زاہدہ حناکالملکھاری

جام ساقی: یہ تیغ اپنے لہو میں نیام ہوتی رہی / زاہدہ حنا

وہ شخص جو5مارچ کی صبح ہمارے درمیان سے اٹھا لیا گیا، وہ ہمارا شیردل ہیرو تھا۔ وہ جنرل ضیاء کی آمریت سے لڑتا رہا اور آخری برسوں میں ان بیماریوں سے ہارگیا جو سالہاسال تک کال کوٹھری میں زندگی بسرکرنے کے سبب اسے ملی تھیں۔ وہ انجکشن جو اسے ریڑھ کی ہڈی میں لگائے جاتے تھے تاکہ اس سے کسی طرح کا اعترافی بیان،حاصل کر لیا جائے۔ وہ غدار نہیں تھا‘ اس لیے اس سے کوئی اعترافی بیان حاصل نہیں کیا جا سکا لیکن اس کو دی جانے والی اذیتوں نے اس کے ذہن کو جس طرح متاثر کیا‘اس کا اندازہ ان ہی لوگوں کو ہے جو آزاد ہوجانے کے برسوں بعد اس پر پڑنے والے دوروں کے عینی گواہ رہے ہیں۔
ضلع تھرپارکر میں ایک استاد کے گھر پیدا ہونے والا محمدجام جوکمیونسٹ لٹریچر اور ترقی پسند ادب پڑھ کر’جام ساقی‘ ہوا اور جس نے عمر بھر اپنے محروم و مقہور لوگوں کی زندگی بدلنے کے خواب دیکھے۔ان خوابوں کی سزا میں اس نے دس برس سے زیادہ کی جیل کاٹی۔ وہ جیل جس میں اس کا مقدر شدید جسمانی اور ذہنی اذیتوں سے دوچار ہوا ۔یہی وہ دن تھے جب اس کابیٹا موت سے ہم کنار ہوا اور اس کی بیوی سکھاں نے خودکشی میں پناہ لی۔
جام کا قصور یہ تھاکہ اس نے عوامی حقوق کے حصول کے لیے ساتھی طلبہ کے ساتھ مل کر سندھ نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن بنائی‘ ون یونٹ کے خلاف پُرشور مہم چلائی اور حیدرآباد سازش کیس کا ہیرو کہلایا۔ یہ وہی تھا جس کے محب وطن ہونے کی گواہی دینے ملک کے بڑے بڑے سیاستدان حیدرآباد آئے۔ان میں بے نظیربھٹو بھی تھیں جنہوں نے حیدرآباد ملٹری کورٹ میں کہا تھا کہ جام ساقی ایک محب وطن سیاسی رہنما ہے۔اس موقع کی ایک تاریخی تصویر بھی ہے۔ فوجی افسرکے سامنے بے نظیر بیٹھی ہوئی ہیں اورجام اپنی ہتھکڑی کی زنجیر گلے میں ڈالے کھڑا ہے۔
یہ خواب دیکھنے اور خواب دکھانے کے دن تھے۔ جام ساقی کا میں نے اس کے بعض دوستوں سے بہت تذکرہ سنا تھا اور یہ1988کا آغازتھا جب مجھے جیل سے جام کاخط ملا۔ اس نے یہ خط میری ایک کہانی پڑھ کر لکھا تھا اور مجھ سے پوچھا تھا کہ تم نے ’’ جسم و زباں کی موت سے پہلے‘‘ کیسے لکھی؟ یہ کال کوٹھری میں اذیتیں سہنے والوں کا قصہ ہے۔ یہ تومیری کہانی ہے۔
چند مہینوں بعد جام کو جناح سپتال کے اسپیشل وارڈ میں علاج کے لیے رکھا گیا۔ ان دنوں میری والدہ بھی اسی وارڈ میں تھیں۔ یوں میری جام سے پہلی ملاقات ہوئی اور پھر یہ ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ جام کو باقاعدہ رہائی ملی تو وہ چند دنوں میرے گھر بھی رہا۔ ایک ایسا شخص جس کے ذہن اور روح کو سالہاسال کچلنے کی کوششیں کی گئی تھیں۔ اب اس کا اضطراب دیدنی تھا۔کمیونسٹ پارٹی نے طے کیا کہ اس کی شادی کرا دی جائے تاکہ وہ گھر کی خوشیوں میں بہل سکے۔ یوں اندرانی سے اس کی شادی ہوئی۔ ہم اس خوش فہمی میں مبتلا تھے کہ 1988کے انتخابات پاکستان کوواقعی ایک جمہوری دور سے روشناس کرائیں گے لیکن ہماری یہ خوش فہمیاں جلد ہی پانی کا بلبلہ ثابت ہوئیں۔ بے نظیر بھٹو کی حکومت معزول کی گئی اور 1990میں ایک بار پھر انتخابات کا ڈرامہ رچایا گیا۔
جام کا ایک ناول’دھرتی مانگے دان‘ ہم جریدہ ’’روشن خیال‘‘ سے شایع کرچکے تھے۔ 1990میں ہونے والے انتخابات کے حوالے سے مختلف اہم سیاستدانوں کے انٹرویو ندیم اختراوراظہرعباس نے لیے ، اس میں جام ساقی کا بھی ایک انٹرویو تھا۔ اس انٹرویو کو اب28 برس گزر چکے ہیں لیکن اسے پڑھتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وقت تھم گیا ہے۔
جام سے جب پوچھا گیاکہ ایک سیاستدان ہونے کے ناتے کیاآپ سیاسی اقتدار میں غیر سیاسی اداروں اور عناصر کی شرکت کو درست تصورکرتے ہیں کیوں کہ اس نظریئے کے پرچارکرنے والے سیاستدان اس ملک میں موجودہیں۔اس سوال کاجواب دیتے ہوئے جام نے کہا تھا کہ اس بارے میں میرا موقف بالکل واضح اوردوٹوک ہے۔ غیرسیاسی عناصر اور اداروں کو اقتدار سے بالکل دور رہنا چاہیے۔اس میں ان کا بھی بھلاہے اور اس ملک اور اس کے عوام کا مفاد بھی اسی میں ہے۔ اس ضمن میں جام نے دو باتوں کاحوالہ دیا تھا ایک یہ کہ1954ء میں جب سے امریکا کے ساتھ فوجی معاہد ہ ہوا اس وقت سے فوجی ٹولے کا اقتدار میں بالادستی کا عمل شروع ہوگیا تھا۔
اس بارے میں جام نے ایک واقعے کی مثال دی تھی جس کا تذکرہ عام طو پر ہمارے سیاسی تجزیہ نگار نہیں کرتے۔ 1958ء میں امریکی سفیر نے خان عبدالقیوم خان جیسے کمزور سیاستدان کو طلب کر کے کہا کہ ہم تم کو پاکستان کا سربراہ بناتے ہیں، تم پشاور کے بڈبیر ہوائی اڈے کی معیاد میں پانچ سال کی توسیع کردو۔ یاد رہے کہ یہ معیاد 1958ء میں ختم ہو رہی تھی ۔ خان قیوم خان جیسے کمزور سیاستدان نے کہا کہ جناب میں یہ کام نہیں کر سکوں گا کیوںکہ اس سے عوام ناراض ہوں گے۔
اس کے ایک ہفتے کے بعد جنرل ایوب خان کو مسند اقتدار پر لایا گیا اور انھوں نے مذکورہ اڈے کی معیاد میں پانچ کے بجائے دس سال کی توسیع کردی۔ یہاں یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ کمزور سیاستدان بھی بیرونی آقاؤںکی اتنی باتیں نہیں مانتا جتناکہ ایک فوجی جنرل مان لیتا ہے۔ پھر جام نے بینظیر بھٹوکی مثال دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس ملک کی قانونی اور جمہوری طور پر منتخب وزیراعظم اپنی برطرفی کے فوراً بعد یہ کہہ چکی ہیں کہ ( انھیں برطرف کرنے کی) صدرغلام اسحاق خان کی تقریرجی ایچ کیو میں تیار کی گئی اور ملٹری انٹیلی جنس نے ان کی حکومت کو ہٹانے میں اہم ترین کردار ادا کیا ہے۔ جام نے ہنس کر کہا تھا کہ پہلے فوج کے عمل دخل کی باتیں ہم کمیونسٹ کیا کرتے تھے ا ب اچھا ہے کہ دوسرے بھی یہ بات کہنے لگے ہیں۔
جمہوری حکومتوں کو دیوار سے لگانے کے لیے ہمارے یہاں ہمیشہ ’پہلے احتساب‘ کا نعرہ ‘لگایا گیا۔ یہ صرف سیاستدانوں کے احتساب کی بات ہوتی تھی۔آج بھی یہی صورتحال ہے ۔ اس بارے میں جام نے 1990میں کہا تھا کہ احتساب کرنے والے اس ملک کے عوام ہیں۔ یہ ان کا ناقابل تنسیخ حق ہے۔ عوام سے بڑا، سچا اور اچھا منصف کوئی نہیں ہوسکتا۔ عوام انتخاب کے ذریعے احتساب کرتے ہیں۔ اگرآپ جمہوری عمل اور جمہوریت کی روح کو کچلنے کے لیے احتساب کے نعرے کو استعمال کریں گے تو اس کا مقصد یہ ہوا کہ بعض مخصوص مفادات رکھنے والے عناصر اپنے مفادات کے تحفظ کی خاطر احتساب کا ڈراما رچا رہے ہیں۔
احتساب کسی بھی جمہوری معاشرے میں ایک جاری عمل کا نام ہوتا ہے۔ جمہوری عمل اور احتساب کا عمل ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ ہمارے ملک میں احتساب اور جمہوری عمل کی روایات موجود نہیں ہیں۔ اس لیے یہاں جب بھی احتساب کا نعرہ بلند کیا جاتا ہے تو اس کے پس پشت کوئی نیکی یا سچائی کار فرما نہیں ہوتی بلکہ یہ نعرہ مذموم مقاصد کے حصول اور عوام کو اقتدار اعلیٰ سے محروم کردینے کی سازش کا حصہ ہوتا ہے۔ جن لوگوں پر خود احتساب قرض ہے وہ احتساب کرنے چلے ہیں۔ گویا ہو یہ رہا ہے کہ بھینس،گائے کا اس بات پر احتساب کر رہی ہے کہ اس کی دم کالی کیوں ہے جب کہ بھینس بجائے خود مجسم سیاہی ہے۔
جام کے ساتھ کتنی ہی محفلیں رہیں اور کتنے ہی بحث مباحثے ہوئے۔ میں ان دنوں بی بی سی میں تھی جب جام نے لندن کا سفرکیا۔ مشتاق لاشاری جو طیارہ سازش کیس میں جلاوطن کیے گئے تھے‘ لندن میں بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے پاکستانیوں کوجوڑ کر رکھتے تھے۔ انھوں نے جام کوایک شاندار استقبالیہ دیا۔ جام کا والہانہ استقبال دیکھ کر جی خوش ہوا کہ جام سے لوگوں کو کس قدر محبت ہے۔
جام کی زندگی عجیب نشیب وفراز سے گزری‘ وہ پیپلز پارٹی میں شریک ہونا چاہتا تھا اور بعض دوسرے دوستوں کی طرح میں نے بھی اس شمولیت کی مخالفت کی تھی۔ ہماراٰخیال تھاکہ اس کا قدوقامت،کسی بھی حکومت کے صوبائی مشیر سے بہت بلند ہے۔ جام کی اپنی مجبور یاں تھیں، وہ سندھ حکومت کا صوبائی مشیر ہوگیا۔ اس کے بعد اس سے ملاقاتیں کم کم ہوئیں۔ خبریں ضرور ملتی رہیں ۔ گزشتہ برسوں میں وہ میرے گھرآیا ۔ میرے بیٹے زریون کی اور اس کی بہت دوستی تھی۔دونوں ساتھ مل کر ہندوستانی فلمیں اور کُشتیاں دیکھتے۔ میری بیٹیاں ہنستیں کہ جام ماما کے بھی کیا شوق ہیں۔
جام سے میری آخری ملاقات چند مہینوں پہلے حیدر آباد میں ہوئی۔ ہم کامریڈ جمال نقوی کو خراج عقیدت ادا کرنے کے لیے حیدرآباد میں اکھٹے ہوئے تھے۔ جام اس میں شرکت کے لیے آیا تو اس کابیٹا سارنگ اس کی وہیل چیئر دھکیل رہا تھا۔ دل کٹ کر رہ گیا۔جو شخص ضیا شاہی قید میں شیر کی طرح دھاڑتا تھا‘ اسے بیماریوں نے شکست دے دی تھی لیکن اب بھی اس کے ایمان اور اس کی استقامت میں کوئی فرق نہیں آیا تھا۔ اس کی وہیل چیئرمیری نشست کے برابر میں تھی۔ ہم دونوں نے آہستہ سے چند جملوں کا تبادلہ کیا۔ اس کمیونسٹ رہنما کو ہماری مقتدر اشرافیہ اپنی سزاؤں سے توڑنے میں کامیاب نہ ہوسکی اور وہ آخری سانس تک زیرلب یہی کہتا ہوا گیاکہ:
ہمیں سے اپنی نوا ہم کلام ہوتی رہی
یہ تیغ اپنے لہو میں نیام ہوتی رہی
(بشکریہ : روزنامہ ایکسپریس)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker