زاہدہ حناکالملکھاری

کہانیاں گم ہوجاتی ہیں۔۔زاہدہ حنا

فاطمہ حسن سے میری پہلی ملاقات اس وقت ہوئی جب وہ 1977ء میں اپنی شاعری کے پہلے مجموعے ’’بہتے ہوئے پھول‘‘ کی تقریب اجراء کے لیے پڑھنے والوں کا انتخاب کر رہی تھیں۔ قرعۂ فال میرے نام بھی پڑا اور میں نے ان کے شعری مجموعے کی تقریب رونمائی میں اظہارِ خیال کیا۔ فاطمہ اور میں دونوں ہی کشا کش حیات میں مبتلا تھے۔ اس وقت وہ نثری شاعری کا جھنڈا اٹھائے چل رہی تھیں۔
شہر میں ان کی اور عذرا عباس کی نثری نظموں کا شہرہ تھا ۔ ضمیر علی بدایونی اور قمر جمیل اس قافلے کے میر کارواں تھے ۔ میں کچھ زیادہ ہی غم روزگار میں گرفتار تھی اور پھر یوں بھی تھا کہ میرے سیاسی خیالات کی کھردراہٹ عموماً دوستوں کو ناگوار خاطر ہوتی ہے۔
فاطمہ کے اندر مروت بہت ہے،اسی مروت کی ڈورکو تھام کر وہ میرے قریب آئیں اورکتاب میلوں ،ادبی کانفرنسوں اور سندھی، بلوچی اور اردو شعرکہنے اورکہانیاں لکھنے والوں کی محفلوں کی عطا ہے کہ ہم دونوں دوستی کی راہ پر چل پڑے ۔ وہ پاکستان میں فیمنسٹ تحریک کی سرگرم فرد ہیں اور اس حوالے سے انھوں نے فہمیدہ ریاض اور آصف فرخی کے ساتھ مل کرکام کیا ہے ۔ اس موضوع پر دو اہم کتابیں ’’خاموشی کی آواز ‘‘ اور ’’فیمنیزم اور ہم ‘‘ان لوگوں نے مرتب کیں۔
اس دوران فاطمہ نے شعرکہے ، بیسویں صدی کی ایک اہم اور تقریباً گمنام شاعرہ زاہدہ خاتون شروانیہ پر اسلم فرخی کی رہنمائی میں پی ایچ ڈی کیا ، یوں وہ ’’ڈاکٹر‘‘ ہو گئیں۔ تحقیق کی رو سے دیکھیے تو اردوکی پہلی خاتون افسانہ نگار عباسی بیگم ہیں جنہوں نے 1915ء میں ’’ قفس کی چڑیا ‘‘ لکھی ، یہ کہانی ’’عصمت ‘‘ میں شائع ہوئی ۔ سچ تو یہ ہے کہ اس پہلی کہانی میں ہی نسائی شعور لہریں لیتا ہے۔ پھر ترقی پسند تحریک کی بنیاد گزار ڈاکٹر رشید جہاں ہیں جو ہم سب کی پیر و مرشد ہیں۔ فاطمہ حسن بھی اسی سلسلۂ خیال سے بیعت ہیں۔
فاطمہ نے بے حد دیدہ ریزی اور دل سوزی سے زاہدہ خاتون شروانیہ کی زندگی کا احوال اور کلام یکجا کیا ۔ اس کلام سے اندازہ ہوتا ہے کہ بسم اللہ کے گنبد میں پرورش پانے والی اس جواں مرگ شاعرہ کو صرف ہندوستانی سیاست سے ہی نہیں ، عالمی سیاست کے معاملات سے کتنی آگاہی تھی ۔
یہ لگ بھگ بیس برس پرانی بات ہے جب فاطمہ حسن نے اعلان کیا کہ ان کی ’’کہانیاں گم ہوگئی ہیں ۔‘‘
مجھے حیرت ہوئی ۔میں نے فاطمہ کو تسلی دی، جب الف لیلہ و لیلہ کی کہانیاں سات صدیوں تک گمنامی کے دھندلکوں میں کھوئی ہوئی رہیں اور پھر گیارہویں ، بارہویں صدی عیسوی میں یہ کہانیاں قاہرہ کے چائے خانوں اور بازاروں میں سنی اور سنائی جانے لگیں تو تمہاری کہانیاں بھلا کیسے گم ہو سکتی ہیں ۔ میں نے فاطمہ سے کہا کہ انھیں پرانے صندوقوں ، الماریوں اور پھٹے پرانے کاغذوں میں ڈھونڈو ، مل جائیں گی ۔
پھر وہ گم شدہ کہانیاں واقعی مل گئیں ۔ اب دوبارہ کچھ اضافے،کچھ ترمیم کے ساتھ وہ ہمارے ہاتھوں میں ہیں ۔
ان میں سے بیشتر لڑکیوں کی کہانیاں ہیں،ایک زمین سے دوسری زمین اور ایک نگر سے دوسرے نگر کا راستہ ڈھونڈتی ہوئی لڑکیاں اور ان کی کہانیاں ۔ فاطمہ نے اپنے اور اپنی ان کہانیوں کے بارے میں کیا خوب لکھا ہے کہ ’’وہ کتابوں میں پناہ لینے کی عادی تھی ۔اس نے سرحدوں کو ٹوٹتے اور زمین کا رنگ بدلتے دیکھا تھا ۔ایسے میں وہ الفاظ جو اس سے چھین لیے گئے تھے اس نے خود جوڑنے شروع کر دیئے ۔ وہ کتابیں جو اس کا سب سے بڑا سرمایہ تھیں،جنھیں وہ گھر اور زمین کی طرح چھوڑ آئی تھی ۔ عزیزوں اور دوستوں کی محبتیں بھی بساطِ زندگی پر پٹے ہوئے مہروں کی طرح اِدھر اُدھر بکھر چکی تھیں۔ نئے رشتوں کی پناہ تک آنے سے پہلے اسے اپنے آپ کو جوڑے رکھنا تھا اور اپنے مانوس نیم خوابیدہ ماحول کو اجنبی موسموں سے بچانا تھا۔ اس سارے عمل میں وہ جن احساسات سے گزرگئی اور جوکردار اس کے مشاہدے میں آئے ان کی جھلک ان کہانیوں میں کہیں نہ کہیں موجود ہے۔‘‘
ان کہانیوں میں وہ لڑکیاں ہیں جو اژدھے کی پیٹھ پر بیٹھ کر جال عبورکرتی ہیں اور وہ بھی جو گلے کے تعویذ سے جدا نہیں ہونا چاہتیں اور چوتھے کھونٹ کے آسیب سے لڑتی رہتی ہیں ۔ ان کی کہانی ’’زمین کی حکایت ‘‘ ایک کمال رمزیہ کہانی ہے ۔ اسے بیان کرنے والی کہتی ہے کہ:
’’میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ایک ایسی سرزمین پر پہنچ گئی ہوں جہاں کے لوگ اپنی زمین پر اپنا مکان نہیں بناتے ۔ میں نے ان سے پوچھا کہ تم اپنی زمین پر رہنا کیوں نہیں چاہتے ۔ تو انھوں نے چند لوگوں کی طرف اشارہ کر دیا کہ میں ان سے پوچھوں ۔ انھیں نے ہمیں نئی زمین ڈھونڈ کر دی ہے ۔ میں ان کی طرف گئی اور ان سے بھی یہی سوال کیا کہ تم اپنی زمین پر اپنا مکان کیوں نہیں بناتے، تو انھوںنے جواب دیا کہ ہم ہمیشہ سے نئی زمینوں کو دریافت کرتے رہے ہیں اور اب ہماری دریافت اس کرۂ ارض پر مکمل ہوگئی ہے ۔ میں نے ان سے پوچھا کہ جب تم کوئی اور زمین دریافت کرلوگے توکیا کرو گے۔
’’پھرہم کوئی نئی دُنیا دریافت کریں گے ۔‘‘
’’اور یہ زمین؟‘‘
یہ زمین اس وقت تک ہماری دریافت کی وجہ سے اس قابل ہی نہیں رہ جائے گی کہ اس پر کوئی مخلوق رہ سکے ۔جب ہم کچھ بنا نہیں سکتے تو کچھ بگاڑ دیتے ہیں ۔ تاکہ ہمیں اطمینان ہوکہ ہم کچھ کر رہے ہیں ۔‘‘
اس جملے میں کیا باریک بات کہی گئی ہے ۔ برصغیر کے بیشتر مسلمانوں کا المیہ ،جسے وہ اپنی کار گزاری سمجھتے ہیں اور جس پر ناز کرتے ہیں ۔ یہ کہانی ان لوگوں کی سمجھ میں یقینا آئے گی جو زمین کو ترک کرنے کے عمل سے مسلسل گزر رہے ہیں ۔
’’خریدار‘‘ اپنی طرف متوجہ کرتی ہوئی اور یاد رہنے والی کہانی ہے ۔ سادہ سے لفظوں میں انھوں نے یہ بیان کیا ہے کہ آج کے زمانے میں عورتوں اور مردوں کے کردار بدل گئے ہیں ۔ پہلے امراؤ جان کی خدمات کے عوض اشرفیوں کے توڑے پیش کیے جاتے تھے ۔ اب ایسی عورتیں بھی ہیں جو کسی مرد کے ساتھ گزارے ہوئے وقت کی قیمت ادا کر جاتی ہیں ۔
’’کس کے گھر جائے گا ‘‘ سیلاب کے دنوں کا قصہ جب دریا انسانوں اورکھیتوں کھلیانوں کو ڈبونے پر تلا ہوا تھا اور زمین کے بیٹے آسمانوں میں اڑے اڑے پھرتے تھے اور یہ دیکھتے تھے کہ بندکہاں سے توڑا جائے جس سے ان کی زمینوں اور فصلوں کو نقصان نہ پہنچے ۔ اسی طرح ’’وزیر مرگیا ، وزیر زندہ ہے‘‘ ہماری بیوروکریسی اور اس کے ضابطوں کے بارے میں کیسا طنز ملیح ہے ۔
ان دنوں انھوں نے کچھ نئی کہانیاں لکھی ہیں ۔ محسوس ہوتا ہے کہ فاطمہ اب زمین اور زمانے کو عورت اور مرد کے حصار سے نکل کر دیکھ رہی ہیں ۔ اس کتاب پر ان کو مبارکباد دیتے ہوئے میں یہی خواہش کروں گی کہ زمین پر کہانیوں کے انبار لگے ہوئے ہیں ، وہ ان کہانیوں کو اپنے رنگ میں لکھ ڈالیں ۔
(’’کہانیاں گم ہوجاتی ہیں ‘‘، کی تقریب اجراء میں پڑھا گیا)
(بشکریہ: روزنامہ ایکسپریس)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker