افسانےزعیم ارشدلکھاری

خواب گزیدہ۔۔ زعیم ارشد

جب سے اس نے ہوش سنبھالا تھا وہ تواتر کے ساتھ ایک خواب دیکھا کرتی تھی جو اس کیلئے ایک سوالیہ نشان اور پریشان کن گتھی کے سوا کچھ بھی نہ تھا، کیونکہ اسے معلوم ہی نہ تھا کہ اس خواب کی حقیقت کیا ہے اور کیوں یہ اس کے حواس پر سوار ہے، وجہ یہ تھی کہ جب بھی وہ یہ خواب دیکھ لیتی تھی کئی گھنٹوں تک اس کے دل کو قرار نہیں آتا تھا دل و دماغ پر اس درجہ اداسی چھا جاتی تھی کہ مر جانے کو جی چاہتا تھا، یہ خواب اس کی مشکل زندگی کو اور مشکل بنا دیتا تھا، آج بھی ایسا ہی ہوا اس نے وہ خواب پھر دیکھا تھا اور گھبرا کر سوتے سے اٹھ بیٹھی تھی۔
حواس سنبھلے تو اس نے محسوس کیا کہ وہ پسینے سے تر بہ تر ہے اور اس کی سانسیں تیز تیز چل رہی ہیں کمرے میں ملگجا سا اندھیرا تھا، مسہری پر اس کے قریب ہی اس کا نوجوان گاہک سو رہا تھا۔ یہ خاصا خوبصورت اور تنومند نوجوان تھا اور کسی اچھے گھرانے کا فرد معلوم پڑتا تھا۔ اس نے ایک نظر نوجوان پر ڈالی اور بستر سے اتر کر کرسی پر جابیٹھی۔ اور خواب کے متعلق سوچنے لگی اس کی آہٹ سن کر نوجوان کی آنکھ بھی کھل گئی، وہ اسے عجیب سی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ اس نے پوچھا کہ کیا ہوا تم بہت پریشان نظر آرہی ہو؟ تو وہ اسے ٹالنے کی کوشش کرنے لگی مگر وہ نوجوان اس کی ذات میں کچھ زیادہ ہی دلچسپی لے رہا تھا وہ بضد رہا اور سے بتاتے ہی بن پڑی۔
یاسمین کچھ دیر خلاء میں گھورتی رہی پھر بولی کہ میں ایک خواب بہت عرصے سے دیکھتی ہوں کہ میں ایک چھوٹی سی بچی ہوں اور ایک بہت ہی گرم دوپہر ایک دروازے کی چوکھٹ پر بیٹھی روٹی کا ٹکڑا کھا رہی ہوں، گلی گرمی اور دھوپ کی وجہ سے بالکل سنسان ہے، کہ تیز دھوپ یک دم اندھیرے میں بدل جاتی ہے کوئی مجھے دبوچ لیتا ہے، میرا گلا دبا کر میری آواز بند کر دیتا ہے، اس بیچ میں اتنا ڈر جاتی ہوں کہ خوف سے میری آنکھ جاتی ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ یہ خواب مجھے کیوں بار بار نظر آتا ہے؟ تب وہ نوجوان جس کا نام جمیل تھا گویا ہوا کہ مجھے اپنی پچھلی زندگی کے بارے میں کچھ بتاؤ، تو یکسر مکر گئی اور کچھ بھی کہنے پر راضی نہ ہوئی، نوجوان بہت نرمی او ر عز ت سے بات کر رہا تھا، جو یاسمین کیلئے ایک انوکھا طرزعمل تھا، جمیل بستر سے اٹھا اور کھڑکی کھول کر باہر سے دو چائے لانے کو کہا اور واپس آکر دوبارہ بستر پر بیٹھ گیا، کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد دوبارہ نہایت نرم لہجے میں اس سے کہا کہ وہ کچھ تو بتائے، جمیل کے لہجے میں جانے کیا بات تھی کہ وہ خود کو روک نہ سکی اور بول اٹھی، اس نے اپنی کہانی کچھ یوں شروع کی کہ:
