گزشتہ سے پیوستہ
ہربنس صاحب نے اپنےجس بھتیجے کو میرے ساتھ بھیجا وہ ایئر انڈیا میں ملازم تھا۔ اگلے روز ہمارا ٹیکسی میں آگرہ جانے کاپروگرام تھا۔ نوجوان کوتین روز تک ہمارے ساتھ رہناتھا۔ ہم آگرہ کے اشوکا ہوٹل پہنچے ۔اسے ہربنس نے بک کرارکھاتھا۔دوپہر کا کھانا بوفے میں تھا اور کھانے کے کمرے میں ہم نے تقریباً تمام مہمانوں کو کھانے کے ساتھ مے نوشی کرتے دیکھا۔ ہربنس نے میرے لیے ایک بوتل لی اور اصرارکیا کہ میں بھی یہ پی لوں۔ میرے انکار پر اس نے شائستگی سے کہا کہ کھانے کے پیکج میں شراب کے پیسے وہ وصول کرچکے ہیں۔ مزید یہ کہ آپ تفریحی سفر پر ہیں اور میرے والد کو بھی آپ کی مے نوشی کا علم نہیں ہوگا۔میرے شائستہ انکار پر اس نے بتایا کہ لائل پور میں لڑکپن کے دنوں میں ہندوکلاس فیلوز نے قسور گردیزی کو زبردستی شراب پلانے کی کوشش کی تھی لیکن انہوں نے انکارکردیاتھا۔ اسے خوشی ہوئی کہ میں اپنی میراث کو آگے بڑھارہا ہوں۔ تاج محل کا دورہ ہربنس کے بغیر تھا کیونکہ وہ پیرانہ سالی کے باعث تھکاوٹ کا شکارہوگئے تھے۔ اجمیر میں بھی ایساہی ہوا ۔ہوٹل میں دوراتوں کے قیام کے دوران ہربنس نے میرے والد کے ساتھ اپنی رفاقت کے حوالے سے اپنے بچپن کی کہانیاں سنائیں۔ وہ سوچوں میں غرق تھے اور اتنی بے تکلفی سے باتیں کررہے تھے جیسے مائیں اپنے بچوں کو سوتے وقت کہانیاں سناتی ہیں۔ ” قسور گردیزی کم عمری میں بھی کوئی عام طالب علم نہیں تھے۔وہ اس وقت بھی انتہائی سمجھ دار انسان تھے۔
قسور گردیزی اچھی طرح جانتے تھے کہ وہ مسلمان ہیں جبکہ میں اوریش پیدائشی ہندو تھے۔لیکن قسور گردیزی نے کبھی بھی عام مسلمانوں کی طرح انتہاءپسندی کامظاہرہ نہیں کیا۔ وہ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ ہربالغ سوچ رکھنے والے انسان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ خود فیصلہ کرے کہ اس نے کیسے عبادت کرتی ہے۔ ان کی سوچ گوتم بدھ کی طرح تھی۔ کالج کے زمانے کاایک واقعہ بیان کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ کالج میں تین مختلف کچن تھے ۔ایک ہندو طلبااوراساتذہ کے لیے ، ایک مسلمانوں کے لیے اورتیسرا سکھوں کے لیے۔ میں نے دانستہ مسلم کچن میں اپنی رجسٹریشن کروالی اورمیرے ساتھ یشپال اور دیگر دودوستوں نے بھی ایسا ہی کیا۔ قسور گردیزی نے مسلم کچن فیلوز کو ہمارے لیے رضا مند کرلیا ۔نہ صرف یہ بلکہ انہوں نے مجھے کچن کا میس منیجر بھی منتخب کرایا۔ جب تک ہم پاس نہ ہوگئے میں منیجر ہی رہا۔
ہربنس نے مزید بتایا کہ قسور گردیزی کی والدہ ایک عظیم اورباوقارخاتون تھیں۔اور یہ انہی کی بدولت تھا کہ انہوں نے قسور گردیزی کی ایسی تربیت کی کہ وہ ایک عظیم شخصیت کے طورپر جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جب بھی قسور گردیزی ملتان میں چھٹیاں گزارنے کے بعد واپس آتے تو ان کی والدہ نے گھر کی بنی ہوئی مٹھائیاں دیتیں۔ان میں میرے حصے کی مٹھائی بھی شامل ہوتی تھی جو وہ بہت خلوص کے ساتھ مجھ تک پہنچاتے تھے۔ ہربنس صاحب کے ساتھ آگرہ میں ہمارا قیام دوراتوں کاتھا اوران دو راتوں میں وہ ہمیں اپنے زمانہ طالب علمی کی کہانیاں سناتے رہے۔اور پھرانہوں نے اداس کردینے والے جذباتی ماحول میں اپنی کہانی ختم کی اوربتایا کہ کیسے وہ 1947ءکے فسادات کے دوران لاہور چھوڑ کر چلے گئے تھے اوریہ بھی نہیں جانتے تھے کہ وہ کبھی دوبارہ ملیں گے بھی۔ انہوں نے مجھے اپنی تصویر دی اور کہا میں پاکستان جاکر قسور گردیزی کو ان کی یہ تصویرضرور دکھاﺅں۔
میرے البم میں ان کی وہ تصویر بھی ہے جو انہوں نے مجھے پاکستان میں اپنے والد کو دکھانے کے لیے دی تھی۔ ہندوستان کے دورے اور والد کے دونوں دوستوں سے اپنی ملاقات کے بارے میں تفصیل سے لکھنے کی کوشش کروں گا اور لائل پور کے ایک کالج میں اپنے والد کی طالب علمی کی زندگی کے قصے ان کے دونوں دوستوں کے الفاظ میں بیان کروں گا۔ ان کے دوسرے دوست ملک یش پال تھے جو کرنال میں ہریانہ ہائی کورٹ کے بہت سینئر وکیل تھے ان سے بھی میری ملاقات بھی اسی سفر کے دوران ہوئی تھی۔
( جاری)
فیس بک کمینٹ

