زعیم ارشدکالملکھاری

زعیم ارشدکا کالم:پاکستان پرافغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء کے ممکنہ اثرات

افغانستان میں نیٹو کا بیس سال سے جاری رہنے والا مشن اب اختتام پذ یر ہو رہا ہے ، اور جب سے امریکہ بہادر اور اس کی اتحادی فوجوں (NATO) نے افغانستان سے کوچ کرنے کیلئے بوریا بستر باندھنا شروع کیا ہے، افغانستان کے ساتھ ساتھ پاکستان بھی ایک غیر یقینی کیفیت سے دوچار ہے۔ جس طرح روس افغانستان میں گھسا تھا اور طویل کشمکش کے بعد زخم چاٹتا ہوا لوٹا تھا امریکہ کا حال اس سے بھی برا ہوا ہے، ایک طویل جنگ جو علاقے میں چودھری بننے کیلئے شروع کی گئی دو دہائیوں تک جاری رہی مگر جن مقاصد کیلئے شروع کی گئی تھی وہ حاصل نہ ہو سکے اور جس میں ایک سپر پاور نے اپنے تمام وسائل جھونک کر بھی سبکی ہی اٹھائی ہے، اور اس خطے میں نہ وہ ورلڈ آرڈر لا سکا، نہ بھارت کی مدد سے یہاں اپنی اجارہ داری قائم کرسکا، اب اس کی حالت یہ ہے کہ سب کچھ لٹا کے ہوش میں آئے تو کیا ہوا۔ افغانستان کا سب سے بڑا بگرام ایئرپورٹ آجکل ایک بہت بڑے کباڑ خانے کی صورت اختیار کرگیا ہے۔ امریکن فوج نے ہر اس چیز کو جسے وہ چھوڑ کر جا رہے ہیں ناکارہ بنا دیا ہے۔ جو ان کی ناکامی اور خجالت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
قوی امکان اس بات کا ہے کہ افغانستان جس ابتری اور انتشار کا شکار ہو سکتا ہے اس کے اثرات پڑوسی ملک پاکستان پر بھی مرتب ہوں۔ واضح نظر آ رہا ہے کہ غیر ملکی افواج کے انخلاء سے پیدا ہونے والے خلاء کو پر کرنے کیلئے طالبان تیزی سے کار ر وائیاں کر رہے ہیں۔ طالبان کی بڑھتی ہوئی کاروائیوں کی خبریں مسلسل آرہی ہیں اور وہ ایک کے بعد ایک ضلع پر قبضہ کرتے جارہے ہیں اب تک تین سو میں سے سو اضلاع پر طالبان قبضہ کرچکے ہیں ، افغان فورسز کی ہمت پہلے ہی جواب دے چکی ہے، جو مسلسل پسپائی کا شکار ہیں ۔ دوسری جانب طالبان کا یہ موقف ہے کہ دوحہ معاہدے کے مطابق افغانستان میں ستمبر کے بعد کوئی بھی غیر ملکی فوجی نہیں رہنا چاہئے اگر رہے تو یہ معاہدے کی خلاف ورزی ہوگی۔ اور اس کے خلاف فیصلہ طالبان کی مجلس شوری کرے گی، البتہ سفارتکاروں، فلاحی تنظیموں اور دیگر اداروں کو افغانستان میں کوئی خطرہ نہیں مگر کوئی بھی غیرملکی فوجی افغان سرزمین پر نہیں رہنا چاہئے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ غیر ملکی فوج کے مکمل انخلاء کے بعد افغانستان کی کیا صورتحال ہوگی، کہیں روس کے انخلاء کی طرح خانہ جنگی تو نہیں ہوجائے گی۔ اور طالبان دھڑے آپس میں لڑنا شروع تو نہیں ہوجائیں گے؟ جس کے نتیجے میں جانی نقصان کا خدشہ ہے اس صورت میں بڑی تعداد میں افغان شہری ہجرت کرکے پاکستان کی طرف آنا شروع ہوجائیں گے، پاکستان پہلے ہی چالیس سال سے افغان مہاجرین کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔
عالمی سطح پر افغانستان کے بارے میں جو بھی لائحہ عمل طے کیا جاتا ہے اس کے اثرات پاکستان پر ضرور پڑتے ہیں۔ ساتھ ساتھ بھارت کے بھی افغانستان میں بڑے پیمانے پر مفادات ہیں جن کے ذریعے وہ پاکستان میں تخریب کاری اور بلوچستان میں مسائل پیدا کرتا رہتا ہے۔ جب اس کے مفادات کو ٹھیس پہنچے گی تو وہ بھی ضرور ساز باز کرے گا، پاکستان پر ایک یہ بھی اضافی دباﺅ ہوگا، کیونکہ بھارت کی ریشہ وانیوں پر نگاہ رکھنا نہایت ہی اہم اور ضروری ہے۔ امریکہ یہاں سے جا تو رہا ہے مگر وہ افغانستان بالخصوص اور بالعموم اس خطے میں اپنا اثر رسوخ کھونا نہیں چاہتا، جس کیلئے وہ مختلف حربے آزما رہا ہے جس میں پاکستان پر سب سے زیادہ دباﺅ ہے، وہ پاکستان سے ہوائی اڈے اور راہداری مانگ رہا ہے ساتھ ساتھ اس بات کا بھی متمنی ہے کہ پاکستان اس کا ہر طرح ساتھ دے۔
پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کے مطابق افغانستان میں مثبت کردار ادا کرنا چاہتا ہے اور مل کر ترقیاتی کام بھی کرنا چاہتا ہے مگر پاکستان اب کسی بھی پراکسی وار Proxy War کا حصہ نہیں بننا چاہتا۔ بہت ممکن ہے کہ افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلاء کے بعد ہونے والے خلاء کے نتیجے میں خانہ جنگی ہوجائے، جس کے اشارے مل رہے ہیں ، وہاں سب سے بڑا گروہ افغان طالبان کا ہے جو یقینا اپنا اثر قائم کرنا چاہے گا۔ جس کے اثرات پاکستان پر کسی نہ کسی صورت ضرور پڑیں گے۔ بالخصوص پاکستان کے افغان ملحقہ سرحدی علاقوں پر ضرور اثرات مرتب ہوں گے۔ ان تمام عوامل کے تناظر میں پاکستان گذشتہ کئی سال سے اپنی تیاریوں میں مصروف ہے جس میں سرحدوں پر باڑ لگانا بھی شامل ہے۔ مگر افغان طالبان کا پاکستانی مدارس تک رسوخ بھی ایک تشویش ناک بات ہے ، اس کے علاوہ افغان خفیہ ایجینسیNDS اور بھارتی RAW اس موقعہ کا فائدہ اٹھا کر پاکستان میں انتشار پھیلانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
ٓان تمام حالات کے تناظر میں یہ باآسانی کہا جاسکتا ہے کہ تمام تر خدشات کے باوجود اس پورے معاملے میں پاکستان کی قلیدی حیثیت ہے اور دیگر تمام اتحادی ممالک پاکستان پر انحصار کر رہے ہیں۔ اب یہ کام ہماری خارجہ پالیسی کا ہے کہ وہ کتنی عمدگی سے اپنا دامن بچاتے ہوئے ان حالات میں کیا مثبت کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ہماری خارجہ پالیسی کی مہارت ہی افغانستان میں قیام امن اور پاکستان کو پرائی آگ سے بچانے میں کامیاب ہو سکتی ہے۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker