ریاست اسلامی عصری تقاضوں کے مطابق قرآنی تصور ریاست ہے جو علامہ اقبال کی اردو فارسی شاعری میں پوری آن بان کے ساتھ موجود ہے ۔
جو فیس بک پر علامہ کے فرزند جسٹس جاوید اقبال کے نام سے جو پوسٹ گردش کر رہی ہے جس میں جسٹس صاحب نے علامہ کے تصور پاکستان کی نفی کی ہے اور کہا ہے کہ علامہ تو قیام پاکستان کے مخالف تھے اور کانگریس کے نظریے کے حامی تھے تو مجھے اس پوسٹ سے اختلاف ہے میں اسے درست نھیں سمجھتا اور اگر درست بھی مان لیا جاۓ تو پہلے تو علامہ کی تمام اردو اور فارسی شاعری اس نظریے کو رد کرنے کیلیے کافی ہے اور اگر مان بھی لیں تو قائد اعظم بھی کسی زمانے میں نہ صرف ” گانگریس ” کے نظریے کے حامی تھے بلکہ مسلم لیگ میں شمولیت سے پہلے کانگریس میں تھے اور دو قومی نظریے کو درست نھیں سمجھتے تھے لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ قائد اعظم کو بھی علامہ اقبال نے ہی قائل کیا بلکہ جب قائد اعظم بد دل ہوکر مستقل لندن چلے گئے تو یہ علامہ اقبال ہی تھے جن کی کوششوں سے قائد اعظم واپس آۓ اور مسلم لیگ کی قیادت سنبھالی .
اور پھر وہ دن بھی آیا جب 23 مارچ 1940ء کو اقبال پارک ( منٹو پارک ) لاہور میں قرارداد پاکستان منظور ہوئی تو قائد اعظم نے فرمایا …. آج ہم نے وہ کچھ کردکھایا جو علامہ اقبال کی تمنا تھی .
……. اور پھر 14 اگست 1947 ء کو علامہ اقبال کا خواب حقیقت بن گیا ۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker