گزشتہ سے پیوستہ
سفرکے دوران ہمیں شملہ سے دہلی واپس آناتھا اور مختصر وقت کے لیے کرنال بھی جانا تھا تاکہ میں وہاں اپنے والد کے دوسرے ہم جماعت سے بھی ملاقات کرسکوں۔ ہم نے شملہ سے علی الصبح سفر شروع کیا اور بالآخر ساڑھے بارہ بجے شب ہم کرنال شہر کے مضافات میں پہنچ گئے۔ ملک یشپال صاحب کاگھرتلاش کرنے میں مزید 45منٹ لگ گئے۔ بالآخر ایک ٹیکسی ڈرائیور ہمیں1 سول لائنز کے گیٹ کے سامنے لے گیا جس پر انکل یشپال کے نام کی پیتل کی تختی چمک رہی تھی۔ کئی بار گھنٹی اورکار کاہارن بجانے کے بعد ایک نوجوان نائٹ سوٹ میں باہر آیا اور رات کے اس پہر اپنے گھر کے باہر کوسٹر میں اتنے سارے لوگوں کودیکھ کر حیران رہ گیا۔میں نے اس کی الجھن دور کی اور میرے تعارف کرانے پر وہ دروازہ بند کرکے اندر چلاگیا۔دس منٹ کے اندر گھر کی لائٹیں روشن ہوناشروع ہوگئیں۔صحن بھی روشن ہوگیااور ڈرائیووے بھی ۔ پھروہی نوجوان آیا اور اس نے مسکراتے ہوئے دروازہ کھول دیا۔ میرے پیارے انکل یشپال نے کرتا پاجامہ پہن رکھا تھا اور ان کی اہلیہ دروازے کے پاس برآمدے میں ہماری منتظر تھیں۔ یشپال صاحب نے مجھے اور میرے کزن کوگلے لگایا اور خاتون نے میری بیوی بچوں کوسینے سے لگالیا۔ اس ملاقات کے کم وبیش چالیس سال بعد جب میں یہ الفاظ لکھ رہا ہوں تو میں اپنے والد کے بچپن کے دوستوں کی گرم جوشی اب بھی محسوس کررہا ہوں۔ 1947ءکے ہندومسلم فسادات اور تقسیم کے ناخوشگوار اثرات اس دوستی پر اثراندازنہیں ہوئے تھے۔ رات کے دوبجے تھے لیکن اس کے باوجود کچھ ہی دیر میں وہ گھر یشپال کے بیٹے اوربیٹیوں سے بھرا ہواتھا۔ انہوں نے چائے سے ہماری تواضع کی ۔رات کے قیام کی بھی پیشکش کی لیکن اس سن کر کہ ہمیں اگلے روز دہلی سے لاہور روانہ ہونا ہے یہ محفل رات بھر آباد رہی۔حتی کہ چڑیوں اور کوﺅں نے صبح کی نوید سنادی۔ہم بہت سے تحائف اور نقدی سنبھالے صبح چاربجے کرنال سے روانہ ہوئے ۔ہربنس سبلوک اور ملک یشپال کی باتیں سن کر میرے والد کے چہرے پر جو مسکراہٹ آئی وہ میں آج بھی محسوس کرسکتا ہوں۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ وہ ایک بارپھر نوجوان ہوگئے ہیں۔ ایک نوجوان طالب علم کی طرح جو لائل پور میں پڑھتا تھا۔
(جاری)
فیس بک کمینٹ