مجھے اپنے ماں باپ سے شدید نفرت ہے انہوں نے مجھے ان لوگوں کو بیچ دیا ہے جو مجھ سے دھندہ کروا کر پیسے کماتے ہیں، مجھے یہاں آئے قریب دس سال ہوگئے ہیں۔ اس سے پہلے میں ماں کے ساتھ لوگوں کے گھروں میں کام کیا کرتی تھی۔ جمیل نے استفسار کیا کہ تمہیں اپنے ماں باپ سے نفرت کیوں تھی، بیچ دینے کی وجہ سے یا اس سے بھی پہلے کوئی وجہ ؟ تو وہ بولی کہ جب میں بہت چھوٹی تھی تب میرا باپ کچھ بھی کام دھندہ نہیں کرتا تھا اور نشہ کرکے آوارہ گردی کرتا تھا اور ماں لوگوں کے گھروں میں کام کاج کیا کرتی تھی۔ جب ماں کام پر چلی جاتی تھی تو میں گھر پر باپ کے ساتھ اکیلی رہ جاتی تھی، تب وہ میرے ساتھ عجیب عجیب حرکتیں کیا کرتا تھا جو شروع میں تو مجھے سمجھ نہ آئیں مگر ہوش سنبھالا تو سمجھی کہ وہ تو اپنی نفسانی خواہشات کو مجھ سے پورا کیا کرتا تھا، ساتھ ساتھ ماں کا رویہ اتنا سخت تھا کہ میں کبھی چاہ کر بھی یہ بات ماں کو بتا نہ سکی اور دن یونہی گزرتے چلے گئے۔ اب ماں مجھے اپنے ساتھ لوگوں کے گھر کام پر لے جانے لگی، جہاں میں نے محسوس کیا کہ میری ماں ایک صاحب جو اکیلے رہتے تھے ان کے گھر بہت زیادہ وقت لگاتی تھیں عموما وہ دیر تک ان کی خواب گاہ کی صفائی کیا کرتی تھیں اور میں باقی گھر کی صفائی میں مصروف رہتی تھی۔ پھر ایک دن وہ صاحب میری ماں سے میرے متعلق بات کرنے لگے مگر لگتا یہ تھا کہ پیسوں پر بات بن نہ سکی اور ان میں تلخی ہو گئی جو میری ماں نے میرے باپ کو بتا دی، اب روز ہمارے گھر لوگ آنے لگے مجھے یہ بتایا گیا کہ میری شادی کی تیاریاں ہو رہی ہیں، مگر جب بھی بات میرے کان میں پڑی لگا جیسے معاملات کچھ کاروباری، بھاؤ تاؤ اور پیسوں اور نرخ پر ہوتے نظر آئے۔
کافی سارے لوگ نامراد لوٹ گئے شاید وہ میرے والدین کی ڈیمانڈ کو پورا کرنے کے قابل نہ تھے، پھر ایک دن یہ لوگ آئے اور سودا بن گیا مجھے فورا ہی یہ کہہ کر ان کے حوالے کردیا گیا کہ تمہاری ان سے شادی کردی گئی ہے اور اب تم نے ان کے گھر ان کے ساتھ رہنا ہے اور جو یہ کہیں وہ کرنا۔ مگر یہ لوگ خاصے تندخو اور بیباک تھے، آدمی نے جس کا نام فقیرا ہے مجھے گھر پہنچتے ہی بتا دیا کے وہ مجھے بہت مہنگے داموں خرید کر لائے ہیں اور مجھ سے ہی اپنی ساری کمائی وصولیں گے۔ یعنی اب مجھے ان کے لئے دھندہ کرنا ہوگا۔ فقیرے نے مجھے صاف صاف بتا دیا تھا کہ وہ بہت ہی خراب انسان ہے اور بندہ مار کر صحن میں دفن کردینا اس کے لئے بائیں ہاتھ کا کام ہے۔ پولیس میں اس کی خوب جان پہچان ہے لہذا کسی قسم کی چالاکی میری جان لے سکتی ہے، تو بس زندگی اس رخ پر چل پڑی اور گذشتہ دس سال سے یہاں ہوں اور اسطرح ہوں جیسے تم دیکھ ہی چکے ہو۔ یہی ہے میری کہانی، یہ سن کر جمیل کچھ دیر خاموش رہا اور کچھ پیسے اس کی طرف بڑھا کر باہر نکل گیا، کچھ دیر بعد جب یاسمین کمرے سے باہر نکلی تو اس کا دل دھک سے رہ گیا، اس نے دیکھا کہ جمیل باہر برآمدے میں بیٹھا اس کے مالکوں سے بات کر رہا تھا، فقیرے کے چہرے پر شدید ناگواری اور غصہ نظر آرہا تھا مگر وہ جانے کیوں اس کا اظہار نہیں کر رہا تھا۔ جمیل کچھ دیر میں اٹھ کر پھر آنے کا کہہ کر باہر نکل گیا، اور فقیرا جیسے انتظار میں بیٹھا لپک کر اس پر آ چڑھا، پہلے تو خوب لاتوں گھونسوں سے اس کی بلا تکلف تواضع کی پھر دھاڑ کر بولا کہ اس پولیس والے کو اپنی کہانی سنانے کی کیا ضرورت تھی، یاسمین جو پہلے ہی مار پیٹ کی عادی تھی آج کی مار سے کچھ زیادہ سراسیمہ نہ تھی بولی کہ کون پولیس والا، فقیرے نے پھر دو ہاتھ جڑ دیئے اور کہا کہ یہی جو ابھی تیرے کمرے سے نکلا تھا۔ تو اس نے کہا کہ اس نے زبردستی مجھ سے کہا تو میں مجبور ہو گئی، خیر اس بات پر جان چھوٹی کہ آئندہ کبھی کسی سے کسی صورت ایسی بات نہیں کرنی۔
مگر چند دن بعد اچانک جمیل پولیس کی وردی میں پولیس کی کئی گاڑیوں کے ساتھ آگیا اور ان سے کہا کہ سب تیار ہوجائیں ہم فورا حیدر آباد جا رہے ہیں، پنجاب کے شہر سے حیدر آباد جانا کوئی مذاق تھا فقیرا اور اس کی بیوی پھیل گئے مگر جمیل کے سپاہیوں کے ٹھڈوں نے انہیں ماننے پر مجبور کر دیا، جب وہ باہر نکلے تو اس نے دیکھا کہ اس کے ماں باپ بھی ایک گاڑی میں بیٹھے ہیں، خیر جمیل نے یاسمین سے کہا کہ وہ اس کالے شیشے والی گاڑی میں بیٹھ جائے۔ اب یہ قافلہ چلا اور ایک بہت ہی طویل سفر طے کرکے حیدرآباد کی بیراج کالونی پہنچ گیا۔ یاسمین نے محسوس کیا کہ یہ جگہ اس کے خواب سے کچھ کچھ ملتی جلتی ہے۔ اور گاڑیاں جاکر جس مقام پر رکیں اسے دیکھ کر تو اسے غشی ہی آگئی کہ یہ تو وہی جگہ تھی جو وہ برسوں سے خواب میں دیکھا کرتی تھی۔
سامنے وہی لکڑی کا دروازہ تھا، وہی ویران سی گلی تھی، اردگر غلام محمد بیراج بنانے والے لوگوں کے کوارٹرز تھے، اسے لگا جیسے وہ خواب دیکھ رہی ہے کہ پولیس والے نے خواب والے دروازے کو بجایا، اس دوران سب لوگوں کو پولیس کی گاڑیوں سے نیچے اتارا جا چکا تھا۔ دروازہ کھلا اور مانوس شکل بوڑھی عورت باہر آگئی وہ پولیس کی نفری دیکھ کر گھبرا سی گئی اور کہا کہ کیا بات ہے بھائی، تو جمیل نے آگے بڑھ کر میرے ماں باپ کی جانب اشارہ کر کے کہا کہ ماں جی آپ ان کو جانتی ہیں تو وہ جھٹ سے بول اٹھیں کہ ہاں یہ ہمارے پڑوسی تھے، اور پھر ان سے مخا طب ہوکر بولیں کہ ارے کمالے بھائی اور بھابھی صغیراں آپ پولیس کے ساتھ یہاں اتنے دنوں بعد یہ معاملہ کیا ہے؟ تو اس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتے جمیل بول اٹھا کہ ماں کیا آج سے چھبیس سال پہلے کوئی بچی گم ہوئی تھی۔ تو وہ جھٹ سے کہہ اٹھی کہ ہاں ہاں بالکل میری شاداں کو جانے کو ن اٹھا کر لے گیا تھا، جمیل نے کہا کہ وہ یہی ہے آپ کا پڑوسی جس نے آپ کی بچی کو اغواء کرکے فروخت کر دیا تھا۔ بڑی بی بے چینی سے پوچھنے لگیں کہ کہاں ہے میری بچی؟ تو جمیل نے یاسمین کو گاڑی سے اترنے کا اشارہ کیا، اور پھر ماں بیٹی اور باقی بہن بھائی سب مل کر رونے لگے۔ جمیل یاسمین کو یہ کہہ کر ان کے پاس ہی چھوڑ گیا کہ وہ کیس تیار کرکے ان ظالموں کو سزا دلوائے گا۔ پولیس کے جانے کے بعد سب گھر میں چلے گئے، اور اس کے اردگر بیٹھ کر اس کی دکھ بھری داستان سننے لگے، کچھ ہی دیر میں گھر کا ماحول بدلنے لگا اور بھائی یہ کہہ کر اٹھ گئے کہ اسے ہم اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتے کہ لوگ کیا کہیں گے۔ ہم پولیس کے واپس آنے کا انتظار کرتے ہیں اور اسے دارالامان پہنچا دیتے ہیں۔ وہ اندر سے جیسے ٹوٹ ہی گئی کہ یہ کیسے رشتے ناطے ہیں کہ نہ کردہ گناہ کی سزا اس کو دینے پر آمادہ ہیں۔
تین دن بعد جمیل اپنے والدین کے ساتھ ان کے گھر آیا، وہ ایک بڑے علاقے کا ایس ایس پی تھا، آج وہ عام آدمی کی طرح اپنے والدین کے ساتھ آیا تھا، وہ عین ان کے دروازے پر آکر رکا، دروازہ بجانے پر یاسمین کے بھائی نے دروازہ کھولا اور جمیل کو والدین کے ساتھ دیکھ کر حیران رہ گیا، جلدی سے سب کو گھر میں لے آیا اور بیٹھنے کا بندوبست کیا۔ والدہ والد اور سب گھر والے ان کو حیرت سے دیکھ رہے تھے اور گرد جمع تھے کہ جمیل کے والد نے اپنے ڈرائیور کو اشارہ کیا تو وہ ایک اور ملازم کے ساتھ باہر نکل گیا جب لوٹا تو پھل اور مٹھائی کے ٹوکرے ساتھ تھے۔ جمیل کے والد مسکرائے اور نہایت ہی پیار سے کہا بھابھی جان ہم آپ کی بیٹی کو اپنی بہو بنانا چاہتے ہیں خدارا انکار نہ کیجئے گا۔ ہمیں کچھ نہیں چاہئے اللہ کا دیا سب کچھ ہے بس آپ ہاں کردیجئے، اور پردے کے پیچھے کھڑی یاسمین گویا اپنے رب کی شکرگزاری میں ہچکیوں سے رو پڑی۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker