اہم خبریں

پاکستان نے بھارتی دہشت گردی کے ناقابلِ تردید ثبوت پیش کردیے

اسلام آباد: پاکستان نے بھارتی دہشت گردی کے ناقابلِ تردید ثبوت پیش کردیے۔ہفتہ کے روز دفتر خارجہ میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور ترجمان پاک فوج میجر جنرل بابر افتخار نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ اس موقع پر بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے افسران کے آڈیو کلپس بھی سنوائے گئے جس میں ’را‘ افسران پاکستان میں دہشتگردی کی ترغیب دے رہے ہیں جب کہ ایک ویڈیو بھی دکھائی گئی جس میں دہشتگرد کو ڈیوائس کے ذریعے دھماکا کرنے کا طریقہ کار بتایا جارہا ہے۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت سیز فائرکی مسلسل خلاف ورزیاں کررہا ہے، بھارت کے اصل چہرے کو قوم اوربین الاقوامی برادری کے سامنے بے نقاب کرنا چاہتے ہیں، ہمارے پاس شواہد ہیں کہ بھارت ریاستی دہشتگردی کو ہوا دے رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کا منصوبہ تیارکیا ہے، ہمارے پاس بھارت کے خلاف ناقابل تردید شواہد موجود ہیں، بھارت کےخلاف شواہد بین الاقوامی برادری کے سامنے ڈوزیئرکی شکل میں پیش کررہا ہوں۔
وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کوپھر ہوا دینے کی کوشش کی جارہی ہے، اس لیے مزید خاموشی پاکستان اور خطے کے مفاد میں نہیں ہو گی۔شاہ محمود نے مزید کہا کہ پشاور اورکوئٹہ میں حالیہ دہشتگرد حملے بھارتی عزائم کو واضح کرتے ہیں جب کہ کراچی، لاہور، پشاور اور دیگر شہروں میں بھارت دہشتگرد حملوں کی منصوبہ بندی کررہا ہے، بھارتی خفیہ ایجنسیاں پاکستان میں دہشتگردوں کو مالی معاونت اور تربیت دے رہی ہیں، بھارتی ایجنسیاں کالعدم ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور دیگرکالعدم تنظیموں کی پشت پناہی کررہی ہیں۔
وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت پاکستان میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرنا چاہتا ہے اور سی پیک کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے، بھارت کی جانب سےکالعدم تنظیموں کو اسلحہ اور رقم فراہم کی جارہی ہے، بھارت چاہتا ہے کہ یہاں افراتفری پھیلائی جائے، بھارت دہشتگردوں میں 22 ارب روپے تقسیم کرچکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مصدقہ اطلاعات ہیں کہ بھارت میں وزیراعظم کی سربراہی میں سی پیک مخالف سیل بنایا گیا ہے، اس سیل کو اطلاعات کےمطابق 80 ارب روپے دیے جاچکے ہیں جب کہ 700 افراد کی ملیشیا بنائی گئی ہے جس کا ہدف سی پیک منصوبوں کونشانہ بنانا ہے لیکن ہندوستان کو بتانا چاہتا ہوں کہ پاکستان تیار ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت آزاد کشمیر اورگلگت بلتستان میں شورش برپاکرنا چاہتاہے، اطلاعات ہیں کہ وہاں قوم پرستی کو ہو ادینےکی کوشش کی، بھارت نے الیکشن سے پہلے بھی یہ کوشش کی اور الیکشن کے بعد بھی وہ ایسا ہی ارادہ رکھتا ہے، اگست 2020 میں بھارت نے ٹی ٹی پی اور دیگر کالعدم تنظیموں کو اکٹھا کرنے کی کوششیں کی، اطلاعات ہیں کہ یہ دہشت گرد پاکستان میں اپنی کارروائیوں میں اضافہ کرنے کی کوششیں کریں گے۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان میں حالیہ دہشتگردی اور دہشتگرد تنظیموں کی تمام کارروائیوں کے پیچھے بھارت ہے، افغانستان میں موجود بھارتی کرنل راجیش دہشتگرد تنظیموں کے ساتھ رابطے میں ہے جب کہ بھارت نے حال ہی میں 30 داعش دہشتگردوں کو پاکستان اور ارد گرد منتقل کیا۔
ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ بھارتی ایجنسی ’را‘ اپنے فرنٹ مین کو تیسرے ممالک کے ذریعے فنڈ کرتا ہے، بھارت سے دہشتگردی کے لیے افغانستان رقوم بھیجی گئیں، الطاف حسین گروپ کو بھارتی ایجنسی ’را‘ کی طرف سے فنڈنگ کی گئی جب کہ سی پیک کے خلاف بھارت نے 700 افراد پر مشتمل ملیشیا ترتیب دی۔
میجر جنرل بابر افتخار نے مزید کہا کہ بھارت کئی تنظیموں کو ہتھیار، آئی ای ڈی اور خود کش جیکٹس فراہم کر رہا ہے، را نے ٹی ٹی پی کو بھی ہتھیار، خود کش جیکٹس اور آئی ای ڈیز فراہم کی جب کہ الطاف حسین گروپ کو بھی ہتھیار فراہم کیے گئے ۔ان کا کہنا تھا کہ بھارتی تربیتی مراکز افغانستان میں بھی ہیں، اجمل پہاڑی نے تسلیم کیاکہ بھارت الطاف حسین گروپ کو تربیت دیتا ہےڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ڈاکٹر اللہ نذر کی بھارتی ’را‘ کے ساتھ روابط مصدقہ ہیں، ڈاکٹر اللہ نذر نے جعلی افغان پاسپورٹ پربھارت کا سفرکیا، بی ایل اے اور بی ایل ایف گوادر میں پرل کانٹی نیٹل ہوٹل پر حملوں میں ملوث تھے جب کہ پشاور ایگری کلچر یونیورسٹی اور اے پی ایس میں بھی ’را‘ ملوث تھی، ان حملوں کی وڈیوز افغانستان سے آپ لوڈ کی گئیں۔
ان کاکہنا تھا کہ بھارت آزاد جموں کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی دہشتگردی میں ملوث ہے، بھارت نے پاکستان میں اہم شخصیات کو قتل کرنے کی بھی منصوبہ بندی کی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ ملک فریدون کے بھی بھارتی خفیہ ایجنسی سے روابط تھے، اے پی ایس پشاور حملے کے بعد ملک فریدون جشن منانے کے لیے افغانستان میں بھارت قونصلیٹ گیا۔ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ پی سی گوادر حملے کا ماسٹرمائنڈ را افسر انوراگ سنگھ تھا۔
( بشکریہ : جیو نیوز )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker